گجرال صاحب کی رحلت : ایک مذہب اور شائستہ سیاست داں کارخصت ہو جانا

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری 
اندر کمار گجرال دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ یقین نہیں آتا، لیکن حقیقت تو حقیقت ہی رہتی ہے۔ 30 نومبر 2012 کو اندر کمار گجرال ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔ دنیا سے جانا تو ہر ذی روح کو ہے اور جو آیا ہے وہ جاتا ہی ہے، لیکن کچھ ایسے جانے والے ہوتے ہیں، جن کے جانے کا غم، جن کی جدائی کا افسوس اور ان کے چلے جانے کا درد نسلوں کو مضطرب اور بے قرار کرجاتا ہے، جن کی موت ہمیں ان کے راستوں پر چلنے کے لیے حوصلہ دیتی ہے۔ اندر کمار گجرال کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کی موت کی خبر نے نہ صرف پنجاب، نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم ِ انسانیت کو حیران و پریشان کردیا۔ ایسے میں مجھے یہ شعر یاد آتا ہے:
موت اس کی ہے جس کا کرے زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
گزشتہ 20-25 برسوں میں سیاست میں جس طرح کا زوال آیا ہے، سیاست دانوں کے اخلاق و کردار مشکوک ہوئے ہیں، روپے پیسے کی خرد برد، گھوٹالے، گھپلے، سیاسی نفرتیں، ایک دوسرے کو زیر کرنے کی ہمہ وقت کوششیں، جنسی اسکینڈلس، جوڑ توڑ کی سیاست، مکر و فریب، جھوٹ، دغا بازی، پارلیمنٹ میں ہاتھا پائی، شور شرابہ، نوٹو ں کی بارش، سیاست کے ایسے منظر نامے میں اب چراغ لے کر ڈھونڈنے پر بھی صاف شبیہ، اعلیٰ اخلاق و کردار والے، مہذب اور شائستہ سیاست داں کی تلاش میں خاصی تگ و دو کے بعد بھی دو چار چہرے ہی نظر آتے ہیں۔ اندر کمار گجرال کا شمار ایسے ہی معدودے چند سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ بے داغ سیاسی کرئیر، مہذب و شائستہ طرز گفتگو، اردو کے دلدادہ، انسیانیت کے علم بردار، فرقہ پرستی کے مخالف، دشمنوں اور مخالفین سے بھی خوش اخلاقی کا اظہار، پڑوسی ممالک سے محبت اور آگے بڑھنے کا عزم و حوصلہ عطا کرنے والے اندر کمار گجرال ہمیشہ ایسے سیاست داں کے طور پر یاد کیے جائیںگے کہ جنہوں نے نازک ترین حالات میں بھی صبر اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا۔ سیاست کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہتے ہوئے بھی عام آدمی سے رہے یعنی زمین پر آسمان بن کر رہے گجرال صاحب۔ ہمیشہ پیار بانٹتے رہے۔ ہندوستان کی سیاست کو آپ کی دین یہی پیار و محبت ہے۔ انہوں نے اختلافات کو اپنی دانشوری اور حکیمانہ انداز سے لمحوں میں حل کیا۔ ان کی زبان کی شیرینی سبھی کا دل جیت لیتی تھی۔ وہ رشتے بنانے اور انہیں ہمیشہ نبھانے میں نہ صرف یقین رکھتے تھے، بلکہ عمل بھی کرتے تھے۔ ہندوستانی سیاست میں ان کی دین کے تعلق سے معروف صحافی کلدیپ نیر اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’ہندوستانی سیاست میں گجرال صاحب کی دین یہ رہی ہے کہ انہوں نے سیاست کو محبت اور میل جول کی زبان دی۔ یہی باعث ہے کہ ان کا کوئی دشمن نہیں تھا۔‘‘
آئی کے گجرال مدبر سیاست داں رہے ہیں۔ ان کا پورا سیاسی کریئر اس کا گواہ رہا ہے۔ وہ اندرا گاندھی کے بہت قریب تھے۔ انہیں مسز گاندھی کی ’’کچن کیبنٹ ‘‘ کا رکن کہا جاتا تھا۔ 1975 میں جب وہ اندرا گاندھی حکومت میں وزیر اطلاعات و نشریات تھے، کسی بات پر انہوں نے سنجے گاندھی کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اور صاف لفظوں میں جواب دے دیا تھا کہ ’میں تمہاری ماں کا وزیر ہوں، تمہارا نہیں۔‘ انہوں نے حق بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں اس حق گوئی کے صلے میں وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے اور انہیں پلاننگ کمیشن میں بیٹھا دیا گیا تھا، لیکن محترمہ اندرا گاندھی ان کے اخلاق اور تدبر سے واقف تھیں۔ انہوں نے گجرال صاحب کو سویت روس کا سفیر بنا دیا تھا۔ انہوں نے ہند-روس تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار اداکیا، بلکہ 1971 کی بنگلہ دیش کے لیے ہونے والی جنگ میں روس کی مدد مانگنے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا تھا۔ ہندوستان چاہتا تھا کہ 1971 کی جنگ میں اگر حالات ابتر ہوں، تو روس ہندوستان کی مدد کرے۔ شروع میں روس اس کے لیے راضی تھا، لیکن بعد میں بین الاقوامی اثرات کے تحت وہ اس سے پیچھے ہٹ گیاتھا، لیکن وہ گجرال ہی تھے، جن کی مدبرانہ صلاحیتوں نے روس کو اس کے لیے تیار کرلیاتھا۔
گجرال صاحب وی پی سنگھ حکومت میں وزیر خارجہ تھے۔ اس دوران انہوں نے ہندوستان کے پڑوسی ممالک میں امن و امان قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ چھوٹے ممالک کو ہمیشہ حوصلہ اور ہمت عطا کی۔ علاقے میں امن و امان کے لیے کوشاں رہے۔ ہندوستان کے عدم تشدد کے پیغام کو عام کیا۔ دنیا کے طاقت ور ممالک روس، امریکہ، انگلینڈ، فرانس وغیرہ سے بھی بہتر تعلقات قائم کیے۔ کبھی ہندوستان کی آن اور شان کو کم نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، مالدیپ، سری لنکا جیسے ممالک کی ہندوستان کی طرف سے ہر ممکن مدد کی۔ ان کا ماننا تھاکہ پڑوسی ممالک بہتر اور خوش حال رہیں گے تو خطے میں امن وامان رہے گا۔ وہ ہمیشہ جنوب ایشیائی ممالک کو سمجھاتے تھے کہ کسی پڑوسی ملک کے خلاف کبھی بھی اپنی زمین کا استعمال نہ ہونے دیں اور نہ ہی ایک ملک دوسرے کے اندر ونی معاملات میں دخل اندازی کرے۔ آپسی میل جول اور دوسروں کے احترام سے ہی خطے میں بہتر حالات اور خوش گوار فضا قائم ہوگی۔
آئی کے گجرال اردو کے نہ صرف شوقین اور دلدادہ تھے، بلکہ ان کی ابتدائی تعلیم اردو میں ہی ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ اردو کے فروغ کے لیے اپناتعاون دیا۔ اردو کے فروغ میں گجرال کمیٹی کی سفارشات کا خاصا اہم کردار رہا ہے۔ اردو کے جلسوں اور سیمیناروں میں گجرال صاحب ہمیشہ رہنمائی کرتے تھے۔ اردو والوں کو یہ فخر حاصل تھا کہ وہ کبھی بھی اپنے معاملات ومسائل لے کر گجرال صاحب سے مل لیا کرتے تھے۔ گجرال صاحب نے ہمیشہ اردو کے فروغ کو ترجیح دی۔ کئی بڑے سیمیناروں میں گجرال صاحب کی تقاریر اور خطبے اردو کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ اردو اشعار کا بر محل استعمال کرتے تھے۔ خوش سلیقہ اوربذلہ سنج بھی تھے۔
1997میں جب آئی کے گجرال ہندوستان کے سیاسی منظر نامے کا مرکز ی نقطہ بن کر ابھرے، تو اس میں ان کی شخصیت کی شائستگی کا ہی حصہ تھا۔ لالو پرساد یادو کی محنتوں اور کوششوں سے گجرال صاحب تقریباً سال بھر کے لیے وزیر اعظم بنے۔ اس دوران آپ نے پر آشوب سیاسی عہد میں بھی سلیقے سے حکومت کرکے اپنے نام نہاد مخالفین کو بھی اپنا گرویدہ بنالیاتھا۔
آج ان کے انتقال کے بعد ہندوستانی سیاست ایسے بے داغ، مدبر، دانشور ، سلیقہ شعار سیاست داں سے محروم ہوگئی ہے۔ اردو اپنے مخلص اور محب سے محروم ہوگئی ہے۔ گجرال صاحب اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کے کارنامے ہمارے لیے ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہوں گے۔ ان کے لیے اچھا اور سچا خراج یہی ہوگا کہ ہم ان جیسا بنیں، ایماندار، شیریں زبان، سلیقہ مند، انسان دوست، وطن پرست۔ ان کی انھیں خوبیوں کو اپنے اندر اتار کر اور ہندوستان کا سر بلند کرکے ہی ہم انہیں اچھا خراج پیش کرسکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *