کسان آخری دم تک جدوجہد کریں

ابھیشیک رنجن سنگھ 
تقریباً 80سالہ ایک بزرگ بھوانی سنگھ، جو لاٹھی کے سہارے بساوا میں منعقد کسان سبھا میں پہنچتاہے۔ نول گڑھ میں سیمنٹ فیکٹریوں کے لیے تحویل میں لی جارہی زمین کو بچانے کے لیے منعقد اس جلسے کو وہ پورے پانچ گھنٹے تک لگاتار سنتا ہے۔ میں نے جب ان سے، ان کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ میں ایک ریٹائرڈ فوجی ہوں اور اس عمر میں بھی لڑائی لڑ رہا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فوج میں رہتے ہوئے ملک کے دشمنوں سے لڑائی کی اور ریٹائر ہونے کے بعد اپنے بزرگوں کی زمین بچانے کے لیے اپنی منتخب کی ہوئی سرکار سے لڑ رہا ہوں۔ اس لیے نول گڑھ کا ہر گاؤں میر ااپنا گاؤں ہے، جہاں سیمنٹ کمپنیاں کسانوں کی زمینیں ہڑپنا چاہتی ہیں۔ یہاں کے کسانوںکا درد ہم نے اپنے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ سے سنا۔ کسانوں کے حق میں انھوں نے جو باتیں بتائیں، ان سے ہمارا حوصلہ بلند ہو گیا۔ پتہ نہیں کل زندہ رہوں یا نہیں رہوں ، لیکن نول گڑھ کے بیس گاؤوں کو بچانے کے لیے چل رہی جدوجہد آج جس مقام پر پہنچی ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد بھی یہاں کے گاؤں خوش حال رہیں گے۔ آزاد ملک میں ایک بزرگ فوجی کا درد سرمایہ داروں کی دلال بن چکی سرکاروں کے کے منھ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
راجستھان کی نول گڑھ تحصیل کے بساوا گاؤں میں سابق فوجی سربرا ہ جنرل وی کے سنگھ نے بھی کسانوں سے اپنے بیٹے پوتوں کے لیے زمین بچانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیخاوٹی شہیدوں کی سر زمین ہے۔ یہاں کا جوان جب سرحد کی حفاظت کر سکتا ہے۔، تو اپنی زمین کی حفاظت کرنا بھی بخوبی جانتا ہے۔ کسانوںکومخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی زمین نجی کمپنیوں کو نہ دیں۔ ان کے مطابق، اس ملک میں جب بھی زمین سے متعلق پالیسیاں بنائی جاتی ہیں ، ان میں کسانوں کے مفاد کو نظر اندازکیا جاتا ہے۔ کسان اپنی محنت سے اناج پیدا کرتا ہے، لیکن فصل کی قیمت وہ نہیں، کوئی اور طے کرتا ہے ۔ اس کی فصل کون خریدے گا، یہ بھی کوئی اور طے کرتا ہے۔ کچھ سال پہلے کسان خود بیج تیار کرتے تھے، لیکن اب انھیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بیج پر منحصر رہنا پڑتا ہے ۔آج کسانوں کی حالت اس لیے خراب ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو کمزور سمجھ لیا ہے۔ جس دن کسان یہطے کر لیں گے کہ وہ کمزور نہیں ہیں، اسی دن سے تصویر بدل جائے گی ۔ کسانوں کی طاقت سے ملک چلتا ہے، ان کی طاقت سے ملک کو اناج ملتا ہے، یہ ملک کسانوں و مزدوروں سے چلتا ہے۔ جنرل سنگھ کے مطابق، ترقی اچھی چیز ہے، ترقی ہونی چاہیے، لیکن ترقی عام لوگوں کے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ کسانوں کی زرخیز زمین تحویل میں لیکر ہونے والی ترقی سے کئی گھر تباہ ہوں گے اور آنے والے وقت میں ملک کے سامنے غذائی بحران پیداہو جا ئے گا۔ نول گڑھ میں کسانوں کی زرخیز زمین پر سیمنٹ فیکٹریاں لگنے سے ہر طبقہ متاثر ہو گا۔ انھوں نے کسانوںسے خطاب کیا کہ وہ اپنی زرخیز زمین کو بچانے کے لیے متحد ہو جائیں، کیونکہ جب کسان منظم ومتحدہوں گے، تب سرمایہ داروں کی ہمت نہیں ہو گی کہ وہ کسانوںسے ان کی زمین چھین سکیں۔
اس موقع پر میجر جنرل این بی سنگھ نے کہا کہ ملک بنتاہے زمین سے، یہاں رہنے والے لوگوں سے اور ماحول سے ۔اگر ان میں سے کوئی بھی کڑی کمزور ہوگی تو وہ ملک خوش حال نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق، نول گڑھ علاقے میں مجوزسیمنٹ کا کارخانہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے، کیونکہ اس سے زرخیز زمینیں برباد ہو ں گی۔ اس کے ساتھ ہی پانی کا بحران اور ماحولیات کے لیے بھی خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ ’کرشی بھومی بچاؤمورچہ ‘ کے جنرل سکریٹری رام آسرے یادو کہتے ہیں کہ یہ کسانوں کا ملک ہے، لیکن آزادی کی کئی دہائیاں بیت جانے کے بعد بھی ان کی حالت نہیں بدلی۔ پچھلے کئی سالوں سے زیادہ منافع کمانے کے لیے تحویل اراضی کی جا رہی ہے۔ مغربی بنگال کے نندی گرام و سنگور ، جھارکھنڈ کے نگڑی، اتر پردیش کے کرچھنا و بھٹہ پارسول اور راجستھان کے نول گڑھ جیسے مقامات پر کسان تحریک چل رہی ہے۔ سرکار کہتی ہے کہ وہ تحویل اراضی سے متاثر ہونے والے لوگوں کو مناسب معاوضہ اور باز آبادکاری مہیا کرائے گی، لیکن مرکز اور صوبوں میں بیٹھی جھوٹی سرکاروں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ ملک میں تحویل اراضی سے اب تک بے گھر ہونے والے دس کروڑ لوگوں میں سے کتنے لوگوں کو باز آباد کاری کا فائدہ ملا ہے۔ فریبی سرکاروں سے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اگر تحویل اراضی پبلک کے مفاد کے لیے کی جاتی ہے تو اس میںپرائیویٹ کمپنیوں کا مفاد مقدم کیوں ہو جاتاہے۔ سرکار کی پالیسی اور نیت واقعی صحیح ہے تو بھاکڑا نانگل پروجیکٹ سے بے گھر ہوئے لوگ اتنے سال گزرجانے کے بعد بھی معاوضہ اور باز آبادکار ی سے محروم کیوں ہیں۔ سرکار اقتدارکی طاقت کا چاہے کتنا بھی استعمال کیوں نہ کرے، لیکن یہ بات اسے سمجھنی ہو گی کہ کسانوں کی تحریک کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ جو کسان اناج پیداکرنے کے لیے اپنا پسینہ بہا سکتا ہے، وہی کسان اپنی زمین بچانے کے لیے اپنا خون بھی بہا سکتا ہے۔ اس ملک میں سرمایہ پیدا کرنے والے مزدور اور کسان ہی ہیں۔آج ترقی کے نام پر تباہی کا یہ کھیل آہستہ آہستہ ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ اسے ہم ترقی نہیں کہ سکتے، جس سے جل ، جنگل، زمین اور وہاں رہنے والے کروڑوں لوگ تباہ ہو جائیں۔ آج پورے ملک میں کسانوں کی زمینیں سرمایہ کاروں کی نمائندہ سرکاریں تحویل میں کر رہی ہیں۔ جسے ہم نے اپنا سمجھ کر اقتدار سونپا، وہی سرکار عوام کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ اقتصادی اصلاحات کے نام پرسال 1990 میں ایک ایسی پالیسی بنی، جس سے صرف مٹھی بھر لوگوں کو فائدہ ملا ۔نئی اقتصادی پالیسی کے لاگو ہونے کے بیس سال بعد ملک ترقی نہیں، بلکہ تباہی کے نئے پیٹرن گھڑ رہا ہے۔
سال 2000 میں سیاستدانوں اور سرمایہ داروں نے مل کرکسانوں کی زمین ہڑپنے کے لیے ایسی پالیسی بنائی، جس سے سیٹھ بڑے سیٹھ بن کر ابھرے اور چھوٹے کسان کھیتی مزدور بن گئے۔ ادھر ملک میں کچھ سالوں سے زرخیز زمینیں تحویل میں کرنے کی قواعد چل رہی ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اصل میں اس وقت پوری دنیا کساد بازاری کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پرمزدوروں میں بے اطمینانی بھی چھوٹی بڑی سطح پر ابھر رہی ہے ۔ آج سرمایہ داروں کے پاس بے شمار دولت ہے اور اس کی سرمایہ کاری کے لیے وہ نئی نئی اسکیمیں سرکاروں سے مل کر بنا رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ زمینیں خریدنے میں اپنی دولت لگا رہے ہیں۔ یوروپ اور امریکہ جیسے ملکوں میں کارپوریٹ ایگریکلچر کا چلن ہے۔ ان ممالک میں چھوٹے کسانوں کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ اپنی زمین پر ان کا مالکانہ حق ختم ہو چکا ہے اور وہ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور بن کر رہ گئے ہیں۔ ایسی ہی اسکیم اب ہندوستان میں بھی بنائی جارہی ہے۔
ملک میں کچھ سالوں سے سڑکوں کا جال بچھا یا جا رہا ہے۔ نیشنل ہائی وے کو چار لین اور چھ لین میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سیکڑوں کلو میٹر لمبے کاریڈور اور ایکسپریس وے بنائے جا رہے ہیں۔ ان کی تعمیر میں سڑکوںکے دونوں طرف بسی پرانی بستیوں اور وہاں کھیتی کر نے والے کسانوں کو اجاڑا جا رہاہے۔ سرکار اسے ترقی کے لیے ضروری بتا رہی ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ سڑکوں کی تعمیر سے سیدھا فائدہ ملک کے عوام کو ہے۔ بھولے بھالے عوام بھی سرکار کی اس من مو ہنی زبان میں الجھ جاتے ہیں، لیکن جب اسے اصلیت کاپتہ چلتا ہے کہ اتنی لمبی چوڑی سڑک کا اصل مقصد کیا ہے، تب وہ اس کے خلاف سڑکوں پر اتر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر نوئیڈا سے بلیا تک بننے والے گنگا ایکسپریس وے کے خلاف چل رہی تحریک سب کے سامنے ہے۔ اس منصوبہ کے دائرے میں اترپردیش کے کل 17 ضلعے آتے ہیںبلیا سے گوتم بدھ نگر (نوئیڈا) تک بننے والی اس سڑک میں کسانوں کی سال میں تین فصل دینے والی 32لاکھ ہیکٹیئر زمین جانے والی ہے۔ مرکز اور اترپردیش کی سرکار اسے اپنا ڈریم پروجیکٹ مانتی ہے۔ اس لیے اس نے اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے کسانوں کی مخالفت کو کچلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ، لیکن کسان ذرا بھی نہیں بھٹکے اور ان کی تحریک آج بھی جاری ہے۔ملک میں چار لین، چھ لین اور آٹھ لین جیسی سڑکیںسرمایہ داروں کے مفاد کے لیے بنائی جارہی ہیں، تاکہ انہیں تجارت کرنے میں زیادہ آسانی ہو۔ ہندوستانی سرکار زراعت کو صنعت کا درجہ دینا چاہتی ہے۔ لیکن اس کی یہ خواہش تبھی پوری ہوگی جب یوروپ اور امریکہ کی طرح یہاں بھی کانٹریکٹ ٰایگریکلچر ہونے لگے گی۔ آج ملک میں بڑے پیمانے پر آکٹگن،کوارڈلیٹرل اور ایکسپریس وے کی تعمیر اسی مقصد کے لیے کی جارہی ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھوم جھونکنے کے لیے اسے پبلک پرپز کا روپ دیاجارہاہے۔ سماجی کارکن کویتا شریواستو ملک میں ہورہی زبردستی تحویل اراضیکو کسانوں کے خلاف گہری سازش مانتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسانوں کی بدولت ہی ملک میں سرکاریں بنتی ہیں۔ لیکن اقتدار پر قابض ہوتے ہی سیاسی لیڈران کسانوں کوسرمایہ داروں کے ہاتھوں گروی رکھ دیتے ہیں۔ آج ہر جگہ زمین اور قدرتی وسائل کی لوٹ مچی ہے۔تحویل اراضی کے خلاف سیکڑوں تحریکیں چل رہی ہیں۔ کسانوں کے خلاف سرمایہ داروں کانقصان ہونے لگتا ہے، تب سرکار ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر گولیاں بھی چلاتی ہے۔ کویتا کے مطابق نول گڑھ میں سیمنٹ فیکٹریوں کے لیے جس طرح 20گائووں کو اجاڑ کر وہاں کی سترہزار بیگھہ زمین آدتیہ برلا، بانگڑ سموہ اور این سری نیواسن جیسے صنعت کاروں کو راجستھان سرکار دینا چاہتی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کویتا کا ماننا ہے کہ نول گڑھ کے کسان جس طرح پچھلے دو سالوں سے مسلسل کوشش کررہے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی زمینیں ابھی تک بچی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق نول گڑھ کے کسانوں کو تب تک کوشش کرنا ہوگی۔جب تک کہ تمام ایم او یو رد نہ کردیے جائیں، حالانکہ راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت یہ کہہ کر اپنا دامن جھاڑ رہے ہیں کہ اس پروجیکٹ کو بی جے پی کے دوراقتدار میں منظوری ملی تھی۔ گہلوت سرکار کا یہ بیان مضحکہ خیز ہے کیونکہ نول گڑھ میں مجوزہ سیمنٹ فیکٹریوں سے اسے زبردست فائدہ ہونے کی امید ہے اور اس لیے اسے بی جے پی سرکار کے ذریعے لیے گیے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ حالانکہ ہمارے ملک میں سیاست میں عموماً ایساہوتا ہے کہ سابقہ سرکاروں نے جو فیصلے لیے ہیں، اسے بعد کی سرکاریں رد کردیتی ہیں یا ٹھنڈے بستے میں ڈال دیتی ہیں۔ نول گڑھ کے معاملے میں گہلوت سرکار نے بی جے پی کے ذریعے لگائے گئے درخت کے پھل کھانے کی پوری تیاری کرلی ہے لیکن جس طرح نول گڑھ کے ہزاروں کسان سیمنٹ فیکٹریوں کے خلاف ہیں اور اپنی زمین بچانے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ راجستھان سرکار کا یہ خواب کبھی پورانہیں ہوگا۔ نول گڑھ تحصیل کے بساوا گائوں میںتحویل اراضی کے خلاف کسانسنگھرش سمیتی کی طرف سے منعقد اس پروگرام کو راگھویندرسنگھ، ارون سنگھ، جے رام سنگھ ڈابلا، ہرکیش بگالیا، سانورمل یادو، سنجے باسوتیا سمیت کئی کسان لیڈروں نے خطاب کیا۔ کیپٹن دیپ سنگھ شیخاوٹ، سمیر سنگھ، بالورام جھاجھڑیا، رام پرساد جانگڑ،سبھاش آریہ ایڈووکیٹ ،بیربل سنگھ ، نارائن سنگھ،صوبیدار مدن سنگھ اور سوہن سنگھ باروا سمیت نے تحویل اراضی کے خلاف آخری وقت تک کوشش کرنے کا عہد دہرایا۔ غورطلب ہے کہ نول گڑھ تحصیل کے بیس گائووں میںپرائیویٹ سیکٹر کی تین فیکٹریوںالٹراٹیک سیمنٹ لمیٹیڈ، شری سیمنٹ لمیٹیڈ اور انڈیا سیمنٹ لمیٹیڈ کے لیے تقریباً ستر ہزار بیگھہ زراعتی زمین تحویل میں لی جارہی ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں کی اس لوٹ اور راجستھان سرکار کے ذریعے انہیںدی جارہی چھوٹ کے خلاف نول گڑھ کسان سنگھرش سمیتی پچھلے دو سالوں سے دھرنا دے رہی ہے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *