شیخاوٹی: ترقی کی راہ میں بڑھتے قدم

پرینکا تیواری 
آرگینک کھیتی میں ’ایم آر مرارکا جی ڈی سی رورل ریسرچ فائونڈیشن‘ کی کوشش قابلِ ستائش ہے۔ اس کی وجہ سے آج آرگینک کھیتی میں راجستھان کا نام نمایاں طور پر سامنے آنے لگا ہے۔ آرگینک کھیتی نے یہاں کے کسانوں کی تقدیر بدل دی ہے۔ کسان اب کم لاگت میں زیادہ پیداوار کر رہے ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً 20 سال پہلے مرارکا فائونڈیشن نے کام کرنا شروع کیا تھا۔ اس علاقے میں کیمیاوی کھاد کے استعمال سے کھیتوں کی کم ہورہی پیداواری صلاحیت اور انسانی صحت کو کئی طرح کے نقصانوں سے بچانے کے لیے آرگینک کھیتی کا نیا انقلاب شروع کیا گیا۔ پوری دنیا میںفصل کی بیماریوں اور خطرناک حشرات الارض سے بچانے کے لیے کیڑے مار دواؤں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس سے پیداوار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ ان کیمیاوی مادّوں کے سائڈ افیکٹ سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ان مادّوں سے فائدہ کم اور نقصان کہیں زیادہ ہے۔ اس کے استعمال سے انسان کی صحت پر کئی طرح کے برے اثرات دیکھے گئے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان خطرناک کیمیاوی مادّوں کے استعمال کرنے کے بعد بھی ان حشرات کی کم سے کم پانچ فیصد تعداد بچ جاتی ہے اور خود میں ان سے سامنا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے۔ یہی دفاعی صلاحیت والے حشرات دھیرے دھیرے اسی صلاحیت والی نئی نسل کو جنم دینے لگتے ہیں، جس سے ان پر کیڑے مار دوائوں کا اثر نہیں ہوتا ہے اور پھر انہیں ختم کرنے کے لیے زیادہ پاور والی ، زیادہ زہریلی دوا استعمال کرنی پڑتی ہے۔

شیخاوٹی کے جھن جھنوں، چورو اور سیکر ضلع کے کسان مرارکا فائونڈیشن کے ربط میں آنے اور یہاںسے ٹریننگ لینے کے بعد اپنی زمین میں آرگینک کھیتی کر رہے ہیں ۔یہ کسان خود ہی کم لاگت میں ورمی کمپوسٹ، ورمی واش جیسی آرگنک کھاد اور کیڑے روکنے والی دوا بنا لیتے ہیں۔ پانی کی کمی سے نجات پانے کے لیے مرارکا فائونڈیشن کے سائنس دانوں نے نئی ٹیکنک ایجاد کی ہے، جس کا نام ’’ ہائڈروپونک ٹیکنک ‘ ہے۔ اس کے بارے میں مرارکا فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مکیش گپتا بتاتے ہیں کہ اس ٹیکنک کوانہوں نے سنگاپور حکومت کی اپیل پر تیار کیا ہے۔ زمین کی کمی کی وجہ سے سنگاپور حکومت نے فائونڈیشن سے چھت گارڈیننگ کے لیے ایک ٹکنالوجی تیار کرنے کی گزارش کی تھی۔ مکیش گپتا کہتے ہیں کہ اس ٹیکنک کے تحت سبزی کی کھیتی آسانی سے کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ کسان کھیت میں جب ان زہریلے کیمیاوی مادّوں کا چھڑکائو کرتے ہیں تو اس کے ضرر رساں عناصر فصل میں بھی چلے جاتے ہیںاور یہ انسان کے جسم میں پہنچ کر کئی طرح کے لا علاج مرض کو جنم دیتے ہیں۔ یہ کیمیاوی مادّے سلو پوائزن کی طرح کام کرتے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے روایتی وسائل سے بہتر متبادل کچھ اور نہیں ہوسکتا ۔مرارکا فائونڈیشن کی کوششوں سے نہ صرف ہماری صحت بلکہ یہاں کے کسانوں کی بھی حالت بہتر اور خوشحال ہورہی ہے۔
شیخاوٹی کے جھن جھنوں، چورو اور سیکر ضلع کے کسان مرارکا فائونڈیشن کے ربط میں آنے اور یہاںسے ٹریننگ لینے کے بعد اپنی زمین میں آرگینک کھیتی کر رہے ہیں ۔یہ کسان خود ہی کم لاگت میں ورمی کمپوسٹ، ورمی واش جیسی آرگنک کھاد اور کیڑے روکنے والی دوا بنا لیتے ہیں۔ پانی کی کمی سے نجات پانے کے لیے مرارکا فائونڈیشن کے سائنس دانوں نے نئی ٹیکنک ایجاد کی ہے، جس کا نام ’’ ہائڈروپونک ٹیکنک ‘ ہے۔ اس کے بارے میں مرارکا فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مکیش گپتا بتاتے ہیں کہ اس ٹیکنک کوانہوں نے سنگاپور حکومت کی اپیل پر تیار کیا ہے۔ زمین کی کمی کی وجہ سے سنگاپور حکومت نے فائونڈیشن سے چھت گارڈیننگ کے لیے ایک ٹکنالوجی تیار کرنے کی گزارش کی تھی۔ مکیش گپتا کہتے ہیں کہ اس ٹیکنک کے تحت سبزی کی کھیتی آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ اس ٹیکنک میں پائپ کی کئی سطحیں بچھا کر ان میں پلاسٹک کا چھوٹا چھوٹا گلاس ڈال دیا جاتا ہے اور پھر ان میں پودے تیار کیے جاتے ہیں اور پانی رِس کر پودے تک پہنچتا ہے۔اس کے علاوہ فائونڈیشن نے ٹرے کلٹی ویشن ٹیکنک بھی تیار کی ہے، جس میں بہت کم زمین میں زیادہ سے زیادہ پیداوار ہوسکتی ہے۔ فائونڈیشن کی کوششوں سے اب یہاں کے ہزاروں کسانوں نے کیمیاوی کھاد یا پیسٹی سائڈ کا استعمال بالکل بند کردیا ہے۔ مرارکا فائونڈیشن ان کسانوں کو نہ صرف آرگینک کھیتی کے لیے حوصلہ افزائی کررہا ہے بلکہ انہیں ان کی پیداوار کی مناسب قیمت اور ایک بڑا بازار بھی مہیا کرا رہا ہے۔ ملک بھر میںپھیلے ’ڈائون ٹو ارتھ‘ رٹیل سینٹر کسانوں کی پیداوار کو ملک و بیرون ملک پہنچانے کے ساتھ ساتھ فوڈ پروسیسنگ کے ذریعہ پیداوار کی خوبیوں کو بڑھانے کا کام بھی کر رہا ہے۔
مکیش گپتا کہتے ہیںکہ یہاں آرگینک کھیتی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ دیسی قسم کے اناج کی کھیتی کو بڑھاوا ملا ہے۔ اب تک عام کسانوں کے ذریعہ نئے اور مکس بیجوں کا استعمال کیا جارہا تھا لیکن آرگینک کھیتی کرنے والے کسانوں نے بہتر نتیجہ پانے کے لیے پھر سے دیسی قسم کے اناجوں کی پیداوار شروع کردی ہے۔ اس کے علاوہ، آرگینک اناج صحت کے اعتبار سے بھی کافی فائدہ مند ہے۔ اچھی صحت پانے کے لیے اب لوگ موٹے اناج کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ آرگینک اناج کی شفافیت اور لذت کا کوئی جوڑ نہیں ہے اور یہ اناج پیٹ کی بیماریوں کے لیے مفید ثابت ہوا ہے۔ ویسے بھی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی موٹا اناج فائدہ مند ثابت ہو اہے۔ ساتھ ہی مکیش گپتا کہتے ہیں کہ راجستھان، مدھیہ پردیش، اترانچل، ہماچل پردیش سمیت کئی ریاستوں میں ہمارا فائونڈیشن کسانوں کو آرگینک کھیتی کی ٹریننگ بھی دے رہا ہے۔ جو بھی کسان آرگینک طریقے سے کھیتی کرتے ہیں، پہلے ان کی پیداوار کا سرٹیفکیشن کیا جاتاہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ پیداوار واقعی آرگینک ہے۔ یہ کام کچھ منظور شدہ ایجنسیاں کرتی ہیں۔ ہمارے فائونڈیشن کے بھی ملک بھر میں کئی جگہ ’ڈائون ٹو ارتھ‘ نام سے رٹیل آئوٹ لیٹس ہیں، جہاں آرگینک پیدوار فروخت کرنے کے لیے مہیا ہوتاہے۔ ان آؤٹ لیٹس کے ذریعہ بھی ہم کسانوں کو بازار مہیا کرا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کسان خود بھی اپنی پیداوار منڈی میں جا کر بیچتا ہے۔
کسان کال سینٹر، ویربالا پروجیکٹ
راجستھان اپنی روایتی اور تہذیبی وراثت کے لیے مشہور ہے۔ راجستھان کی عورتوں کی بہادری کے قصے تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔ آج بھی یہاں کی عورتیں مردوں کے کندھے سے کندھا ملا کر چل رہی ہیں ۔ یہاں کی روایت اور تہذیب پوری دنیا میں مشہور ہے، جو آج بھی یہاں کی عورتوں کی بدولت زندہ ہے۔ پردہ یہاں کی تہذیب کا حصہ ہے، لیکن یہ روایت انہیں گھر کی چہار دیواری میں نہیں سمیٹتی۔ وہ اپنی اس روایت اور پہچان کے ساتھ ہائی ٹیک دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چل رہی ہیں۔ پردہ ان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ہے۔ مرارکا فائونڈیشن کی کوششوں کے تحت یہاں کسانوں کو کاشتکاری سے متعلق جانکاریاں یہاں کی لڑکیاں دیتی ہیں۔’ کسان کال سینٹر‘ میں کام کر رہی لکشمی شیخاوت کہتی ہیں کہ گھونگھٹ ہماری تہذیب ہے، ہم راجپوتانی ہیں۔ ہمیں اپنی تہذیب پر فخر ہے۔ لکشمی بی کام کی پڑھائی کرنے کے ساتھ ساتھ کسان کال سینٹر میں بھی کام کرتی ہیں۔ وہ کافی ٹکنالوجی فرینڈلی ہیں۔ نول گڑھ کے ہنساسن گائوں میں ویر بالا اِنسنٹیو پروجیکٹ کے تحت راجپوت سماج کی لڑکیوں کو کمپیوٹر کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ راجپوت سماج کی لڑکیاں عام طور پر پردے کرتی ہیں اور گھر سے باہر بھی نہیں نکلتی ہیں ۔ ایسے میں مرارکا فائونڈیشن نے ان لڑکیوں کو انہی کے گائوں میں ڈاٹا انٹری کی ٹریننگ دی۔ اس کے تحت لڑکیوں کو کمپیوٹر ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے بارے میں ٹریننگ دی گئی۔ اس کے بعد انہیں آرگینک کھیتی کرنے والے کسانوں کی فارم ڈائری ( اس میں کسانوں کے ذریعہ فصل کی جانکاری ہوتی ہے) کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے اس کے ریکارڈ کوکمپیوٹر میں فیڈ کرنے کی ٹریننگ دی گئی۔ ان لڑکیوںکو فائونڈیشن نے ویر بالا کا نام دیا ہے۔ انہیں کام کرنے کے لیے کمپیوٹر اور دیگر آلات مہیا کرائے گئے۔ ویر بالا پروجیکٹ کی دیکھ ریکھ کر رہے مکیش گپتا کہتے ہیں کہ ان لڑکیوںمیں کچھ سیکھنے اور کرنے کی چاہت ہے۔ ان ویر بالا ئوں نے ان کو سونپے گئے کام کافی مخلصانہ اور ذمہ داری سے انجام دیے ہیں۔ کسان کال سینٹر میں کام کر رہی لکشمی شیخاوت کہتی ہیں کہ ’’گھر والوں نے پڑھنے سے کبھی نہیں روکا، لیکن وہ باہر کہیں جاکر نوکری کرنے کے خلاف تھے، جب کہ میں اپنی پہچان بنانا چاہتی تھی۔ اپنے بل بوتے پر کچھ کر گزرنے کی چاہت تھی۔ 19 سال کی عمر میں شادی ہو گئی، شوہر دبئی میں رہتے ہیں۔ لکشمی ایک بیٹی کی ماں بھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بیٹی کو تیار کر کے اسکول بھیجنا اور ساس سسر کا خیال رکھنا یہی میرا روزانہ کا معمول تھا، لیکن ان کاموں سے نمٹ کر بارہ ایک بجے تک میں سارے کام سے فارغ ہوجاتی تھی۔ ہم راجپوتانی ہیں، اس لیے کہیں آنا جانا بھی نہیں ہوتا۔ یہ وقت مجھے کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ ایسے میں میری ایک دوست کے ذریعہ سے کسان کال سینٹر کے بارے میں جانکاری ملی۔ میں نے اپنے شوہر سے بات کی ان کے کہنے پر تھوڑی مخالفت کے بعد میرے ساس سسر بھی مان گئے۔ میرے خاندان والے بھی مجھے سپورٹ کرتے ہیں۔ کسان کال سینٹر میں میرا کام دوپہر دو بجے سے چار بجے تک کا ہوتاہے۔‘‘ یہیں کام کر رہی سروج کنور کہتی ہیں کہ ’’پڑھنے لکھنے کے بعد بھی کچھ نہ کرنے کا افسوس تھا۔ راجپوت گھرانوں کی عورتوں کو پردے میں رہنا ہوتاہے۔ ایسے میں باہر جاکر کام کرنا ممکن نہیں، لیکن مرارکا فائونڈیشن نے مجھے کام اور پہچان دونوں دیا۔‘‘ یہاں آنے والی لڑکیاں پڑھی لکھی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ ’’ہم ساتھ کام کرتے ہیں اور کام کے بعد ایک دوسرے سے دنیا جہان کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں۔جب میڈیا والے آتے ہیں اور ہم سے ہمارے کام کے بارے میں پوچھتے ہیں، ہماری تصویر کھینچ لے جاتے ہیں تب ہمیں ہمارے وجود کا احساس ہوتاہے۔ ہمیں خود پر فخر محسوس ہوتاہے۔ یہ مرارکا فائوڈیشن کی کوشش کے بغیر ممکن نہ تھا۔ ‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *