شریعت اور عقل دونوں جبری شادی کے خلاف

اسد مفتی 
گزشتہ ہفتے ’جیو چینل‘ پر جنگ فورم لندن کا جبری شادیوں کے بارے میں ایک خصوصی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا، جسے جنگ لندن کے ایڈیٹر اور جیو چینل لندن کے چیف ایگزکیٹو افتخار قیصر نے حسب معمول سلیقے اور قرینے سے پیش کیا۔ یو کے میں بسنے والی ایشیائی کمیونٹی (بالخصوص پاکستانی) میں جبری ، بے جوڑ اور سہولت کی شادیوں کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے یا کرگیا ہے۔ اس بات کا اظہار یا انکشاف افتخار قیصر کے اس خصوصی ٹی وی پروگرام میں بخوبی کیا گیا ہے۔ میرے حساب سے یہ ایک ’یوروپ گیر‘ شو تھا جسے اسکارٹ لینڈ کے شہر ڈنڈی میں ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ اسکارٹ لینڈ میں جبری شادیوں کو مجرمانہ عمل قرار دے دیا گیا ہے اور ایسا کرانے والے والدین ، عزیز و اقارب یا سر پرستوں کو دو سال تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ برطانیہ ، اسکارٹ لینڈ اور آئر لینڈ کی ایشیائی کمیونٹی میں جبری اور بے جوڑ شادیوں کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق صرف اسکارٹ لینڈ میں ہر سال لگ بھگ ساڑھے تین سو ایشیائی ( جن میں پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے) شادیاں ہوتی ہیں ،جن میں پچاس فیصد شادیاں جبری یا بے جوڑ شادیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس قسم کی صورت حال سے جوڑے کے علاوہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ نسلی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ کونسل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 98 فیصد شادیوں میں ایک فریق کا تعلق غیر ملک سے ہوتا ہے ، 79 فیصد شادیاں معاوضہ، بے جوڑ اور مفادات پر مبنی ہوتی ہیں۔ ( جنہیں سہولت کی شادی بھی کہا جاتاہے) جبکہ 21 فیصد خالصاً جبری تھیں ، شادی کرنے والی خواتین کا تناسب 62 فیصد اور مردوں کا تناسب 38 فیصد تھا جبکہ 35 فیصد کو ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ جبری شادی پر مجبور کئے جانے والی خواتین کی عمر 16سے20 سال کے درمیان تھی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ، اسکارٹ لینڈ اور آئر لینڈ میں مرضی اور منشا کے خلاف زبردستی شادیوں کینتیجہ میں بعض لڑکیاں خود کشی تک کر بیٹھتی ہیں اور یہ بات آپ کے گوش گزار کرنی میرے لئے بے حد ضروری ہے کہ خود کشی کی شرح ایشیائی لڑکیوں میں دیگر خواتین کی بہ نسبت تین گنا زیادہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ایک نئے قانون کو ملک میں متعارف کرادیا ہے جس سے ان افراد کے خلاف جنسی جرائم ، اغوا اور حبس بے جا کے قانون تک کا مقدمہ چلایا جا سکے گا جن پر زبردستی یا جبر کی شادی کا الزام ثابت ہوجائے گا۔ آنے والے وقت میں انگلستان میں مقیم پاکستان، ہندوستان اور دوسرے ایشیائی والدین اپنے بچوں کی جبری شادی کروانے پر اب کڑی سزا کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے حوالے سے بھی خبر آچکی ہے ۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ حکومت جبری اور بوگس شادیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گی ۔ علاوہ ازیں نائب وزیر اعظم نے بھی یوروپین اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظم گروہ بوگس شادیاں اور سہولت کی شادیاں کروا کے بھاری رقم بٹور رہا ہے ۔میرے نزدیک یہ بھی جبری شادیوں جیسے جرائم ہیں اور ایسی شادی کے لئے کسی بھی ایشیائی ملک سے آنے والے کو برطانیہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس لئے قانون کے تحت کسی ایشیائی والدین کے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنے بیٹے بیٹی یا بھائی بہن کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کرسکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سالانہ 12 سو شادیاں والدین کی مرضی (ارینج) سے ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر لڑکیاں شامل ہیں مگر اب آئندہ ایسا نہیں ہوسکے گا۔ میرے حساب سے جبری شادی نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور معیار کی بھی خلاف ورزی ہے۔ نہ ہی مذہب یا کلچر کے حوالے سے اس کا جواز پیش کیا جاسکتاہے ۔ ہمارے مقابلے میں ہندوستانی کمیونٹی میں اگرچہ اس قسم کی بے جوڑ اور جبری شادیوں کی مثال خال خال ہے تاہم پورے بر صغیر میں اس کا رواج ہے۔ جو مذہبی راہنما شادی جیسے خوشگوار واقعہ کو والدین کی صوابدید پر چھوڑنے کے حق میں ہیں۔ میرے حساب سے وہ مذہب کی روح کو نہیں سمجھتے لیکن خدا کا مقرب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اسلام کا نقطۂ نظر قانون ِ نکاح و طلاق میں بالکل واضح اور بے غبار ہے۔ جس طرح اسلام کا مطلب امن و سلامتی ہے اسی طرح شادی کا مطلب خوشی و تسکین و راحت ہے۔ اسلام میں شادی کا مقصد یہ ہے کہ نفس کی تسکین ہو، دل کو راحت ملے ، ضمیر کو استقرار حاصل ہواور مرد و عورت میںمحبت ، رحم و ہمدردی ، یکسانیت و ہم آہنگی ،باہمی تعاون ، آپس کی شفقت و مہربانی اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کے ساتھ زندگی گزاریں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب دونوں فریقوں کی شادی بلا جبر ،بلا دھونس دھمکی اور لالچ کیہو اور جس میں سو فیصد رضامندی اور محبت شامل ہو۔ جب اسلام میں جبر نہیں تو اسلامی شادی میں جبر کیسے روا ہوسکتا ہے؟اسلام نے عورت کو جیسے اور جتنے بھی حقوق دیے ہیں ا س میں پہلی چیز شریک حیات کے انتخاب میں اس کی پسند اور معیار کا خیال رکھنا اور نکاح کے وقت سو فیصد اس کی رضامندی ہے جس کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔ یہاں میں عہدِ رسالت کا ایک واقعہ ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک مالدار شخص سے کردیا۔ لڑکی اس کو پسند نہیں کرتی تھی۔ اس نے نبی کریم سے عرض کیا کہ میرے والد نے میری شادی اپنے دولت مند بھتیجے سے کردی ہے تاکہ مجھ کو پھنسا کر اپنے عیش و عشرت کا سامان کرے۔ آپ نے فرمایا !تجھ کو یہ عقد پسند نہیںٰ تو تو آزاد ہے۔ تو اس لڑکی نے جواب دیا۔ میرے والد نے جو اقدام کیا ہے اس کو میں بحال کرتی ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ عورتوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی مرضی کے خلاف والدین کو ان کے نکاح کا حق نہیں ہے(مسند احمد ج 2 ص 136)اس طرح جبر کے خلاف ایک اور تاریخی واقعہ پیش خدمت ہے۔ دورِ رسالت میں چونکہ خواتین مساجد کو جایا کرتی تھیں۔ حضرت عمرؓ کو اپنی بیوی حضرت عاتکہ کا مسجد جانا پسند نہ تھا۔ لیکن حضرت عاتکہ شریعت کی اس ایک رعایت کا فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں۔ لہٰذا انہوں نے اپنا طریقہ نہ چھوڑا اور حضرت عمرؓ نے بھی خلیفہ وقت ہونے کے باوجود یہ گوارہ نہ کیا کہ ان کو زبردستی اس سے محروم کریں( بخاری )
آخر میں والدین اور مذہبی راہنمائوں جو جبری شادیوں (یا کوئی بھی نام دے لیں) کے قائل ہیں سے میں گزارش کروں گا کہ وہ اسلام کے قوانین کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیں اور معاشرے کو بگاڑنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرنے سے اجتناب کریں کہ یہی ان کے اور معاشرے کے حق میں بہتر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *