اس ملک کی گندگی ایک کیجریوال سے نہیں جائے گی

ڈاکٹر منیش کمار 

معمولی پوشاک میں کسی عام آدمی کی طرح دبلا پتلا نظر آنے والا شخص، جو بغل سے گزر جائے تو شاید اس پر کسی کی نظر بھی نہ پڑے ،آج ملک کے کروڑوں لوگوں کی نظروں میں ایک امید بن کر ابھرا ہے۔ تیکھی بولی، ٹھوس دلیل اور ضدی ہونے کا احساس دلانے والا شخص اروند کیجریوال آج گھر گھر میں چرچا کا موضوع بن چکاہے۔ اروند کیجریوال کی کئی اچھائیاں ہیں تو کچھ خامیاں بھی ہیں۔

دوسال پہلے تک جے پرکاش تحریک اور بد عنوانی کے خلاف وی پی سنگھ کی تحریک میں حصہ لینے والے لوگ بھی یہ کہتے تھے کہ زمانہ بدل گیا ہے ۔اب ملک میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ آج کے نوجوان تحریک نہیں چلا سکتے۔ ملک میں اب کوئی بھی تحریک ممکن نہیں ہے۔ ملک کی بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کو یہ لگا کہ ملک کے عوام افیم پی کر سو چکے ہیں اور ان کی من مانی پر اب کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے۔ یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ سیاسی پارٹیاں اس بات کو بھول گئیں کہ عوام کو برداشت کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔بحران کے دن میں ہی بدلائو کے بیج پنپتے ہیں۔تبدیلی کی آندھی چلتی ہے۔ تبھی تحریکیں چلتی ہیں، لیڈر پیدا ہوتے ہیں۔

ان کی اچھائیوں اور خامیوں کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے لیکن اس بات پر دو رائے نہیں ہے کہ ملک میں آج بد عنوانی کے خلاف جو ماحول بنا ہے اس میں اروند کیجریوال کی بہت بڑی قربانی ہے۔جب سے اروند کیجریوال نے ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کو ایک سیاسی پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ،تب سے کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ سوال ان کے ساتھی اٹھا رہے ہیں، کچھ سوال ان کے مخالفین اٹھارہے ہیں اور کچھ سوال ملک کے عوام اٹھا رہے ہیں جن کے جواب ملنا ضروری ہے۔

عجیب و غریب بات ہے کہ جب کبھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ پرینکا واڈرا کیا سیاست میں آنے والی ہے یا راہل گاندھی سرگرم سیاست میں آنے والے ہیں تو ایسے ایشو پر میڈیا گھنٹوں اس بات پر بحث کرتا ہے لیکن اس بات پر کبھی بحث نہیں ہوتی کہ راہل گاندھی کی صلاحیت کیا ہے ،سوچ کیا ہے۔ ملک کے الگ الگ ایشو پر ان کی رائے کیا ہے یا ہے بھی کہ نہیں،لیکن جس کے پاس سوچ ہے، صلاحیت ہے، دور اندیشی ہے، ایمانداری ہے، اس کے سیاست میں آنے پر ٹی وی چینلوں کے سیاسی پنڈتوں کو بے چینی ہو جاتی ہے۔ جب اروند کیجریوال بد عنوانوں پر الزام لگاتے ہیں یا پھر بدلائو کی باتیں کہتے ہیں تو میڈیا الٹے ان ہی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں اروند کیجریوال نے جس طرح کی سیاست اور لیڈر شپ کا تعارف کرایا ہے اور جس طرح ان کی حمایت میں نوجوان طبقہ سڑکوں پر اتر ا، اس سے اروند کیجریوال نے خود کو مستقبل کے صف ِ اول کے لیڈروں میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔
آج ایسا کون سا لیڈر ہے جس کے لئے کارکنان لاٹھی کھانے کے لئے تیار ہیں۔ ایسی کون سی پارٹی ہے جس کے کارکنان بغیر پیسے لئے آرگنائزیشن کے لئے کام کرتے ہیں۔ایسی کون سی پارٹی ہے جو اپنی ریلیوں میں بغیر پیسے دیے بھیڑ جمع کر پاتی ہے۔ ایسا کون سا لیڈر ہے جسے دیکھنے اور سننے کے لئے عام آدمی امڈ پڑتا ہے ۔ ملک کے پارٹی سسٹم کو دیمک لگ گئی ہے۔ کرائے کی بھیڑ ،کرائے کا جلوس، کرائے کی ریلی اور کرائے کے کارکن یہی آج کی سیاسی پارٹیوں کی سچائی ہے۔ بغیر پیسہ لئے پارٹی،تنظیم کے ذمہ دار بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنی ساری ذمہ داری کو طاق پر رکھ دیا ہے ۔یہ صرف چنائو لڑنے اور سرکار بنانے اور پیسہ کمانے کے لئے آرگنائزیشن چلاتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں نے جیسا بیج بویا ہے ویسی ہی فصل کاٹ رہی ہیں۔بغیر پیسہ دیے یہ چنائو میں پرچار کے لئے کارکن اور پولنگ بوتھ پر ایک ایجنٹ تک نہیں کھڑا کر سکتے ۔ ایسے میں جب ٹیلی ویژن پر کسی غریب کے یہاں بجلی کے تار کو جوڑتے ہوئے جب اروند کیجریوال دکھائی دیتے ہیں تو لگتا ہے کہ سیاست کا مزاج بدل رہا ہے۔ جب بد عنوان وزیروں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک کے الگ الگ شہروں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پولیس کی لاٹھیاں کھاتے نظر آتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ملک میں ابھی بھی اصولوں کے لئے لڑنے والے لوگ موجود ہیں۔ جب ملک کا ایک سینئر وزیر اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہے۔ مارنے کی دھمکی دینے لگ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اروند کیجریوال سے سیاسی پارٹیوں کو ڈر لگنے لگا ہے۔ جب اروند کیجریوال کانگریس صدر سونیاگاندھی کے داماد پر الزام لگانے کی ہمت دکھاتے ہیں تو ملک کے لوگوں کی امید مضبوط ہوتی ہے کہ ملک میں بدلائو آسکتا ہے۔لوگ نظریں اٹھائے انتظار میں اس لئے ہیں کیونکہ ملک اور ملک کی جمہوریت مشکل میں ہے۔
گزشتہ آٹھ برسوں میں ملک ہر شعبے میں پیچھے ہی ہوا ہے۔ بد عنوانی اور مہنگائی اپنی انتہا پر پہنچ گئی۔مرکزی حکومت ہو یا ریاستی سرکاریں، کسی نے نہ تو بد عنوانی کو ختم کرنے کی کوئی پہل کی اور نہ ہی وہ مہنگائی کو روک سکی۔ منصوبے پہلے کی طرح ناکام ہوتے رہے اور عوام پریشانیوں سے دوچار۔اس دوران ایسا ماحول بنا ،جس سے ملک میں لگتا ہے کہ سرکار ہے ہی نہیں۔ سرکار اگر ہے تو صرف نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ۔نجی کمپنیاں، لیڈران اور افسران نے گھوٹالے اور بد عنوانی کی ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی پارٹیاںخاموشی اختیار کئے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔اس لئے اس دوران ریاستوں میں سرکاریں تو بدلیں لیکن حکومت چلانے کا طریقہ نہ بدلا۔ اقتصادیات کے ماہر وزیر اعظم بھروسہ دلاتے رہے کہ مہنگائی اب کم ہوگی اور تب کم ہوگی۔ وزیر خزانہ صاحب یہی جھوٹے وعدے کرتے کرتے صدر جمہوریہ بن گئے۔ لیکن ملک کے عوام کو مہنگائی سے نجات نہیں مل پائی۔ غریب تو غریب، اس بار امیروں کو بھی مہنگائی نے بے چین کردیا۔ اس دورانیکے بعد دیگرے بڑے سے بڑے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہوتا گیا۔ عوام کو سمجھ میں آگیا کہ منموہن سنگھ کی مالی سدھار کی پالیسی کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں وزرائ، لیڈران، افسران اور صنعت کاروں کے کئی گروہ تیار ہو چکے ہیں جو ہر وقت ملک کو لوٹنے میں لگے ہیں۔ ترقی کے نام پر زرخیز زمین چھینی جانے لگی۔آدیواسی بے گھر ہونے لگے۔مزدوروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ کسان خود کشی کرنے لگے۔ نکسلیوں کے اثرات بڑھنے لگے ۔صورت حال یہ ہے کہ ملک کو لوٹنے والوں کو چھوڑ کر ہر آدمی پریشان ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب جن لوک پال کی تحریک شروع ہوئی تو ملک کے ہر کونے میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ یہ تحریک تاریخی تھی لیکن سرکار نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے جمہوریت کے مہاراجائوں نے اسے نوٹنکی کا نام دیا۔کچھ بڑے لیڈروں نے یہاں تک کہا کہ ملک کا قانون سڑک پر بیٹھ کر نہیں بنایا جاتا۔ جن لوک پال تحریک کے لیڈر بیشک انا ہزارے تھے لیکن اس تحریک کاذریعہ اروند کیجریوال تھے۔جن لوک پال کی نوعیت، تشکیل،اثر انداز ہونے اور اس میں کیا کیا پابندیاں ہونی چاہئے، یہ سب تیار کرنے میں اروند کیجریوال کا اہم رول رہا۔ پرشانت بھوشن جیسے ماہر وکیل نے اس کے قانونی پہلو کو مضبوطی دی۔ لوگوں کو اکٹھا کرنا اور ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کو منظم کرنے کا کام بھی اروند نے ہی کیا۔ ٹی وی چینل میں بحث ہو، ریلیوں میں بھاشن ہو،، تحریک کے دوران ہر پل ملک کو خطاب کرکے اور سرکار کی دلیلوںکو اپنی دلیل سے کمزور کرکے اروند کیجریوال نے ملک کے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ٹیم انا کے ممبروں کے علاوہ ملک بھر میں’ انڈیا اگینسٹ کرپشن ‘کی پوری فوج تیار کرنا اور ان سے مسلسل بات چیت کرکے اروند کیجریوال نے اپنی تنظیمی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ اروند کیجریوال کے خطاب سے وہ ایک بصیرت آموز شخصیت نظر آتے ہیں۔ جومستقبل کی سیاست کی ایک خوبصورت لکیر کھینچ رہے ہیں۔ پارٹی میں امیدواروں کا چنائوکیسے ہو،اس سوال پر جب ان کا جواب ہوتا ہے کہ عوام چنیں گے،کسی بھی سیاسی پنڈت کو یہ جواب اٹ پٹا سا لگ سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ یہ چنائو مشکل ہو، لیکن’ عوام کا چنا ہوا امیدوار ہو‘، یہ سوچ ہی اپنے آپ میں قائل کرنے والی ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کم سے کم کوئی بد عنوان ، جرائم پیشہ، چور، ڈاکو، عصمت دری کرنے والا ، جاہل یا باپ دادا کے کوٹے سے تو امیدوار نہیں بنے گا۔یہی بدلائو ہے کیونکہ فی الحال جو پارٹیاں ہیں وہ تو امیدوار کی ذات، اس کی دولت ،اس کی طاقت اور اس کا خاندان دیکھ کر ہی ٹکٹ دیتی ہیں۔ اروند کیجریوال ہریانہ کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے آئی آئی ٹی کھڑگپور سے میکنکل انجینئرنگ کی پڑھائی کی۔ سیاسی اور سماجی کارکن بننے سے پہلے وہ انڈین رونیو سروس میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے نوکری چھوڑ کر ’’پریورتن‘‘ نام کے این جی او کو تشکیل دی، جس کا مقصد سرکار کے کام کاج میں انصاف، جوابدہی، شفافیت لانا تھا۔ اس کے تحت اروند کیجریوال نے حق اطلاعات کے ذریعہ سے دہلی سرکار کے کئی محکمے میں بد عنوانی کا پردہ فاش کیا۔ حق اطلاعات کی تحریک زمینی سطح پر لانے کے لئے انہیں 2006 میں’ میگسےسے‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے بعد انا ہزارے کے ساتھ مل کر انہوں نے جن لوک پال کی لڑائی شروع کی۔ دو سال تک جن لوک پال کی مانگ کو لے کر تحریک چلتی رہی۔ سرکار کے ساتھ سمجھوتہ ہوا۔ ٹیم انا اور سرکار کے وزیروں کے درمیان کئی میٹنگیں ہوئیں تاکہ ایک مضبوط لوک پال بن سکے۔ لیکن سرکار نے ٹیم انا کے سجھائو کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ ٹیم انا نے تقریباً سبھی پارٹیوں سے بات چیت کی لیکن کسی بھی پارٹی نے جن لوک پال کی کھلی حمایت نہیں کی۔وجہ بھی صاف ہے کہ بد عنوان سسٹم کی پرورش کرنے والے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے لوگ بد عنوانی کو ختم کیسے کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد اروند کیجریوال کو لگا کہ جن لوک پال اگر بننا ہے تو اس کے لئے پارلیمنٹ میں تعداد کی ضرورت پڑے گی اور جب تک یہ سیاسی پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت میں رہے گی، تب تک بدعنوانی کے خلاف کوئی سخت قانون نہیں بن سکتا ہے۔ اس لئے انہوںنے سیاسی پارٹی بنانے کا فیصلہ لیا۔ انا ہزارے سیاسی پارٹی بنانے کے حق میں نہیں ہیں، اس لئے دونوں الگ ہو گئے۔اس الگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں دشمن بن گئے ہیں۔انا ہزارے اور اروند کیجریوال کا مشن ایک ہے، ہدف ایک ہے، بس راستے الگ الگ ۔ انا ہزارے کا ماننا یہ ہے کہ تحریک کے ذریعہ سرکار پر دبائو بنایا جا سکتا ہے جبکہ اروند کیجریوال کو لگتا ہے کہ اب گڑ گڑانے سے کام نہیں چلے گا۔ اب ان پارٹیوں کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے کے بعد ہی پورے نظام میں بدلائو لایا جا سکتا ہے۔ داصل دونوں ہی طریقے صحیح ہیں۔ایک سیاسی لیڈر میں کچھ خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں عوامی مقبولیت،اعتماد،دوراندیشی،خود اعتمادی،خدمت کا جذبہ،نرمی، ایمانداری، عوام کے مسائل کے تئیں حساسیت اور مسائلکے حل نکالنے کی سوجھ بوجھ لازمی طورپر ہو۔ حالانکہ ان خوبیوں کو سیاسی لیڈروں میں ڈھونڈنا شروع کریں تو ملک میں سرکار لانے والی پارٹیوں اور اپوزیشن میں ایکاد ایسے لیڈر شاید مل جائیں، ورنہ ملک میں کوالٹی کے سیاسی لیڈروں کی بڑی کمی ہے۔ہر سیاسی پارٹی میں بے ایمان بہت مل جائیں گے ،ایماندار نہیں ملیںگے۔عوام میں مقبول لیڈر مل جائیںگے لیکن ان میں دور اندیشی نہیں ملے گی۔ایسے لیڈر بھی مل جائیںگے جن میں خود اعتمادی ہوگی لیکن عوام کے تئیں حساسیت نہیں ہوگی۔کہنے کا مطلب تمام خوبیوں کے حامل لیڈر اب عجائب گھر میں ہی ملیں گے۔ اروند کیجریوال ایماندار ہیں۔ پڑھے لکھے ہیں۔ان میں دور اندیشی ہے۔وہ مقبول بھی ہیں۔ انا سے الگ ہونے کے بعد جس طرح وہ غریبوں اور مزدوروں کے لئے لڑتے نظر آتے ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل کے تئیں حساس ہیں۔ ان کی کتاب ’سوراج‘‘ سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اروند کیجریوال جمہوری اہمیت پر یقین کرنے والے لیڈر ہیں جو سرکار کے کام میں جوابدہی اورشفافیت چاہتے ہیں۔کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ اروند کیجریوال کو زیادہ سیٹیں نہیں آئیںگی کیونکہ چنائو جیتنے کے لئے کافی تکڑم کرنا پڑتا ہے۔ سوال چنائو جیتنے یا ہارنے کا نہیں ہے۔ یہ شاید اروند کیجریوال کو بھی پتہ ہو کہ اگلے ہی چنائو میں 272 سیٹیں نہیں ملنے والی ہیں۔ یہاں مسئلہ جمہوریت میں سیاست کے ہدف کا ہے۔کیا ملک میں عوام کی حامی سیاست نہیں ہوگی۔ کیا غریبوں اور محروموں کے حق کے لئے سیاست نہیں ہوگی۔ جس طرح سے آزادی کے بعد سے اب تک دلتوں، آدیواسیوں،پچھڑے، مسلمانوں اور کسان مزدوروں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے کیا ان کے حق کے لئے سیاست نہیں ہوگی۔موجودہ وقت میں جن پارٹیوں کے ہاتھوں میں ملک اور ریاستوں کی کمان ہے انہوں نے ان سوالوں کو اٹھانا بند کر دیا ہے۔وہ صرف اور صرف کارپوریٹ اور صنعت کاروں کے لئے کام کرنے کو ہی حکومت سمجھ رہے ہیں۔

دراصل ان سیاسی پارٹیوں میں ایسے لیڈروں کی کمی ہے جو ان ایشوز کے تئیں حساس ہوں۔ غریبوں اور محروموں کی سیاست کرنے کے لئے زمین سے جڑا لیڈر ہونا چاہئے جو ان سیاسی پارٹیوں کے پاس نہیں ہے۔سیاسی پارٹیوں نے اچھیلیڈر بنانا بند کردیا ہے۔ نسل پرستی اور بھائی بھتیجا کی بیماری میں مبتلا پارٹیوں سے ایسی امید بھی کرنا آج کے زمانے میں بے معنی ہے۔ سیاسی پارٹیاں اگر گمراہ ہوجائیں تو کیا ملک کے عوام ان کے سدھرنے کا انتظار کریں یا پھر نئے لیڈروں کو سامنے آنے کا موقع دینا چاہئے۔ سیاسی پارٹیوں کی دھوکہ دہی اور بد عنوانی نے ملک کو خطرناک پوزیشن میں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ ملک اور سماج پر جب بھی بحران آتا ہے تو لیڈر پیدا ہوتا ہے، یہی دستور ہے۔ اس لئے بد عنوانی کے خلاف مہم سے مستقبل کے لیڈروں کا علاج ضروری ہے۔ اروند کیجریوال اسی بحرانی دور کی ایک پیداوار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اروند کیجریوال کی کئی باتوں سے لوگ متفق نہیں ہوں ۔ ویسے بھی ہر بات سے متفق ہونا ضروری بھی نہیںہے۔ لال کرشن اڈوانی ، سونیا گاندھی، نریندر مودی، نتیش کمار، ممتا بنرجی، ملائم سنگھ یادو یا مایا وتی، یہ ملک کے بڑے لیڈر ہیں۔ ان کی کئی باتوں سے ہم متفق نہیں ہوتے لیکن پھر بھی وہ ایک لیڈر ہی ہیں۔ اس ملک کی خوشنصیبی ہے کہ مشکل کے اس وقت میں روایتی سیاسی حلقے کے باہر سے نئے لوگ ،نئی طاقت،نئی سوچ اور نئے کام کے ساتھ سامنے آرہے ہیں ۔ ان کونفرت نہیں بلکہ عزت کے ساتھ استقبال ہونا چاہئے۔ایک کیجریوال کی وجہ سے سیاسی پارٹیوں کی نیند حرام ہو گئی ۔ بد عنوان آفیسر کو اب رشوت لینے میں ڈر لگتا ہے۔ صنعت کاروں سے پیسے لے کر سرکاری حکموں پر دستخط کرنے والے وزیر اور افسر اب ہوشیار ہو گئے ہیں۔ بد عنوانی کو لے کر پورے ملک میں بیداری بڑھی ہے۔ عوام کی مانگوں کو لے کر جگہ جگہ تحریکیں ہو رہی ہیں۔ دہلی میں شیلا دیکشت نے تو ہتک عزت کا نوٹس بھی دے دیا لیکن کیجریوال کی تحریک کی وجہ سے سرکار کو جھکنا پڑا۔بجلی کی بڑھی ہوئی قیمت کو کم کرنا پڑا۔ جس دن ہر ریاست میں اروندکیجریوال جیسے مضبوط لیڈر پیدا ہو گئے ،اس دن اقتدار چلانے والے لوگوں کی من مانی بند ہو جائے گی۔ اس ملک کو کئی اروند کیجریوال کی ضرورت ہے ۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *