کانگریس نے ملک کو خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے

وسیم راشد 
دو ہزار نو کے الیکشن کے موقع پر جب بی جے پی نے یہ نعرہ دیا تھا کہ ملک کو ایک مضبوط وزیر اعظم کی ضرورت ہے اور مضبوط وزیر اعظم پارٹی کے پاس لال کرشن اڈوانی کی شکل میں موجود ہے تو اس وقت بی جے پی کا یہ نعرہ عوام کو کچھ عجیب سا لگا تھا۔دراصل پورا ملک منموہن سنگھ کو ایک ماہر اقتصادیات کی حیثیت سے جانتا ہے اور اُس وقت ملک جس اقتصادی بحران سے گزر رہا تھا ، کسی ایسے ماہر اقتصادیات کی ہی ضرورت تھی جو اپنے تجربات اور دور اندیشیوں کا استعمال کرکے ملک کو بحران کی دلدل سے باہر نکال سکے۔یہی وجہ تھی کہ عوام نے بی جے پی کی جگہ کانگریس کو چنا اور منموہن سنگھ کو دوبارہ وزیر اعظم بننے کا موقع دیا ۔تاکہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں ملک کی گرتی معیشت کی ساکھ کو بحال کرسکیں مگر دوسرے ٹرم میں وہ ایک ایسے شکست خوردہ فوجی کمانڈر کی طرح بن کر رہ گئے جو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا ہو۔ایک طرف ان کی پارٹی یکے بعد دیگرے گھوٹالوں کے چکرویو میں پھنستی گئی تو دوسری طرف اقتصادی بحران پر قابو پانے میں ناکام ہونے پر ان کی پارٹی کے لئے مشکلوں کا پہاڑ کھڑاہو گیا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ 2014 کا الیکشن قریب ہونے کے باوجود کانگریس نے نہ تو اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لئے مخلصانہ کوشش کی اور نہ ہی گھوٹالوں کے تئیں اپنے ممبروں پر عائد ہونے والے الزامات کو سنجیدگی سے لیاہے ۔دوسرے ٹرم میں یکے بعد دیگرے گھوٹالوں کی ہوڑ لگی ہوئی ہے اور ہر گھوٹالے پر کانگریس اس طرح خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ابھی دولت مشترکہ کھیلوں کے گھوٹالہ کا معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ آدرش سوسائٹی کا گھوٹالہ سامنے آگیا۔اخباروں سے لے کر چینلز پر ہر طرف اس گھوٹالے کا شور سنائی دے رہا تھا۔ ابھی یہ شور تھما بھی نہیں تھا کہ ٹو جی اسپیکٹرم کا نیا انکشاف ہوا ۔ اس کے خلاف ہنگامے تھمے نہیں تھے کہ روپے کی قیمت کم ہونے لگی اور منموہن سنگھ کے اقتصادی تجربات پر سوالیہ نشان لگنے لگا۔ لوگوں نیبی جے پی کے مضبوط وزیر اعظم کے دعوے کو مسترد کرکے ایک ماہر اقتصادیات کو ووٹ دینے کا جو فیصلہ کیا تھا انہیں ایک بار یہ سوچنے پر مجبور کردیاکہ ان کا یہ فیصلہ کہیں غلط تو نہیں تھا۔کیونکہ جن توقعات پر کانگریس کو ووٹ دیا گیا تھا، منموہن سنگھ سے جو امیدیں لگائی گئی تھیں ان امیدوں پر پانی پھرتا ہوا نظر آنے لگا۔ ملک کی معیشت کمزور ہوئی۔روپے کی قیمت میں گراوٹ ہوئی۔ معاشی پالیسی کی جانچ کرنے والی کمپنیوں نے نگیٹو ریٹنگ دینی شروع کردی اور مہنگائی کا درجہ حرار ت بڑھا۔ گھریلواشیاء پر جو سبسڈی دی جارہی تھی اس میں کمی کردی گئی جس کی وجہ سے گیس سلینڈروں سے لے کر دیگر گھریلو سامان کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں۔ابھی مہنگائی کی وجہ سے لوگوںکے تیور نرم نہیں پڑے تھے کہ روبرٹ وڈرا کامعاملہ سامنے آیا اور اس کے کچھ دنوں بعد ہی کانگریس کے ایک پرانے مضبوط لیڈر سلمان خورشید کی بیگم کا گھوٹالہ منظر عام پر آیا۔اگرچہ سلمان خورشید نے اپنے پاکدامن ہونے کی صفائی دی اورنہایت بھونڈے انداز میں اس طرح دی کہ نہ زبان پر کنٹرول رہا اور نہ تہذیب کاخیال۔ وہ بھول ہی گئے کہ وہ وزیر قانون ہیں ۔ایک باعزت عہدے پر ہیں۔ایسی آمنے سامنے کی لڑائی ہوئی کہ لگا کہ پڑھے لکھے ،سمجھدار لوگ نہیں ،گلی کے دو عام ان پڑھ مزدور لڑ رہے ہوں، مگر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کچھ دال میں کالا ضرور ہے۔غرض دوسرے ٹرم میں یکے بعد دیگرے گھوٹالوں اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے کانگریس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔مگر حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کانگریس نے عوام کے رو برو کوئی ایسی صفائی پیش نہیں کی جس سے اطمینا ن ہوسکے ۔ بس ہر سوال کا جواب ایک ہی تھا کہ یہ سب غلط الزام ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ الزامات غلط ہیں تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں پیش نہیں کی جاتیں ۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کانگریس ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی میں مبتلا ہے۔وہ یہ سمجھ رہی ہو کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتاہے وہ 2014 کا الیکشن قریب آتے آتے سب کچھ بھول جائیں گے اور گزشتہ الیکشن کی طرح ایک بار پھر حکومت کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں تھما دیںگے۔ممکن ہے کانگریس اپنے طویل ترین تجربات کی روشنی میں ایسا سمجھ رہی ہو مگر سچائی جو کچھ بھی ہے وہ آنے والے الیکشن کے نتائج سے خود بخود سامنے آجائے گی۔ہاں! اتنا ضرور ہے کہ اس وقت ملک کی جو حالت ہے ،اس کو دیکھنے کے بعد ایسا نہیں لگتا ہے کہ لوگ کانگریس کے ان گھوٹالوں کو بھلا سکیں گے کیونکہ ان گھوٹالوں اور کانگریس کی غلط پالیسیوں نے قوم کو جو بے روزگاری، بھکمری اور تنگدستی کا تحفہ دیا ہے۔یہ تحفہ انہیں ہر وقت کانگریس کی کوتاہیوں کی یاد دلاتا رہے گا۔ کانگریس کے دوسرے ٹرم میں مہنگائی کا جو گراف بڑھا ہے اس نے ہر طبقے میں مایوسی پیدا کی ہے ۔ اس مایوسی کا اثر الیکشن پر پڑنا یقینی ہے۔ اس وقت ملک کی جو معاشی حالت ہے ،اگر کانگریس ایمانداری سے اس کا تجزیہ کرے تو اسے خود یہ محسوس ہوگا کہ وہ عوام کی توقعات پر اترنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
اس وقت ملک کی جو معاشی حالت ہے اس کا اندازہ’’Oxford Poverty and Human Development Initiative،،کی رپورٹ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کے اس دوسرے ٹرم میں ملک و قوم نے کیا کھویا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق۔ہندوستان کی 8 ریاستیں ایسی ہیں جن کی حالت افریقہ کے غریب ترین ممالک کے عوام سے بھی بد تر ہے۔یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں کم خوراک کے شکار ہر تین میں سے ایک بچہ ہندوستان میں ہوتا ہے۔Global Hunger Index کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاںبھوک میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور آئندہ برسوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ ہندوستان ترقی یافتہ ملکوں کی دوڑ میں شامل ہے۔ سرکاری سطح پر ترقی کی شرح کے تئیں بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں۔ منموہن سنگھ عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ ملک کی ترقی کی شرح میں جلد تیزی آنے والی ہے۔گزشتہ 8 برسوں سے وہ یہی دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں۔پہلے ٹرم میں بڑے بڑے وعدوں سے سبز باغ دکھائے گئے مگر جب نتیجہ سامنے آیا تو سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہ لگا۔ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایف ڈی آئی جیسے شوشے چھوڑے گئے مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر ملک ترقی یافتہ ملک کی دوڑ میں شامل ہو بھی گیا تو کیا اس سے عام آدمی کو راحت مل سکے گی۔مزدوروں کو اطمینان نصیب ہوسکے گا۔ کسانوں کی خود کشی کی شرح میں کمی آئے گی۔لاکھوں بے گھر اور گندی بستیوں میں رہنے والوں کو ٹھکانا مل سکے گا۔حکومت دعوے تو کرتی ہے کہ عوام کی راحت کے لئے کانگریس نے اسکیمیں بنائی ہیں مگر عملی طور پر اس پر کتنا عمل ہورہا ہے ۔غریبوں کو ان کا حق کتنا فیصد پہنچ پاتا ہے، اس کے بارے میں کوئی کچھ بتانے کو تیار نہیں ۔بس ان اسکیموں کا ڈھنڈورا پیٹ کر عوام کو بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو کانگریس نے نہ صرف اسکیم کے کھلونوں سے غریب عوام کو بہلانے کی کوشش کی ہے بلکہ اس نے غریبی کا جو معیار مقرر کیا ہے اس سے دنیا کے سامنے تو یہ تشہیر کی جا سکتی ہے کہ ہندوستان سے غریبی ختم ہورہی ہے یا ہوگئی ہے مگر زمینی سطح پر اس کو غریبوں کی غریبی کا مذاق اڑانا ہی کہا جاسکتا ہے۔ کچھ دنوں پہلے پلاننگ کمیشن نے غریبی کا معیار یہ طے کیا کہ ایک شخص اگر مہینے میں 578 روپے کما سکتاہے تو وہ غریب نہیں ہے۔ کتنا حیرت انگیز ہے غریبی کا یہ معیار جو کانگریس کے دور اقتدار میں پلاننگ کمیشن نے طے کیا۔ جب کمیشن کے نائب چیئرمین مونٹیک سنگھ اہلوالیہ سے ایک چینل نے یہ سوال کیا کہ کیا اس مہنگائی میں ایک آدمی کا گزر بسر اس معمولی رقم پر ہوسکتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ یہ معیار بی پی ایل کارڈ ہولڈروں کے لئے ہے جن کو تمام ضروری اشیاء انتہائی کم قیمت پر مہیا کرائی جاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ملک میں بی پی ایل کارڈ کا جو نظام ہے اس کی وجہ سے اصل حقدار تو محروم ہیں البتہ اثر و رسوخ والوں کے نام پر بی پی ایل کارڈ جاری کردیے گیے ہیں۔ ایسے بے شمار معاملے سامنے آئے ہیں جن میں صاحبِ حیثیت لوگوں نے اپنے نام بی پی ایل کارڈ ایشو کرا رکھے ہیں۔ اگر مونٹیک صاحب کے بیان کو مبنی بر حقیقت مان بھی لیا جائے تو کیا ایک کارڈ ہولڈر کی دیگر ضرورتیں اس معمولی رقم سے پوری ہوسکتی ہیں۔اگر اس رقم کو کافی مان بھی لیا جائے تو کیا ملک میں ہر آدمی کے لئے اس رقم کی دستیابی ممکن ہے۔ اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ آج بھی ملک ابتر حالت میں ہے۔ ہزاروں عورتیں مزدوری کرکے اور گندگیوں اور گھروں کی پالیتھن اور پلاسٹک فروخت کرکے اپنے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتی ہیں ۔ یہاں تک کہ فاقہ کش لوگ کوڑے دان سے سڑے ہوئے کھانے کو چن کر کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کے پاس جاکر پوچھئے تو پتہ چلے گا کہ ان میں سے کتنوں کے پاس بی پی ایل کارڈ ہے؟پلاننگ کمیشن نے غر یبی کے لئے جو رقم طے کی ہے، مہنگائی کے اس دور میں یہ رقم مہینہ تو دور، ہفتے کی ضرورت بھی پوری نہیں کرسکتی۔ہاں اتنا ضرور ہوگا کہ کانگریس یہ ڈھنڈورا پیٹنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گی کہ اس نے اپنی پالیسیوں سے ملک سے غریبی کم کردی ہے، چاہے حقیقت سے اس کا کچھ بھی واسطہ نہ ہو۔
کانگریس نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسکیمیں تو بنا لی جاتی ہیں مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ۔ کسانوں کے لئے قرض اسکیم اور مزدوروں کے لئے منریگا اسکیم بنا لی گئیں مگر اس میں کتنے گھوٹالے ہورہے ہیںاس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ملک میں رشوت خوری کا رواج عام ہے مگر پکڑے جانے والوں پر کارگر کارروائی نہیں ہوتی۔ اس پر روک تھام کے لئے مضبوط لوک پال بل کا مطالبہ ہوا تو اس میں تاویلیں کی جانے لگیں۔ملک کے کروڑوں روپے سوئس بینک میں جمع ہیں ۔اگر کانگریس واقعی ملک سے غریبی دور کرنے میں مخلص ہوتی تو ان پیسوں کو واپس لانے کے لئے مخلصانہ کوشش کرتی مگر سیاسی پارٹیوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے تمام مطالبوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جبکہ ان پیسوں کو واپس ملک لے آیا جائے تو ماہرین اقتصایات کہتے ہیں کہ اس سے ساٹھ کروڑ ہندوستانیوںکو ملازمتیں دی جا سکیں گی،تمام گائووں میں روڈ بنائے جا سکتے ہیں۔اس مہنگائی کے دور میں جب غریبی،بے روزگاری اور فاقہ کشی ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، اگر ان پیسوں کو واپس لے آیا جائے تو عام آدمی کو بڑی راحت مل سکتی ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ کانگریس مخلصانہ کوشش کرے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “کانگریس نے ملک کو خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے

  • September 9, 2014 at 9:34 am
    Permalink

    You’ve really captured all the esnlatises in this subject area, haven’t you?

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *