ہوائوں کے بدلنے میں اللہ کی نشانیاں ہیں

 احمد نعمانی 
آکسیجن ہوا،پانی آدمی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ہوا بذات خود تو نعمت ہے ہی مگر ہوائوں کا چلتے رہنا، بدل بدل کر چلنا، کبھی زور دار اور کبھی مدہم ہوائوں کا چلنا، اللہ کی نعمت ہے۔ اگر ایک ہی طرح سے ہوا اپنی جگہ پر موجود رہے تو انسان اس یکسانیت سے ایک طرف اوب جائے گا تو دوسری طرف نہایت خطرناک حالات سے دوچار ہوجائے گا۔ اسی لئے اللہ نے ہوائوں کو بدل بدل کر چلتے رہنے اور کم و بیش دبائو کے ساتھ اپنی جگہ بدلتے رہنے کا حکم دیا ہے۔ غور فرماویں اگر ہوائیں بدلتی نہیں اور ایک ہی طرح سے اپنی جگہ پر جمی ہوئی رہتیں تو کیا حشر برپا ہوجاتا۔ انسان کی زندگی کتنی اجیرن ہوجاتی۔ مثال کے طور پر بھوپال گیس حادثہ میں اگر ہوائوں کا چلنا بند ہوجاتا تو گیس کے رسائو سے کہیں زیادہ نقصان ہوجاتا۔ چونکہ ہوا کو اپنی جگہ سے دوسری جگہ چلتے رہنے کا حکم ہے اس لئے بھوپال کی گیس آلودہ ہوائیں چلیں تو نقصان دہ اور زہریلی فضا اپنی جگہ سے دور آسمان میں پھیل کر غائب ہوگئیں اور بھوپال مزید سانحہ سے بچ گیا۔

یہ کرشمہ سازی ہے اللہ کی جو ہوائوںکے چلنے اور بدلنے کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی طرح ہوا کی رفتار اور سمت کے تعین میں حرارت ، دبائو کے ساتھ زمین کی محوری اور مداری گردش کا کردار بھی اہم ہوتاہے۔ زمین کی قوت کشش ، اس کے اندر پیدا ہونے وای مقناطیسی رو، اور الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کے بے حد اہم رول ہوتاہے۔

حالیہ سینڈی امریکی طوفان میں ہوائیں بہہ کر اگر دور دور نہیں چلی جاتیں تو جس حلقہ میں ہوا نے طوفانی شکل لے لی تھی۔ اسی حلقہ میں جمی ہوئی رہ کر ساحلوں ، سرحدوں ،مکانوں ،پیڑوں،پلوں، عمارتوں ، ریلوے لائنوں، ہوائی اڈوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر نہ صرف پھینک دیتیں بلکہ ان جگہوں کو سمندروں میں بدل کر دنیا کا جغرافیہ بدل دیتیں، مگر خدا کے قانون کے مطابق اسے چلتے رہنا ہے اور اپنی جگہ کو بدل کر اس جگہ سے غائب ہونا ہے۔ تاکہ مزید قیامت خیز نقصان سے آبادی بچی رہے۔بڑے بڑے آتش فشاں پہاڑ آگ اگلتے ہیں۔ اس سے جو لاوا ، گیس گندھک ، زہریلے مادوں کا اخراج ہوتا ،وہ سب کے سب انسانی جانوں کے لئے زہر ہوتے ہیں۔ اگر یہ زہریلے مادے اخراج کی جگہ پر ہی جم جائیں توعلاقہ کا علاقہ زہر میںتبدیل ہوجائے گا ۔ اس نقصان عظیم سے بچانے کے لئے اللہ نے ہوائوں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر جاری رکھے اور اس بدلائو میں اللہ تبارک تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہیں۔ چنانچہ ارشاد ربی ہے ’’ اور ہوائوں کے بدلنے میں اور بادل میں جو کہ آسمان اور زمین کے درمیان اس کے حکم کا تابعدار ہے بیشک ان سب چیزوں میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں‘‘(البقرہ چیپٹر نمبر 2 آیت نمبر 164)۔مذکورہ بالا آیت کا تقاضہ ہے کہ ہوائوں کے چلنے، اس کے بدلنے کے راز پر ہم غور کریں کہ اللہ کی نشانیاں ہم پر عیاں ہوسکے۔ آئیے ہم چند نکات پر غور کریں۔ ہماری زمین کے پورے گولے کو ہوائی کرّہ نے چاروں طرف سے لگ بھگ سولہ سو کیلو میٹر کے دائرہ میں گھیر رکھا ہے۔ اس ہوائی کرہ میں مختلف قسم کی گیس موجود ہیں اور یہ کرہ تین خاص اجزاء سے تشکیل پاتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔(1)گیس:یہ ہمیشہ گیس ہی کی شکل میں رہتی ہے(2)بھاپ:جو کبھی گیس اور کبھی ٹھوس شکل اختیار کر کے کرہ کا حصہ بنی رہتی ہے(3)دھول کے ذرات جو فضا میں اڑتے رہتے ہیں اور شہابئے یا دھاتوں کے ٹکڑے ، آسمانی چٹانیں جو زمین پر یلغار کرتی رہتی ہیں مگر زمینی فضا سے ٹکراتے ہی پائوڈر اور دھول کی شکل لے لیتی ہیں یہی دھول فضا میں موجود رہتی ہیں مگر بھاپ سمندری آبخارات سے مل کر بادل بن کر برس کر زمین کو کھاد کی شکل میں ملتے ہیں۔ یہ دھول کے ذرات جو آسمان میں ہیں مختلف کیمیائی مادے ہیں۔
اس کرہ ہوائی میں مختلف گیس، مختلف تناسب میں موجود ہوتی ہیں۔ اس کی موجودگی کی وجہ سے ہوا میں رد و بدل ہوتا ہے اور ہوا ایک جگہ سے دوسری جگہ چل کر اپنی جگہ بدلتی رہتی ہے۔ان گیسوں کا ہوا میں تناسب کچھ اس طرح ہے نائٹروجن 78.03فیصد،آکسیجن20.99،آرگن00.94 ،کاربن ڈائی اکسائڈ 00.3فیصد،ہائیڈروجن 00.01فیصد۔ان گیسوں کے علاوہ فضا میں ہیلیم اور اوزون جیسی گیسیں بھی موجود ہیں۔ یہ سب مل کر درجہ حرارت کی تخلیق کرتی ہیں۔ اس لئے اللہ نے زمین کی سطح پر ہوائوں کے چلنے اور ان کی سمت کو بدلنے میں درجہ حرارت کو ایک اہم وجہ بنایا ہے۔کیونکہ درجہ حرارت اور ہوا کے دبائو میں ایک متضاد رشتہ ہے یعنی جب درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے تو ہوا کا دبائو کم ہوتا ہے اور جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو ہوا کا دبائو بڑھتا ہے۔ اس طرح دبائو اور درجہ حرارت کے گھٹنے بڑھنے سے ہوا کی تخلیق بھی ہوتی ہے اور اسے بہنے کے لئے اس کے سمت اور رفتار کا بھی تعین ہوتا ہے۔ یہ کرشمہ سازی ہے اللہ کی جو ہوائوںکے چلنے اور بدلنے کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی طرح ہوا کی رفتار اور سمت کے تعین میں حرارت ، دبائو کے ساتھ زمین کی محوری اور مداری گردش کا کردار بھی اہم ہوتاہے۔ زمین کی قوت کشش ، اس کے اندر پیدا ہونے وای مقناطیسی رو، اور الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کے بے حد اہم رول ہوتاہے۔ حالیہ امریکن طوفان کے پیدا ہونے کی اہم وجہ ’الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی پیدائش تھی جو سورج کی کرنوں ،درجہ حرارت کی پیدائش اور ہوا کے دبائوں کے نتیجہ میں وجود میں آتی تھی۔ لیکن اگر یہ طوفان ہوا کی مددد سے طوفانی شکل لے کر تیز رفتاری سے نکل نہیں بھاگتا تو نئے سمندروں کی تخلیق ہوجاتی اور لوگ زیادہ تباہ و برباد ہوجاتے مگر ہوا کے بہنے اور بدلتے رہنے کے قانون نے ہمیشہ اس طرح کے طوفانوں کو اپنی جگہ سے دور بھاگ جانے کے لئے کرشمہ سازی کا کام انجام دیا ہے۔ اس لئے اگر ہم غور کریں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ہماری زمین کی سطح سے تقریباً سولہ سو کیلو میٹر کی بلندی تک اللہ نے ہوا کے سمندر کو پھیلا رکھا ہے۔ جس کے نیچے انسان ڈوبا ہوا ہے۔ اس فضائی سمندر میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بھی کارفرما ہے کہ بحری سطح سے فضا میں جیسے جیسے اونچائی بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے ہوا ہلکی ہوتی جاتی ہے۔ اس طرح سطح زمین کے قریب کی ہوا بہت ہی گھنی اور بھاری ہے۔ اس کا خاص سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کے اندر قوت کشش ثقل Gravitational Force پیدا کرایا ہے۔ جس سے ہوا بھی متاثر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی زمین کی یومیہ گردش کا بھی اس پر اثر پڑتا ہے۔ اس کا اثر ہے کہ بحری سطح کے ایک مربع انچ پر ہوا کا وزن تقریباً پندرہ پونڈ اور ہر نو سو فٹ کی بلندی پر اس کا دبائو ایک انچ کم ہوجاتا ہے اور ہر پانچ ہزار فٹ کی اونچائی پر اس کا وزن تین پونڈ کم ہوجاتاہے۔ ہوا کے سلسلیمیں بلندی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بھی نافذ ہے کہ ہر تین سو فٹ کی اونچائی پر ہوا کا درجہ حرارت ایک ڈگری کم ہوجاتاہے۔ (لاالہ الا اللہ۔ایک سائنس تبصرہ)اس طرح موسمی تبدیلیوں کا انحصار، ہوا کے دبائو پر ہوتا ہے۔ہوا جیسے جیسے مختلف مقامات سے گزرتی ہے اس کی رفتار میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ حرکت کرتی ہوئی کبھی یہ گرم ہوا کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو کبھی ٹھنڈی ، کبھی خشک تو کبھی نمدار کہلاتی ہے۔ یہ ہوا کا درجہ حرات موسم کے اتار چڑھائو پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *