باہمی منافرت اور خلیج کا شکار کشمیر کا مسلم معاشرہ

محمد ہارون 
نومبر کے آخری عشرے میں سرینگر شہر کے بعض حساس علاقوں میں دو مسلم فرقوں کے درمیان تنائو اور کشیدگی پھیلنے کے بعد حکام کو حالات قابو میں رکھنے کے لیے کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ کرفیو کے دوران جب بھی انتظامیہ نے ڈھیل کا اعلان کیا اور لوگ گھروں سے باہر نکلے، تو پر تشدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ متعدد بستیاں مسلسل سات دن تک فورسز اور پولس کے حصار میں رہیں، تب کہیں جاکر مشتعل عوام پر قابو پایا گیا اور 5 دسمبر کوان علاقوں میں معمول کی زندگی بحال ہوسکی۔ دراصل، اس ساری صورتحال کا آغاز اس وقت ہوا، جب سرینگر کے ایک علاقے میں ایک جوتے فروش نے نئے مال کابنڈل کھولنے کے بعد پایا کہ جوتوں پر کچھ ایسے الفاظ درج ہیں، جو ایک بر گزیدہ مسلمان ہستی کے نام کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں۔ معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے دکاندار نے فوری طور پر پولس کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن پولس کو اطلاع ملنے کے ساتھ ساتھ یہ خبروادی بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ صرف خبر ہی نہیں پھیل گئی، بلکہ اس کے ساتھ بعض بے بنیاد افواہیں بھی گردش کرنے لگیں۔ مسلمانوں کے ایک فرقے نے اس حوالے سے ایک دوسرے فرقے پر الزامات عائد کرنا شروع کیا اور اس کے ساتھ ہی دو نوںفرقوں کے لوگوں کے درمیان تنائو اور کشیدگی پھیل گئی اور اِکا دُکا جھڑپیں بھی شروع ہوگئیں۔ چنانچہ انتظامیہ کو حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ بعض واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل جن جوتوں پر مسلمانوں کی متذکرہ عظیم الشان ہستی کے نام سے مشابہت رکھنے والا عکس درج ہے، وہ دراصل چینی ساخت کے جوتے ہیں اور ان پر چینی زبان میں متعلقہ برانڈ کا نام لکھا ہوا ہے۔
بہر ل، اس ضمن میں حقیقت پوری طرح واضح نہیں ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ مسلم اکثریتی وادیٔ کشمیر میں پچھلے عرصے سے ایسے عندیے صاف دیکھنے کو مل رہے ہیں جو اس بات کے غماز ہیں کہ یہاں کی آبادی میں روایتی رواداری اور بھائی چارے کے جذبات ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ختم ہوتے جارہے ہیں۔ متذکرہ واقعہ کے حوالے سے مسلمانوں کے جن دو فرقوں کے درمیان تنائو اور کشیدگی پیدا ہوئی تھی، ان میں روایتی طور پر بعض نظریاتی اختلافات کی بنا پر دنیا کے کئی ممالک میں آپسی منافرت پائی جاتی ہے، لیکن وادی کی مسلم آبادی اس لحاظ سے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے لگ رہی ہے، کیونکہ یہاںایک ہی فرقے کے مسلمانوں کے درمیان موجود مختلف مسلکوں کو ماننے والوں کے درمیان بھی بڑھتی ہوئی منافرت صاف نظر آرہی ہے اور حیرت انگیز طور پر اس ضمن میں سب سے زیادہ منفی صورتحال اورالمناک واقعات اسی سال یعنی 2012 میں ہی دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس سال وادی میں کئی ایسے پراسرار واقعات رونما ہوئے، جو مسلمانوں کے ایک فرقے میں موجود مختلف مسالک کے درمیان گہرے تنائو کا صاف عندیہ دے رہے ہیں۔ اس سال کے وسط سے ہی وادی میں مقدس مقامات میں آتشزدگی کی پر اسرار وارداتیں رونما ہونی شروع ہوگئیں۔ آغاز 25 جون کو ہوا، جب پرانے شہر کے خانیار علاقے میں شیخ عبدالقادر جیلانی سے منسوب ایک 245 سالہ قدیم زیارت گاہ رات کے دوران پراسرار آگ کی نذر ہو گئی۔ اس واقعہ پر پوری وادی میں کئی دن تک لوگ ماتم کرتے رہے اور حالات خراب رہے۔ شہر میں کئی دن تک کرفیو بھی نافذ رہا۔ واقعہ کے صرف چار دن بعد یعنی 29 جون کو سرینگر کے مضافات میں واقع میر گنڈ علاقے میں ایک مقدس عبادت گاہ میں بھی آگ لگ گئی (یا لگا دی گئی)۔ اس واردات میں قرآن حکیم کے کئی نسخے اور کچھ مقدس کتابیں نذر آتش ہوگئیں۔ دو ہفتے بعد 15 جولائی کو وسطی ضلع بڈگام کے بیروہ میں بابا حنیف الدین کی درگاہ آگ کی پراسرار واردات میں مکمل طور پر خاکستر ہوگئی۔ مقامی مسلمان اس سانحہ پر کئی دن تک ماتم کناں رہے۔ تین دن بعد 18 جولائی کو جنوبی ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ میں صوفی بزرگ سید شہاب الدین کی قدیم زیارت گاہ بھی سابق واقعات کی طرز پر خاکستر ہوئی۔ 22 جولائی کو بیروہ کے ہی ونگام علاقے میں ایک جامع مسجد میں آگ کی واردات رونما ہوئی۔ تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والی ان ساری وارداتوں کے بارے میں عام لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ یہ وارداتیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انجام دی گئی ہیں۔ صورتحال کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ پولس ان میں سے کسی بھی ایک واردات کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ حد یہ ہے کہ پولس یہ بتانے سے بھی قاصر رہی ہے کہ آیا یہ وارداتیں اتفاقی ہیں یا ان کے پیچھے کوئی گندی ذہنیت کارفرما ہے۔ پولس کے اس رویہ سے شکوک و شبہات کو مزید تقویت ملی ہے۔ یہاں معاملہ صرف مقدس مقامات کی بے حرمتی کا ہی نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کا بھی ہے۔ اسی سال مارچ میں سرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں قائم ایک درگاہ کے خطیب پر نا معلوم مسلح افراد نے قاتلانہ حملہ کیا، جس میں وہ بری طرح زخمی ہوئے۔ 6 اگست کو ضلع گاندر بل میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایک 20 سالہ نوجوان مذہبی گروہوں کے درمیان بحث مباحثے کے دوران ہوئی ہاتھی پائی میں مارا گیا۔ 15 اگست کو راجوری میں ایک مسجد کے امام کو کو گولی مار کر زخمی کردیا گیا۔ یہ سارے واقعات اس مسلم اکثریتی خطے میں مسلمانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی منافرت کے ناقابل تردید عندیات ہیں۔ بدقسمتی سے دنیا کے مختلف معاشروں کی طرح وادی کے مسلمان بھی مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، لیکن وادی کشمیر میں اس حوالے سے بدنصیبی کی انتہا یہ ہے کہ یہاںہرمسلم فرقے اور مسلک سے وابستہ لوگ ’’پدرم سلطان بود‘‘ کے مصداق خود کو دوسروں سے بہتر مسلمان سمجھنے کے زعم میں مبتلا ہیں۔ چونکہ عام لوگ نافہم ہوتے ہیں اور وہ جلد بہکاوے میں آجاتے ہیں اور غیر ضروری حد تک اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کی وجہ سے وادی کشمیر کا مسلم معاشرہ افسوسناک حد تک مسلکی اور گروہی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم نظر آتا ہے۔ صورتحال کا سب سے منفی اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض کم علم اور کم فہم مولوی حضرات مساجد اور دیگر مقدس مقامات کے پلیٹ فارموں کو استعمال کرتے ہوئے شعوری یا غیر شعوری طور پر ’مخالفین‘ کے تئیں غیر ضروری طور پر تقریریں جھاڑتے نظر آتے ہیں۔
متذکرہ صورتحال اس بات کا ایک واضح اشارہ ہے کہ اگر کشمیر کے مسلم معاشرے میں مختلف فرقوں اور مسلکوں کے نام پر منافرت کو یوں ہی فروغ ملتا رہا تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ بات قدرے اطمینان بخش ہے کہ وادی کے علیحدگی پسند قائدین صورتحال کے تدارک اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی جی توڑ کوشش کررہے ہیں۔لیکن صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو دین حق کے بنیادی اصولوں سے مکمل طور پر متعارف کرانے کے لیے وسیع پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ان خدشات کا ازالہ ہو، جو موجودہ صورتحال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *