جب پی آئی او اطلاع نہ دے

آر ٹی آئی کے درخواست کنندہ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے اطلاع کا نہ ملنا، غلط اطلاع ملنا یا نامکمل اطلاع ملنا۔ظاہر ہے، اس کے پیچھے پبلک انفارمیشن آفیسر یعنی پی آئی او کی لاپرواہی یا جان بوجھ کر اطلاع نہ دینے کا مقصد ہوتاہے۔ کئی مرتبہ درخواست کنندہ کو پریشان کرنے کے لئے بھی ایسا کیا جاتاہے۔ عام طور پر اگر آپ نے اطلاع پانے کے لئے کسی سرکاری محکمے میں درخواست دی ہے تو اس کا جواب 30 دنوں کے اندر مل جانا چاہئے، لیکن جب 30 دن گزر جانے کے بعد بھی آپ کو اطلاع نہیں ملی یا ملی بھی تو غلط یا نا مکمل یا آر ٹی آئی کی دفعہ 8 کی شقوں کو توڑ مروڑ کر آپ کو اطلاع دینے سے منع کر دیا گیا۔ تب کیا کرنا چاہئے۔ کئی مرتبہ آپ سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی اطلاع دیے جانے سے کسی کے استحقاق کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا فلاں اطلاع تیسرے فریق سے جڑی ہوئی ہے وغیرہ۔ اب آپ ایسی صورت حال میں کیا کریں گے؟ظاہر ہے، چپ چاپ تو بیٹھا نہیں جا سکتا، اس لئے یہ ضروری ہے کہ آپ آر ٹی آئی قانون کے تحت ایسے معاملوں میں فرسٹ اپیل کریں۔ جب آپ درخواست جمع کرتے ہیں، تو اس کے 30 دنوں بعد ، لیکن 60دنوں کے اندر پبلک انفارمیشن آفیسر سے سینئر آفیسر ، جو آرٹی آئی کے تحت فرسٹ اپیلیٹ آفیسر ہوتاہے، کے یہاں اپیل کریں۔ اگر آپ کے ذریعہ اپیل کرنے کے بعد بھی کوئی اطلاع یا تسلی بخش اطلاع نہیں ملتی ہے یا آپ کی فرسٹ اپیل پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے تو آپ دوسری اپیل کر سکتے ہیں۔ دوسری اپیل کے لئے آپ کو اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن یا سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں جانا ہوگا۔ فی الحال اس شمارے میں ہم صرف فرسٹ اپیل کے بارے میں ہی بات کر رہے ہیں۔ ہم فرسٹ اپیل کا ایک فارمیٹ بھی شائع کر رہے ہیں۔ فرسٹ اپیل کے لئے عام طور پر کوئی فیس مقرر نہیں ہے۔حالانکہ کچھ ریاستی سرکاروں نے اپنے یہاں فرسٹ اپیل کے لئے بھی فیس مقرر کر رکھی ہے ۔ فرسٹ اپیل کے لئے کوئی مقرر فارم نہیں ہوتا ہے۔ آپ چاہیں تو ایک سادے کاغذ پر بھی لکھ کر فرسٹ اپیل تیار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ اس معاملے میں بھی کچھ ریاستی سرکاروں نے فرسٹ اپیل کے لئے ایک خاص فارمیٹ تیار کر رکھا ہے۔ فرسٹ اپیل آپ ڈاک کے ذریعہ یا انفرادی طور سے متعلقہ دفتر جاکر جمع کرا سکتے ہیں۔ فرسٹ اپیل کے ساتھ آرٹی آئی درخواست، پبلک انفارمیشن آفیسر کے ذریعہ فراہم کرائی گئی اطلاع(اگر فراہم کرائی گئی ہو تو) اور آر ٹی آئی درخواست کے ساتھ دی گئی فیس کی رسید وغیرہ کی فوٹو کاپی لگانا نہ بھولیں۔ اس قانون کے پروویژن کے مطابق ، اگر پبلک انفارمیشن آفیسر آپ کے ذریعہ مانگی گئی اطلاع 30دنوں کے اندر فراہم نہیں کراتا ہے تو آپ فرسٹ اپیل میں ساری اطلاعات مفت فراہم کرانے کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس قانون میں یہ ایک بہت اہم پہلو ہے۔ بھلے ہی اطلاع ہزار صفحات کی کیوں نہ ہو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس شمارہ میں شائع فرسٹ اپیل کے فارمیٹ کا ضرور استعمال کریں گے اور دیگر لوگوں کو بھی اس سلسلے میں بیدار کریں گے۔

فارمیٹ برائے فرسٹ اپیل
بخدمت شریف،
فرسٹ اپیل آفیسر
محکمہ کا نام ——————————————————————-
محکمہ کا پتہ ——————————————————————-
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 19(1) کے تحت فرسٹ اپیل
جناب عالی،
1۔ میں نے آر ٹی آئی قانون2005 کے تحت آپ کے محکمہ کے پبلک انفارمیشن آفیسر سے مندرجہ ذیل اطلاعات مہیا کرانے کے لئے درخواست دی ہے:۔
2۔ آر ٹی آئی قانون 2005 میں اطلاع دینے لئے مقررہ وقت ختم ہوجانے کے باوجود پبلک انفارمیشن آفیسر کے ذریعہ مجھے اب تک کسی طرح کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔مجھے جو جواب موصول ہوا ہے، یہ نامکمل؍غلط؍میری درخواست سے متعلق نہیں ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 19(1) کے تحت اس موضوع پر سنوائی کریں اور پبلک انفارمیشن آفیسر کو مجھے اطلاع مہیا کرنے کا حکم دیں۔ حق اطلاعات قانون کے مطابق پبلک انفارمیشن آفیسر کو میری طرف سے مانگی گئی تمام اطلاعات مفت فراہم کرانے کا بھی حکم دیں۔ ساتھ ہی حق اطلاعات قانون کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے پبلک انفارمیشن آفیسر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیں۔
شکرگزار
نام ———————————————————–
پتہ ———————————————————–
————————————————————–
تاریخ ———————————————————
منسلکات:
درخواست کی کاپی ————————-درخواست فیس کی رسید کی کاپی———————-
—————————-پبلک انفارمیشن آفیسر کی طرف سے دیے گئے جواب کی کاپی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *