ٹھہرگیا رومانس کا سلسلہ

سلمان علی 
میری ٹیڑھی میڑھی کہانیاں
میر ے ہنستے روتے خواب
کچھ سریلے، بے سرے گیت میرے
کچھ اچھے برے کردار
وہ سب میرے ہیں، ان سب میں میں ہوں
بس بھول نہ جانا، رکھنا یاد مجھے، جب تک ہے جان

چوپڑا کے ذریعہ کہے گئے یہ آخری الفاظ ہیں جو انھوں نے کچھ دنوں پہلے ان کے اعزاز میں دئے گئے میڈیا پروگرام میں کہے تھے۔ اس وقت کسی نے یہتصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اس عظیم ہستی کو یادکر نے کی نوبت اتنی جلدی آ پڑے گی۔ہندی فلم انڈسٹری کو رومانس سے لبریز کرنے والے ہدایتکا ر یش چوپڑا، ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یش چوپڑا کی ناگہانی موت سے بالی ووڈ میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ان کے چاہنے والوںمیں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے،ایک سناٹا طاری ہوگیا ہے۔ اس میںکوئی دو رائے نہیں کہ یش چوپڑا ’’ کنگ آف رومانس‘‘ تھے ۔یش چوپڑا وہ پہلے ہدایت کار تھے ، جنھوں نے فلموں میں ملٹی اسٹارر فلموں کا چلن شروع کیا۔انھوں نے 1965میں فلم ’وقت‘ میں بلراج ساہنی ، راجکمار ، سنیل دت اور ششی کپور جیسے اداکاروںکو ایک ساتھ پیش کر کے کامیابی کی ایک نئی عبارت لکھی۔ 27ستمبر 1932کو لاہور میں پیدا ہونے والے یش چوپڑا سادگی کی ایک مثال تھے۔ امیتابھ سے لے کر شاہ رخ خان اور بے شمار لوگوں کو اپنی ہدایت کاری کے لازوال ہنر سے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھانے والے یش چوپڑا نے تقریباً پانچ دہائیوں تک بالی ووڈ میں اپنی فلموں میں رومانس کوپروان چڑھایا ۔شاید کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جب امیتابھ بچن بالی ووڈ میں جدوجہد کر رہے تھے تب یش چوپڑا نے ہی امیتابھ کو ’اینگری ینگ مین‘ سے لے کر’شاعر‘ تک کا سفر طے کرایا۔ 1975میں بنی ان کی فلم ’’دیوار‘‘ میں انھوں نے امیتابھ کو ’اینگریزی ینگ مین‘ کے طور پر پیش کیا اور اس کے بعد 1976میں فلم ’’کبھی کبھی‘‘ میں انھوں نے امیتابھ کو بطور شاعر پیش کیا۔علاوہ ازیں شاہ رخ خاں ان کے چہیتے اداکاروں میں سے ایکہیں ۔ یش چوپڑا کو ان کا کنگ میکر کہا جاتا ہے، کیونکہ شاہ رخ خان کی بیشتر کامیاب فلمیں یشراج بینر تلے ہی بنی ہیں۔

1971میں یشراج فلمس پروڈکشن کی بنیاد رکھنے والے یش چوپڑا لاہور سے ممبئی انجینئر بننے کا خواب لے کر آئے تھے، اورانھوں نے کبھی فلموں میں کام کرنے کا نہیں سوچا تھا، لیکن چونکہ ان بھائی بی آر چوپڑا جو ایک فلمی صحافی تھے اور ان دنوں فلمسازی پر کام کر رہے تھے، جس کی وجہ سے یش چوپڑا کو بھی اپنے بھائی کے ساتھ فلمسازی کے باریک پہلوئوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، بس یہیں سے ان کے دل میں فلمیں بنانے کا ولولہ پیدا ہو گیا اور موقع دیکھ کر انھوں نے اپنے بھائی بی آر چوپڑا سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔

1971میں یشراج فلمز پروڈکشن کی بنیاد رکھنے والے یش چوپڑا لاہور سے ممبئی انجینئر بننے کا خواب لے کر آئے تھے ۔انھوں نے کبھی فلموں میں کام کرنے کا نہیں سوچا تھا، لیکن چونکہ ان کے بھائی بی آر چوپڑا فلمی صحافی تھے اور ان دنوں فلمسازی پر کام کر رہے تھے،لہٰذا یش چوپڑا کو بھی اپنے بھائی کے ساتھ فلمسازی کے باریک پہلوئوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ بس یہیں سے ان کے دل میں فلمیں بنانے کا ولولہ پیدا ہو گیا اور موقع دیکھ کر انھوں نے اپنے بھائی بی آر چوپڑا سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔
چونکہ یش چوپڑا نے ایگریکلچر میں گریجویشن کیا ہوا تھا اور ان کی بیرون ملک میں انجینئرنگ کرنے کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔اس لئے بی آر چوپڑا نے پہلے تو صاف صاف انکار کر دیا اور انہیں سمجھایا، لیکن یش چوپڑا کی فلموں کے تئیں دلچسپی اور ضد کے آگے انہیں ہار ماننی پڑی اور وہ راضی ہو گئے۔بعد ازاں انھوں نے یش صاحب کو خود تواپنے ساتھ نہیں رکھااور ہدایت کار آئی ایس جوہر کے پاس بطورا سٹنٹ ڈائریکٹر بھیج دیا۔پھر کچھ دنوں بعد ہی انھوں نے یش چوپڑا کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ شروعات میں یش چوپڑا نے بطور اسٹنٹ ڈائریکٹر تین فلمیں کیں، جن میں ایک ہی راستہ، نیا دور اور سادھنا شامل ہیں۔اس کے بعد ان کے بھائی بی آر چوپڑا نے ہدایتکاری کی کمان یش چوپڑا کے سپرد کر دی اور بطور ہدایتکار یش چوپڑا نے اپنی پہلی فلم ’’دھول کے پھول ‘‘ سے اپنے کریئر کی شروعات کی۔اس کے بعد انھوں نے دھرم پتر بنائی، لیکن 1965میں آئی ان کی ’وقت‘ نے انہیں شہرت کی نئی بلندیاں بخشیں اور یہ فلم زبردست ہٹ رہی۔ یہیں سے ہندی فلموں میں ملٹی اسٹارر فلموں کا چلن عام ہوا۔فلم ’وقت‘ کی کامیابی کے بعد یش چوپڑا نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ 1969میں ان کے ذریعہ بنائی گئی بناکسی گانے اور بنا انٹرویل کی فلم ’’ اتفاق‘‘ نے انھیں فلم فیئر ایوارڈ دلایا۔اس کے بعد ترشول، سلسلہ، داغ، دیوار، کبھی کبھی ،چاندنی، ڈر،دلوالے دلہنیا لے جائیں گے،دل تو پاگل ہے جیسی فلموں نے یش چوپڑا کو ’کنگ آف رومانس‘ کا لقب دیا۔ 2005میں ہندی سنیما کو دی گئیں ان کی ناقابل فراموش خدمات کے لئے حکومت ہند نے انہیں ’پدم بھوشن‘ سے نوازا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 80سال کی عمر میں بھی وہ ہدایتکاری میں سرگرمی کے ساتھ مصروف تھے اور کچھ ہی دن پہلے انھوں نے اپنی ’’ جب تک ہے جان‘‘کی ہدایتکاری کی تھی،جو بطور ہدایتکار ان کی آخری فلم ثابت ہوئی ۔یاد رہے کہ اس فلم میںشاہ رخ خان، کیٹرینہ کیف اور انوشکا شرما ایک ساتھ نظر آئیںگے اوریہ فلم دیوالی کے موقع پر ریلیز ہوگی۔حالانکہ ہدایتکاری میں واپسی انھوں نے طویل عرصہ بعد کی تھی۔ اس سے قبل انھوں نے 2004میںشاہ رخ خان کی اداکاری والی فلم ’ویرا زارا‘ کی ڈائریکشن کی تھی۔
یش چوپڑا نے فلمی دنیا میں اس دور میں قدم رکھا تھا، جب ہندوستانی فلموں میں رومانس کو کوئی خاص مقام حاصل نہ تھا، لیکن یش چوپڑا کے اندر رومانس کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔یش چوپڑا ایسے ہدایت کار، فلمساز، مصنف تھے جن کی فلموں میں کبھی کہیں اوچھا پن نہیں نظر آیا۔انھوں نے اپنی فلموں کی کہانیوں کو اس طرح مستحکم رکھا کہ ناقدین کو کبھی تنقید کا موقع ہی نہیں دیا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں امیتابھ کی برتھ ڈے پارٹی میںشریک ہو کر جب وہ گھر لوٹے ، تب ہی سے ان کی طبیعت ناسازہو گئی ۔ انہیں ڈینگو ہو گیا تھا، اس کے بعد انہیںممبئی کے لیلا وتی اسپتال میں داخل کرایا گیا ، جہاں کچھ دنوںبعد21ستمبر کو شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب ان کی موت واقع ہو گئی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *