دلی اور دلی والے

فیروز دہلوی 

دلی چھ‘‘ کیا ہے؟ پرانی دلی، فصیل بند شہر جسے شاہجہاں نے بسایا تھا۔ یہی دلی (شاہجہاں آباد) مغلیہ سلطنت کی راجدھانی تھی۔ دارالخلافہ … دارالسلطنت، راجدھانی، جس کے تعلق سے کہا گیا تھا:
یَا مَن یُسئَا عَن دِہلی وَ رَفَعَتہَا
عَلَے البَلَادِ وَ مَا حَانَتَہ مِن شَرَاف
اِنّ البَلَاد اِمَامٌ وَہِی سِیرَۃٌ
وَ انِّہَاد دُرَّۃٌ وَالکُلَّ کالصَّدَف
(ترجمہ: اے وہ شخص جو دہلی کے حالات اور دوسرے شہروں پر اس کی رفعت اور شرف کے متعلق استفسار کرتا ہے، بیشک تمام شہر باندیاں ہیں اور دلی ان کی ملکہ ہے۔ بیشک دلی کی مثال ایک موتی کی سی ہے، باقی شہر نرے سیپ ہیں۔)
یہی دلی چھ ہے، جس کے مشرقی سمت میں لال قلعہ ہے اور اندرونِ شہر لال کنویں پر آخری تاجدار بہادر شاہ ظفرؔ کی چہیتی بیگم کا زینت محل۔ یہی نہیں نوابوں، راجاؤں، رئیسوں اور امیروں کی حویلی اور کوٹھیاں بھی دلی چھ میں ہی ہیں۔ شاہجہاں آباد، یعنی فصیل بند شہر کی تین سو سالہ تاریخ (1947-1648) پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ جس قدر صوفی سنت، اہل اللہ، اہل علم، صاحب ہنر و فن، ادیب و شعرا، اطبا، صنعت کار اور دست کار، اہل سیاست اور مجاہدین آزادی ’’دلی چھ‘‘ میں پیدا ہوئے، اتنے دلی کے کسی حصے میں پیدا نہیں ہوئے۔ اگر تحقیق اور تلاش و جستجو سے ان سب کے کوائف جمع کیے جائیں تو علاحدہ ایک انسائیکلوپیڈیا تیار ہو جائے۔ ’’دلی چھ‘‘ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی سسرال اسی پرانی دلی کے ایک قدیم محلے، بازار سیتا رام میں ہے۔ دلی چھ کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ راشٹرپتا مہاتما گاندھی اسی دلی چھ کے گلی کوچوں (علاقہ جامع مسجد، گلی قاسم جان، کوچہ چیلان، انصاری روڈ وغیرہ) میں دلی کے سیاست دانوں اور حریت پسندوں سے ملنے آتے تھے۔

دلی کے بزرگوں سے سنا ہے کہ قدیم دلی والوں کے لیے دلی کی فصیل کے اندر پیدا ہونا ایک اعزاز تھا۔ بیسویں صدی کے ایک دلی والے معروف شاعر، استاد رفیق رساؔ دہلوی تو فصیل کے باہر رہنے والوں کو ’’فارن کنٹری‘‘ کا سمجھتے تھے۔ دلی والوں کے روزمرہ میں کسی کو باہر والا کہہ دینا بھی حقارت تھا۔ دلی والے اپنی نشست و برخاست، رفتار و گفتار میں بہت محتاط تھے۔

مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں بھی بڑی تعداد میں اسی ’’دلی چھ‘‘ میں ہیں۔ چاندنی چوک، کھاری باؤلی، نیا بازار، چاوڑی بازار، اجمیری بازار جیسے قدیم تجارتی مراکز بھی اسی فصیل بند شہر میں ہیں۔ یہی نہیں، سب سے زیادہ سنیما گھر بھی اسی دلی چھ میں ہیں۔
دلی کے بزرگوں سے سنا ہے کہ قدیم دلی والوں کے لیے دلی کی فصیل کے اندر پیدا ہونا ایک اعزاز تھا۔ بیسویں صدی کے ایک دلی والے معروف شاعر، استاد رفیق رساؔ دہلوی تو فصیل کے باہر رہنے والوں کو ’’فارن کنٹری‘‘ کا سمجھتے تھے۔ دلی والوں کے روزمرہ میں کسی کو باہر والا کہہ دینا بھی حقارت تھا۔ دلی والے اپنی نشست و برخاست، رفتار و گفتار میں بہت محتاط تھے۔ ہر شخص سے بلا تفریق مذہب و ملت عمر اور مرتبہ کے اعتبار سے گفتگو کرتے اور اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ دل آزاری نہ ہو، طعن و تشنیع نہ ہو، کسی کی تحقیر نہ ہو اور کبھی کسی شخص نے کوئی ایسی بات کہی یا حرکت کی تو دلی والے چونک پڑتے اور سمجھ لیتے کہ اس کا تعلق دلی سے نہیں اور آہستگی سے کہتے ’’باہر والے ہیں جانے دو‘‘۔
اللہ اللہ ! اب یہ وقت آیا کہ فصیل بند شہر میں رہنے والوں کو یہ سننا پڑ رہا ہے کہ ’’دلی چھ‘‘ کا ہے۔ بات کہنے میں آتی ہے تو اتنا سمجھ لیجیے، دلی والے علم مجلسی میں بھی دوسروں کی نسبت آگے ہی تھے۔ حالتِ غیظ میں بھی ’’آدمیت‘‘ کو نہ چھوڑتے۔ کبھی ایسا بھی وقت آتا کہ زبان پر گالی بھی آجائے تو طبقہ اشرافیہ کی زبان پر تیرا یا تیری جیسے الفاظ نہ آتے۔ گالی دینے میں بھی ایک سلیقہ ہوتا تھا۔ دلی کے مشہور طبیب اور مدبر، مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے دیوان خانے کے تعلق سے بہت سی باتیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ تقریر و تحریر میں اس دور کے متعدد لوگ ان کی محفل آرائیوں کے متعلق بیان کر چکے ہیں۔ حکیم صاحب کے قریبی ساتھی میر اخلاق حسین اخلاق دہلوی کے حوالے سے ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے، مسلم احمد نظامی نے یہ واقعہ سنایا تھا (اس محفل میں راقم الحروف بھی موجود تھا) کہ ’’ہر ماہ حکیم اجمل صاحب بعد نماز عشاء اپنے مخصوص احباب کے ساتھ ایک ایسی محفل ضرور منعقد کرتے، جس میں احباب بے تکلفی کے ساتھ ہنستے، قہقہے لگاتے۔ اس محفل میں کبھی نواب سائل دہلوی اور ان کے بڑے بھائی شجاع الدین خاں تاباںؔ دہلوی کا کلام سنا جاتا اور کبھی میر باقر علی داستان گو سے کوئی قصہ۔ ان دنوں محلہ سوئی گران میں ایک زردوز عمو جان تھے جو کپڑوں کے ساتھ ساتھ گالیوں میں بھی زردوزی کرتے تھے۔ حکیم صاحب نے اپنی مخصوص محفل میں انھیں بلوایا اور فرمایا ’’عمو جان! ہم چاہتے ہیں کہ تم کوئی ایسی گالی سناؤ جس میں کوئی فحش اور بیہودہ لفظ نہ ہو، ہر گالی پر ایک روپیہ انعام ملے گا۔ عمو جان کچھ دیر خاموش رہے اور پھر تیزی سے اٹھے، الٹے قدموں دیوان خانے کے دروازے تک پہنچے اور جھک کر تین بار سلام کیا اور پھر کہا ’’عرض کرتا ہوں حکیم صاحب قبلہ! حضور میں آپ کا داماد …‘‘ ۔ اتنا کہہ جوتی پہن یہ جا وہ جا۔ محفل پر سکتہ طاری ہو گیا اور سب حکیم صاحب کا منھ دیکھنے لگے۔ اگلے لمحے حکیم صاحب مسکرائے ’’ہاں بھئی گالی ہے، مہذب گالی۔ عمو جان کو لے کر آؤ۔ ملازم دوڑا، مگر عمو جان واپس نہ آئے۔
دلی کے کوچہ چیلان میں مشہور ادیب مرزا فرحت اللہ بیگ کے ایک رشتے کے بھائی تھے رضاء اللہ انجینئر اور رضاء اللہ کے ایک قریبی عزیز ذکاء اللہ ان کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ یہ گالی دینے میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آغا حشر کاشمیری سے ان کی جوڑ چھوٹ گئی۔ اتفاق سے آصف علی بیرسٹر گالیوں کی اس بزم میں تشریف لے آئے۔ آصف علی انتہائی مہذب، شائستہ، نفیس مزاج، گالیوں اور گالی دینے والوں دونوں سے سخت متنفر۔ انھوں نے ذکاء اللہ اور آغا حشر کاشمیری دونوں سے کہا ’’بس بہت ہوگیا، اب آپ لوگ ایک دوسرے کو آخری گالی دیں اور آئندہ کے لیے توبہ کریں۔‘‘ پہلے آغا حشر کاشمیری نے گالی دی ’’آپ کی والدہ محترمہ کے شکم میں کائنات …‘‘۔ ذکاء اللہ نے ترکی بہ ترکی گالی کا جواب دیا ’’حضور آپ کی والدہ کے شکم مبارک میں میری والدہ کا شکم مبارک۔‘‘ محفل زعفران زار ہوگئی۔
دلی کے بزرگوں ہی سے سنا ہے کہ دلی کے دو مولوں کے درمیان کسی بات پر شکر رنجی ہوگئی۔ نوبت یہ آئی کہ ایک دوسرے کا منھ دیکھنا بھی گوارا نہ تھا۔ ان میں ایک مولوی صاحب اکثر اپنے مدرسے کے لیے چندہ لینے دلی سے باہر جاتے اور دلی کے مخیر حضرات سے بھی چندہ لیتے۔ مخالف مولوی صاحب نے دلی کے ایک رئیس کو رقعہ بھیجا کہ جناب والا ’’چندہ ماموں‘‘ سے ذرا ہشیار رہیے۔ کارِ خیر میں کوئی دوسرا پہلو نہ پوشیدہ ہو۔ جب مولوی صاحب چندہ لینے پہنچے تو ان رئیس نے وہ خط دکھایا۔ مولوی صاحب نے خط غور سے پڑھا اور پھر فرمایا ’’عمر میں کچھ چھوٹا ہے تو دل و دماغ کا بھی چھوٹا ہے۔ پھبتی کستے وقت یہ بھی غور نہیں کیا کہ واقعی اس میں ایک دوسرا پہلو بھی ہے‘‘۔ رئیس نے پوچھا، وہ کیا؟ فرمایا کہ ’’چندہ ماموں‘‘ کہنے والے کو یہ نہیں معلوم کہ اس پھبتی میں ’’خواہر زادگی‘‘ کی بو آتی ہے۔ میں ماموں تو وہ بھانجا ہوا نا!
اب کہاں رہ گئے ایسے دلی والے۔ زندہ ہیں ’’دلی چھ‘‘ کی پھبتی کسنے والے۔ خدا آباد رکھے ان دلی میں رہنے والوں کو کہ ’’بچے کھچے دلی والے‘‘ ان کی بدولت کم از کم اس دلی کو یاد تو کر لیتے ہیں۔
دلی بگڑ کے بن گئیں اکثر ولائتیں
جس گھر میں دیکھو لوٹ اسی اجڑے گھر کی ہے
(جاری …)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *