انفارمیشن کمیشن ضرور جائیں

آر ٹی آئی قانون کے تحت سبھی شہریوں کو اطلاع پانے کا حق ہے،لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر اطلاع نہ دینے کے ہزار بہانے بناتے ہیں۔ایسے میں آخری راستہ بچتا ہے انفارمیشن کمیشن کا۔ایسی حالت میںدرخواست کنندہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن میں اپیل یا شکایت کر سکتا ہے۔ اپیل اور شکایت میں تھوڑا فرق ہے۔ آپ کی آر ٹی آئی درخواست میں جو سوال پوچھا گیا ہے، اس کا جواب اگر غلط دے دیا جاتا ہے اور آپ کو یقین ہے کہ جو جواب دیا گیا ہے وہ غلط ،ناکافی یا گمراہ کن ہے تو آپ کمیشن میں اپیل کر سکتے ہیں۔ جب آپ کسی سرکاری محکمے میں آر ٹی آئی درخواست جمع کرنے جاتے ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ وہاں تو پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرری ہوئی ہی نہیں ہے یا پھر آپ سے غلط فیس وصول کی جاتی ہے، تو ایسے معاملوں میں آپ سیدھے اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن یا سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں شکایت کر سکتے ہیں۔ ایسے معاملوں میں اپیل کی جگہ شکایت ہی اس کا حل ہے۔ حق اطلاعات قانون کی دفعہ 18(1)کے تحت سینٹرل پبلک انفارمیشن کمیشن یا اسٹیٹ پبلک انفارمیشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس آدمی سے شکایت وصول کرے اور پوچھ تاچھ کرے۔ اس کے علاوہ اگر کسی درخواست کنندہ کو مقررہ وقت کے اندر اطلاع نہیں ملتی ہے، تو پہلے اسے فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کے پاس فرسٹ اپیل کرنی چاہئے۔ اگر وہاں سے بھی اطلاع نہ ملے تو وہ سینٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر یا اسٹیٹ پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس دوسری اپیل کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ سبھی پبلک اتھارٹیوں کے ذریعہ قدم اٹھایا جاناچاہئے، تاکہ آر ٹی آئی قانون کے پرو ویژن کا صحیح معنی میں عمل ہوسکے۔ مثلاً ،سینٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر یا اسٹیٹ پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرری لازمی کی جانی چاہئے۔ ریکارڈس کے رکھ رکھائو اور اس کے نظم و نسق کا پورا انتظام ہونا چاہئے۔متعلقہ آفیسر کو حق اطلاعات قانون کے حوالے سے جانچ کئے جانے کا راستہ نکالنا چاہئے۔یہی نہیں ، وہ اس قانون کی دفعہ 4 کی شق (1) کے پارٹ (ب) پر عمل کرتے ہوئے سالانہ رپورٹ فراہم کرے۔

(درخواست کا نمونہ (بجلی کاری کی تفصیل 
بخدمت ،
پبلک نفارمیشن آفیسر
(محکمہ کا نام)
محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
گائوں————————————————–میں بجلی فراہم کرنے کے سلسلے میں مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں۔
1 مذکورہ گائوں کے کتنے گھروں میں بجلی کا کنکشن ہے؟ ہر کنکشن رکھنے والے کا نام اور پورا پتہ ۔(2)مذکورہ گائوں، جس بلاک میں آتا ہے ،اس میں پچھلے 10 برسوں کے دوران گائوں کی بجلی کاری کے لئے کتنی رقم الاٹ کی گئی ہے؟ سالانہ رپورٹ فراہم کریں۔(3)کیا مذکورہ بلاک میں بجلی کاری اور اس کے رکھ رکھائو کا کام کسی ٹھیکیدار ایجنسی کے ذریعہ سے کرایا جارہا ہے؟اگر ہاں، تو اس سے متعلق مندرجہ ذیل اطلاعات مہیا کرائیں:۔
(الف)کام کا نام (ب)کام کی مختصر وضاحت(ج)کام کے لئے منظور کی گئی رقم(د)کام منظور ہونے کی تاریخ(ھ)کام ختم ہونے کی تاریخ اورجاری کام کی پوزیشن(و)کام کرانے والی ایجنسی کا نام(ز)کام شروع ہونے کی تاریخ(ح)کام ختم ہونے کی تاریخ(ط)کام کے لئے ٹھیکہ کس ریٹ پر دیا گیا(ی)کتنی رقم کی ادائیگی کی جا چکی ہے(ک)کام کے خاکے کی مصدقہ کاپی(ل)اس کام کو کرانے کا فیصلہ کب اور کس بنیاد پر لیا گیا؟اس سلسلے میں فیصلے کی کاپی بھی فراہم کرائیں۔(م)ان اسسٹنٹ اور ایگزیکٹیو انجینئر کے نام بتائیں، جنہوں نے ان کاموں کی جانچ کی اور ادائیگی کی منظوری دی۔ ان کے ذریعہ کام کے کس حصے کا انسپکشن کیا گیا؟۔
میں درخواست فیس کے طور پر 10 روپے الگ سے جمع کر رہا ,رہی ہوں۔ یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے سبھی طرح کی فیس سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر—————————–ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے ,دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاعات قانون2005 کی دفعہ 6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کریں۔ ساتھ ہی قانون کے پروویژن کے تحت اطلاعات مہیا کراتے وقت فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
نام:————————————–
پتہ:—————————————
فون نمبر:————————————
منسلکات

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *