قصورواروں کو ضرور سزا ملنی چاہئے

میگھناد دیسائی
رجت گپتا کو کم سزا دی گئی۔ انہیں دس سال کی پوری سزا دی جانی چاہئے تھی۔ ان کے طاقتور دستوں نے یہ دلیل دیا کہ رجت گپتا ایک مشہوراور سماجی کام کرنے والے شخص ہیں۔اس لیے انہیں تھوڑی کم سزا ملنی چاہئے۔ یہاں تک کہ انہیں جیل بھیجنے کے بدلنے ریمانڈ میں سماجی کام کرنے کے لیے بھیج دینا چاہئے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر کوئی مشہور شخص گناہ کرتا ہے تو اسے اس کی مشہوریت کی بنا پر ہی سزا دینی چاہئے یعنی جو جتنا زیادہ مشہور ہے اس کی سزا اتنی ہی زیادہ ہونی چاہئے تاکہ دوسرے مشہور شخصیتوں کو اس سے سبق مل سکے کہ اگر انہیں قانون کی خلاف ورزی کیا تو انہیں سخت سے سخت سزا ملے گی کیونکہ قانون کی خلاف ورزی کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ ہندوستان میں پہلے تو ان کی جانچ ہی نہیں ہوتی اور اگر ان پر الزام لگ جاتا ہے تو فوراً وہ ایمس میں داخل ہوجاتے ہیں اگر انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے توان کی ضمانت ہوجاتی ہے اور اگلے دس سالوں تک کچھ نہیں ہوتا ہے۔
ہندوستان میں انصاف ملنے میں وقت لگنا کوئی ناگہانی واقعہ نہیں ہے۔ یہ تو قصورواروں کو بچانے کے طریقے کا ایک حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں جتنے بھی گھوٹالوں کے معاملے سامنے آئے ان کا کوئی سنجیدہ حل نہیں نکلا۔ اے راجا، سریش کلماڑی اور کنی موئی پارلیمنٹ میں واپس آگئے۔ وہ لمبے وقت تک پھر سے سیدھے سادے ہندوستانیوں پر حکومت کریں گے۔ ہندوستان اور یوکے کے عوامی زندگی میں ایک کچھ عجیب طرح کی مساوات ہے۔ دونوں ملکوں میں کئی گھوٹالے سامنے آئے ہیں کچھ وقت پہلے ایک اخبار پر فون ٹیپنگ کا الزام لگا تھا۔ اس کے بعد مارڈوک کو اپنے مقبول ٹیب لائیڈ ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ کو بند کرنا پڑا تھا۔ اس کے کئی ملازمین پر مقدمہ چلا اور انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ اس کی جانچ کی گئی اور وزیراعظم اورکابینہ کے کئی لوگوں کو ثبوت دینا پڑا۔

ہندوستان میں انصاف ملنے میں وقت لگنا کوئی ناگہانی واقعہ نہیں ہے۔ یہ تو قصورواروں کو بچانے کے طریقے کا ایک حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں جتنے بھی گھوٹالوں کے معاملے سامنے آئے ان کا کوئی سنجیدہ حل نہیں نکلا۔ اے راجا، سریش کلماڑی اور کنی موئی پارلیمنٹ میں واپس آگئے۔ وہ لمبے وقت تک پھر سے سیدھے سادے ہندوستانیوں پر حکومت کریں گے۔ ہندوستان اور یوکے کے عوامی زندگی میں ایک کچھ عجیب طرح کی مساوات ہے۔ دونوں ملکوں میں کئی گھوٹالے سامنے آئے ہیں کچھ وقت پہلے ایک اخبار پر فون ٹیپنگ کا الزام لگا تھا۔ اس کے بعد مارڈوک کو اپنے مقبول ٹیب لائیڈ ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ کو بند کرنا پڑا تھا۔

یہاں تک کہ انہیں اپنے ای میل کی بھی جانچ کرانی پڑی۔ وزیراعظم کے پریس سکریٹری کو جیل جانا پڑا۔ یہاں تک کہ برٹش پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بھی جانچ کے دائرے میں لایا گیا۔ کسی طرح کی کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔ سبھی کو جانچ سے گزرنا پڑا اور کچھ لوگوں کو جیل بھی جانا پڑا۔ قانون نے اپنا کام کیا۔ یہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ کسی کو بھی قانون کے دائرے سے باہر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔
لندن میں ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ مشہور ٹی وی اینکر اور ریڈیو میں کام کرنے والے جناب جیمی ساولے ایک سیکس اسکینڈل میں پھنس گئے۔ وہ چیریٹی کے لیے مشہور تھے اور لاکھوں لوگ انہیں پیار کرتے تھے۔ ہندوستان کے مذہبی لیڈر کی طرح لوگ انہیں چاہتے تھے۔ ان کا ایک پروگرام ’’جیم2‘‘’’فکس ایٹ‘‘ کافی مشہور تھا۔ جس میں برابر کے لوگوں کی پریشانیوں کا حل کیا جاتا تھا۔ وہ اس پروگرام سے ذہنی طورسے کمزور اور بیمار لوگوں کے لیے رقم جمع کرتے تھے۔ پچھلے سال ان کی موت ہوگئی جسے ملک کے لیے ایک بڑا نقصان مانا گیا تھا۔ لیکن کچھ وقت پہلے ان کے بارے میں ایک خلاصہ ہوا کہ وہ پیڈوفائل تھے۔ وہ اسپتال اور اصلاح سینٹروں میں رہنے والے بچوں کے ساتھ سیکس کرتے تھے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ اتنے دنوں تک اگر ان کے غلط کاموں کے بارے میں پولیس کو جانکاری نہیں ملی تو اسے قانونی کارروائی کی کمی ہی جائے گا۔ جس وقت وہ زندہ تھے اس وقت ان پر اس طرح کے الزام کیوں نہیں لگے؟ اس کا مطلب ہے کہ پولیس اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر پارہی ہے۔ یہ بھی کہا جارہاہے کہ اس تخلیق کے پیچھے جو لوگ ہیں ان کی جانچ ہوگی اور انہیں جیل بھیجا جائے گا۔ یوکے ایک ایسا ملک ہے جہاں قانون کی حکومت ہے۔نہ کہ ہندوستان کی طرح وکیلوں کی حکومت۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ ارجن نے مہابھارت جنگ کے شروع ہونے کے وقت اپنے رشتہ داروں کو قتل کرنا گوارا نہیں کیا تھالیکن پھر اس نے ایسا کیا۔ گاندھی جی خود بھی اپنے ہی لوگوں کی اپنے دشمنوں کے سامنے قتل کردیتے اگر وہ غلط کام کرتے لیکن اس گاندھی کی طرف دھیان کون دیتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *