اوبامہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے

میگھنا دیسائی
امریکی صدر کا انتخاب ہو گیااور آخر میں یہ صاف ہو گیا کہ جیت کا فرق بہت کم نہیں رہا۔ الیکٹورل کالج کے لحاظ سے یہ فرق زیادہ کم نہیں رہا، لیکن پاپولر ووٹوں کے تعلق سے دیکھیں تویہ بڑا فرق نہیں تھا۔ امریکہ کے بانی جن لوگوں کی بات کر تے تھے، ان لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ان کے راستے میں بیریر کھڑے کر دیے گئے، جس کے سبب لوگوں کے پاس اپنا کوئی راستہ نہیں بچا۔ امریکہ کا جو پہلے کا آئین تھا، اس میں ریاستی مقننہ کو زیادہ طاقت دی گئی تھی اور جو لوگ انھیں منتخب کرتے تھے، وہ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتے تھے۔ اس کے سبب کسانوں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا تھااور پراپرٹی پر حملہ کیا تھا۔ اس لیے گرینڈیز فلاڈیفیامیں ملے اور آئین کو پھر سے لکھا۔اس طرح امریکہ کنفیدریشن بن گیا۔ حالانکہ وہاں مرکز بہت مضبوط حالت میں نہیں ہے، لیکن پھر بھی ٹیکس اور کرنسی کے معاملے میں اختیار اس کے پاس ہے۔ کنفیڈریشن بننے کے بعد چھوٹے صوبوںکو اس بات کا خوف تھا کہ ان کی نمائندگی کم ہو جائے گی۔اس خوف کو دور کرنے کے لیے سینیٹ میں سبھی کو برابر نمائندگی دی گئی۔حالانکہ ہاؤ س کا الیکشن پاپولر ووٹ کی بنیاد پر ہوتاہے، جب کہ بیسویں صدی کے آغاز تک سینیٹ میںپاپولر ووٹ نہیں ہوتا تھا۔ کاکس ہی طاقتور ہوتا تھا اور الیکٹرول کالج اسی کی مثال ہے۔ ایک فلم آئی تھی ’دی مین ہو شاٹ دی لبرٹی والینس،‘ جس میں ہیرو پر ٹاؤن بلی اور اس کے دوست کے قتل کا الزام تھا اور اسی دلیل کی بنیاد پر اسے سینیٹ کے ممبر چنے جانے کی بات کی گئی تھی۔

امریکہ کے بانی جن لوگوں کی بات کر تے تھے، ان لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ان کے راستے میں بیریر کھڑے کر دیے گئے، جس کے سبب لوگوں کے پاس اپنا کوئی راستہ نہیں بچا۔ امریکہ کا جو پہلے کا آئین تھا، اس میں ریاستی مقننہ کو زیادہ طاقت دی گئی تھی اور جو لوگ انھیں منتخب کرتے تھے، وہ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتے تھے۔ اس کے سبب کسانوں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا تھااور پراپرٹی پر حملہ کیا تھا۔

سبھی الیکٹوریٹ کو ایک شور وغل والے کمرے میں بند کر دیا گیا، جس کے بعد سب سے تیز آواز والے شخص نے سب متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاکس آپ کو امریکی جمہوریت کے بارے میں بتائے گا۔ امریکہ میں شہر کاری اور نقل مکانی نے وہاں کی ساحلی ریاستوں کو ڈیموگرافی میں تبدیل کر دیا ہے، جس نے اوباما کی مدد کی ہے۔ باہری لوگوں کے امریکہ پہنچنے کے بعد وہاں الیکشن کا حساب کتاب تھوڑا بدل گیا ۔ کینیڈ ی نے الیکشن صرف 0.5فی صد پاپولر ووٹ کے فرق سے جیتا، جو اوباما کے 2012 کی جیت سے بھی کم تھا۔ اس کے بعد سے کالے لوگوں کا ووٹ بڑھا، جس کا کریڈٹ سول رائٹ مو و منٹ کو دیا جانا چاہیے۔ الیکشن میں امریکہ کے لوگوں کا کردار تو اہم ہے ہی، لیکن وہاں رہنے والی گوری اقلیتوںجیسے ہسپینک کا رول بھی اہم ہو گیا ہے۔ ایشیا کے لوگ بھی الیکشن کو متاثر کر تے ہیں۔یہ لوگ صدر کے امید وار بھی ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ آئندہ پچیس سال تک ان کے صدر بنے کی گنجائش نہیں ہے۔
ٹی وی پر ہوئی پہلی بحث کے بعد اوباماکچھ کمزور حالت میں دکھائی دے رہے تھے۔ حزب مخالف اس کے بعد تھوڑا پر جوش ہوا، لیکن اس کا اثر بہت زیادہ نہیں ہوا۔کانگریس کا نتیجہ یہ دکھاتا ہے کہ اوباما کے خلاف تشہیر کرنے کے بعد بھی رپبلکن، لوگوں کو اپنی طرف مرکوز نہیں کر پائے۔امریکہ میں بے روزگاری کی شرح آٹھ فیصد ہونے کے باوجود اوباما الیکشن جیت گئے اور ڈیموکریٹ سینیٹ پر اپنا قبضہ جمائے رکھا،جبکہ ہاؤس میں رپبلکن کا دبدبہقائم رہا۔ اس طرح بھاری انتخابی اخراجات کے بعدبھی بہت معمولی تبدیلی ہوئی۔ اوباما دوسری بار صدرچن لیے گئے اور کانگریس کے دونوں ایوان پہلے ہی کی طرح بنے رہے۔ امریکہ کی اقتصادی حالت پہلے کی طرح ہی ہے۔ قرض بڑھا ہوا ہے، خسارے میں کمی نہیں آئی ہے اوراقتصادی ترقی کی شرح بھی کم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ صورتحال تب تک برقرار رہے گی، جب تک کہ ڈیموکریٹ اور رپبلکن امریکی معیشت کو بچانے کے لیے ایک ساتھ مل کر کام نہیں کرتے ہیں۔ جب تک کچھ مدعوں پر دونوں ایک اسٹیج پرنہیں آئیں گے، اقتصادی حالت سدھارنے کے لیے مضبوط قدم نہیں اٹھائے جا سکتے ، کیونکہ امریکی صدر کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ کانگریس کی خلاف ورزی کر سکے۔ اوباما کا دوسری بار چنا جانایہ بتاتا ہے کہ امریکہ میں ایک مخلوط نسل کے شخص کو دو بار صدر چنے جانے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ وہاں پارٹیوں کے درمیان آپسی تال میل بڑھایا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *