انا ہزارے کی افادیت بڑھ گئی ہے

سنتوش بھارتیہ 
کانگریس اور بھارتیہ جنتاپارٹی کی پوری کوشش یہ ہے کہ اروند کجرایوال اور انا ہزارے آپس میں لڑ جائیں۔ اروند کجریوال اور انا ہزارے اس حقیقت کو کتنا سمجھتے ہیں، پتہ نہیں، لیکن اگر انھوں نے اس کے اوپر توجہ نہیں دی، تو وہ سارے لو گ جو، ان کے مداح ہیں، نہ صرف گمراہ ہو جائیں گے، بلکہ مایوس بھی ہو جائیں گے۔ کانگریس اور بھارتیہ جنتاپارٹی اس وقت کسی بھی طرح اپنے اوپر لگے الزاموں سے چھٹکارا چاہتی ہیں اوراس کے لیے انا اور اروند کجر یوال کو آپس میں لڑانے سے بہتر کوئی راستہ نہیں ہے۔ اروند کجریوال، پرشانت بھوشن اور منیش سسودیا جس طرح اپنی حکمت عملی بنا رہے ہیں، شاید وہ حکمت عملی انا کے کچھ ساتھیوں کو پسند نہیں آرہی ہے۔ اروند کجریوال کے کچھ حامی، جو خود کو پرشانت بھوشن اور منیش سسودیا کے برابر لانا چاہتے ہیں، وہ بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر وہ انا ہزارے کے اقدام کی تنقید کریں گے، تو انھیں بڑا لیڈر مان لیا جائے گا۔ ایسا ہی انا ہزارے کے کچھ حامیوں کو لگ رہا ہے کہ وہ اروند کجریوال کی جتنی تنقید کریں گے، اتنا ہی انھیں انا کے قریب مانا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی فریقوں کے لوگ جانے انجانے میں انا ہزارے اور اروند کجریوال کے مخالفین کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔
ٹیلی ویژن اس کاایک بڑا وسیلہ ہے۔ کچھ لوگ ہیں، جنھیں نہ سماج میں رونما ہونے والے واقعات کے اسباب کا پتہ ہے اور نہ وہ عام آدمی کے درد سے واقف ہیں۔ وہ لوگ ٹیلی ویژن چینلوں پر آتے ہیں اور ملک کے تضادات پر چرچا کرتے ہیں۔ یہ دونوں ذرائع میںہو رہا ہے، انگریزی نیوز چینلوں پر اور ہندی نیوز چینلوں پر۔ ٹیلی ویژن چینلوں کو بھی اس میں مزا آتاہے، کیونکہ وہ انھیں بلانے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں، جن کے پاس سطحی علم ہوتا ہے۔ ویسے تو کسی بھی موضوع پر بولنے والوں کے ساتھ یہ صورتحال لاگو ہوتی ہے، لیکن آج ہم انااور کجریوال کے ساتھیوں اور معاونین کی بات کر رہے ہیں۔
اروند کجریوال نے دہلی میں اپوزیشن کی اس خالی جگہ کو بھرا ہے، جسے بھارتیہ جنتاپارٹی نے خالی کر دیا تھا۔ اپوزیشن کا صحیح مطلب نہ صرف لوگوں کے دکھ درد اور تکلیف سے جڑے سوالوں کو میڈیا میں اٹھانا ہے، بلکہ انھیں ساتھ لے کر سرکار کے سامنے کھڑا ہونا بھی ہے۔ یہ کام دہلی صوبہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کر نا چاہیے تھا، لیکن بھارتیہ جنتاپارٹی پچھلے تین انتخابات میں ہار کی وجہ سے اتنی مایوس ہو گئی ہے کہ اس نے احتجاج کے ریچول کرنے بھی بند کر دیے ہیں۔اروند کجریوال نے نہ صرف اس جگہ کو بھرا ہے بلکہ اسے پختہ بھی کیا ہے۔ آج دہلی میں اروند کجریوال کا جب بھی مظاہرہ ہوتا ہے، تو اس میں ان کے کارکن نہیں ہوتے، کیونکہ اروند کجریوال کے پاس ابھی کارکن ہیں ہی نہیں۔ اس میں عام پبلک میں سے اپنے آپ آئے ہوئے لوگ ہوتے ہیں، جو سر پر ’میں عام آدمی ہوں ‘ لکھی ہوئی ٹوپی پہن کر اروند کجریوال کے کارکن بن جاتے ہیں۔ اپنے مسائل کو حل کرانے کے لیے سرکار کے سامنے سرگرم احتجاج کرنے کا یہ عوام کا وہ طریقہ ہے، جو موجودہ سیاسی نظام کے خلاف جاتاہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ عوام موجودہ سیاسی پارٹیو ں کی کارکردگی کو پسند نہیں کر رہے ہیں۔
جب انا ہزارے نے اروند کجریوال سے الگ تحریک چلانے کا راستہ اپنانے کی نئی راہ پکڑی تو برسر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے لوگ تو خوش ہوئے ہی، میڈیا کے وہ لوگ بھی خوش ہوئے، جو اقتدار اور اپوزیشن میں ہی ساری سیاست دیکھتے ہیں۔ اب انا ہزارے نے 29 اکتوبر کو ممبئی میں اپنے اور جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ مل کر ملک کی پارلیمنٹ کوتحلیل کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ نہ مانے جانے کی صورت میں پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے لیے تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا، تو وہ سارے لوگ پریشان ہو گئے، جن کا مفاد موجودہ سیاسی جماعتوں میں ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ انا اور وی کے سنگھ ملک میں نہ گھومیں، صرف سماجی تحریک چلائیںاور سیاسی سوالوں کو ایک کنارے رکھ دیں۔ ان کی ایک دوسری کوشش اور شروع ہو چکی ہے اور وہ ہے انا ہزارے اور وی کے سنگھ کو الگ کرنا۔ اس کے لیے کھلے اور خفیہ طریقوں سے کوششیں ہو رہی ہیں۔ کچھ اخبار اور کچھ ٹیلی ویژ ن چینل اور کچھ کالم نویس کسی بھی طرح اس ناپاک کام کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ شاید ملک کے کچھ بڑے پیسے والے بھی انا ہزارے کے خطرے کو محسوس کر رہے ہیں، اس لیے وہ انا ہزارے کی دھار کو کند کرنا چاہتے ہیں یا پھر انا کی رفتار کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انا کے معاونین پر جال پھینکنے کی ان کی کوششیں جاری ہیں۔ انا ہزارے کی ذمہ داری اروند کجریوال سے زیادہ ہے۔ انا ہزارے جن اقدار کے لیے لڑ رہے ہیں، ان اقدار کاحوالہ اور ان ا قدار کی اہمیت، انا کو اپنے ساتھیوں کو بھی سمجھانی پڑے گی، کیونکہ سیاست اور سماج کو بدلنے کے الفاظ کے پیچھے کے مطلب کو جانے بغیر ترسیل نہیں ہو سکتی۔ انا کوا پنی کور کمیٹی کے سارے لوگوں کو گاندھی ازم، سوشلزم، آئین، غریب، کسان، مزدور، دلت، محرومین، پچھڑے، آدیواسی اور مسلمانوں کے مفادات کے درمیان کی برابری اور اس برابری کے ساتھ چلنے والے تضاد کو بہت گہرائی سے سمجھانا ہوگا۔ اگر انا اپنے معاونین کو یہ بات نہیں سمجھائیں گے، تو انا بھلے ہی کہتے رہیں کہ اب انھیں سماج، سیاست اور نظام بدلنا ہے، لیکن ان کے ساتھی کہتے رہیں گے کہ سی بی آئی کو غیر جانبدار کرو یا سی بی آئی کے کام جن لوک پال کو دے دو۔ جن لوک پال سماج بدلنے کے ہتھیار کے طور پر ایک طرح کا کام کرے گا اور سپر انویسٹی گیٹو ایجنسی کے طور پر دوسرا کام کرے گا، یعنی وہ اس نظام کومضبوط کرنے کا کام شاید ہی کرے۔
مجھے لگتاہے کہ اناہزارے اور اروند کجریوال اس پریشانی کو باریکی سے سمجھتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری بھی سب سے ز یادہ ہے اور اس ذمہ داری کو نبھانے میں ذرابھی چوک ہوئی ، تو ملک کے لوگوں کا اعتماد تبدیلی کی زبان سے اٹھ جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *