سیاسی لیڈروں کو آرم اسٹرانگ پامے سے سبق لینا چاہئے

وسیم راشد
آج ایک ایسے عنوان پر لکھنے کو میرا جی چاہ رہا ہے جو آج کے دور کی سیاسی اتھل پتھل،سیاست کے دائوں پیچ اور گھوٹالوں سے الگ ایک کہانی ہے۔ایک ایسی عظیم خبر جس کو اخباروں کو صفحۂ اول پر جگہ دینی چاہیے تھی مگر وہ خبر صرف انگریزی اخبار وںمیں تیسرے ،چوتھے صفحہ کی زینت بنی اور اردو ،ہندی اخباروں میں تو اس کا وجود ہی نظر نہیں آیا۔ اس خبر پر اردو ،ہندی الیکٹرانک میڈیا نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔

اگر اس ملک میں ترقی ہوئی تو صرف اور صرف بد عنوانی میں۔مکیش امبانی ، انل امبانی ملک کے کیا، دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے جارہے ہیں۔ 100کروڑ روپے سوئس بینک میںجمع کراکے شاید نمبر ون بن جائیںگے مگر یہ امبانی ، ٹاٹا، برلا کیا آرم اسڑانگ بامے جیسا کام کر پائے ہیں۔ ایک تنخواہ پانے والا آفیسر اپنی پانچ ماہ کی تنخواہ دے دیتاہے۔ امبانی چاہیں تو ایسی ایسی کئی سڑکیں بنوا سکتے ہیں مگر کس کی بکری کون ڈالے دانا گھاس۔ اگر انعام دینا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسے نوجوانوں کو دینا چاہئے،آرم اسٹرانگ جیسے لوگ کانگریس ، بی جے پی اور تمام سیاسی پارٹیوں کے منہ پر ایسا طمانچہ ہیں جو یہ سبق سکھا رہے ہیں کہ بد عنوان سیاسی پارٹیوں کے بد عنوان لیڈراس ملک کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کریں گے۔

کچھ دن قبل ایک انگریزی اخبار میں خبر پڑھی کہ ایک ناگا آئی اے ایس افسر نے حکومت کی مدد کے بغیر منی پور میں 100 کلو میٹر لمبی سڑک بنائی ہے۔یہ نوجوان دہلی کے سینٹ اسٹیفنس کالج سے 2005 کا گریجویٹ ہے۔ اس کا نام آرم اسٹرانگ پامے ہے۔ اس وقت وہ اپنے آبائی ضلع تمینگ لانگ کے ایس ڈی ایم ہیں۔ ان کا تعلق زیمے قبیلے سے ہے اور یہ اپنے قبیلے کا پہلا آئی ایس آفیسر ہے۔ایک قبائلی علاقے کا وہ افسر جس کی ہمت اور حوصلہ کی داد دینے کو جی چاہتا ہے ۔ اس آفیسر نے اپنی قوت ارادی کی بناپر 100 کلو میٹر لمبی سڑک بنانے کا فیصلہ کیا۔یہ سڑک منی پور کو ناگا لینڈ اور آسام سے جوڑے گی۔ اس سڑک کی سالہا سال سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی ۔ اگر کسی مریض کو کسی قریبی اسپتال تک پہنچانے کی ضرورت ہوتی تھی تو اس میں کم سے کم دو ن لگ جاتے تھے، کیونکہ اس علاقے میں گاڑی چلانے کے لیے کوئی بھی سڑک نہیں ہے۔ کئی بار مرکزی حکومت کو اس سڑک کی ضرورت اور اہمیت سے آگاہ کرایا گیا اور حکومت نے 101کروڑ روپے اس سڑک کو بنانے کے لیے مختص بھی کئے مگر اس سڑک کو بنانے کی شروعات کبھی نہیں ہو پائی۔پامے سے جب اس سڑک کے بنانے کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں تو انہوں نے بتایا کہ اس سال جون میں ٹائیفائڈ اور ملیریا جیسی بیماریاں اس علاقے میں پھیل گئی تھیں اور چونکہ گاڑی چلانے کے لیے کوئی سڑک نہیں ہے اس لیے فوری طور پر تو دور، کئی دنوں تک مریضوں کو لانے لے جانے کا کوئی انتظام نہیں ہو پاتا اور پیدل مریض کو اسپتال پہنچانے میں دو ، چار دن لگ جاتے تھے اور ان مریضوں کو بانس سے بنے اسٹریچر پر لٹا کر اسپتال پہنچانا پڑتا تھا جس سے کہ جاتے جاتے اور آتے آتے آدھے سے زیادہ مریض راستے میں ہی ختم ہوجاتے تھے اور ان تمام حالات سے پریشان اور مایوس ہو کر اس آئی اے ایس آفیسر نے خود اس گائوں کو جوڑنے کے لیے 100 کلو میٹر لمبی سڑک بنانے کا فیصلہ کیا اور اپنے دوستوں اور گھر والوں کی مدد سے انہوں نے پیسہ جمع کیا۔ دلی یونیورسٹی میں ہی ان کے بڑے بھائی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے اور ان کی بیوی نے اپنی ایک مہینہ کی تنخواہ دی۔ خود آرم اسٹرانگ نے اپنی پانچ مہینے کی تنخواہ اور ان کی والدہ نے اپنے شوہر کی ایک مہینے کی پنشن اس سڑک کو بنانے کے لیے دی اور اس طرح آرم اسٹرانگ نے چار لاکھ روپے جمع کیے ۔ یہی نہیں، فیس بُک پر انہوں نے ای میل ڈال کر چندہ جمع کیا اور بڑی تیزی سے یہ سڑک تیار ہوگئی۔ نہ کسی ٹھیکہ دار کی ضرورت پڑی نہ حکومت کے امدادی فنڈ کی اور نہ ہی وہاں کے عہدیداران کی۔ اس وقت تک 70کلو میٹر سڑک تیار ہوچکی ہے۔
یہ ساری کہانی، یہ پورا قصہ ہم نے آپ کو کیوں سنایا ،کہیں نہ کہیں آپ اس کو پڑھ ہی لیتے، مگر ہمارا مقصد صرف اورصرف یہ بتانا ہے کہ یہ ملک جس کو آزادی ملے تقریباً65 سال ہونے کو آئے ۔ آج تک کانگریس نے اس ملک کے عوام کو لوٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جوبھی سیاسی پارٹیاںآئیں، سب نے ملک کو لوٹنے کھسوٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ بے شمار گھوٹالے، غریبی ، بے روزگاری، جہالت بڑھتی چلی گئی۔ انڈیا شائننگ کا صرف نعرہ ہی سنا ہم نے، کبھی عملی زندگی میں اس کی شکل نہیں دیکھی۔ سوئس بینکوں میں اکائونٹ کھولنے والوں نے کبھی اس ملک کے عوام کی غریبی کو محسوس نہیں کیا۔ بڑی بڑی کمپنیاں ، ریلائنس، جیٹ ایئر ویز، ڈابر اور نہ جانے کتنی کمپنیوں کے تقریباً 700 کھاتے سوئس بینک میں اربوں ، کھربوں روپے کی شکل میں موجود ہیں۔ HSBC جینوا میں ہندوستانیوں کے بینک اکائونٹ ہیں ،خوب کالا دھن جمع ہے ۔
آج بھی ملک کے کچھ علاقے ایسے پچھڑے ہوئے ہیں جہاں بجلی ، پانی نہیں ہے۔یہاں تک کہ ابھی تک کچھ گائوں میں لیٹرین کی سہولت بھی نہیں ہے ۔ ابھی بھی پبلک لیٹرین میں جاناپڑتا ہے ۔ایسے پسماندہ علاقوں اور پسماندہ ذاتوں کے لیے یہ حکومت کچھ نہیں کرسکی۔جو بھی پیسہ ان ریاستوں اور صوبوں اور ضلعوں کی ترقی کے لیے وہاں کے لیڈران کو دیا جاتا ہے وہ سب بند ر بانٹ ہوجاتاہے۔ ہر سیاسی پارٹی کے لیڈران ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں مگر مہنگائی ، بے روزگاری ،تعلیم ، صحت ، پانی، زمین ، روٹی اور بھوک جیسے مسائل کسی کو نظر نہیں آتے۔ سرکار نے سب کچھ جیسے پرائیویٹ کمپنیوں کو سونپ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سڑک کے بنانے کا کام حکومت نہیں کرنا چاہتی،صحت ، تعلیم ، روزگار ، حکومت فراہم نہیں کرنا چاہتی۔ غریب آدمی اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں پڑھا نہیں سکتا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت پانی بھی پرائیویٹ کمپنیوں کو سونپ کر عوام سے کہے گی کہ ہم تمہیں پانی بھی فراہم نہیں کر سکتے۔ تم بوتل کا پانی خرید کر پیو۔گزشتہ 8 سے 10 برسوں میں ملک میں سوائے بد عنوانی کے کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں سرکار ہے ہی نہیں اور سرکار ہے تو صرف نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔ ان کمپنیوں ،لیڈران اور افسران نے گھوٹالے اور بد عنوانی کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں۔وزیر اعظم جھوٹا دلاسہ دلاتے رہے کہ مہنگائی کم ہورہی ہے ۔
اگر اس ملک میں ترقی ہوئی تو صرف اور صرف بد عنوانی میں۔مکیش امبانی ، انل امبانی ملک کے کیا، دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے جارہے ہیں۔ 100کروڑ روپے سوئس بینک میںجمع کراکے شاید نمبر ون بن جائیںگے مگر یہ امبانی ، ٹاٹا، برلا کیا آرم اسڑانگ پامے جیسا کام کر پائے ہیں۔ ایک تنخواہ پانے والا آفیسر اپنی پانچ ماہ کی تنخواہ دے دیتاہے۔ امبانی چاہیں تو ایسی ایسی کئی سڑکیں بنوا سکتے ہیں مگر کس کی بکری کون ڈالے دانا گھاس۔ اگر انعام دینا ہو تو ایسے لوگوں کو، ایسے نوجوانوں کو دینا چاہیے،آرم اسٹرانگ جیسے لوگ کانگریس ، بی جے پی اور تمام سیاسی پارٹیوں کے منھ پر ایسا طمانچہ ہیں جو یہ سبق سکھا رہے ہیں کہ بد عنوان سیاسی پارٹیوں کے بد عنوان لیڈراس ملک کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔ایسے نوجوانوں کو میڈیا کے سامنے لانا چاہیے اور میرے ہاتھ میں ہو تو ان کو نوبل پرائز دیا جانا چاہیے، کیونکہ اربوں کھربوں کے گھوٹالے والے اس ملک میں، کچھ ہزار روپے کمانے والے شخص نے اگر سڑک بنا کر عوام کو تحفہ دیا ہے تو اس کو سراہنا چاہیے تاکہ اور نوجوان آگے آئیں، بلکہ ان جیسے نوجوان ہی اس ملک سے ان گِدھوں کی طرح نوچنے کھسوٹنے والے سیاسی لیڈران سے چھٹکارہ دلا سکتے ہیں ۔شاباش آرم اسٹرانگ پامے ،شاباش۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *