یہ رشوت نہیں تو کیا ہے؟

کمل ایم مرارکا 
نئی نئی بنی سیاسی پارٹی (اروِند کجریوال کے ذریعے اعلان کردہ) نے سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا پر ایک ساتھ کئی الزامات لگائے ہیں۔ ان تمام الزامات میں کئی چیزیں شامل ہیں اور اس میں کئی حقائق اور اعداد و شمار بہت ہی بڑے ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان اگر بات اصولوں کی کی جائے تو دو چیزیں بالکل واضح ہیں۔ پہلا یہ کہ رابرٹ واڈرا کی کل پہچان یہی ہے کہ وہ سونیا گاندھی کے داماد ہیں۔ پرینکا گاندھی سے شادی کرنے سے پہلے وہ بھلے ہی مرادآباد کے ایک بزنس مین تھے، لیکن تھے تو ایک عام سے بزنس مین ہی۔

سرکار کے وزیر ہی صرف ایسے لوگ ہیں، جو اس بات کو نہیں جانتے ہیں، وہ لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے ہیں۔ سرکاری ادارے کن وجوہات سے اندھے بنے ہوئے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کل اگر یہ سرکار گر جاتی ہے اور کسی دوسری پارٹی یا سیاسی اتحاد کی سرکار بنتی ہے تو اسی طرح کا کوئی دوسرا واڈرا پیدا ہو جائے گا۔ ہم لوگوں کے پاس صرف ایک ہی جانکاری ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اور کیا کیا کیا ہے، میں نہیں جانتا ہوں۔ رابرٹ واڈرا کو سامنے آنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ پرینکا گاندھی سے شادی کرنے سے پہلے ان کے پاس کتنی دولت تھی۔ ان کی کمپنی کا ٹرن اووَر کتنا تھا۔ وہ ایک عام آدمی تھے، ان کی ملکیت بھی بہت زیادہ نہیں تھی، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ بھی نہیں تھی۔ ان کے پاس ابھی جو اثاثہ ہے، وہ شادی کے بعد کا ہے۔

پرینکا گاندھی سے شادی ہونے کے بعد اور سونیا گاندھی کے داماد بننے کے بعد اُن کی حالت الگ ہوگئی۔ دوسری واضح بات یہ ہے کہ رابرٹ واڈرا اور ڈی ایل ایف، دونوں نے یہ قبول کیا ہے کہ کہیں کچھ غلط ہوا ہے، بدعنوانی ہوئی ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ یہ کیسے ہوا؟ مان لیجئے ڈی ایل ایف کہتا ہے کہ اس نے واڈرا کو سود کے بغیر 50 لاکھ روپے لون دیے۔ واڈرا بھی لون لینے کی بات کو قبول کرتے ہیں۔ اور دیگر کارپوریٹ باڈیز کی طرح ہی ڈی ایل ایف کہہ رہا ہے کہ یہ سب کچھ قانونی طور پر درست ہے۔ اب یہاں ڈی ایل ایف کے ذریعے لون دیے جانے اور اس کی لیگلیٹی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہا ہے۔ لیکن رابرٹ واڈرا کے ذریعے سود سے خارج لون لیے جانے کی بات یقینی طور پر بدعنوانی کی ایک مثال ہے۔ بدعنوانی کا مطلب بدعنوانی ہی ہے، کیوں کہ یہ ہر ایک مہینے 50 ہزار روپے کی رشوت کی طرح ہے۔ ڈی ایل ایف کے کے پی سنگھ نے واڈرا کو کوئی اپنا ذاتی پیسہ نہیں دیا ہے۔ انہوں نے یہ پیسہ اپنی کمپنی سے دیا ہے۔ کمپنی نے بینکوں سے ہزاروں کروڑ کا لون لیا ہوا ہے۔ ڈی ایل ایف 12 سے 15 فیصد سود بینک کو دیتا ہے۔ لیکن اگر 12 فیصد سود کی بات مانیں تو، 50 لاکھ روپے کے لون کا سالانہ سود ہوا 6 لاکھ روپے، یعنی 50 ہزار روپے ہر ماہ۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کوئی بڑی رقم نہیں ہے، لیکن سوال رقم کے بڑی یا چھوٹی ہونے کا نہیں ہے، سوال اصول کا ہے۔ ایک ایسا بزنس گھرانا، جسے ظاہری طور پر سرکار سے ہر ایک دن کام پڑتا ہے اور جسے سرکار کی مہربانی چاہیے، اس نے رابرٹ واڈرا کو سود کے بغیر لون دے کر گویا اپنے پے رول پر رکھ لیا اور جناب واڈرا نے باقاعدہ اسے قبول بھی کیا۔ دونوں پارٹیوں نے ان حقائق کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہاں پر بدعنوانی مخالف قانون کی بات آتی ہے۔ کوئی اگر اس معاملے کو لے کر پی آئی ایل دائر کرتا ہے تو سود سے خارج کروڑوں روپے کا لون لینے کے لیے رابرٹ واڈرا کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔ آپ اسے محض ایک لون نہیں بتا سکتے۔ کروڑوں روپے کا سود سے خارج لون ہندوستان کے کسی عام آدمی کو مل ہی نہیں سکتا۔ ڈی ایل ایف کو یہ بتانا چاہیے، واضح کرنا چاہیے کہ اس نے اور کتنے ایسے لوگوں کو سود سے خارج لون دیے ہیں۔ اور اگر انہوں نے کسی اور کو ایسا لون نہیں دیا ہے، تب وہ اس بات کو بھی خارج نہیں کر سکتے کہ واڈرا کو سود سے خارج لون اس لیے دیا گیا، کیوں کہ وہ ایک اہم اور طاقتور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کسی کو بھی اپنی طاقت سے متاثر کر سکتے ہیں۔ اور اب مرکزی حکومت کے وزیر اروِند کجریوال سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اِن الزامات کو ثابت کریں۔ یہ کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ کیا یہ وزیر کجریوال کو پبلک پرازیکیوٹر یا سی بی آئی مان کر الزام ثابت کرنے کے لیے بول رہے ہیں؟ کجریوال نے جو اطلاع عام کی ہے، وہ کسی بھی سرکار کے لیے شرم ناک ہے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ واڈرا نے ڈی ایل ایف سے ہی سود سے خارج کروڑوں کا لون لے کر اسی ڈی ایل ایف سے پراپرٹی بھی خریدی۔ میں ان کارپوریٹ کی چالاکیوں کو سمجھتا ہوں۔ کارپوریٹس کی چالاکی دیکھئے۔ کیش کے ذریعے رشوت دینے کی بات تو آپ نے سنی ہوگی، لیکن یہاں چیک کے ذریعے رشوت دے کر زمین خریدنے کو کہا گیا۔ کھیتی والی زمین خریدے جانے کے بعد اور ہاتھ میں آتے ہی کھیتی نہ کرنے کے لائق بن گئی۔ ایسے میں لاکھوں کی زمین کروڑوں کی بن گئی۔ عام طور پر بزنس مین اسی قسم کی چالاکی کرتے ہیں۔ حال ہی میںاس طرح کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔ نیتاؤں کے ذریعے بنائے گئے ٹرسٹ کو یہ بزنس مین ڈونیشن دیتے ہیں۔ اسے ڈونیشن کہا جاتا ہے اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ بھی اسے نہیں روکتا۔ لیکن کیا یہ واقعی ڈونیشن ہے؟ اتنا چھوٹا سا ادارہ اور اتنی بڑی ڈونیشن؟ ظاہر ہے، یہ ڈونیشن نہیں، رشوت ہے۔
کرناٹک میں یدیورپا کے بیٹے سے ایک بزنس مین نے زمین خریدی۔ دو کروڑ کی زمین 20 کروڑ میں اس نے خریدی۔ ظاہر ہے، باقی کا 18 کروڑ رشوت ہی ہے۔ ہمیشہ دستاویزوں میں ایسی چیزوں کو صحیح دکھایا جاتا ہے، لیکن سچائی بھی سب کو معلوم ہوتی ہے۔ رابرٹ واڈرا نے جو سود سے خارج لون لیا ہے، وہ کیوں دیا گیا، اسے سارے لوگ جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اور جو زمین اس نے جتنے میں خریدی، اس زمین کی اصلی قیمت کو بھی لوگ جانتے ہیں۔ اس میں راز جیسی کوئی بھی بات نہیں ہے۔ سرکار کے وزیر ہی صرف ایسے لوگ ہیں، جو اس بات کو نہیں جانتے ہیں، وہ لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے ہیں۔ سرکاری ادارے کن وجوہات سے اندھے بنے ہوئے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کل اگر یہ سرکار گر جاتی ہے اور کسی دوسری پارٹی یا سیاسی اتحاد کی سرکار بنتی ہے تو اسی طرح کا کوئی دوسرا واڈرا پیدا ہو جائے گا۔ ہم لوگوں کے پاس صرف ایک ہی جانکاری ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اور کیا کیا کیا ہے، میں نہیں جانتا ہوں۔ رابرٹ واڈرا کو سامنے آنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ پرینکا گاندھی سے شادی کرنے سے پہلے ان کے پاس کتنی دولت تھی۔ ان کی کمپنی کا ٹرن اووَر کتنا تھا۔ وہ ایک عام آدمی تھے، ان کی ملکیت بھی بہت زیادہ نہیں تھی، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ بھی نہیں تھی۔ ان کے پاس ابھی جو اثاثہ ہے، وہ شادی کے بعد کا ہے۔ اسی خاندان کی ایک دوسری مثال ہے، جو اس سے بالکل الگ اور برعکس ہے۔ اندرا گاندھی نے فیروز گاندھی سے شادی کی، جو کہ ایک عام آدمی تھے۔ آخری وقت تک وہ ایک عام آدمی ہی بنے رہے۔ ان کے سسر پنڈت جواہر لعل نہرو تھے، لیکن فیروز گاندھی نے کسی بھی لمحہ ایسا نہیں سوچا کہ اپنے سسر کے عہدہ کا فائدہ اٹھایا جائے۔ وہ ہمیشہ سوچتے تھے کہ جواہر لعل نہرو ان کے سسر ہیں، اس لیے انہیں مثالی برتاؤ کرنا چاہیے۔ یہ دو دامادوں کی مثال یہ دکھاتی ہے کہ ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ اب سرکار کو بیدار ہو جانا چاہیے۔ سرکار چلانے والی پارٹی کو بیدار ہوجانا چاہیے اور سماج میں ہو رہی اس طرح کی لوٹ کو روکنا چاہیے۔
دو اور باتیں، جسے میں آپ کی نوٹس میں لانا چاہوں گا۔ ایک تو یہ کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی، بی جے پی کو یہ سب معلوم تھا، لیکن لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں حزبِ اختلاف کے لیڈر نے اس مدعے کو انہیں اٹھایا، پتہ نہیں کن اسباب کی بناپر۔ان اسباب کو سمجھنا مشکل ہے، لیکن اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ سشما سوراج اور ارون جیٹلی نے اس مدعے کو اپنے ہاتھ سے نکل جانے دیا۔ اگر سرکار ناکام ہوتی ہے تو یہ ایک غلط بات ہے، لیکن اپوزیشن ناکام ثابت ہوتی ہے تو یہ جمہوریت کے لیے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔ اگر بی جے پی اسی طرح سے کانگریس کے ہر ایک صحیح اور غلط کام میں ہاتھ ملاتی رہی، تو اس کے لیے کانگریس پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر پانا مشکل ہو جائے گا اور اقتدار میں آ پانا تو اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ اگر وہ بھی کانگریس کی طرح ہی ہے، تو وہ ملک کو کوئی متبادل نہیں دے سکتی۔ دوسری طرف، ایک اور مذاق کی بات یہ ہے کہ ڈی ایل ایف نے کہا ہے کہ یہ ڈیل شفاف طریقے سے کی گئی۔ میں اس سے متفق ہوں۔ یہ بہت ہی شفاف طریقے سے کی گئی، اسی لیے ہم لوگ اس کے بارے میں جان پائے۔ یہ بہت ہی عام بات ہے۔
اسے مذاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس کے وزیر رابرٹ واڈرا کی حمایت میں اتر آئے ہیں۔ لیکن سوال ہے کہ ایسا کیوں؟ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ رابرٹ واڈرا پر حملہ کانگریس پر کیا گیا حملہ ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ واڈرا کانگریس میں کسی عہدہ پر فائز نہیں ہیں اور وہ یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے اس پارٹی کا فائدہ اٹھا کر پراپرٹی حاصل نہیں کی ہے۔ انہوں نے کیا کیا ہے، اسے سمجھنے سے پہلے انہیں ایک عام شہری مان لیتے ہیں۔ انہیں اپنا دفاع کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ سرکار میں شامل لوگ ان کے دفاع کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت ہی مذاقیہ قسم کی بات ہے۔ اگر اپوزیشن پارٹی اس مدعے کو اٹھانا نہیں چاہتی ہے اور کجریوال اسے اٹھاتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ کجریوال اسے ثابت کریں، ورنہ انہیں دیکھ لیا جائے گا۔ لیکن اصل میں ہونا کیا چاہیے؟ میرے حساب سے سرکار کو اس معاملے کی جانچ کرنے کے لیے ایک ایس آئی ٹی، یعنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کرنی چاہیے اور کجریوال کو اس ایس آئی ٹی کا چیئرمین بنا دیا جانا چاہیے، تب وہ ان الزامات کو ثابت کر دیں گے۔ انہیں وہ اختیار دیجئے، جن کی انہیں ضرورت ہے۔ انہیں موقع دیجئے اور اگر تب بھی وہ ان الزامات کو ثابت نہیں کر پاتے ہیں، تو ان کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں۔ رابرٹ واڈرا ان لوگوں کے کافی قریبی ہیں، جو اقتدار میں ہیں۔ رابرٹ واڈرا کو اپنی باتیں خود کہنے دیجئے۔ اپوزیشن پارٹی کو یہ مدعا اٹھانے دیجئے۔ آپ ہندوستان کو ’بنانا رپبلک‘ بنانا چاہتے ہیں۔ اسے روکئے۔ عوام اس کے لیے آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ وزیر خزانہ نے بھی رابرٹ واڈرا کا دفاع کیا ہے۔ یہ شرم کی بات ہے۔ ہندوستان میں اور بھی کئی صنعتی گھرانے ہیں، جن میں ٹاٹا، برلا، امبانی تک شامل ہیں۔ وزیر خزانہ کبھی ان کا دفاع کرنے تو نہیں آتے۔ ٹوجی اور کول بلاک الاٹمنٹ کے معاملے میں بھی سرکار یہ کہتی رہی کہ کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ یہاں سرکار کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے، بلکہ ڈیل ڈی ایل ایف کے ساتھ ہوئی ہے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ ڈی ایل ایف یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ بھی غلط نہیں ہوا ہے۔ لیکن چدمبرم بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ بھی غلط نہیں ہوا ہے، تو یہ بہت مضحکہ خیز بات ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ سرکار اپنے اصولوں سے بھٹک رہی ہے اور قبولیت کی سطح سے بھی نیچے گرتی جا رہی ہے۔ جتنی جلدی سرکار یہ سب روکے، اتنا ہی اچھا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *