سرکار لال بہادر شاستری کو نظر انداز کر رہی ہے

سید شاویز فیروز 
ایسا لگتاہے کہ سرکار ملک کے دوسرے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کونہ تو یاد رکھنا چاہتی ہے نہ ہی ان کی وراثت کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے اور نہ انہیں وہ عزت دینا چاہتی ہے، جس کے وہ مستحق ہیں۔ سادگی سے زندگی گزارنے والے لال بہادر شاستری کو اب کانگریسی یاد ہی کیوں رکھنا چاہیں گے، کیونکہ ان کی شخصیت انہیں ہی آئینہ دکھا جاتی ہے۔ جو شخص وزیر اعظم رہتے ہوئے بھی بڑی سنجیدگی سے زندگی گزارتا ہو، جو کہ اخلاقیذمہ داری کی بنیاد پر وزارت سے استعفیٰ دے دیتا ہو، وہ آج کے سیاسی لوگوں کے لئے نہ تو کبھی آئڈیل تھا اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے ’جے جوان‘،’جے کسان‘ کا نعرہ دینے والی دھرتی کے اس لال کو بھلانے اور ان سے جڑی وراثتوں کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش ہورہی ہے۔گاندھی جی کے جنم دن کو ہی ان کا جنم دن ہونے کی وجہ سے شاستری جی کو لوگ بھولے بھٹکتے یاد کر لیتے ہیں، مگر ناقدری کے اس دور میں ان کا قد راجیو گاندھی اور اندرا گاندھی سے بھی چھوٹا رکھنے کی کوشش ہورہی ہے۔ گاندھی، نہرو خاندان کے ممبروں کے جنم دن اور یوم شہادت پر ڈھیروں پروگرام ہوتے ہیں، مگر شاستری جی کے لئے صرف فارملیٹی نبھائی جاتی ہے تاکہ کوئی الزام نہ لگائے۔

شاستری جی کی تاریخ پیدائش 8 جولائی سے 2 اکتوبر کیسے ہو گئی ، اس کا جواب ہمیں بھلے نہیں ملا، مگر یہ بات تو پکی ہو گئی کہ شاستری جی کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔سرکار کے لئے شاشتری جی کو بھولنا آسان ہے ،بھلے ہی مہاتما گاندھی جیسی عظیم شخصیت کے سامنے شاشتری جی کا قد چھوٹا ہو، مگر ان کا قد انتا بھی چھوٹا نہیں ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جائے۔ شخصیت اور احترام کے معاملے میں شاستری جی کا قد ہمیشہ اونچا تھا، اونچا ہے اور اونچا رہے گا۔

ایسا صرف جذباتی ہوکر نہیں کہاجا رہا ہے، بلکہ اس کی تازہ مثال سب کے سامنے ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو شاستری جی کی جائے پیدائش مغل سرائے میں گزشتہ دو اکتوبر کو’’ لال بہادر شاستری جنم استھلی سیوا سمیتی ‘‘کے ممبروں نے راتوں رات شاستری جی کا مجسمہ مغل سرائے سینٹرل کالونی (سابق کوڑھ کلاں گرام) میں نصب نہ کیا ہوتا۔ بغیر منظوری کے ریلوے کی زمین پر مجسمہ نصب کیے جانے کی جانکاری ہونے پر ڈویژن ریلوے منیجر انوپ کمار نے فوراً شریک لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی۔ اگر سرکار یا مقامی انتظامیہ شاستری جی کی جائے پیدائش کو محفوظ کرنے میں خود دلچسپی دکھائی ہوتی تو آج اس طرح کی کوئی نوبت نہ آتی۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ چرچا میں بنے رہنے کے لئے یقین دہانیوں اور الزاموں کی جھڑیاں لگائی جاتی ہیں، لیکن کام کی بات کوئی نہیں کرتا۔ اسی لیے تنگ آکر کمیٹی کے ممبروں نے یہذمہ دار خود اٹھا لی ور اس بار جبراً مجسمہ نصب کر دیا۔ حالانکہ یہ زمین ریلوے کی ہے، جس پر بغیر ریل انتظامیہ کی اجازت کے مجسمہ نصب کرنا قانونی جرم ہے، جس کی جانکاری کمیٹی کے لوگوں کو پہلے سے تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے شاستری جی کی جائے پیدائش کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف مجسمہ نصب کیا اور کہا کہ وہ آنے والی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ حال صرف جائے پیدائش کا نہیں ہے، شاستری جی کی زندگی اور ان کی تعلیم سے متعلق دستاویزوں کومحفوظ رکھنے میں بھی سرکار کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ شاستری جی کی تاریخ پیدائش 2 اکتوبر نہ ہوکر 8 جولائی ہونے سے متعلق سوال پر جب’ چوتھی دنیا‘ نے شاستری جی کی تعلیم و تربیت سے متعلق تنظیموں میں جاکر جانکاری حاصل کرنی چاہی تو کچھ حیرت انگیز باتیں سامنے آئیں۔ جن میں پہلی یہ کہ وہ اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ ( ٹی سی) جس پر شاستری جی کی تاریخ پیدائش 8 جولائی 1903 درج ہے، اس کی اوریجنل کاپی ریلوے پرائمری اسکول میں محفوظ ہے، مگر ہریش چند انٹر کالج وارانسی میں ان سے متعلق دستاویز کو دیمک کھا گئے اور سرکار نے کبھی بھی اس کا نوٹس نہیں لیا۔ یہی حال ’’مہاتما گاندھی کاشی ودھیا پیٹھ‘‘ کا رہا، جہاں سے انہیں شاستری کی ڈگری ملی تھی۔ وہاں بھی ان سے متعلق دستاویز نہیں مل سکے۔ شاستری جی کی تاریخ پیدائش 8 جولائی سے 2 اکتوبر کیسے ہو گئی ، اس کا جواب ہمیں بھلے نہیں ملا، مگر یہ بات تو پکی ہو گئی کہ شاستری جی کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔سرکار کے لئے شاشتری جی کو بھولنا آسان ہے ،بھلے ہی مہاتما گاندھی جیسی عظیم شخصیت کے سامنے شاشتری جی کا قد چھوٹا ہو، مگر ان کا قد انتا بھی چھوٹا نہیں ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جائے۔ شخصیت اور احترام کے معاملے میں شاستری جی کا قد ہمیشہ اونچا تھا، اونچا ہے اور اونچا رہے گا۔ ملک کے باشندوں کو ان کی آئیڈیلیٹی اور ان کے احترام کی سخت ضرورت ہے۔ آج کے ہر لیڈر کو ان کی کسوٹی پر کھرا اترنا ضروری ہے۔ ورنہ ملک کو اخلاقی زوال سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *