ٹیم انڈیا: ایک پکچر جو پھر فلاپ ہو گئی

سلمان علی

سی سی ورلڈ ٹی 20سے پہلے یہ قیاس لگائے جا رہے تھے کہ اس مرتبہ ٹیم انڈیا ورلڈ کپ ٹرافی کی اہم دعویداروں میں سے ایک ہے۔لیکن اسے قسمت ہی کہا جائے گا کہ ٹیم انڈیا جب بھی کسی بڑے بڑے ٹورنامنٹ یامیگا ایونٹ میں حصہ لیتی ہے۔تب اس کے ساتھ ہمیشہ ’قسمت لفظ ضرور جڑ جاتا ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ رواںسال آسٹریلیا میں ہوئی کامن ویلتھ بینک سیریز میں آسٹریلیا ، سری لنکا اور ہندوستان شامل تھے، جس میں میں تینوں ٹیموں کا حساب کتاب ایسا ہو گیا تھا کہ ٹیم انڈیا کو بہترین پرفارمنس کی نہیں بلکہ دعائوںکی ضرورت پڑگئی تھی۔اس وقت دعائیں کی جا رہی تھیں کہ سری لنکا اگر آسٹریلیا سے ہار جاتا ہے تو ٹیم انڈیا آسٹریلیا سے سیمی فائنل اور فائنل کھیلے گی، لیکن اس وقت ٹیم انڈیا کی تمام امیدیں دم توڑ دیتی ہیں ، جب سری لنکا ایک سنسنی خیز مقابلہ میں آسٹریلیا کو ہرا دیتا ہے۔اس کے بعد بنگلہ دیش میں میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں بھی کچھ ایسا ہی حال دیکھنے ملا، جہاں یہ دعائیں مانگی جا رہی تھی کہ اگر سری لنکا، بنگلہ دیش کو ہرا دیتا ہے تو ٹیم انڈیا اور پاکستان فائنل میں کھیلیںگی۔ لیکن بنگلہ دیش نے بھی ہندوستان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

لہٰذا اب ورلڈ ٹی 20میں بھی ٹیم انڈیا اعدادو شمار کے جال میں کچھ ایسی الجھی کہ اسے گھر واپسی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔آخر کیوں ہمیشہ ٹیم انڈیا کے ساتھ ہوتا ہے؟جب کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں ایک سے زائد ٹیمیں حصہ لیتی ہیں تو اس میں ایک ایک اوور اور رن کی اہمیت بے حد زیادہ ہوتی ہے۔پاکستان سے کھیلے گئے مقابلہ میں ٹیم انڈیا نے پاکستان کو شکست تو دے دی لیکن اس میں اس نے اپنے رن ریٹ کی طرف دھیان نہیں دیا۔ اگر کریز پر موجود وراٹ کوہلی ایک گیند پہلے اس ہدف کو حاصل کر لیتے تو ہندوستان کا رن ریٹ پاکستان سے بہتر ہو جاتا۔ ان سب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو آسٹریلیا نے ٹیم انڈیا کو گھر کا راستہ دکھانے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ جس نے 28اکتوبر کو ہوئے مقابلہ میں پہلے انڈیا کو بڑے فرق سے ہرایا اورخود پاکستان سے بڑے فرق سے ہار گیا۔ دراصل آسٹریلیا اس مقابلہ میں پاکستان سے جیتنا ہی نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے سیمی فائنل میں رسائی کے لئے 112رن کا ہدف حاصل کرنا تھا جبکہ پاکستان نے اسے جیتنے کے لئے 149رن کا ہدف دیاتھا، جو آسٹریلیائی ٹیم نہ بنا سکی اور 117رن بنا کر آسٹریلیا نے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔کیونکہ اس مقابلہ میں شکست آسٹریلیا کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔لہٰذا کپتان دھونی کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہئے کہ قسمت ہر وقت ساتھ نہیں دیتی اور یہی قسمت کا پھیر ہے۔آسٹریلیا کے خلاف انھوں نے پانچ بالرز کا استعمال کیا،جس میں تین اسپنرز کو شامل کیا گیا۔ کپتان دھونی کا یہی فیصلہ بے حد حیران کرنے والا تھا۔ جس کی وجہ سے ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف ہار کا منھ دیکھنا پڑا۔معلوم نہیں کہ دھونی نے تین اسپنرز کو شامل کرنے کا فیصلہ کیوںکیااور سہواگ کو نہ کھلانے کا کیوں؟ جبکہ ٹیم میں کئی پارٹ ٹائم اسپنر موجود ہیں۔ساتھ ہی انہیں یہ بھی سمجھنا چاہئے تھا کہ آسٹریلیا جیسی ٹیم کے سامنے ہمیں زیادہ سے زیادہ اسکور بے حد ضروری ہیں، جس کے لئے بلے بازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن دھونی نے ایسا کرنے میں ناکام رہے۔کسی بھی ہار کی وجہ تلاش کرنا بے حد آسان ہوتا ہے، لیکن مشکل تو صرف یہ ہوتا ہے کہ ان غلطیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان پر غور کر کے ان میں اصلاح کی جائے۔ٹیم انڈیا کو بوریا بستر بندھوانے میں قسمت کا بہت بڑا ہاتھ رہا۔آخر کیوں ہمیں ہمیشہ دعائوں کی ضرورت رہتی ہے ، کیوں ہمیشہ کسی بڑے ٹورنامنٹ میں ٹیم انڈیا خراب پرفارمینس دکھاکر سارے اعداد و شمار کی شکار ہو جاتی ہے۔
کھلاڑیوں کی فٹنس
یوراج سنگھ نے بھلے ہی مین آف دی میچ کا خطاب حاصل کیا ہو، لیکن ابھی بھی وہ میدان پر ایک اوور بالنگ کے بعد بجھے بجھے دکھائی دیتے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ ابھی وہ پوری طرح فٹ نہیں ہیں۔بات اگر ظہیر خان اور ویریندر سہواگ کی کی جائے تو ان پر فٹنس کی تلوار لٹکی ہے۔
لہٰذا، اب کپتان مہندر سنگھ دھونی کو اپنی غلطیوںسے سبق ضرور لینا چاہئے۔کیونکہ انھوں نے نے ٹیم میں بھاری پھیر بدل کر کے ٹیم کا بیلنس بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔قسمت کی ایک اور بڑی الٹ پھیر اور دیکھیے کہ ویسٹ انڈیز نے گروپ مقابلوں میں ایک میچ بھی نہیں جیتا ، لیکن آج وہ سیمی فائنل میں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *