ٹیلی کام سیکٹرس: چین کی دراندازی خطرناک ہے

ڈاکٹر منیش کمار 
پوری دنیا شعبۂ مواصلات میں ہندوستان کی پیش رفت کی تعریف کر رہی ہے۔ ہندوستان میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ٹیلی کام نیٹ ورک ہے،لیکن تضاد یہ ہے کہ وزارت مواصلات بھی آج تک کے سب سے بڑے گھوٹالہ میں شامل ہے، جسے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ کا نام دیا گیا۔ طویل عرصہ تک وزارت مواصلات نے بہت سے قریبی دوست بنائے، جنھوں نے من مانے طریقہ سے اس شعبہ کا بیجا استعمال کیا۔ یہ ٹیلی کام لابی اتنی طاقتور ہے کہ حکومت اس کے سامنے عاجز اور لاچار نظر آتی ہے۔ حکومت کے ان قریبی دوستوں نے ملک کے موبائل اورانٹرنیٹ نیٹ ورک کو اتنا کمزور بنا دیا ہے کہ چین ایک ہی جھٹکے میں پورے نیٹ ورک کو خراب کر سکتا ہے، جس کے نتیجہ میں بینک، ایئر لائنس اور ریلوے پوری طرح ٹھپ ہو جائیں گے۔ یہ لڑائی کا جدید طریقہ ہے، جس میں اگر بنیادی ڈھانچہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس محاذ پر ہندوستان کی قلعی کھل جائے گی۔ اس خطرے کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موبائل ٹاور اور ٹیلی کام سسٹم کیسے کام کرتے ہیں۔ ہر طرح کے ٹیلی کام سسٹم میں مؤثر ٹرانس مشن کے لیے سنکرو نائزڈ پلس کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک قیامت خیز خطرہ ہندوستان کے اوپر منڈلا رہا ہے۔ ہندوستان کی غیر دور اندیش خارجہ پالیسی اور سستی تکنیک خریدنے کی چاہت نے ملک کے اہم بنیادی ڈھانچہ اور مواصلاتی مشینری کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز اداروں کو معذور بنانے اور چین کی صلاحیت کو بڑھانے کا کام کیا ہے۔ حال ہی میں شائع ایک مضمون میں پیپلز لبریشن آرمی کے ایک نمائندہ نے اعلیٰ سطح پر ملک کی سائبر اٹیک کیپسٹی کے فروغ کی وکالت کی ہے۔یہ چینی خطرہ حقیقی ہے۔تاہم دراندازی اور برہم پتر ندی پر خاموشی سے پل بنائے جانے کی خبریں اگر تشویشناک نہیں ہیں تو یہ خبر آپ کے پیروں کے نیچے کی زمین کھسکا دیں گی۔

تمام ماڈرن ڈاٹا آپریشن پروٹوکال جدید سہولیات کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ جب ڈاٹا بٹس سلسلہ وار طریقہ سے ٹرانسمٹ ہوتا ہے تو اسی لمحہ رسیور کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس لمحہ کو صحیح طریقہ سے ڈٹیکٹ کرے، جب ہر ایک کیرکٹر میں بٹ کی شروعات اور خاتمہ ہو۔ جب سنکرونس ٹرانس مشن کا استعمال ہوتا ہے تب رسیور اور ٹرانس میٹر کے درمیان کامن بٹ ٹائمنگ کا استعمال ہوتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کمیونی کیشن کے ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ باریکی سے ہر پلس کی شروعات اور خاتمہ کی پہچان (ڈٹیکٹ) کر سکے۔ ماڈرن اینالاگ سسٹم میں ماڈم اِن کمنگ ڈاٹا اسٹریم میں سے ٹائمنگ پلس کو ری کور کر لیتا ہے اور اسے کلاک پلس کی کنٹی نیواَس اسٹریم کے طور پر رسیور کا کام کر رہے ڈی ٹی ای (ڈاٹا ٹرمینل اکیوپمنٹ ) ڈیوائس کو بھیج دیتا ہے۔
رسیو کلاک ڈاٹا اسٹریم میں سے صحیح سیمپلنگ کو یقینی بناتا ہے ،لیکن رسیور یہ نہیں بتاتا ہے کہ کون سے کیرکٹر میں کتنا اور کون سا بٹ شامل ہے۔ٹرانس میٹر کیرکٹروں کو ایک گروپ میں بھیجتا ہے، جسے بلاک یا فریم کہتے ہیں۔ اسپیشل سنکرونائزیشن کیرکٹر ہر بلاک کی شروعات میں ٹرانسمٹ ہوتے ہیں۔رسیور اِن کیرکٹروں کی راہ دیکھتا ہے اور جب ایک بار وہ ڈٹیکٹ ہو جاتے ہیں تو وہ یہ جان جاتا ہے کہ کہاں تمام کیرکٹر کی شروعات اور خاتمہ ہورہا ہے۔اس کے لیے موبائل ٹاور جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) سسٹم کا استعمال کرتا ہے۔
جی پی ایس سسٹم کا استعمال نیٹ ورک ٹائم پروٹوکول (این ٹی پی) سرورس اور کمپیوٹر نیٹ ورک ٹائم سنکرونائزیشن کے لیے صحیح وقت اور فریکونسی ریفرینس مہیا کرانا ہوتا ہے۔ مختصراً کہیں تو، جی پی ایس سسٹم سنکرونائزیشن نیٹ ورک ٹائم پروٹوکو ل (این پی ٹی) سرورس اور کمپیوٹر ٹائم سرورس کے لیے قیمتی ماناتا ہے۔ اس سے کئی ہزار نینو سیکنڈ کی ایکوریسی بھی آسانی سے کم قیمت کے جی پی ایس رسیونگ اکیوپمنٹ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو، ٹیلی کام میں تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹائمنگ پلس، ٹائمنگ کلاک اور پلس کو سنکرونائزڈ کرنے کے لیے سنکرو کلاک کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سب کرنے کے لیے ایک جی پی ایس سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جی پی ایس سسٹم سیٹیلائٹ کے ساتھ صحیح وقت اور مقام کے لیے تال میل سے کام کرتا ہے۔ یہ بات دھیان دینے کی ہے کہ ایک بار جب پلس سنکرونائزڈ ہو جاتی ہے تو یہ 48 گھنٹے تک بغیر جی پی ایس کے کام کر سکتی ہے۔ یہ سب کچھ ہر ایک بیس ٹرانس مشن اسٹیشن (بی ٹی ایس) پر قائم کیا جاتا ہے۔
ملک میں قائم کیے گئے زیادہ تر بی ٹی ایس میں چینی کمپنیوں ہواویئی اور زیڈ ٹی ای کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کا استعمال ہوا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ تمام چینی بی ٹی ایس کو جی پی ایس سگنل کے لیے چینی سیٹیلائٹس پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ خطرناک ہے، کیونکہ موبائل بی ٹی ایس کے جی پی ایس ماڈیول میں بدلاؤ کرنے سے پورا کا پورا کمیونی کیشن سسٹم تباہ ہو سکتا ہے۔ کسی ناگہانی حالت میں جی پی ایس پلس کو بلاک کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے راستے میں تبدیلی کرکے اس کی ٹائمنگ بدلی جا سکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کیوں پوری طرح تباہی پھیلا دے گا۔
ملک کا 60 فیصد سی ڈی ایم اے اور جی ایس ایم موبائل کمیونی کیشن چینی وینڈرس چلاتے ہیں۔ اس لیے 60 فیصد موبائل نیٹ ورک پر سیدھا خطرہ ہے، اور اگر ایک بار یہ لڑکھڑا گیا تو باقی 40 فیصد پر اس کا بوجھ پڑے گا، جس کے نتیجہ میں پوراکا پورا موبائل کمیونی کیشن نیٹ ورک ٹھپ پڑ جائے گا۔ اس کا سب سے خراب پہلو یہ ہے کہ اس سے باہر نکلنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے جی پی ایس نیٹ ورک میں ذرا بھی خرابی آتی ہے تو پورا کمیونی کیشن نیٹ ورک اپنے آپ ہی بیٹھ جائے گا۔ اس سسٹم کو ریموٹ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے جو کہ اسے اور خطرناک بناتا ہے۔ وزارت کے کئی افسران کا ماننا ہے کہ صرف سستی تکنیک کے لیے ہم نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چینی آلات پر ضرورت سے زیادہ انحصار ایک بڑی تباہی کو دعوت دے رہی ہے۔ پالیسی ساز اس بات کو لے کر کافی فکر مند ہیں کہ مواصلات کے شعبہ میں ہو رہی یہ چینی در اندازی چینی فوج کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ چین کے ساتھ ہوئے معاہدہ میں سب سے زیادہ حیر ت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں تکنیک کی منتقلی کا کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ ہندوستانی انجینئروں کوان کے پروڈکٹ اور ورکنگ سسٹم کے بارے میں جانکاری نہیں ہے۔ ان کے پاس اس کے قیام سے قبل رائوٹر اور سوئچ جیسے مواصلاتی آلات کی حفاظت سے متعلق جانچ کرنے کے لیے بہت کم یا نہ کے برابر وسائل مہیا ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے کئی بار اعتراض جتانے کے باوجود چینی ادارے بی ایس این ایل کو مواصلاتی آلات کی سپلائی کر رہے ہیں۔یہ خفیہ طریقہ سے ذاتی بات چیت کو چوری چھپے سننے اور اسے نظر انداز کرنے کے سبب ٹیلی کام سیکورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات آئی بی نے محکمہ مواصلات سے کہی تھی۔
ریسرچ اینڈ اینالیسس وِنگ (رائ) کے ذریعہ کئی بار وارننگ دیے جانے کے باوجود حکومت ہند آگ سے کھیل کر رہی ہے۔ راء نے وزارت مواصلات کو لکھے گئے اپنے ایک نوٹ میں وارننگ دی تھی کہ چینی مواصلاتی آلات بنانے والی ہواویئی کمپنی کے چینی فوج اور چین کی وزارت دفاع کے ساتھ اندرونی تعلقات ہیں۔ حکومت اس قسم کی وارننگ کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟ یہ خبر بھی ہے کہ ہواویئی ٹکنالوجی اور زیڈ ٹی ای نے ریلائنس کمیونی کیشن کی چین کے سرکاری بینک سے 2820 کروڑ روپے کا قرض دلوانے میں مدد کی تھی، کیونکہ ریلائنس کمیونی کیشن ان سے اتنی ہی قیمت کے مواصلاتی آلات خرید رہا تھا۔ کیا اس طرح کے واقعات کے بعد انہیں آزادانہ طور پر ملک میں کام کرنے دیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے، کیونکہ 2010میں شمالی اور مشرقی مواصلاتی ژون میں ہوا ویئی اور زیڈ ٹی ای کو دیے گئے تمام جی ایس ایم کے کنٹریکٹ حفاظتی وجوہات سے ردّ کر دیے گئے تھے۔ عام طور پر کوئی بھی یہ پوچھ سکتا ہے کہ اس دور میں کیا ہوا تھا۔ اچانک حکومت کا رخ کیوں بدل گیا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انل امبانی نے چینی حکومت، چینی بینکنگ اداروں کے ساتھ ساتھ ان چینی کمپنیوں کے ساتھ کمپرومائز کر لیا ہے، جن کے چینی فوج کے ساتھ تعلقات ہیں۔ کیا یہ وہی آلات ہیں جو ریلائنس کمیونی کیشن نے ہوا ویئی سے خریدے ہیں، کیوں کہ اس کمپنی کے چینی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں سے تعلقات ہیں؟ اگر یہ قصہ ہے تو اس کا مطلب، حکومت نے پورے کے پورے مواصلاتی شعبہ کو اجاڑ دیا ہے۔ بھارتی، آئڈیا، ٹاٹا سمیت دیگر ہندوستانی ٹیلی کام کمپنیاں اپنے لیے بنیادی آلات چین سے منگاتی ہیں۔ مواصلاتی محکمہ کے چینی کمپنیوں کے ساتھ ہوئے تمام معاہدوں پر قریبی نظر رکھنی ہوگی اور جو کمپنیاں ملک کی سیکورٹی میں نقب لگاتی پائی جائیں، انہیں فوری بلیک لسٹ کردینا چاہیے۔
یہ سبھی جانتے ہیں کہ ہوا ویئی کے چینی فوج کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نے حال ہی میں مشہور و معروف چینی کمپنیوں پر روک لگائی ہے۔ آسٹریلیا نے سیکورٹی ایجنسیوں کی صلاح پر ہوا ویئی کے مواصلاتی شعبہ میں کام کرنے پر روک لگا دی ہے۔ برطانیہ کی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی کہا ہے کہ وہ ہوا ویئی کے ذریعے سائبر جاسوسی کیے جانے سے فکرمند ہیں۔ اسی طرح ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں ہوا ویئی کی چینی سیکورٹی ایجنسی سے تعلقات کی بات واضح طور پر کہی گئی ہے۔ برطانیہ کی حکومت نے بہت زیادہ خرچیلا ہونے کے باوجود، ہواویئی ملک سے وابستہ سیکورٹی کی جانکاریاں نہ چرا سکے، اس کے لیے ایک آڈیٹنگ اسٹرکچر کی تشکیل کر دی ہے اور ہواویئی کے براڈبینڈ پروجیکٹ میں آنے پر روک لگا دی ہے۔
مئی 2010 میں ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کو چین کی ہواویئی کمپنی پر شک ہے، کیوں کہ ان کے بنگلور واقع آر اینڈ ڈی بلڈنگ میں آنے جانے کی ہندوستانی اہل کاروں کو اجازت نہیں ہے۔ اخبار کے مطابق، خفیہ ایجنسیوں نے بھی اس بات پر غور کیا کہ چینی کمپنی ہواویئی کے اہل کاروں نے کئی بار بنگلور میں اپنا دفتر کئی مہینوں کے لیے بڑھا لیا تھا۔ سال 2009 کے فروری ماہ میں بی ایس این ایل نے 2500 کروڑ کی لاگت کے 90 لاکھ لائن کے آرڈر چینی کمپنی کو پی ایس یو کمپنی الاٹمنٹ کوٹے کے تحت سرکاری کمپنی آئی ٹی آئی لمیٹڈ کے ذریعے دیے۔ اس آرڈر کے تحت چینی کمپنی پوری طرح بنے ہوئے آلات کو آئی ٹی آئی کے نام پر ملک میں اِمپورٹ کر رہی تھی۔ یہ ایک کے بعد ایک شرطوں پر کام کر رہی تھی، جس کا مطلب بی ایس این ایل آئی ٹی آئی کو پیمنٹ کرے گا اور آئی ٹی آئی چینی کمپنی کو پیمنٹ کرے گی۔ جنوبی ژون کے لیے یہ آرڈر، جس میں کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالہ اور آندھرا پردیش جیسے صوبے آتے ہیں، جن میں ملک کے اہم آئی ٹی شعبے، نیوکلیئر سیکٹر، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل)، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) جیسے حساس ٹھکانے ہیں۔ جنوبی ژون کے وسط میں ان کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دے کر ملک کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا ہے، جس سے سیکورٹی ایجنسیوں کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
9 اپریل کو بی ایس این ایل کے ذریعے چینی کمپنیوں کو ٹھیکہ دیے جانے کی مخالفت میں ایک سینئر آئی بی آفیسر نے کہا کہ سیکورٹی کے موجودہ حالات کی بنیاد پر سمندری سرحد سے جڑا جنوبی ژون بھی حساس ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع کے سبب بنے ماحول کی وجہ سے جنوبی ژون زیادہ حساس ہو گیا ہے۔ اس میٹنگ کے دوران آئی بی افسر نے کہا کہ بی ایس این ایل کو چینی کمپنیوں کو یہ ٹھیکہ نہیں دینا چاہیے، کیوں کہ ان کمپنیوں کے چینی حکومت اور چینی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس لیے اس شعبہ میں ان کی موجودگی سے ملک کی سیکورٹی کو کئی طریقے سے خطرہ ہے۔ اسی طرح دوسری چینی کمپنیوں کا ٹریک ریکارڈ بھی اچھا نہیں ہے، اس لیے انہیں ملک کے کسی بھی حصے میں آنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *