مسلم نوجوانوں کو اس وقت سامنے آنا چاہئے

سنتوش بھارتیہ 
بہت سی چیزیں پہلی بار ہو رہی ہیں۔ پورا سیاسی ڈھانچہ بدعنوانی کی حمایت میں کھڑادکھائی دے رہا ہے۔ پہلے بدعنوانی کا نام لیتے تھے، تو لوگ اپنے آگے بدعنوان کا تمغہ لگتے دیکھ خوف زدہ ہوتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف جو بھی بولتا ہے، اسے عجوبے کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ سیاسی نظام سے وابستہ لوگ چاہتے ہیں کہ یہ آواز یا اس قسم کی آوازیں نہ نکلیں اور جو نکالتے بھی ہیں، ان کے ناکام ہونے کی دعا سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں اور سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لوگ اس کا طریقہ بتاتے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگ کیسے ناکام ہوں گے۔ مثال کے طور پر انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس کے بعد اروِند کجریوال نے اور اب جنرل وی کے سنگھ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں، دلتوں، محروموں، پچھڑوں اور مسلمانوں کو منظم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کی یہ بات سیاسی لیڈروں کو سمجھ میں نہیں آ رہی ہے، بیوروکریسی کی سمجھ میں تو خیر کیا آئے گی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کی دوسری ٹیم، یعنی بڑے صحافی بھی اسے نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر بحث یہ ہوتی ہے کہ کیوں انا ہزارے کامیاب نہیں ہوں گے اور کیوں اروِند کجریوال یا وی کے سنگھ ناکام ہو جائیں گے۔ اس دلیل میں اُس درد کی ذرا بھی جھلک نہیں ہے، جسے اس ملک کا 90 فیصد آدمی برداشت کر رہا ہے۔
شرم نام کی ایک چیز ہوتی ہے۔ ہم برائی کی حمایت کریں، لیکن اس میں بھی شرم کا ایک احساس ہوتا ہے کہ کیا کریں ہم مجبور ہیں کہ برائی کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن بدعنوانی کی حمایت کرنے والے اس شرم کو بھی گھول کر پی گئے ہیں۔ لوک پال جیسا بھی لولا لنگڑا مجوزہ ہے، اس لوک پال بل میں کون کون نہ رہے اور رہے تو اس کے اختیارات کیسے کم کر دیے جائیں، اس کے اوپر زیادہ زور سیاست میں رہنے والے لوگ لگا رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے ساتھ رہنے والے لوگ شاید یہ سوچتے ہیں کہ اگر لوک پال کے دائرے میں وزیر اعظم آ گیا تو پھر جب راہل گاندھی وزیر اعظم بنیں گے اور تب اگر انہوں نے بدعنوانی کی تو وہ لوک پال سے کیسے بچ پائیں گے۔ کوشش یہ ہو رہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح بی جے پی کے لوگ بھی سوچ رہے ہیں کہ کہیں ہمارا وزیر اعظم بن گیا تو وہ لوک پال کے دائرے میں کیوں رہے۔ نتیجہ کے طور پر وزیر اعظم کا عہدہ لوک پال کے دائرے میں نہ آئے، اس پر سبھی پارٹیاں، جو پارلیمنٹ میں عوام کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں، تقریباً ایک رائے ہیں، یعنی مستقبل کی بدعنوانی کی فکر انہیں بھی ہے، جو آج بدعنوانی میں کم شامل ہیں۔
ہم ٹیلی ویژن کی بحثوں میں اکثر دیکھتے ہیں، چاہے کانگریس کے ترجمان ہوں یا بھارتیہ جنتا پارٹی یا دوسری پارٹی کے ترجمان، وہ لوک پال یا بدعنوانی پر کوئی اسٹینڈ لیتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ شاید اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ مستقبل کی بدعنوانی میں کون کون ملوث ہوگا، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے اور جو آج ملوث نہیں ہے، وہ بھی مان رہا ہے کہ اگر مستقبل میں وہ بدعنوانی میں ملوث ہوا تو کیسے بچ پائے گا۔ اسی لیے وہ بہت عجیب دلیل دے رہا ہے، جس کا سیدھا مطلب ہے کہ اس ملک میں اگر نئے قانون بنانے ہیں تو ایسے قانون بنانے چاہئیں، جن سے بدعنوانی نہ ختم ہو، بلکہ بدعنوانی سے بچنے کا راستہ نکالا جائے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس حالت کو دیکھ کر بھی ملک میں ان لوگوں کا خون نہیں کھول رہا ہے، جو بدعنوانی کے شکار ہیں۔ اگر سیدھے کہوں تو میں دلتوں، پچھڑوں، مزدوروں، کسانوں اور مسلمانوں کی بات کر رہا ہوں۔ انہیں نہیں لگتا کہ ان کا مستقبل یا ان کے مستقبل کے خواب آج کے بدعنوان لوگ تو کچل چکے ہیں اور جو کچھ بچا ہوا ہے، اسے مستقبل کے بدعنوان لوگ کچلنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس لیے غم زدہ ہونے کی بھی اب خواہش نہیں ہوتی، لیکن ہماری تہذیب ہے کہ مردے کا غم منایا جاتا ہے اور اگر دلت، پچھڑے، محروم، مسلمان اور کسان مردہ ہو چکے ہیں، تو ان کا غم تو منایا جانا چاہیے۔
ہمارے ملک میں دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ ہے۔ میں اگر شروعات کروں تو مسلم دانشوروں سے کرنا چاہوں گا۔ مسلم دانشور اس بات پر تو بحث کر رہے ہیں کہ جے پی تحریک ہوئی تو اس نے مسلم لیڈرشپ کو کمزور کیا۔ وی پی سنگھ کی تحریک سے کوئی مسلم لیڈرشپ نہیں نکلی اور اب انا ہزارے اور اروِند کجریوال یا جنرل وی کے سنگھ کی جو تحریک چل رہی ہے، یہ تو مسلم لیڈرشپ کی تشکیل ہی نہیں کر رہی ہے۔ اب سوال پوچھنے کا من کرتا ہے ان مسلم دانشوروں سے کہ آپ نے کبھی مسلمانوں کے اصلی سوالوں کو اٹھانے کی کوشش کی یا جے پرکاش نارائن کے وقت کو اگر یاد کیا جائے، تو ہمیں کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی، جس میں لوگوں نے لیڈر شپ میں آگے آنے کی کوشش کی ہو یا انہیں جبراً پیچھے دھکیل دیا گیا ہو۔ ٹھیک یہی بات وی پی سنگھ کے وقت ہوئی۔ وی پی سنگھ کے وقت تو مسلم دانشوروں کو بار بار جھنجھوڑا گیا، سامنے آنے کی دعوت دی گئی، لیکن پھر بھی اگلی قطار میں کوئی نہیں آیا۔ آیا کون، جسے مسلمان اپنا نمائندہ نہیں مانتے ہیں، یعنی عارف محمد خان۔ جو مسلمانوں کے نمائندے تھے، وہ دائیں بائیں مباحثے اور تنقیدیں کرتے رہے، لیکن لیڈرشپ سنبھالنے نہیں آئے۔
اب ملک میں دوبارہ لوگ بدعنوانی کے خلاف بات کر رہے ہیں، لیکن مجھے بدعنوانی کے خلاف لڑائی میںمسلم دانشور نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کی جتنی بھی رائے سامنے آ رہی ہے، چاہے وہ ٹیلی ویژن کے ذریعے ہو یا اخبار کے، وہ اس اسٹیٹس کو بنائے رکھنے کی رائے ہے۔ ان کی رائے میں یہ تشویش ہے کہ کہیں بی جے پی اقتدار میں نہ آ جائے اور کانگریس ختم نہ ہو جائے۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے کانگریس کی لڑائی لڑیں۔ جو لڑائی کانگریس اپنے آپ نہیں لڑ پا رہی ہے، اسے لڑنے کا دَم مسلم دانشور یا مسلم لیڈر بھر رہے ہیں۔ شاید اس کے پیچھے وجہ وہی ہے، جو پچھلے کچھ سالوں سے لگاتار دکھائی دے رہی ہے۔ وجہ انتخاب کے وقت کانگریس سے مسلمانوں کے نام پر کسی نہ کسی طرح کا سودا کر لینا اور ہندوستان کے مسلمانوں کے خوابوں کو گروی رکھ دینا، کیوں کہ کسی بھی انتخاب کے بعد مسلم تنظیمیں یا مسلم دانشور طبقہ ان مطالبات کے اوپر کبھی بھی متحدہوتے دکھائی نہیں دیا۔
یہ افسوس ناک صورتِ حال ہے، کیوں کہ جتنی گئی گزری حالت مسلمانوں کی ہے، اتنی گئی گزری حالت نہ دلتوں کی ہے، نہ پچھڑوں کی اور نہ کسانوں کی ہے۔ کسان، دلت اور پچھڑے مرتے مرتے بھی آواز اٹھا رہے ہیں، خود کشی کر رہے ہیں، لیکن اس سسٹم سے لڑائی کا حوصلہ بھی دکھا رہے ہیں۔ ملک میں بہت ساری جگہوں پر تحویل اراضی کے خلاف کسان لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دلت اپنے ناموس کو سامنے رکھ کر کسی نہ کسی لیڈر کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ سب سے افسوس ناک حالت مسلم معاشرہ کی ہے، جس کے لیڈر نہ تو مستقبل کی چنوتیاں سمجھ رہے ہیں اور نہ ملک کے سامنے کھڑے سوال کو۔ ایف ڈی آئی، مہنگائی، بے روزگاری، غریبی اور سب سے بڑا مدعا بدعنوانی ان کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتی۔ اس لیے جب جب ہم مسلم دانشوروں کے مضمون کو پڑھتے ہیں، تب تب ہمیں تھوڑی سی مایوسی ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر لیڈر اور دانشور اپنا کردار بھول جائیں تو آگے کون آئے۔ ایسے وقت میں ان کے آگے آنے کی ضرورت ہے، جو جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، پٹنہ، بنارس، بھونیشور اور تمل ناڈو میں پڑھ رہے ہیں۔ اپنے مسائل سے فکرمند اور پریشان نوجوان، خاص کر مسلم نوجوانوں کو اس وقت آگے آنا چاہیے۔ ملک ایک نئی کروٹ کے دروازے پر کھڑا ہے۔ اس کروٹ کا حصہ یا اس تبدیلی کا حصہ بننا کافی نہیں ہے، بلکہ اس تبدیلی کی لیڈر شپ کا حصہ بننا زیادہ ضروری ہے۔ مسلمانوں کے مسائل وہی ہیں، جو اس ملک کے 80 فیصد لوگوں کے ہیں۔ اس بات کو مسلم سماج شاید سمجھتا ہے، لیکن اس کے لیڈر نہیں سمجھتے۔ اسی لیے ادھر ایک نئی چیز نظر آ رہی ہے کہ کسی بھی تنظیم کے بیان یا کسی بھی تنظیم کی رائے پر لوگ اپنا ووٹ نہیں دیتے۔ ووٹ اپنے مسائل کی روشنی میں دیتے ہیں۔ گزشتہ اتر پردیش اسمبلی انتخاب اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
ٹھیک یہی حالت کسانوں، دلتوں اور پچھڑوں میں بھی ہے۔ ان کے لیڈر اسٹیٹس کو (جوں کی تو حالت) کا حصہ بن گئے ہیں، نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کے سارے دلائل چاہے وہ اخباروں میں ہوں، چاہے ٹیلی ویژن پر ہوں یا چھوٹی چھوٹی مجلسوں میں، بدعنوانی کو برقرار رکھنے اور بدعنوانی کے خلاف چل رہی لڑائی کو کند کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اس ملک کے عوام ہی بے ایمان ہو گئے ہیں، اس لیے اس ملک سے کبھی بدعنوانی جا ہی نہیں سکتی۔ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی یہ دلیل اس ملک کے لوگوں کے درد کو کتنا بڑھاتی ہے۔ جب گاؤں کا غریب آدمی یا غریب کسان یا غریب مزدور یا غریب مسلمان کہیں پر بیس روپے کی رشوت دیتا ہے، تو بیس روپے کی رشوت اسے اس لیے دینی پڑتی ہے، کیوں کہ سب سے اوپر بیٹھے ہوئے لوگ لاکھوں کروڑ روپے کی بدعنوانی کرتے ہیں۔ جس دن اوپر کی بدعنوانی بند ہو جائے گی، اس دن نیچے کی بدعنوانی خود بخود ختم ہو جائے گی۔
اس نظام کو بدلنے کی بات کہنا اور اس نظام کو بدلنے کے خواب دیکھنا ایک بات ہے، لیکن اس نظام کو بدلنے کی لڑائی میں حصہ لینا بالکل دوسری بات ہے۔ وہ سارے لوگ، جو اس نظام سے پریشان ہیں، متاثر ہیں، اس سماج کی برائیوں سے پریشان ہیں، ان سب کو اپنے اپنے دائرے توڑ کر ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے، ہندوستان کے عوام کی حیثیت سے آگے آنا چاہیے اور ان ساری دلیلوں کا جواب گلی چوراہوں پر دینا چاہیے، جو ان کے مفاد کے خلاف نظام سے وابستہ لوگوں کے ذریعے گڑھے جاتے ہیں۔ انہیں ان دلیلوں کو مستقبل کے بدعنوانوں کی دلیل ماننی چاہیے اور ان سارے لوگوں کی زبان اور ان کی سرگرمیوں کی مخالفت کرنی چاہیے، جو ہندوستان کی تصویر بدلنا نہیں چاہتے۔ ایک موقع آ رہا ہے اور اس موقع کا استعمال ہندوستان کے لوگ کریں گے، ایسی امید بہت سارے لوگوں کو ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *