اندرونی سازش کا شکار بی جے پی

سنتوش بھارتیہ
بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست کو بغیر سمجھے آنے والے وقت میں کیا ہوگا، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پارلیمنٹ میں اہم اپوزیشن پارٹی ہے اور کئی صوبوں میں اس کی سرکاریں ہیں۔ اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی، جو 2014 کے انتخاب میں دہلی کے تخت پر داؤ لگانے والی ہے، اس وقت سب سے زیادہ پریشان دکھائی دے رہی ہے۔یشونت سنہا، گرو مورتی، ارون جیٹلی، نریندر مودی اور لال کرشن اڈوانی کے ساتھ سریش سونی ایسے نام ہیں، جو صرف نام نہیں ہیں، بلکہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں جاری رسہ کشی، اندرونی خلفشار، باہمی اختلاف رائے اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والی توپوں کے نام ہیں۔

نتن گڈکری کی تمام سیاسی سرگرمیوں اور ان کی کمپنی کے انکشافات کے بعد بنی صورتِ حال پر بات کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر الگ الگ مل رہے تھے۔ بی جے پی کے سابق وزیر اور نائب صدر کے عہدہ کے امیدوار جسونت سنگھ کے گھر پر یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا ملے، جہاں ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت کو لے کر سنجیدہ بات چیت ہوئی۔ یہ تینوں اس بات سے فکرمند تھے کہ جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار میں آتا ہوا دکھائی دینا چاہیے تھا، وہاں وہ بہت پیچھے کھسکتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد جسونت سنگھ نے ایک لمبا اور سیاسی تکلیف کو بتانے والا ایک خط لال کرشن اڈوانی کو لکھا، جس میں انہوں نے لال کرشن اڈوانی سے گزارش کی کہ انہیں موجودہ صورتِ حال میں مداخلت کرنی چاہیے۔ اڈوانی جی نے خط کو پڑھ کر جسونت سنگھ کو فون کیا اور کہا کہ انہیں یہ خط خفیہ رکھنا چاہیے اور کسی کو اس کے بارے میں بتانا نہیں چاہیے۔ جب رام جیٹھ ملانی جسونت سنگھ سے ملنے گئے، تو جسونت سنگھ نے اس خط کا ذکر ان سے کر دیا۔

ایس گرومورتی چنئی میں رہتے ہیں، بڑے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے کافی سالوں سے دماغ مانے جاتے ہیں۔ گرومورتی نے اپنی عوامی زندگی انڈین ایکسپریس کے مالک آنجہانی شری رام ناتھ گوینکا کے ساتھ شروع کی اور وہیں سے ان کا رابطہ ناناجی دیش مکھ سے ہوا۔ نانا جی دیش مکھ کے ذریعے وہ اس وقت کی سنگھ کی قیادت کے نزدیک آئے اور سنگھ کو ان کا تجزیہ کرنے کا طریقہ، ان کے روابطی ذرائع اور ان کی سادگی پسند آ گئی۔ تب سے اب تک، سنگھ کے کئی سربراہ بدلے، لیکن گرومورتی کا مقام وہی بنا رہا۔ وہ صرف دو بار ناکام ہوئے، پہلی بار گووندا چاریہ کو لے کر، جب وہ انہیں بچا نہیں پائے اور دوسری بار سنجے جوشی کو لے کر، جب وہ سنجے جوشی کو بچا نہیں پائے۔ لیکن نہ بچا پانے کے بھی دوسرے اسباب ہیں۔
گرومورتی نے پانچ سال قبل نریندر مودی کو وزیر اعظم بنا نے کی بساط بچھا دی تھی۔ وہ سب سے پہلے رام جیٹھ ملانی کو راجیہ سبھا میں اس لیے لائے، کیوں کہ انہیں لگا کہ رام جیٹھ ملانی سے بہتر وکالت نریندر مودی کی کوئی اور نہیں کر سکتا۔ جب گرو مورتی کو لگا کہ خود نتن گڈکری میں وزیر اعظم بننے کی خواہش جاگ اٹھی ہے، تو انہوں نے سب سے پہلے نتن گڈکری کی کمپنیوں کے بارے میں پردہ فاش اروِند کجریوال کے ذریعے کروا دیا۔ ابھی تک یہ ایک راز ہے کہ گرومورتی کے ذرائع نے کیسے سارے کاغذ اروِند کجریوال کے پاس پہنچائے، کیوں کہ اروِند کجریوال اور گرومورتی میں کوئی سیدھا یا ٹیڑھا رشتہ نہیں ہے۔ اس کے بعد گرو مورتی نے مہیش جیٹھ ملانی سے نتن گڈکری کا استعفیٰ منگوایا۔ مہیش جیٹھ ملانی ملک کے مشہور و معروف وکیل رام جیٹھ ملانی کے صاحبزادے ہیں اور خود ایک بڑے وکیل ہیں۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مجلس عاملہ کے ایک رکن ہیں اور گجرات کے سابق وزیر امیت شاہ کے وکیل بھی ہیں۔ مہیش جیٹھ ملانی نے بی جے پی کی مجلس عاملہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا اور نتن گڈکری سے استعفیٰ مانگ لیا۔ مہیش جیٹھ ملانی نے یہ کام اپنے والد رام جیٹھ ملانی اور گرومورتی کی صلاح پر کیا۔ اس کے بعد رام جیٹھ ملانی نے گڈکری کو ہٹانے کے لیے ایک مہم سی چھیڑ دی۔ وہ بی جے پی کے کئی لیڈروں کے پاس گئے، لیکن کسی نے ان کا کھل کر ساتھ نہیں دیا۔
نتن گڈکری کی تمام سیاسی سرگرمیوں اور ان کی کمپنی کے انکشافات کے بعد بنی صورتِ حال پر بات کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر الگ الگ مل رہے تھے۔ بی جے پی کے سابق وزیر اور نائب صدر کے عہدہ کے امیدوار جسونت سنگھ کے گھر پر یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا ملے، جہاں ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت کو لے کر سنجیدہ بات چیت ہوئی۔ یہ تینوں اس بات سے فکرمند تھے کہ جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار میں آتا ہوا دکھائی دینا چاہیے تھا، وہاں وہ بہت پیچھے کھسکتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد جسونت سنگھ نے ایک لمبا اور سیاسی تکلیف کو بتانے والا ایک خط لال کرشن اڈوانی کو لکھا، جس میں انہوں نے لال کرشن اڈوانی سے گزارش کی کہ انہیں موجودہ صورتِ حال میں مداخلت کرنی چاہیے۔ اڈوانی جی نے خط کو پڑھ کر جسونت سنگھ کو فون کیا اور کہا کہ انہیں یہ خط خفیہ رکھنا چاہیے اور کسی کو اس کے بارے میں بتانا نہیں چاہیے ، لیکن خود انھوں نے بی جے پی کے کچھ نیتائوں کو یہ بات بتادی۔ جب رام جیٹھ ملانی جسونت سنگھ سے ملنے گئے، تو جسونت سنگھ نے اس خط کا ذکر ان سے کر دیا۔ رام جیٹھ ملانی نے اسی دن شام کو پریس والوں سے اس طرح بات کی، گویا جسونت سنگھ، یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا کا ایک گروپ ان کی قیادت میں بن گیا ہے، جب کہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت تک یہ تینوں کیا کریں، کیا نہ کریں کی اُدھیڑ بُن میں تھے۔ پر اِن تینوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس خستہ حالت سے نکالنے کے لیے کچھ نہ کچھ انہیں ضرور کرنا ہوگا۔
یشونت سنہا، جسونت سنگھ اور شتروگھن سنہا کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ یہ سنگھ سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اتنے سالوں میں بھی ان کا رشتہ سنگھ سے نہیں جڑ پایا ہے۔ یہ اٹل جی کی سرکار میں وزیر بھی رہے، لیکن سنگھ نے کبھی انہیں اپنا نہیں مانا۔ سنگھ نے یہ بھی طے کر لیا ہے کہ ان تینوں کو اگلی بار پارٹی کا ٹکٹ نہیں دینا ہے۔ ان تمام حالات کے درمیان ان تینوں نے یہ طے کیا کہ وہ پارٹی کو بچانے کی ایک کوشش کریں گے اور اس کے لیے انہوں نے پہلے تو الگ الگ اڈوانی جی سے بات کی اور بعد میں ایک ساتھ اڈوانی جی سے ملے۔ اس کے بعد جسونت سنگھ نے دو بار اڈوانی جی سے مل کر کہا کہ وہ اگر اب بھی خاموش رہے، تو پارٹی برباد ہو جائے گی۔ ان تینوں نے اڈوانی جی سے یہ بھی کہا کہ انہیں موہن جی سے، یعنی موہن بھاگوت جی سے، یعنی سرسنگھ چالک (آر ایس ایس کے سربراہ) سے فوراً بات کرنی چاہیے۔ ان تینوں میں سے ایک نے تو اڈوانی جی سے یہاں تک کہا کہ آپ ابھی فون اٹھائیے اور موہن جی سے بات کیجئے۔لیکن اڈوانی جی نے ایک بھروسہ مند ساتھی سے کہا کہ میں اس عمر میں سنگھ سے الگ نہیں جائو ں گا۔ اس شخص نے اڈوانی جی سے پوچھا کہ اور ملک کا کیا ہوگا؟اڈوانی جی خاموش رہے۔
اڈوانی جی کی ایک ذہنی پریشانی ہے۔ موہن بھاگوت سمیت سنگھ کے سارے رہنما اڈوانی جی سے عمر میں، تجربہ میں اور سمجھ میں چھوٹے ہیں۔ اڈوانی جی اپنی طرف سے اُن سے بات کرنا، اپنی شان کے موافق نہیں مانتے، اس لیے شاید ہی ایسا کوئی موقع آیا ہو، جب انہوں نے موہن بھاگوت سے اپنی طرف سے بات کی ہو، جب کہ سنگھ یہ چاہتا ہے کہ اڈوانی جی سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیں۔ کئی بار ایسے اشارے ملنے کے بعد بھی اڈوانی جی نے اس لیے ایسا نہیں کیا، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ اس انتخاب سے ہٹ گئے، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت بہت بری ہو سکتی ہے۔
سنگھ نے جب نتن گڈکری کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا صدر بنایا تھا، تو اس نے ایک نیا تجربہ کیا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ دہلی میں بیٹھے لیڈر، جن میں پہلا نام لال کرشن اڈوانی کا تھا، کسی کو بھی اب بی جے پی کا صدر نہیں بنانا ہے، اسی لیے اس نے نتن گڈکری کی اندھی حمایت کی۔ نتن گڈکری خود ناگپور کے ہیں اور مہاراشٹر میں بی جے پی حکومت کے دوران وزیر رہے ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ناگپور میں واقع سنگھ کے ہیڈکوارٹر میں دھوبی سے لے کر ڈرائیور تک کے خرچ نتن گڈکری ہی اٹھاتے رہے ہیں، لیکن وہ سیاسی طور سے اپنی با لا دستی بی جے پی میں قائم نہیں کر پائے۔ دہلی کی سیاست کرنے والے لال کرشن اڈوانی، سشما سوراج، ارون جیٹلی، راج ناتھ سنگھ، وینکیا نائڈو اور اننت کمار نے انہیں کبھی اس لائق نہیں مانا کہ وہ ان سے سیاسی موضوعات پر بات کر سکتے ہیں

اپنی پوری مدتِ کار کے دوران نتن گڈکری کوریئر بوائے ہی بنے رہے۔ سنگھ کے اندر ایک بار پھر اس بات پر غور و فکر ہوا کہ کیا نریندر مودی کو پارٹی کا صدر بنایا جاسکتا ہے۔ انہیں لگا کہ شاید نتن گڈکری وہ رزلٹ نہ دے پائیں، جو رزلٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کو چاہیے۔ اسی لیے سنگھ کے کارگزار اہل کار سریش سونی نے سنگھ کی میٹنگ میں یہ کہا کہ ارون جیٹلی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا صدر بنانا چاہیے اور نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار۔ سریش سونی کا یہ بیان سنگھ کے رہنماؤں کی سوچ کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن ابھی سنگھ کے بقیہ رہنماؤں کا ردِ عمل آنا باقی ہے۔ 20 دسمبر کو گجرات اسمبلی انتخاب کے نتائج بھی آئیں گے۔ اگر نریندر مودی نے اپنی موجودہ حمایت بنائے رکھی، تب ایک طرح کا فیصلہ ہوگا اور اگر انہیں ملنے والے ووٹ کا فیصد گر جاتا ہے یا پھر ان کی سیٹیں کم ہو جاتی ہیں، تو پھر دوسری طرح کا فیصلہ ہوگا۔ نریندر مودی پچھلی بار 30 انتخابی حلقوں میں دو ہزار کے آس پاس کی اکثریت سے جیتے تھے۔ اگر کیشو بھائی پٹیل کی وجہ سے ان کی سیٹیں کم ہو جاتی ہیں، تو پھر سنگھ کے سامنے پریشانی کھڑی ہو جائے گی، سنگھ نریندر مودی کے نام پر صرف اس لیے سوچ رہا ہے، کیو ںکہ اسے لگتا ہے کہ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنانے سے اسے ہندوؤں کو پولرائز کرنے میں آسانی ہوگی۔ ساتھ ہی سنگھ کو یہ بھی لگتا ہے کہ نریندر مودی اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں، اس کا بھی فائدہ انہیں ملے گا۔
ارون جیٹلی نے سب سے زیادہ سمجھ بوجھ کر بساط بچھائی۔ جن ارون جیٹلی کو سنگھ اب تک ایک منیجر کے طور پر دیکھتا تھا، اسی سنگھ کو ارون جیٹلی نے اس بات کے لیے مجبور کر دیا کہ سنگھ انہیں بھی صدر بنانے کے بارے میں سوچے۔ سنگھ اگر ایسا کرتا ہے تو اسے غلطی کو درست کرنے کی شکل میں دیکھا جائے گا۔ حالانکہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر دہلی میں بیٹھے کسی بھی لیڈر کو، جسے سنگھ نے ڈی – فور کہا تھا، اب اگر صدر بنا یا جاتا ہے تو اسے سنگھ کا تھوک کر چاٹنا کہا جائے گا اور سنگھ کی سیاسی نا پختگی بھی کہا جائے گا۔ ارون جیٹلی اور نریندر مودی میں پرانی دوستی بھی ہے، سمجھداری بھی ہے اور ہم آہنگی بھی ہے۔ اس لیے اگر ارون جیٹلی وزیر اعظم کے عہدہ کی خواہش چھوڑ دیں تو ان کا اور مودی کا کامیاب اتحاد بن سکتا ہے۔ نریندر مودی کی حمایت کرنے والے ہندوستان کے بڑے صنعتی گھرانے جتنے ہیں، اس سے زیادہ گھرانے ارون جیٹلی کی حمایت کرتے ہیں۔ لال کرشن اڈوانی اس ساری لڑائی میں الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔ ان کی حمایت صرف وہ لوگ کر رہے ہیں، جو سنگھ سے جڑے نہیں ہیں اور جن کی سیاسی زندگی بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی اور ناکامی پر ٹکی ہوئی ہے۔
سنگھ کا سیاسی چہرہ سریش سونی ہیں، لیکن سریش سونی کی سمجھ پر بھارتیہ جنتا پارٹی میں بہت سے لوگوں کو شک ہے۔ ان میں نریندر مودی بھی شامل ہیں، سشما سوراج بھی، ارون جیٹلی بھی اور بچے ہوئے باقی لیڈر بھی، جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کا فیصلہ کن لیڈر مانا جاتا ہے۔ دوسری طرف سنگھ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے مصیبت میں کسی کا ساتھ نہیں دیا ہے۔ بات اٹل بہاری واجپئی سے شروع کرتے ہیں۔ 1980 میں اٹل بہاری واجپئی کی حمایت سنگھ نے کی، لیکن جب بابری مسجد ٹوٹی تو اٹل بہاری واجپئی کا ساتھ سنگھ نے چھوڑ دیا۔ سنگھ کی شہ پر راجناتھ سنگھ نے اٹل بہاری واجپئی کا استعفیٰ تک مانگ لیا۔ اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم اپنے چہرے اور سمجھ کی وجہ سے بنے، نہ کہ سنگھ کی حمایت کی وجہ سے۔ دوسرا نام لال کرشن اڈوانی کا ہے، جنہوں نے پاکستان میں جناح کے مزار پر جو لکھا وہ صحیح لکھا تھا، لیکن سنگھ نے سنجے جوشی کو بھیج کر اڈوانی کا استعفیٰ لے لیا اور جب سنجے جوشی کی مخالفت نریندر مودی نے کی، تو اس نے سنجے جوشی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ ایسے کئی سارے نام ہیں، جن میں شانتا کمار، کلیان سنگھ، اوما بھارتی، مدن لال کھرانا جیسے نام بھی شامل ہیں۔ بی جے پی میں ایک کہاوت ہے کہ جو بھی سنگھ کے قدموں میں گیا، وہ اس کے قدموں کے نیچے آ گیا۔ اس حقیقت کی صداقت کو اڈوانی جی کے علاوہ اور کون زیادہ سمجھ سکتا ہے۔
سنگھ کی پالیسیوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں مقبول عام لیڈر نہ ہونے کی وجہ سے جہاں ایک طرف بی جے پی کا کارکن مایوس ہوگیا ہے، وہیں دوسری طرف بی جے پی میں شترپ پیدا ہو گئے ہیں۔ شیو راج سنگھ چوہان، رمن سنگھ، پریم کمار دھومل اور وسندھرا راجے وغیرہ کسی کی نہیں سنتے۔ کرناٹک کے یدیو رپا تو سرکار گرانے تک کو تیار ہیں اور انہوں نے پارٹی تک چھوڑ دی ہے۔ مرکزی قیادت کے نام پر جو جانے جاتے ہیں، ان میں نتن گڈکری، سشما سوراج، ارون جیٹلی کے ہی نام آتے ہیں اور ان تینوں کو ریاستوں کے شترپوں کے سامنے ہمیشہ گڑگڑانا پڑتا ہے۔ایک اور نام ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کا صدر ہو سکتا ہے، اور وہ نام ہے مرلی منوہر جوشی کا۔ مرلی منوہر جوشی صرف ایک بار بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر بنے ہیں، لیکن ان کے کام کرنے کے طریقے سے بی جے پی کے زیادہ تر لیڈر خوش نہیں ہیں، کیوں کہ وہ جب صدر تھے تو کسی کی نہیں سنتے تھے۔ لیکن مرلی منوہر جوشی کے صدر بننے میں سنگھ کا ایک اصول رکاوٹ بن گیا ہے اور وہ اصول ہے کہ 75 سال سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کو سیاست سے ہٹ جانا چاہیے۔ راجناتھ سنگھ، وینکیا نائڈو، اننت کمار اور سشما سوراج کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح پہلے نتن گڈکری صدر کے عہدہ سے ہٹیں اور جب یہ ہٹیں گے تبھی آگے کی راہ کھلے گی۔
عام طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں، خاص کر وہ لیڈر جو بی جے پی کو الیکشن میں جیت دلاتے ہیں، ان کی صاف رائے ہے کہ ان انتخابات کے لیے لال کرشن اڈوانی کو پارٹی کی کمان سونپ دینی چاہیے۔ انہیں لال کرشن اڈوانی کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا، لیکن یہاں بھی سنگھ کا وہی اصول آڑے آتا دکھائی دے رہا ہے، جو کہتا ہے کہ 75 سال سے اوپر کے لوگوں کو بی جے پی کی سیاست سے ریٹائر ہو جانا چاہیے، اور اڈوانی جی تو 80 پار کر چکے ہیں۔گرو مورتی نے ایک طرف نتن گڈکری کے خلاف سارا ماحول بنایا، لوگوں کو کھڑا کیا اور دوسری طرف علی الاعلان نتن گڈکری کومبینہ کلین چٹ بھی دے دی۔ اس لیے مانا جا سکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی گتھی کو الجھانے اور سلجھانے کے کھیل میں سب سے ماہر کھلاڑی گرو مورتی ہیں۔ لیکن اس ساری قواعد میں سب سے زیادہ حوصلہ بی جے پی کے ڈیڈیکیٹیڈ کارکنوں کا ٹوٹا ہے، کیوں کہ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اپنی آنکھ میں خود دھول جھونکنے میں کانگریس اوّل ہے یا ان کی خود کی پارٹی، یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی۔کارکن یہ بھی نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ رام کا نام لینے والی پارٹی اور رام راجیہ کو آدرش ماننے والی پارٹی رام کی اس مثال کو کیوں نہیں مانتی کہ اگر سماج میں راجہ کو لیکر شک پیدا ہو جائے تو راجہ کو شک کے سبب ہٹادینا چاہیے۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے یہ بھی فراموش کر دیا کہ صرف ایک دھوبی کے کہنے پر رام نے سیتا کا تیاگ کر دیا تھا۔

 

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *