جمہوریت کو بچانے کا وقت آ گیا

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان میں جمہوریت کی اتنی خراب حالت آزادی کے بعد کبھی نہیں ہوئی تھی۔ پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی پارٹیوں کا بہت اہم مقام ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج پارلیمانی جمہوریت کو چلانے والی ساری پارٹیوں کا کردار تقریباً ایک جیسا ہو گیا ہے۔ چاہے کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی یا دیگر سیاسی پارٹیاں، جن کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہے یا پھر وہ سبھی جو کسی نہ کسی ریاست میں برسر اقتدار ہیں، سبھی کا برتاؤ سرکاری پارٹی جیسا ہو گیا ہے۔ اسی لیے ان سوالوں پر جن کا رشتہ عوام سے ہے، سبھی پارٹیاں ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں اور عام لوگوں کے مفاد کے خلاف کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ عوام سے سیدھا جڑا سوال بدعنوانی کا ہے۔

سارے کھیل میں بایاں محاذ کے لوگ خاموش ہیں، مایاوتی خاموش ہیں، ملائم سنگھ یادو خاموش ہیں، نتیش کمار خاموش ہیں۔ ملائم سنگھ، مایاوتی اور نتیش کمار کی خاموشی سمجھ میں آتی ہے، لیکن بایاں محاذ کے لوگوں کی خاموشی سمجھ میں نہیں آتی۔ بایاں محاذ کے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عوام کے غصے کا ساتھ دینے کی جگہ مدعا کس نے اٹھایا، اس کا کریڈٹ لینے کے پچڑے میں پڑ جاتے ہیں۔ بایاں محاذ کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اروِند کجریوال نے رِلائنس کے ساتھ کانگریس اور بی جے پی کے جس رشتہ کا انکشاف اب کیا ہے، اس کا انکشاف انہوں نے بہت پہلے ہی کر دیا تھا اور اس بابت وزیر اعظم کو خط بھی لکھے تھے۔ سوال یہ ہے کہ بایاں محاذ کے لوگوں کی حکمت عملی میں وہ کون سی خامی ہے کہ لوگ ان کے ذریعے اٹھائے گئے مدعوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور کیوں ان کے ذریعے اٹھائے گئے سوال عام لوگوں کو متحد کرنے کا سبب نہیں بن پاتے۔

جب ہندوستان کی سیاست میں انّا ہزارے نمودار ہوئے اور بدعنوانی کے خلاف عوام کی آواز اٹھی تو انا ہزارے کی ساکھ ختم کرنے کے لیے ان کے صلاح کار اروِند کجریوال، منیش سسودیا اور کرن بیدی پر بدعنوانی کے الزام مرکزی حکومت، کانگریس پارٹی اور اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے لگائے۔ انہیں لگا کہ کچھ نہ کچھ ہاتھ میں آئے گا اور یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو جائیں گے، لیکن ہوا بالکل اُلٹا۔ یہ خاموش نہیں ہوئے اور انہوں نے کانگریس اور بی جے پی کے لیڈروں کے اوپر ثبوت کے ساتھ بدعنوانی کے الزام لگائے۔ الزام لگانے کے نتیجہ میں کانگریس اور بی جے پی ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ اروِند کجریوال نے رابرٹ واڈرا، سلمان خورشید، نتن گڈکری اور رنجن بھٹا چاریہ کے خلاف الزامات لگائے۔ سبرامنیم سوامی نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے اوپر الزام لگائے۔ چھوٹی موٹی آتش بازیاں اور ہوئیں، لیکن ہندوستان کی سیاست میں پہلی بار بدعنوانی میں باہمی ساز باز پر سے پردہ اٹھ گیا۔ ایسا لگا، جیسے کانگریس اور بی جے پی مل کر اس ملک کو لوٹنے میں جوائنٹ وینچر کیے ہوئی ہیں۔ ’نہ تم میری کہو، نہ میں تمہاری کہوں‘ کا فارمولہ دونوں نے اپنایا ہوا ہے۔ اس کا ثبوت دگ وجے سنگھ کے اس بیان سے ملتا ہے کہ میرے پاس اڈوانی جی کے بیٹے اور بیٹیوں کے بدعنوانی کے ثبوت ہیں، لیکن میں ذاتی حملے نہیں کروں گا۔ دونوں فریقین کے لوگ اپنی پارٹی کے سینئر لیڈروں پر لگے الزامات کی جانچ کرانے کی جگہ دوسرے کی جانچ کرانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ جب نتن گڈکری کے اوپر سرکار نے جانچ شروع کی تو صحافیوں نے پوچھا کہ رابرٹ واڈرا کے اوپر جانچ کیوں نہیں ہو رہی ہے، تو آج کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ الگ طرح کا کیس ہے، اس لیے اس کی جانچ نہیں ہو رہی ہے اور گڈکری کا کیس الگ طرح کا ہے، اس لیے اس کی جانچ ہو رہی ہے۔ اس الگ طرح کو انہوں نے ڈیفائن نہیں کیا۔ نریندر مودی نے کچھ زیادہ ہی آزادی لے لی اور کہا کہ کانگریس کے نئے بنے وزیر ششی تھرور کی گرل فرینڈ 50 کروڑ کی ہے۔ اس کے جواب میں دگ وجے سنگھ نے نریندر مودی کی شادی اور ان کی بیوی کے گجرات کے ایک گاؤں میں ٹیچر کے ناتے زندگی بسر کرنے کی بات میڈیا میں کہی۔
ملک کے لوگ حیران اور فکر مند ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، پانی، زمین، روٹی اور بھوک جیسے مدعے کسی سیاسی پارٹی کی ترجیحات میں نہیں ہیں۔ اچانک اروِند کجریوال نے بدعنوانی کے ٹھہرے ہوئے تالاب میں پتھر کیا مار دیا، کیچڑ کے چھینٹے عجیب و غریب طریقے سے سب کے چہرے کے اوپر پھیلے دکھائی دینے لگے۔ سارے کھیل میں بایاں محاذ کے لوگ خاموش ہیں، مایاوتی خاموش ہیں، ملائم سنگھ یادو خاموش ہیں، نتیش کمار خاموش ہیں۔ ملائم سنگھ، مایاوتی اور نتیش کمار کی خاموشی سمجھ میں آتی ہے، لیکن بایاں محاذ کے لوگوں کی خاموشی سمجھ میں نہیں آتی۔ بایاں محاذ کے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عوام کے غصے کا ساتھ دینے کی جگہ مدعا کس نے اٹھایا، اس کا کریڈٹ لینے کے پچڑے میں پڑ جاتے ہیں۔ بایاں محاذ کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اروِند کجریوال نے رِلائنس کے ساتھ کانگریس اور بی جے پی کے جس رشتہ کا انکشاف اب کیا ہے، اس کا انکشاف انہوں نے بہت پہلے ہی کر دیا تھا اور اس بابت وزیر اعظم کو خط بھی لکھے تھے۔ سوال یہ ہے کہ بایاں محاذ کے لوگوں کی حکمت عملی میں وہ کون سی خامی ہے کہ لوگ ان کے ذریعے اٹھائے گئے مدعوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور کیوں ان کے ذریعے اٹھائے گئے سوال عام لوگوں کو متحد کرنے کا سبب نہیں بن پاتے۔ آج جب عوام بدعنوانی کے سوال پر غصے میں دکھائی دے رہے ہیں تو بایاں محاذ کے لوگ عوام سے دور کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس درمیان اروِند کجریوال اور ان کے ساتھیوں نے باہم مخالف فریق کی خالی جگہ کو کامیابی کے ساتھ بھر دیا ہے۔ انہوں نے دہلی میں کانگریس اور بی جے پی کو ہٹا کر اپنے لیے جگہ بنا لی ہے۔ وہ دہلی کے عوام کو اس بات کا بھروسہ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں کی چال ایک ہے، فطرت ایک ہے اور چہرہ ایک ہے۔ اگر دونوں کے درمیان اگر کوئی فرق ہے، تو وہ مکھوٹے کا ہے۔ جس اروند کجریوال کو سلمان خورشید نے چیونٹی کہا تھا اور کانگریس کے لیڈروں نے اروند کجریوال کی ساکھ ختم کرنے کی کوشش کی تھی، اسی اروند کجریوال نامی چیونٹی نے سلمان خورشید نامی ہاتھی کی سونڈ میں گھس کر ان کی جان آفت میں ڈال دی ہے۔ دوسری طرف اروند کجریوال نے کانگریس اور بی جے پی کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے۔ اروند کجریوال کا نام، جسے کل تک کانگریس اور بی جے پی کے لوگ مذاق میں لیا کرتے تھے، آج وہی لوگ اروند کجریوال کا نام ڈر سے لے رہے ہیں۔ اروند کجریوال کی کامیابی پیسے کی کامیابی نہیں ہے، اروند کجریوال کی کامیابی ان مدعوں کی کامیابی ہے، جن کا رشتہ عام آدمی کے ٹوٹے اعتماد، عام آدمی کے درد اور تکلیف سے ہے۔
اسی دوران ہندوستان کی سیاست میں ایک اور گوشہ نمودار ہوا ہے۔ اس گوشہ کا نام انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ ہے۔ انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ نے مل کر یہ اعلان کیا ہے کہ ہندوستان کی حکومت اور ہندوستان کی پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ آئین کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کی حکومت کو آئین کے ذریعے بتائے گئے راستوں کے خلاف کام کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے، اس لیے اس پارلیمنٹ کو معطل کر دیا جانا چاہیے۔ دونوں کے مشترکہ دستخط والے اس بیان کا پورے ملک میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ دونوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ پورے ملک میں ساتھ ساتھ گھومیں گے اور اس پارلیمنٹ کو معطل کرکے نئے انتخابات کرانے کے لیے عوام سے تحریک چلانے کے لیے کہیں گے۔ اس کے پیچھے بہت بڑی وجہ ہے۔ آئین نے عوامی فلاحی ریاست ماننے والی سرکار کو منظوری دی ہے، لیکن آج سرکار نے آئین کے ذریعے کہی گئی عوامی فلاح والی ریاست کے نظریہ سے الگ، بازار پر مبنی نظریہ والا اصول اپنا لیا ہے۔ عوامی فلاحی ریاست کو ماننے والی سرکار تعلیم، صحت، روٹی، روزگار، سڑک، اسپتال اور اسکول جیسی چیزیں مہیا کرانے کی ذمہ داری لیتی ہے، لیکن عوامی فلاحی ریاست کی جگہ بازار پر مبنی ریاست کو ماننے والی سرکار اپنے ملک کے غریب عوام کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتی۔ انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ یہ چاہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کو اب عوام سے کہنا چاہیے کہ ہم تمہارے لیے سڑک نہیں بنائیں گے، سڑک پرائیویٹ کمپنی بنائے گی اور اگر تمہیں اس کے اوپر چلنا ہے تو ٹول ٹیکس دینا ہوگا۔ اب پینے کے پانی کا انتظام ہم نہیں کریں گے، اگر تمہیں پانی پینا ہے تو بوتل بند پانی بنانے والی کمپنیوں سے پانی خرید کر پینا ہوگا۔ اب ہم اسکول نہیں کھولیں گے، اگر تمہیں اپنے بچے کو پڑھانا ہے تو تمہیں بڑی کمپنیوں کے ذریعے کھولے گئے اسکول میں بچے کو بھیجنا ہوگا۔ اب سرکار اسکول نہیں کھولے گی، اب جان بچانے کے لیے تمہیں ان اسپتالوں میں جانا ہوگا، جو بڑی کمپنیوں نے کھولے ہیں۔ اگر اس کے بعد عوام کانگریس، بی جے پی یا ان پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں، جو ان مدعوں پر آج خاموش ہیں تو انہیں جو وہ کر رہے ہیں، اس کا مینڈٹ مل جائے گا۔ اور اگر عوام چاہیں گے تو ان لوگوں کو ووٹ دیں گے، جو بازار کے ذریعے چلائی جانے والی سرکار کی جگہ عوامی فلاحی ریاست کے نظریہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ چاہتے ہیں کہ آئین کو اگر بدلنا ہے تو عوام سے مینڈٹ لے کر بدلنا چاہیے، چوری چھپے اور ٹھگی کے طریقے سے نہیں بدلنا چاہیے۔ اسی لیے انہوں نے اس لوک سبھا کو معطل کرکے نئی لوک سبھا کی بات کہی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ آئین کو چوری چوری بدلنے کی کوشش پر نہ بایاں محاذ کے لوگ عوام کے پاس گئے، نہ ملائم سنگھ، نہ مایاوتی اور نہ کوئی دوسری سیاسی پارٹی عوام تک پہنچی۔ اس لیے ہو سکتا ہے، اگر عام عوام کو یہ چالاکی سمجھ میں آ جائے تو یہ ملک 30 جنوری سے ایک نئی عوامی تحریک کا گواہ بنے گا۔
انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ کی اپنی طاقت اور اپنی کمزوریاں ہیں۔ انا ہزارے کے ساتھ ایسے لوگ کام کر رہے ہیں، جنہیں سماجی تحریکوں، سماجی تضادات، غریبوں کے لیے کام کرنے کی ترجیح اور پورے ملک کو ایک اکائی مان کر تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کو سمجھنے کا تجربہ رہا ہو۔ انا ہزارے کے ساتھ زیادہ تر ایسے لوگ ہیں، جو اپنے اپنے وقت میں مختلف میدانوں میں سول سروس میں رہے ہیں۔ ان میں سے شاید ہی کسی نے گاندھی جی کی کسی کتاب کو پڑھا ہوگا۔ ان میں سے کسی نے گاندھی جی کی ’ہند سوراج‘ نامی کتاب کو شاید دیکھا ہی نہیں ہوگا۔ انا ہزارے کے سامنے چنوتی بھی ہے اور پریشانی بھی۔ وہ کیسے ان لوگوں کو سماجی تحریکوں کی تاریخ اور گاندھی کے ہندوستان کے تصور کے بارے میں سمجھائیں گے، جنہوں نے آج تک کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔ کارکنوں کی شکل میں بھی انا ہزارے کے پاس ایسے لوگ زیادہ ہیں، جو ہندوستان کے مسائل کو گاندھی کے چشمے سے دیکھنے میں نااہل ہیں۔ اگر سماج بدلنا ہے تو انا ہزارے کے کارکنوں کو کیپٹل ازم (پونجی واد)، کمیونزم، گاندھی ازم اور سروودے کا فرق سمجھ میں آنا چاہیے۔ عام عوام کی اقتدار میں حصہ داری کے اصول میں ان کا یقین ہونا چاہیے۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ ہے۔ کم و بیش ان کے سامنے بھی وہی چنوتی ہے، جو انا ہزارے کے سامنے ہے۔ ان چنوتیوں کے باوجود انا ہزارے اور وی کے سنگھ دو ایسے چہرے ہیں، جن کی زبان اور جن کے وعدے پر ملک بھروسہ کر سکتا ہے، لیکن کسی کمیٹی کے نام پر یا ان دونوں کے نمائندے اگر ملک کو قیادت فراہم کرنے کی کوشش کریں گے تو آئندہ بیس سالوں کے لیے عوام کی تحریک ختم ہو جائے گی اور لوگوں کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔ ملک انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ سے جواب مانگے گا، ان سے نہیں، جو ان کا نام لیتے ہیں۔
ملک کی جمہوریت کے پریشانی بھرے وقت میں ہندوستان کا میڈیا بھی لیفٹ، رائٹ، سنٹر یعنی بے سمت بحث میں مصروف ہے۔ اس کی پوری کوشش تحریک نہ ہونے دینے کی ہے اور وہ لوگوں کی توجہ مدعوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔ کچھ بڑے ایڈیٹر بے شرمی کے ساتھ کھلے عام سرکار کی وکالت کرنے، بی جے پی کو بچانے اور اروِند کجریوال، انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ کو توڑنے کی مہم میں لگ گئے ہیں۔ ان کے سوال ایسے ہوتے ہیں، جن کے جواب اگر انا ہزارے، جنرل وی کے سنگھ یا اروِند کجریوال دیتے ہیں تو ان کا استعمال انہی کے خلاف کیس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تینوں سیدھے لوگ ہیں، یہ میڈیا کے اس طبقہ کی مکاری کو سمجھ نہیں پاتے، جو ملک میں ایماندار لوگوں کا سیاسی اور سماجی قتل کرنے کی سپاری لیے ہوئے ہیں۔ اس پورے ماحول میں سب سے خطرناک اشارے کانگریس کے پی چدمبرم، راہل گاندھی اور بی جے پی کے نتن گڈکری نے دیے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے اوپر لگے الزام صحیح نہیں ہیں، لیکن سامنے والے کے اوپر لگے الزام صحیح ہیں۔ دوسرے یہ کہ بولنے کی آزادی کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ یا بھارت کی جمہوریت کو کنٹرولڈ جمہوریت میں بدلنے کی سازش بی جے پی اور کانگریس مل کر کر رہی ہیں یا اس ملک کو پولس اسٹیٹ میں بدلنے کی خفیہ سازش ہو رہی ہے یا پھر کانگریس اور بی جے پی مل کر انا ہزارے، جنرل وی کے سنگھ اور اروِند کجریوال کو کچلنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ ہندوستان کے عوام کی امیدوں اور مفادات کے بارے میں انا ہزارے، جنرل وی کے سنگھ اور اروِند کجریوال کو ذمہ داری تاریخ نے سونپی ہے۔ اگر یہ اس ذمہ داری کو سنبھالنے میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر ملک میں مخالفت اور تبدیلی جیسے خوابوں کو پورا کرنے کی منطقی ذمہ داری نکسل وادیوں کے پاس چلی جائے گی یا پھر ملک میں افراتفری پھیل جائے گی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *