ملک یا کرانہ کی دکان

میگھناد دیسائی 
آزادی ملنے کے پہلے دس سالوںمیں ہندوستان نے جنگ کے دوران حاصل شدہ اسٹرلنگ خرچ کر دیے۔ یہ ایک بلین پاؤنڈ کی رقم تھی، جسے آج کے سوبلین پاؤنڈ کے برابر کہا جاسکتا ہے۔ سی ڈی دیش مکھ نے کہا تھا کہ ہندوستان نے اس طرح سے پیسے خرچ کیے کہ جیسے بعد میں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے بعد ہندوستان غیر ملکی امدادسے کام چلانے کے لیے مجبور ہو گیا۔ ناوابستہ ہونے کا مطلب ہی یہ تھا کہ کسی بھی ملک سے مدد لینے میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی، چاہے وہ یو ایس اے ہو یا پھر یو ایس ایس آر ۔ امریکی صدر لنڈن جانسننے پی ایل ۔480 کے تحت ہندوستان کو دیے جانے والے اناج کو اپنے مطابق بھیج کر ایک طرح سے ہندوستا ن کی بے عزتی کی۔ حالانکہ بر وقت سبز انقلاب لا کر ملک کو اس بحران سے بچایا گیا۔ اس کے بعد 1973میں تیل کی قیمت میں اضافے نے افراط زر کو کافی بڑھا دیا اور ایمر جنسی بھی نافذ کر دی گئی۔
جب اندراگاندھی اقتدار میں واپس آئیں تو انھوں نے بڑے پیمانے پر قرض لیا۔ ان کے پہلے کے بائیں بازو کے دوستوں نے اس کے لیے ان کی مذمت بھی کی، لیکن وہ جانتی تھیں کہ اگر ہندوستان کو دوسری بار پھر سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثر سے بچانا ہے تو قرض لینا ہی پڑے گا۔ راجیو گاندھی نے این آر آئی سے قرض لے کر یہ پالیسی جاری رکھی، لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس رقم کا استعمال دوبارہ معیشت قائم کرنیکے لیے نہیں کیا گیا، بلکہ صرف امپور ٹ کولبرل بنانے کے لیے کیا گیا۔ جب پہلی بار خلیجی جنگ شروع ہوئی اور غیر ملکی دولت آنا کم ہو گئی تو 1991 میں پھر سے ہندوستان کے سامنے وہی مسئلہ آگیا۔ اس وقت منموہن سنگھ نے اقتصادی اصلاحات نافذکرنے میں اپناکردار نبھایا اور ہندوستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کا استقبال کیا۔ اس وقت سی پی آئی کے لیڈر سومناتھ چٹرجی نے انتباہ دیا کہ ہندوستان ایک بارپھر سے غلام بن جائے گا۔ بی جے پی نے بھی اقتصادی اصلاحات کی پالیسی جاری رکھی۔ ہندوستان جی۔20 کا رکن بھی بنا۔ موبائل فون کاچلن ہندوستا ن میں بڑھا اور آج قریب ایک بلین موبائل فون ہندوستان میںموجود ہیں۔
ابھی ہندوستان یو کے میں دوسرا سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے اور پیداوار کے شعبے میں ٹاٹا سب سے زیادہ روزگار دینے والی کمپنی ہے۔ کئی غیر ملکی کمپنیاں ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں اور کئی ملکوں کے لیڈر بھی ہندوستانی کمپنیوں کو اپنے یہاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔اس حوالے سے تو خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا تنازع کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ ہندوستانی شیئر بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری، خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے زیادہ ناقابل عمل ہے، لیکن اس کی مخالفت میں کوئی پارٹی نہیں ہے۔ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لے کر کافی شور مچایا جارہا ہے۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ کھیت سے لوگوں تک اشیائے خوردنی پہنچانے کے لیے ہمارے پاس سپلائی چین ٹھیک نہیں ہے۔ اس وجہ سے 25 فی صد سے زیادہ کھانے کی اشیاء صارفین تک پہنچنے سے پہلے سڑ جاتی ہیںیا برباد ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کو بچولیے لگاتار لوٹ رہے ہیں اور انھیں اپنی فصل کی اتنی قیمت نہیں مل رہی ہے جتنی کہ انھیں ملنی چاہیے۔
چین، انڈونیشیااور ملیشیا نے خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دے کر اس کا فائدہ اٹھایا ہے، لیکن یوپی اے سرکار کو ا سے نافذ کرنے میں کافی پریشانی ہو رہی ہے۔ بائیں بازو کی پارٹیاںتو نہ کچھ بھولتی ہیں اور نہ ہی کچھ سیکھتی ہیں۔ ان کی پریشا نی تو سمجھی جاسکتی ہے۔ دوسری پارٹیاں یا تو اس سے انجان ہیں یا پھر قومی مفاد کے بارے میں انھیں کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ فرقے، علاقے، مذہب، یا ذات برادری کی سیاست کر رہی ہیں۔ جب تک وہ کہیں نہ کہیں اقتدار میں رہتی ہیں، تب تک وہ پالیسی وضع کرنے کے سوالوں پر توجہ نہیں دیتیں یا بہت کم توجہ دیتی ہیں۔ بی جے پی کی پالیسی سب سے زیادہ شک پیدا کرنے والی ہے۔ وہ اقتدار میں رہ چکی ہے۔ اس وقت بی جے پی نے لبرل ایکونومک پالیسی ہی لاگو کی تھی۔ اس کے ایک لیڈر نریندر مودی چالاک لبرل ہیںاور دوسرے کئی لیڈر، جیسے لال کرشن اڈوانی، ارون جیٹلی اور سشما سوراج تو این ڈی اے کی اس سرکار میں وزیر بھی رہے ہیں، جسے لبرل ایکونومک پالیسی کا چیمپیئن کہا جاتاہے۔
کیا اب بی جے پی کرانہ کی دکان کے حوالے سے قومی مفادکی تعریفکر تی ہے؟گزشتہ ایک دہائی سے ایف ڈی آئی پر بحث ہو رہی ہے۔ اب اس پر فیصلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مدعے پر یو پی اے سرکار اپوزیشن کو بحث کے لیے بلائے اور پارلیمنٹ میں ووٹنگ کرائے، تاکہ صورتحال واضح ہو سکے۔ خردہ بازار میںغیرملکی سرمایہ کاری ہونے سے کیا حقیقت میں کرانہ کی ساری دکانیں ختم ہو جائیں گی۔ گزشتہ بیس سالوں میںجس شعبے میں بھی ایف ڈی آئی کی بات ہوئی، یہ خوف پیدا ہوا ، لیکن پھر بھی ایسے شعبوں کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولا گیا۔ اب ایک بار پھر اس خوف کو نظر انداز کرنے کا وقت آگیا ہے، تاکہ خردہ بازار میںغیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری مل سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *