فرخ آباد کو بدنام مت کیجئے

سنتوش بھارتیہ 
میں ابھی تک پس و پیش میں تھا کہ سلمان خورشید کے خلاف کچھ لکھنا چاہیے یا نہیں۔ میری تحریر کو سلمان خورشید یا سلمان خورشید کی ذہنیت والے کچھ اور لوگ اس کے صحیح معنوں میں شاید نہ لیں۔ اس لیے بھی لکھنے سے میں بچتا تھا کہ میرا اور سلمان خورشید کا ایک عجیب رشتہ ہے۔ فرخ آباد میں ہم دونوں پہلی بار لوک سبھا کے انتخاب میں آمنے سامنے تھے اور انتخاب میں سلمان خورشید کی شکست اور میری جیت ہوئی تھی۔ اس الیکشن کے بعد ہم لوگوں کے درمیان کبھی دوستی کا رشتہ بن ہی نہیں پایا۔ میں نے کافی کوشش کی، لیکن سلمان خورشید اپنی اس پہلی شکست کو کبھی بھلا نہیں پائے۔ حالانکہ اس کے بعد سلمان خورشید فرخ آباد سے دو بار جیتے۔ اب لکھنا اس لیے ضروری ہوگیا ہے کہ سلمان خورشید نے فرخ آباد کی پیشانی پر دھمکی دینے والا ضلع لکھ دیا ہے۔
سلمان خورشید بہت آسانی سے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کے بارے میں کہہ سکتے تھے کہ اگر میں نے غلط کیا ہے تو قانون اپنا کام کرے گا اور عدالت کا جو فیصلہ ہوگا، وہ میں مانوں گا۔ لیکن سلمان خورشید نے اپنے دفاع میں جو باتیں کہیں، ان میں زیادہ تر باتیں غلط ثابت ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کی فہرست غلط ہے، ان کے بتائے ہوئے کیمپ غلط ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے جو تصویر بانٹی، وہ بھی ایک سال کے بعد کے کیمپ کی بانٹی۔ 2009-2010 یعنی جس سال کا الزام ہے کہ 71 لاکھ روپے کا غلط استعمال ہوا، اس کی تصویر انہوں نے نہیں بانٹی، لیکن یہ بھی ایک سیاسی نعرے کا حصہ مانا جا سکتا ہے، جس کی جڑ میں بدعنوانی کا الزام ہے۔ پر سلمان خورشید نے جس طرح 16-17 اکتوبر کی رات فرخ آباد میں اپنے حامیوں کے درمیان مشتعل کرنے والی زبان کا استعمال کیا، وہ زبان صحیح نہیں ہے۔ سلمان خورشید کبھی ایسے رہے نہیں۔ جس زبان کا استعمال انہوں نے کیا، وہ انہیں زیب نہیں دیتی، کیوں کہ سلمان خورشید کبھی اس طرح کی زبان بولتے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ حالانکہ ہمارا اور سلمان خورشید کا کوئی پوشیدہ رشتہ نہیں ہے۔ ان کا عوامی چہرہ ہی ہمارے سامنے ہے، لیکن سلمان خورشید کا کوئی دوسرا چہرہ بھی ہے، یہ ہمیں اس موبائل ریکارڈنگ سے پتہ چلا، جو ملک کے ٹیلی ویژن چینلوں پر چلا۔ اس ویڈیو کلیپنگ میں سلمان خورشید جس زبان کا استعمال کر رہے ہیں، وہ کم از کم مہذب کہے جانے والے شخص، مہذب کہے جانے والے لیڈر یا مہذب کہے جانے والے وکیل کی نہیں ہے اور وزیر قانون کی تو قطعی نہیں ہے۔ اگر وہ شخص پارلیمنٹ میں فرخ آباد کی نمائندگی کرتا ہو اور ملک کا وزیر قانون ہو تو یہ ایک طرح سے فرخ آباد میں رہنے والے ہر شخص کے منھ پر طمانچہ ہے۔ اب ملک میں لوگ فرخ آباد کو دھمکی دینے والے ضلع کے روپ میں جانیں گے۔
فرخ آباد نے ملک کو کئی بڑے لیڈر دیے ہیں۔ ان لیڈروں میں ڈاکٹر ذاکر حسین، سلمان خورشید کے والد خورشید عالم خان جیسے لوگ بھی شامل ہیں، لیکن اس خاندان کا ہونے کے باوجود سلمان خورشید نے جس طرح کے الفاظ کا استعمال اپنے خلاف تحریک چلانے والے لوگوں کے لیے کیا ہے اور جس طرح انہوں نے کہا کہ فرخ آباد آ تو جائیں گے، لیکن جائیں گے کیسے، جاکر تو دکھائیے۔ اس کا مطلب، فرخ آباد میں آپ کا قتل تک ہو سکتا ہے۔ یہ بات سننا بہت تکلیف دہ ہے۔ فرخ آباد کو گزشتہ ساٹھ سالوں میں کچھ نہیں ملا۔ وہاں کی سڑکیں ٹھیک نہیں ہیں، وہاں بے روزگاری ہے، بھوک ہے، غصے سے پیدا ہوئے جرائم ہیں، لیکن مزے کی بات ہے کہ وہاں کوئی ایسا چہرہ اس وقت نہیں ہے، جو اس کی آواز، ڈر اور تکلیف کو ملک کے سامنے لا سکے۔ وہاں طاقتور لیڈر تو ہیں، سہولیات سے لیس لیڈر تو ہیں، ممبرانِ پارلیمنٹ ہیں، لیکن فرخ آباد کے لیے کام کرنے والی قوتِ ارادی نہیں ہے۔
فرخ آباد کے لیے اگر کرنا ہوتا تو بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔ فرخ آباد کو ملک کے نقشہ پر ترقی یافتہ ضلع کی شکل میں قائم کیا جا سکتا تھا، کیوں کہ اس کے پاس کچا مال بہت زیاد ہے۔ فرخ آباد میں کام کرنے کی قوتِ ارادی رکھنے والے نوجوان ہیں، فرخ آباد کو بہتر دیکھنے والی آنکھیں ہیں، لیکن ان آنکھوں میں وہ روشنی ان سیاسی لیڈروں نے نہیں دی۔ مجھے لگتا ہے کہ بدعنوانی کے اوپر آواز اٹھانا اور بدعنوانی کے اوپر تیکھی بات کہنا بہت سارے لوگوں کو خراب لگ رہا ہے، جس میں سلمان خورشید بھی ہیں۔ آج کی تاریخ میں سلمان خورشید وزیر قانون ہونے کے ناتے قانون کا استعمال لوگوں کو دھمکانے کے لیے کرنے لگیں اور پھر کوئی یہ کہے کہ اس سے فرخ آباد کا نام روشن ہوا ہے، تو وہ شاید بہت غلط بات کہے گا۔ اروِند کجریوال کے الزامات کا لندن سے لوٹ کر جواب دیتے ہوئے ’آج تک‘ کی ٹیم سے جب سلمان خورشید نے یہ کہا کہ میں تمہیں عدالت میں دیکھ لوں گا، تو یہ زبان ایک سچے من والے شخص کی نہیں تھی، بلکہ یہ قانون جاننے والے، ایک ہوشیار اور تیز دماغ والے شخص کی زبان تھی، جو یہ کہتا تھا کہ میں تمہیں قانون کے جال میں الجھا کر تمہاری زندگی تباہ کر دوں گا۔
سلمان خورشید کو ہندوستا ن میں اعتدال پسند شخص کی شکل میں جانا جاتا ہے، لیکن اچانک ایسا کیا ہوا کہ سلمان خورشید کے چہرے کا رنگ، انداز پوری طرح بدل گیا؟ اس کی جڑ میں اگر کچھ ہے تو وہ ایک کہاوت ہے، جو سلمان خورشید کے اوپر بالکل صحیح بیٹھتی ہے۔ تلسی داس نے کہا ہے کہ ’ستّا پائے کاہو مد ناہیں‘ یعنی اقتدار حاصل ہونے پر کسے تکبر (گھمنڈ) نہیں ہو جاتا ہے۔ کیا یہ اقتدار کا تکبر ہے، کیا یہ پیسے کا تکبر ہے، کیا یہ رتبے کا تکبر ہے؟ اس کا جواب ہے، ہاں۔ سلمان خورشید یہ بھول گئے کہ یہ اقتدار ہمیشہ نہیں رہنے والا۔ ان کے پاس بہت دنوں کے بعد اقتدار آیا، وہ دو تین بار الیکشن ہارے۔ اب جب اقتدار ان کے پاس آیا تو وہ اقتدار کے اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پا رہے ہیں اور اقتدار کا بوجھ ان کے اندر سے ایسی زبان کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے، جو زبان عام لوگوں کی نہیں ہے۔ سلمان خورشید جب ملتے ہیں تو بے رخی سے ہی سہی، ہاتھ ملاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے، ان سطور کو پڑھنے کے بعد وہ ہاتھ ملانا بھی بھول جائیں۔ ہوسکتا ہے، سلمان خورشید وہ دعوتیں بھی اب نہ دیں، جو وہ میڈیا کو دیتے رہے ہیں، لیکن سلمان خورشید نے ایک کام تو اپنی پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ صحافیوں کے ایس ایم ایس آئے ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ آپ کے خلاف پولیٹیکلی موٹی ویٹیڈ الزامات لگ رہے ہیں۔ اس کا مطلب، صحافیوں کے درمیان بھی ایک ایسا طبقہ ہے، جو اپنے ساتھیوں کے ذریعے اٹھائے گئے سوالوں کو بنا دیکھے، بنا جانے، سیدھے سیدھے اقتدار کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں کا چہرہ کالا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ صحافی آج بھی سلمان خورشید کو صلاح دے رہے ہیں، لیکن صلاح دینا ایک بات ہے اور جھوٹی بات کو سچ کرنا دوسری بات ہے، کیوں کہ ابھی بھی ملک میں ایسے صحافی ہیں، جو اقتدار کے دلالوں کے ساتھ کھڑا ہونے میں یقین نہیں رکھتے۔
میں سلمان خورشید سے اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ خود کو فرخ آباد کے لیے لڑنے والا چہرہ بنائیے، فرخ آباد کو شرمسار کرنے والا چہرہ نہیں۔ آپ کی بات سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے۔ آپ کے اس طرح کے بیانات سے فرخ آباد کا فرقہ وارانہ ماحول خراب ہو سکتا ہے۔ کیا آپ ان طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلنا چاہتے ہیں، جو فرخ آباد یا اتر پردیش کے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگا تو یہ فرخ آباد کے امن و امان کے لیے، فرخ آباد کی ترقی کے لیے اور فرخ آباد کے مستقبل کے لیے بہت ہی غلط ہوگا۔

سلمان خورشید کا بیان
بہت دنوں سے قلم میرے ہاتھ میں تھما کر کہا تھا، اب قلم سے ہی کام کرو۔ مجھے وکیلوں کا وزیر بنا دیا، مجھے لاء منسٹر بنا دیا اور کہا، قلم سے کام کرو۔ کروں گا۔ قلم سے کام کروں گا، لیکن لہو سے بھی کام کروں گا۔ لہو سے لکھ کر دے رہا ہوں، بچوں کے لیے دے رہا ہوں، جہاں ہم کو پہنچنا تھا، ہم پہنچ چکے۔ کل کا ہندوستان تمہارے ہاتھ میں ہوگا نوجوانوں۔ لیکن وہ کل کا ہندوستان تمہارے ہاتھ میں ہوگا، کجریوال کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ یہ لڑائی ایک دن کی نہیں ہے، یہ لڑائی تب تک رہے گی، جب تک کہ ہم نوجوانوں کو ہندوستان کی باگ ڈور سونپ نہیں دیں گے اور ان لوگوں کو کھدیڑ نہیں بھگائیں گے۔ کہہ کر گئے ہیں کہ ہم فرخ آباد جائیں گے۔ جائیں فرخ آباد اور آئیں فرخ آباد، لیکن لوٹ کر بھی آئیں فرخ آباد سے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم سوال پوچھیں گے، تم جواب دینا۔ ہم کہتے ہیں کہ تم جواب سنو اور سوال پوچھنا بھول جاؤ۔ بڑی عزت کرتا ہوں ہندوستان کے ہر افسر کی، چاہے وہ آئی اے ایس ہو یا آئی پی ایس ہو، چاہے وہ فارین سروِس میں ہو یا انکم ٹیکس کا ہو، میں بڑی عزت کرتا ہوں ہندوستان کے ان افسروں کی، لیکن بھائی، یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر انکم ٹیکس کے افسر ایسے ہیں تو انکم ٹیکس کے افسروں کو بھی بدلنا ہوگا۔ اگر کجریوال ان کی نمائندگی کرتا ہے، اگر یہی سکھایا گیا ہے انکم ٹیکس میں، تو انکم ٹیکس کو بھی بدلنا ہوگا۔ کجریوال کو جواب دینا ہے تو دیں گے جواب۔ ہم منھ سے بھی جواب دیں گے، ہم فولاد بن کر بھی جواب دیں گے، ہم کردار سے بھی جواب دیں گے، ہم اپنی ایکتا سے بھی جواب دیں گے۔ اور کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان چند چینلوں کا نہیں ہے، ہندوستان ہمارا ہے۔ کجریوال ناکام آدمی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *