سچن کو اعزاز ملنے پر تلملائے کنگارو

ہندوستانی کرکٹر سچن تیندولکر کو ان کی ناقابل فراموش کرکٹ خدمات کے لئے آسٹریلیا حکومت نے انہیںاپنے ملکی اعزاز’آرڈر آف آسٹریلیا‘ سے سرفراز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔لیکن ایک طرف جہاں آسٹریلیا کی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ کے ذریعہ سچن کو ملنے والے’ آرڈر آف آسٹریلیا ‘کے اعزاز کی خبر سن کر ان کے مداحوں میں خوشی کا ماحول ہے، تو وہیں دوسری آسٹریلیا کے عوام اپنی حکومت سے بے حد خفا ہیں اور انھوں نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے اپنے غصہ کا اظہار کیا۔اس میں کچھ لوگ 2008میں ہوئے ہربھجن سنگھ اور اینڈریو سائمنڈ کے ’منکی گیٹ‘تنازعہ کا بھی حوالہ دے رہے ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شیرن وارن جیسے عظیم کرکٹر کے ہوتے ہوئے سچن تیندولکر کو’ آرڈر آف آسٹریلیا‘ سے نوازنا کس حد تک جائز ہے۔ ایک مداح نے تواپنی بھڑاس نکالتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ایک ایسا کھلاڑی، جس نے آسٹریلیا کے لئے کچھ نہ کیا ہو، واضح طور پر گیلارڈکی مارکیٹنگ کو عیاں کرتا ہے۔دوسری طرف سچن’ آرڈر آف آسٹریلیا‘کا اعزاز ملنے کی خبر سن کر بے حد خوش ہیں ۔ سچن کاکہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان رشتے مزید خوشگوارہوں گے۔
یاد رہے کہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سچن پہلے ہندوستانی کھلاڑی ہوں گے۔غور طلب ہے کہ غیر آسٹریلیائی شہریوںکو یہ اعزاز کبھی کبھی ہی ملتا ہے۔ آسٹریلیا ئی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ ،جو ہندوستان کے دورہ پر آئی تھیں، نے کہا کہ آسٹریلیا کے کلچرل منسٹر سائمن کرین اپنے ہندوستانی دورہ کے دوران سچن کو اس اعزاز سے نوازیں گے۔یاد رہے کہ یہ اعزاز صرف آسٹریلیائی شہریوں یادیگر شخصیات کو ان کی عظیم حصولیابیوں اور دیگر قابل تحسین خدمات کے لئے دیا جاتا ہے۔جب گیلارڈ سے اس بابت پوچھا گیا کہ آسٹریلیائی عوام اس کی مخالفت کر رہے ہیں پھر بھی آپ سچن کو یہ اعزاز دینے کا وعدہ کر رہی ہیں، تو انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور ہندوستان کو جوڑنے میں کرکٹ کا بہت تعاون رہا ہے۔دونوں ہی ملک کرکٹ کے دیوانے ہیں۔مجھے انتہائی مسرت ہورہی ہے کہ ہم سچن کو’ آرڈر آف آسٹریلیا ‘کی رکنیت دے رہے ہیں۔یہ بے حد خاص اعزاز ہے اور ایسے لوگوںکو بہت کم ہی دیا جاتا ہے جو آسٹریلیا ئی شہری یا آسٹریلیائی نہ ہوں۔
مصری فٹبال لیگ غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی
مصر کی فٹبال ایسوسی ایشن نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر ملک کی فٹبال پریمیئر لیگ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ مقابلے رواں برس فروری میں پورٹ سعید میں واقع سٹیڈیم میں 70سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد معطل کر دیے گئے تھے۔یہ ہلاکتیں مقامی فٹبال کلب المصری اور الاہلی کلب کے حامیوں کے مابین تصادم کے نتیجے میں ہوئی تھیں۔مصر کی وزارتِ کھیل نے ابتداء ہی میں اعلان کیا تھا کہ یہ مقابلے ستمبر میں دوبارہ شروع ہوں گے لیکن الاہلی کلب کے حامیوں کی جانب سے احتجاج کے خدشے کے پیشِ نظر وہ اپنے اس بیان سے دستبرار ہوگئی تھی۔ الاہلی کلب کے حامیوں نے مصری فٹبال ایسوسی ایشن کے دفتر پر حملہ بھی کیا تھا اور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور سکیورٹی حکام پر ان ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔الاہلی کلب کے حامی مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پورٹ سعید میں ہونے والی ہلاکتیں صرف مخالف کلبوں کے حامیوں کا تصادم نہیں تھا اور الاہلی کلب کے حامیوں کو انقلاب کے دوران پولیس کے خلاف مزاحمت میں ان کے کردار پر سزا دی گئی تھی۔
ایم ایم ایس تنازعہ پر انگلینڈ جنوبی افریقہ میں سمجھوتہ
متنازعہ ایم ایم ایس معاملہ پر جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے درمیان بڑھ رہے اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔آپ کو بتا دیں کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس مسئلہ پر جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ سے معافی مانگ لی ہے، جسے بورڈ نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔یاد رہے کہ اس ایم ایم ایس تنازعہ کی وجہ سے ہی انگلینڈ کے سابق کپتان اور جارح بلے باز کیون پیٹرسن کو ٹیم سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا تھا۔پیٹرسن نے بھی اپنے اختلافات ای سی بی کے ساتھ ختم کر لئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *