پنچایت سے بدعنوانی کیسے ختم ہو

سوراج کاتصور اصل میںپنچایتی راج کی بنیاد پر ہی ٹکی ہے۔ یعنی جتنا مضبوط پنچایتی راج سسٹم ہوگا، اتنا ہی زیادہ امکان گرام سوراج کے مضبوط ہونے کا ہو گا۔گاندھی جی بھی چاہتے تھے کہ حکومت کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی پنچایتی راج کے ذریعہ ہی گائووں کی ترقی ہو۔ آزادی کے کچھ سالوں بعد ملک میں مقامی حکومت کو مضبوط بنانے کے نام پر سہ سطحی پنچایتی نظام لاگو بھی کیا گیا۔ ضلع سطح پر ضلع پریشد، بلاک سطح پر ایک اکائی اور سب سے نیچے کی سطح پر گرام پنچایت۔ کہنے کو گرام پنچایت کے تصور کو لاگو کردیا گیا ۔اس کے ساتھ گرام سبھا نام کی بھی ایک تنظیم بنائی گئی، دراصل پورے پنچایتی راج نظام میں گرام سبھا ہی ایک ایسا مضبوط ادارہ ہے جس کی صحیح اور ایماندار کارکردگی سے گائوں کی ترقی ہو سکتی ہے۔ چونکہ گرام سبھا ایک مقامی تنظیم کی شکل میں کام کرتی ہے جس میں پنچایت کے سبھی بالغ ووٹر شامل ہوتے ہیں۔ گرام سبھا کی تشکیل اس لئے کی گئیتھی کہ پنچایت کے کسی بھی ترقیاتی کام میں گائوں کے لوگوں کی سیدھی حصہ داری ہو۔ ا ن کی رضامندی سے ہی گائوں کی ترقی کا کوئی بھی خاکہ بنے لیکن آج کے وقت میں اس ادارے کو کمزور بنانے کی سازش لگ بھگ ہر ریاست اور ہر پنچایت میں رچی جاتی ہے تاکہ پنچایت کے کاموںمیں عوام کی مداخلت نہ کے برابر رہ جائے۔ ظاہر ہے، اس کا سیدھا فائدہ ان بد عنوان سیاست دانوں اور افسروں کو ہوتا ہے جنہیں سرکاری منصوبوں کو لاگو کرنا ہوتاہے۔ پنچایتی راج نظام کے ناکام ہونے کیپیچھے سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے لیکن حق اطلاعات قانون کے آنے سے اب سرپنچ اپنی مرضی نہیں چلا سکتاہے بشرطیکہ آپ یعنی گرام سبھا کے ممبر سرپنچ اور پنچایت سے سوال پوچھنا شروع کریں۔ ایک پنچایت میں ترقیاتی کاموں کے لئے لاکھوں روپے سالانہ آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، مختلف طرح کے سرکاری منصوبے آتے ہیں۔ آپ اپنی درخواست میں کسی ایک خاص سال میں آپ کی پنچایت کے لئے کتنے روپے الاٹ ہوئے، کس کام کے لئے الاٹ ہوئے؟وہ کام کسی ایجنسی کے ذریعہ کروایا گیا؟کتنی ادائیگی ہوئی؟ادائیگی کی رسید وغیرہ کی بھی مانگ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، آپ کرائے گئے کاموں کا معائنہ کرنے کی بھی مانگ کر سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی آپ مرکزی اور ریاستی سرکاری کے ذریعہ چلائے جا رہے مختلف منصوبوں کے بارے میں بھی سوال پوچھ سکتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس شمارہ میں شائع درخواست کا استعمال آپ ضرور کریں گے اور دیگر لوگوں کو بھی اس کے استعمال کے لئے راغب کریں گے تاکہ آپ کی پنچایت میں اگر بدعنوانی ہے تو اسے ختم کیا جاسکے، اسے کرارا جواب دیا جاسکے۔

گرام پنچایت کے خرچ کی تفصیل
فرسٹ اپیلیٹ آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاع ایکٹ2005 کے تحت درخواست

جناب عالی،
…………. گرام پنچایت کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تفصیل مہیا کریں:
1 سال…………. کے دوران………….گرام پنچایت کو کن کن مدوں؍منصوبوں کے تحت کتنی رقم الاٹ کی گئی؟الاٹمنٹ کا سالانہ بیورو دیں۔
2 مذکورہ گرام پنچایت کے ذریعہ اس دوران کرائے گئے سبھی کاموں سے متعلق مندرجہ ذیل تفصیل دیں:
(الف) کام کا نام(ب)کام کی مختصر وضاحت(ج)کام کے لئے منظورہ شدہ رقم(د)کام منظور ہونے کی تاریخ(ھ)کام ختم ہونے کی تاریخ یا جاری کام کی صورت حال(و)کام کرانے والی ایجنسی کا نام(ز)کام شروع ہونے کی تاریخ( ح)کام کے لئے ٹھیکہ کس ریٹ پر دیا گیا(ط)کتنی رقم کی ادائیگی کی جا چکی ہے(ی)کام کے نقشے کی مصدقہ کاپی(ک)کام کرنے کا فیصلہ کب اور کس بنیاد پر لیا گیا۔اس سے متعلق دستاویزوں کی مصدقہ کاپی بھی فراہم کرائیں۔ (ل)کام کے ورک آرڈر رجسٹر اور لیبر رجسٹر؍ماسٹر رول کی کاپی مہیا کرائیں۔
3 مذکورہ گرام پنچایت میں سال۔۔۔۔۔۔۔کے دوران کاموں،منصوبوں پر ہونے والے خرچ کی جانکاری مندرجہ تفصیل کے ساتھ دیں:
(الف) کام کا نام جس کے لئے خرچ کیا گیا(ب)کام کی مختصر وضاحت(ج)کام کے لئے منظورہ شدہ رقم(د)کام کرانے والی ایجنسی کا نام(ھ)کام شروع ہونے کی تاریخ(و)کام کے نقشے کی مصدقہ کاپی(ز)کام کرانے کا فیصلہ کب اور کس بنیاد پر لیا گیا؟اس سے متعلق دستاویزوں کی کاپی بھی مہیا کرائیں۔
میں درخواست فیس کے طور پر 10 روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں۔
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں اس لئے ادا کی جانے والی فیس سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ ر نمبر…………. ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے؍ دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کریں۔ ساتھ ہی ایکٹ کی دفعات کے تحت اطلاعات فراہم کراتے وقت فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کا نام و پتہ ضرور بتائیں۔

مخلص
نام :————————————-
پتہ : ————————————–
تاریخ : ————————————
منسلک دستاویز

(اگر کچھ ہوتو)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *