دلیپ کمار ایک عظیم فنکار ہیں

میگھناد دیسائی 
گزشتہ مہینے ہندوستان کے ایک عظیم فنکار نوے سال کے ہو گئے۔ یوسف خان ، جنھیں دلیپ کمار کے نام سے جانا جاتا ہے، طویل عرصے تک ہندوستانی سنیما کی اہم شخصیت رہے ہیں۔ آج کل کے لوگ تین خان اور بگ بی کو پہچانتے ہیں، لیکن ہم لوگوں میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شہنشاہ تو دلیپ کمار ہی تھے۔ انھیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور نشان امتیاز جیسے ایوارڈ دیے گئے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والی بیشتر اداکارائیں جیسے نرگس، مینا کماری، نور جہاں، نلنی جیونت اب اس دنیا میں نہیں۔ ابھی کامنی کوشل اورنمی ، جن کے ساتھ دلیپ کمار نے کام کیا ،بقید حیات ہیں۔ محبوب خان، بمل رائے، رشی کیش مکھر جی، بی آر چوپڑا اور یش چوپڑاجیسے ہدایتکار ، جن کے ساتھ دلیپ کمار نے کئی فلمیں کی تھیں،وفات پاچکے ہیں۔ ان کی فلموںمیں نغمے گانے والے محمدرفیع ، مکیش اور طلعت محمود جیسے گلوکاروں کی بھی موت واقع ہوچکی ہے۔ان کے پسندیدہ میوزک ڈائریکٹر نوشاد کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔ میں نے پہلی بار 1945 میں دلیپ کمار کی فلم’ ملن ‘ دیکھی تھی۔ ان دنوں میں پانچ سال کا تھا۔ یہ فلم ٹیگور کی کہانی نوکا ڈوبی پر مبنی تھی، جس کی ڈائرکشن نتن بوس نے کی تھی۔ اس کی تصویریں کئی سال تک میرے دماغ میں رہیں۔ اس میں دلیپ کمار نے ایک مہذب بنگالی کا کردار نبھایا تھا۔ ان کی فلمیں سہراب مودی اور پرتھوی راج کپور کے ناٹک پر مبنی فلموں سے الگ ہوتی تھیں۔ ان کی فلمیں دیکھنے کے لیے نوجوانوں میں دوڑ لگی رہتی تھی۔ سنیما ہال میں بھیڑ لگ جاتی تھی۔ انھوں نے ’میلہ‘ فلم میں دیہاتی نوجوان کا کردار ادا کیا اور لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ’جگنو‘ فلم میں ایک کالج اسٹوڈنٹ اور’شہید ‘ فلم میں ایک محب وطن نوجوان کا رول ادا کیا۔ انداز، بابل، شبنم اور ندیا کے پار جیسی فلموں میں شہری نوجوان کے کردار میں بھی لوگوں نے انھیں خوب پسند کیا۔ وقت کے مطابق انھوں نے ہر طرح کا کرداراداکیا۔ کئی فلموں میں وہ باپ، بڑے بھائی وغیرہ کے کردار میں بھی آئے۔
اس دور میں ہمارے پاس تفریح کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ فلمیں ہی تفریح کا ذریعہ تھیں اور لوگ بڑی تعداد میں سنیما ہال جاتے تھے،سنیما ہال کو اس وقت ٹاکیز کہا جاتا تھا۔ کئی ہفتوں تک فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ اس وقت نرگس، راج کپور،دیوانند، کامنی کوشل اور نمی وغیرہ بھی کافی مقبول فنکار تھے۔ ہم لوگ ان کی نقل کر تے تھے۔ ان کی فلمو ں کے ڈائیلاگ بولتے تھے۔ ہم لوگ اس دور کی فلموں سے پیار، بہادری وغیرہ کا آئیڈیا لیتے تھے۔ ایک طرف جہاں راج کپور اور دیوانند اینٹی ہیرو کا کردار جیسے پاکٹ مار یاغیر قانونی کام کرنے والے نوجوان کا کردار نبھاتے تھے تو دوسری طرف دلیپ کمار قانون کے دوسرے پہلو کو اجاگر کرنے والے نوجوان کا کردار نبھاتے تھے۔ ’فٹ پاتھ ‘اور ’امر‘ میں ان کا کردار جداہے ، جس میں انھوں نے بلیک میلر اور زانی کا رول اداکیا۔ چالیس کی دہائی کے بعد پچاسویں دہائی میں فلموں کا پیٹرن کچھ بدل گیا۔ ہندوستانی سنیما میں نئے موڑ آئے اور اب دلیپ کمار نے بھی مثبت ہیرو کا رول اداکرنا شروع کیا۔آن، نیادور، آزاد، مدھومتی وغیرہ فلموں میںآپٹومسٹک انڈیا کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ شرت چند رکے ناول پر مبنی فلم ’دیو داس ‘ ان کی آخری فلم تھی ، جسے رلانے والی فلم کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے جوش پیدا کرنے والی آشاوادی فلمیں زیادہ کیں۔انھوں نے پہلی بار فلم ’مغل اعظم ‘میں ایک مسلم نوجوان کا کردار اداکیا۔ لیکن میرے حساب سے انھوں نے ’گنگا جمنا‘ فلم میں بہترین اداکاری پیش کی ہے۔ اس فلم میں ان پر جھوٹا الزام لگایا جاتا ہے اور بعد میں وہ ڈاکو بن جاتے ہیںاور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑتے ہیں۔ اس فلم میں ان کے مرنے کا منظر، جب مندر میں گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں اور گایتری منتر ہوتا رہتا ہے، گنگا کی یاد دلادیتا ہے۔ ستر کی دہائی میں دلیپ کمار نے کیریکٹر رول ادا کرنا شروع کیا۔ ’شکتی ‘ فلم میں دو عظیم فنکاروں دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کو آمنے دامنے کیا گیا۔ انھوں نے فلم ’سگینہ ‘کی جس میں نکسل ازم کی بات کی گئی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے منوج کمار اور سنجے دت کے ساتھ فیملی فلمیں بھی کیں۔ انھوں نے فلموں میں ہر طرح کا کردار ادا کیا۔ اب وہ نوے سال کے ہو گئے ہیں ۔ ہم ان کی لمبی عمر کی دعا کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *