کون بڑا ؟

سید تقی عابدی
شاعروں کے درمیان تقابل کرنے کی روایت اردو شاعری کی دلچسپ روایت ہے۔ ہر دور میں اسی وجہ سے گروہ بندیاں ہوئیں، جس کا مثبت اور منفی اثر شعر و ادب پر ظاہر ہوا۔ گزشتہ چند دہائیوں سے یہ سوال اٹھا یا گیا کہ علامہ اقبالؔ کے بعد بڑا شاعر کون؟ یہ سوال زیادہ تر ان افراد نے اٹھایا تھا، جن کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا، چنانچہ عموماً اس فہرست میں جوشؔ کے ساتھ جدید شاعری کے ممتاز شعرا فراقؔ، فیضؔ، ن۔م۔ راشدؔ، میراؔ جی، مجازؔ اور اخترؔ الایمان کے نام لیے جاتے رہے، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ اب یہ مقابلہ صرف جوشؔ اور فیضؔ کے درمیان محدود ہو گیا ہے اور وہ بھی علامہ اقبالؔ کے بعد، ورنہ بعض افراد نے اقبالؔ اور فیضؔ کا مقابلہ کرکے فیضؔ کو اقبالؔ سے بڑا شاعر بتایا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر مشہور شاعر بڑا نہیں ہوتا اور ہر بڑا شاعر مشہور نہیں ہوتا، اس لیے مقبولیت، معروفیت، محبوبیت اور مشہوریت کو علیحدہ رکھ کر بڑی شاعری کی میزان پر انصاف کی ترازو سے تولنا پڑے گا اور تولنے والے کا منصف ہونا بھی ضروری ہے۔ فیضؔ اور جوشؔ ہم عصر تھے، تقریباً پچاس سال سے ایک دوسرے کو جانتے اور مانتے تھے۔ فیضؔ نے جوشؔ پر اپنے مضمون، تاثراتی نوٹ اور کئی خطوط اور انٹرویوز میں تفصیل سے گفتگو کی۔ جوشؔ نے بھی فیضؔ کے متعلق اپنے خط میں خوبصورت اور پر اعتماد جملے لکھے، جو فیضؔ کے مقام کا تعین کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
فیضؔ اور جوشؔ کی شخصیتوں اور مزاجوں میں بڑا فرق تھا۔ فیضؔ خاموش اور ساکت تو جوشؔ بلبل زبان اور پرگفتار، فیضؔ نرم خو اور دھیمے لہجہ کے مالک تو جوشؔ گرم خو اور جوش و خروش کا پیکر، فیضؔ منکسر المزاج اور خاکسار تو جوشؔ جلالی مزاج اور انانیت کا خالق، اگرچہ دونوں پٹھان، دونوں خان، دونوں رئیس زادے، دونوں حسن کے اسیر اور دونوں دخترِ زر کے عاشق۔ پروفیسر پرویز پروازی نے راقم کو بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی کے گورنمنٹ کالج میں منعقدہ دو مشاعروں میں، جن کی صدارت خود پروازی صاحب نے کی تھی، فیضؔ اور جوشؔ نے شرکت اور اپنے اپنے کلام سے مشاعرہ لوٹ لیا۔ پروفیسر پروازی کہتے ہیں ’’فیضؔ کے ساتھ بیٹھ کر ایسا محسوس ہوا، جیسے کسی دیوتا کے چرنوں میں بیٹھے آشیرواد لے رہے ہیں، جب کہ جوشؔ کے رعب و خروش اور انانیت سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی خداوند کے دربار میں حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ فیضؔ اپنے اخلاق، افتادِ طبع اور خوش مزاجی سے لوگوں کے دل موہ لیتے، ایک بار جو فیضؔ سے ملتا ان کا عاشق ہو جاتا اور اس طرح ان کے چاہنے والوں کا دائرہ روز بہ روز بڑھتا جاتا، جب کہ جوشؔ اپنی طبیعت، گرم مزاجی اور تیغ زبان سے اپنے حلقہ احباب اور اپنے چاہنے والوں کو دور کرتے جاتے، لیکن پھر بھی جو لوگ ان کی قلبی واردات سے واقف تھے، دل کی گہرائیوں سے جوشؔ سے پیار کرتے تھے۔
فیضؔ اور جوشؔ کی بحث میں جس مضمون کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے اور ہر شخص اپنے نظریہ اور منشا کے تحت اس مضمون سے کچھ توڑ کر، کچھ چھوڑ کر، کچھ جوڑ کر، کچھ مطالب کو موڑ کر پیش کرتا ہے، وہ مضمون حقیقت میں ترقی پسند تحریک اور اس وقت کی تنظیم کے ایک محرک آغا دواشی نے فیضؔ سے لکھوا کر ’’آج کل‘‘ دلّی میں شائع کروایا تھا، جو بعد میں فیضؔ کے مجموعۂ مضامین ’’میزان‘‘ میں شائع ہوا۔ ترقی پسند تحریک کے بعض حامیوں کو جوشؔ کے خطاب ’شاعرِ انقلاب‘ سے کد تھی، یہ عوامی خطاب جوشؔ کو خود ان کی شاعری کی بدولت ملا تھا۔
کام ہے میرا تغیر، نام ہے میرا شباب میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب
آغا آفتاب قزلباش ’’پیغام آشنا گویم‘‘ میں فیضؔ کے اس مضمون کی بابت لکھتے ہیں ’’آغا دواشی نے ایک دن کہا کہ ہم جوشؔ پر مضمون چھاپنا چاہتے ہیں، لیکن مضمون فیضؔ سے لکھوایا جائے۔ اشرف علی مرحوم بھی میرے ساتھ تھے، کہنے لگے، چلو میں بھی فیضؔ صاحب سے کہوں گا تم بھی کہنا، مضمون ہم لکھوا لیں گے۔ اشرف علی اور ہم فیضؔ صاحب کے ہاں پہنچ گئے، ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اشرف نے عرض مدعا کیا۔ اِک زمانہ تھا مجازؔ فیضؔ کو ’’بحرالکاہل‘‘ کہا کرتے تھے۔ چنانچہ فیضؔ نے عذر کیا، ہاں بات ٹھیک ہے، مضمون تو ہونا چاہیے مگر جیسی فرصت درکار ہے آج کل نہیں ملتی، دوسرے پڑھنا بھی پڑے گا۔ میرے پاس یہاں جوشؔ صاحب کا کلام بھی نہیں ہے! ہم لوگ اَڑے رہے اور جب فیضؔ بے بس ہو گئے تو آخر اس پر راضی ہو گئے کہ مجھے جوشؔ کا سیٹ لا دیا جائے اور گاہے گاہے یاد دہانی بھی ہوتی رہے۔
ماہنامہ ’’آج کل‘‘ پریس میں چھپنے کے لیے چلا گیا، صرف فیضؔ کا مضمون ابھی تک باقی تھا۔ میں نے ہفتے کی شام انہیں فون کیا ’’بھائی جان بے چارے آغا دواشی مصیبت میں پھنس جائیں گے، اگر آپ نے مضمون نہ لکھا، اب مزید تاخیر کی گنجائش قطعی نہیں رہی، اس لیے براہِ کرم آپ کل اتوار کے سارے پروگرام ملتوی کر دیجیے، میں کل علی الصباح آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا، آپ بولتے جائیے گا میں لکھ دوں گا۔‘‘ فیضؔ صاحب کا کرم ہے کہ ہمیشہ میری بات مان لیتے ہیں، کہنے لگے ’’اچھا کل آ جائیے، مضمون ہو جائے گا۔‘‘ دوسری صبح میں علی الصباح مسلط ہوگیا۔ جوشؔ صاحب کی طویل نظموں پر نشان لگا کر میں نے انہیں دکھائیں، کچھ طربیہ نظموں پر نشان لگا دیے۔ انہوں نے پہلے ایک مجموعہ الٹ پلٹ کر دیکھا، پھر دوسری کتاب دیکھی، وہ بھی رکھ دی۔ پھر کوئی اور مجموعہ دکھایا، کاغذ الٹتے رہے، آخر کہنے لگے ’کاغذ پنسل لے لیجیے‘ اور بولنے لگے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے ذہن میں مضمون ترتیب پا چکا ہے، اب صرف نزول ہو رہا ہے۔ جن اشعار پر نشان تھے، میں نے وہ بعد میں چسپاں کر دیے۔ کوئی تین گھنٹے کے بعد مضمون تیار تھا۔ ان کے ملاحظے اور نظر ثانی کے لیے میں مسودہ ان کے پاس رکھ کر چلا آیا۔ دوسرے دن مضمون تیار ہوگیا، جو ’’آج کل‘‘ دلّی میں شائع ہوا اور اب ان کے مجموعۂ مضامین میں موجود ہے۔‘‘
یہ مضمون 1945 کے دلّی کے رسالہ ’’آج کل‘‘ میں شائع ہوا، اس کا عنوان تھا ’’جوشؔ شاعر انقلاب کی حیثیت سے‘‘۔ اس مضمون کو پوری طرح سے سمجھنے کے لیے فیضؔ کے انقلابی نقطۂ نظر سے واقفیت ضروری ہے۔ فیضؔ لکھتے ہیں ’’آج عام طور سے اصطلاحی معنوں میں انقلابی نظریے سے اشتراکی نظریہ مراد لیا جاتا ہے۔ غالباً جوشؔ بھی اس نظریہ کے قائل ہیں اور اس سے مطابقت کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان کا کلام اشتراکی نظریے سے کہاں تک مطابقت رکھتا ہے؟ اگر یہ صحیح نہیں ہے تو جب تک وہ اپنے نظریے کی وضاحت نہ کردیں، تنقید بے سود ہے۔ اس مضمون میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ پہلی بات صحیح ہے اور صحیح انقلابی شاعری وہی ہے، جو اشتراکی عقائد کے مطابق ہے‘‘۔
فیضؔ کا یہ سارا مضمون اس مفروضہ پر لکھا گیا ہے کہ صحیح انقلابی شاعری وہی ہے، جو اشتراکی عقائد کے مطابق ہے اور اس نظریہ پر جوشؔ یقین رکھتے ہیں اور اسے صحیح مانتے ہیں، چنانچہ فیضؔ کے علاوہ ہر وہ شخص جس نے جوشؔ کو پڑھا یا سنا ہے، وہ اس حقیقت سے واقف ہے کہ جوشؔ صرف اشتراکی نظریہ کو انقلابی نظریہ نہیں مانتے تھے، ان کے عظیم مرثیہ ’’حسین اور انقلاب‘‘ کو اشتراکی نظریہ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہی نہیں، بلکہ ان کی درجنوں نظمیں اور سیکڑوں اشعار، جن کی وجہ سے جوشؔ شاعر انقلاب کہلائے، محض اشتراکی نظریہ پر مبنی نہیں، اگرچہ مشترکہ اقدار کی نمائش اور آزمائش دونوں مقامات پر ہے۔ فیضؔ نے یہ مضمون اپنے انتقال سے چالیس برس قبل لکھا، اس کے بعد کئی مقامات پر تحریر اور تقریر کی صورت میں جوشؔ کے متعلق اظہارِ خیال کیا، لیکن پھر ان مطالب کا اعادہ نہیں کیا۔ پھر آگے اسی مضمون میں فیضؔ لکھتے ہیں ’’میری ذاتی رائے میں اگر محض تعداد سے اندازہ لگایا جائے، تو جوشؔ کی رندانہ اور عاشقانہ نظمیں اس اعتبار سے ان کی انقلابی نظموں سے زیادہ ہیں۔ بہرحال، اس وقت ان کے انقلابی اور رندانہ کلام کا موازنہ مقصود نہیں، محض ان کے انقلابی کلام کی انقلابیت کو اشتراکی نقطۂ نظر سے پرکھنا مقصود ہے۔ اشتراکیت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ انقلاب کسی فرد یا کسی ایک شخص کی ذاتی کوششوں اور تدبر کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ سماجی اور اقتصادی قوتوں کی باہمی پیکار اور کشمکش سے نمودار ہوتا ہے۔ اس انقلاب میں فرد کی اہمیت طبقوں یا جماعتوں کی اہمیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جوشؔ کی شاعرانہ طبیعت اور مزاج اس نظریے کے خلاف ہے۔ وہ طبعاً انانیت پسند اور انفرادیت کے مداح واقع ہوئے ہیں۔ جب وہ انقلابی تگ و دو کا ذکر کرتے ہیں، تو عام طور سے اس تگ و دو کا ہیرو کوئی طبقہ نہیں ہوتا، بلکہ کوئی فرد ہوتا ہے اور ان کے ابتدائی انقلابی کلام میں یہ ہیرو جوشؔ صاحب خود ہی ہیں۔یہ تصور کہ کوئی ایک فرد یا کوئی ایک شخص انقلاب کو اپنی ذات میں سمیٹ لیتا ہے اور یہ کہ سماجی علل و اسباب اس کشمکش میں غیر اہم ہیں، قطعاً غیر اشتراکی ہے اور اشتراکیوں کے بقول رجعت پسندانہ ہے۔ وہ ذاتی انکساری اور جماعتی تفخر، جو صحیح انقلابی شاعر میں ہونا چاہیے، جوشؔ صاحب میں نہیں ہے۔‘‘
فیضؔ نے 1945 میں جو اعتراضات جوشؔ کی انقلابی شاعری پر کیے، تقریباً اسی قسم کے اعتراضات ترقی پسند تحریک کے محرکوں اور ممتاز شاعروں نے بعد میں فیضؔ پر کیے۔ ساحرؔ لدھیانوی نے فیضؔ کی شاعری میں ظلم کے خلاف اور غریبوں کی حمایت میں تند اور با اثر لہجہ کی کمی کا گلہ کیا۔ جب فیضؔ نے صبح آزادی کی نظم میں لکھا : ’یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر/وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں/ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘ ، تو سردارؔ جعفری نے سخت اعتراضات کیا تھا کہ یہ نظم تو ترقی پسند شاعر کی نظم معلوم نہیں ہوتی، ایسی نظم تو مسلم لیگ یا آریہ سماج کا شاعر لکھ سکتا ہے۔ آخر عمر تک پھر فیضؔ نے کبھی جوشؔ پر اس طرح کے اعتراضات نہیں اٹھائے۔
کرشن کانت نے ’’نقش فریادی‘‘ کے مقدمے میں صحیح بات کہی کہ فیضؔ کی شاعری نے 1928 کے ارد اگرد آنکھ کھولی تو دیکھا کہ ایک طرف غزل گو فکر و شعور کے سبھی دریچے بند کرکے اپنی ذات کے اندر گم تھے تو دوسری طرف رومان نگار شعرا ان دریچوں سے پرواز کر کے حد نظر سے ماوریٰ ایک نئی دنیا میں قیام پذیر ہو چکے تھے۔ الارض لِلّٰہ سے اگر کسی شاعر کا رشتہ بندھا تھا، تو وہ اقبالؔ اور جوشؔ ہی تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جوشؔ علامہ اقبالؔ کی موجودگی کے دوران ہی اپنی شاعری کا سکہ منوا چکے تھے اور ان کے دوست دشمن سب ان کو کم از کم اقبالؔ کے بعد سب سے بڑا شاعر تسلیم کرتے تھے۔
آل احمد سرور نے سچ لکھا ہے ’’جوشؔ سرمایہ داروں کی چیرہ دستیوں، کسانوں کی زبوں حالی، غداروں کی سیاست، نازک اندامانِ کالج کی نسائیت، نصرانیت کی طرف اقدام، مولویوں کی ریاکاری، معاشرت میں رویے کی کارفرمائی برداشت نہ کر سکے اور چیخ اٹھے۔ شدتِ جذبات کی وجہ سے ان کی آواز میں کرختگی آ گئی۔ غم و غصہ نے الفاظ کو آتشیں لاوا بنا دیا۔
دوسرے عالم میں ہوں، دنیا سے میری جنگ ہے تاجِ شاہی سے قدم بھی مس کروں تو ننگ ہے
اگر اِدھر فیضؔ کے پاس آزادی صبح میں ’’یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر‘‘ اور ’’جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن‘‘ ہے تو اُدھر جوشؔ کی نظم ’’ماتم آزادی‘‘ میں ’’وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ‘‘ ملتا ہے…‘‘
ان تمام تحریروں اور واقعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فیضؔ نے کبھی جوشؔ کے مقابل صف آرائی نہیں کی، لیکن فیضؔ کے انتقال کے بعد بعض فیضچیوں نے ’’شاہ بخشد غلام نبخشد‘‘ کی مصداق بن کر پوپ سے زیادہ کیتھولک ہونے کا ادعا کرنے لگے۔ شاید اسی بدعت کو دیکھتے ہوئے جوشؔ بانی کے مدیر ڈاکٹر علی احمد فاطمی نے دس سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ ، جو مختلف ناقدین اور دانشوروں کو روانہ کیا، اس کا پہلا سوال یہی تھا، کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ بیسویں صدی میں اقبالؔ کے بعد جوشؔ سب سے ممتاز قد آور شاعر ہیں؟ لطف کی بات یہ ہے کہ جن افراد نے محکم تائید نہیں کی، بلکہ اس کی مخالفت بھی کی، انھیں دانشوروں نے دوسرے سوالوں کے جوابات میں اپنے لفظوں کے درمیان جوشؔ ہی کو سب سے بڑا شاعر قرار دیا۔ اس کے لیے آپ کو جوشؔ بانی کا عالمی جریدہ شمارہ کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ جوشؔ یا فیضؔ کے مضمون نگار، جنہوں نے فیضؔ کو جوشؔ سے بڑا شاعر تسلیم کیا ہے، ان کے مضمون کے اقتباسات سے آپ جوشؔ کی بزرگی کا نتیجہ نکال سکتے ہیں۔ یقینا جوشؔ کی شاعری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *