سربجیت کی کہانی : وکیل نے برباد کر دئے 19سال

اویس شیخ 
میری ملاقات سربجیت سنگھ کی بہن اور اس کی بیٹیوں، سوپن دیپ اور پونم دیپ سے 10 دسمبر 2008 کو امرتسر میں ایک پروگرام کے دوران ہوئی۔ یہ میرے لیے ایک بے حد تعجب کی بات تھی، کیونکہ اس دوران 26 نومبر کو ممبئی میں دہشت گردانہ حملہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی حالت بنی ہوئی تھی۔ ایک کے علاوہ اس حملہ میں شامل سارے دہشت گرد مارے گئے تھے۔ زندہ بچے دہشت گرد کا نام اجمل قصا ب تھا، جس کے ذریعہ لوگوں پر حملہ کی تصویریں اور فوٹیج ساری دنیا میں دیکھے گئے تھے۔ اس نے یہ بیان دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاکستان سے کشتی کے ذریعہ آیا تھا۔ اس سے ہندوستان میں ہلچل بڑھ گئی تھی۔ ہندوستانی فوج کو پاکستان کی سرحد پر تعینات کر دیاگیا تھا۔ پاکستان نے بھی اپنی فوج کو الرٹ کر دیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی حالت پیدا ہو گئی تھی۔ اس وقت پاکستانی وزیر خارجہ نے ہندوستانی وزیرخارجہ سے ملاقات کی۔ اس سے پہلے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے یہ اعلان کر دیاتھا کہ ہندوستان کے خلاف پاکستان ایٹمی جنگ کی شروعات نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہندوستان کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا ہے۔ تب دونوں ملکوں کے درمیان پھر سے تجارت شروع کر نے اور ویزا کے ضابطوں میں نرمی جیسے موضوعات پر بات چیت چل رہی تھی۔

سربجیت کا وکیل سپریم کورٹ میں حاضر ہونے میں ناکام رہا۔ کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ24 جون2009 مقرر کی گئی۔ جج نے کہا کہ اگر ڈ ٖیفنس کاوکیل تب بھی غیر حاضر رہتا ہے تو اس معاملہ کا فیصلہ پہلیرکھے گئے موقف کی بنیادپر کیا جائے گا۔ میں نے جناب حمید سے کسی بھی حالت میں اگلی تاریخ پر کورٹ کے سامنے حاضر ہونے کے لیے کہا، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور کورٹ نے سربجیت کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔ جب میں نے جناب حمید سے اس سلسلہ میں بات کی تو انھوں نے کہا کہ وہ پنجاب صوبہ کے ایدیشنل ایڈووکیٹ ہیں۔اس وجہ سے یہ کیس نہیں لڑ سکتے ہیں۔

اس دوران ہوئے حملے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کو نقصان پہنچانا تھا۔ وہ لوگ ہند و پاک کے تعلقات جوں کے تو ں رکھنا چاہتے تھے۔ ایسے لوگ اب چھپے ہوئے نہیں تھے۔ دونوں ہی ملکوںکے لوگ اب انھیں پہچان سکتے تھے۔ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے، مگر اس واقعہ کا الزام اس پر منڈھ دیا گیا۔ پہلے جب اٹل بہاری واجپئی اور نواز شریف لاہور کے گورنر ہاؤس میں بات چیت کر رہے تھے، اس وقت پاکستان کارگل جنگ کی تیاری میں جٹا تھا۔ اس واقعہ نے بین ا لاقوامی سطح پر پاکستان کی شبیہ کو متا ثر کیا تھا۔ کارگل جنگ نے دونوںملکوں کے درمیان چل رہے امن مذاکرات کو نگل لیا تھا۔ اسی طرح 2001 میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر ہوا حملہ دہشت گردی کی ایک گھناؤنی مثال ہے۔ اس سے ہند و پاک کے تعلقات کو زبردست جھٹکا لگا تھا۔ اسی طرح سمجھوتہ ایکسپر یس میں ہوا دھماکہ ہندوستانی انتہا پسندوں کے ذریعہ کیا گیا کام تھا۔ ہندو دہشت گرد تنظیموںنے اس میں حصہ لیا تھا۔ وہ 2002 میں گجرات میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں بھی شامل تھے۔ بابری مسجد کا انہدام بھی ایک گھناؤنی حرکت تھی۔
اس کے باوجود دونوں ملکوں کے امن پسند لوگوں نے اپنے اپنے ملک کی سرکاروں پر مشترکہ مذاکرات کو پھر سے بحال کرنے کا دباؤ بنایا۔ ایک بار دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کر تے ہوئے کہا تھا کہ کسی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ ہند و پاک کے بیچ چل رہے مشترکہ مذاکرات کا رخ پلٹ سکے۔ ہم ایک اچھے پڑوسی کی طرح رہنے کے لیے مجبور ہیں۔ لیکن افسوس، یہ بات غلط ثابت ہوئی۔ ممبئی کے واقعہ کے بعد تو دونوں ہی ملکوں کی صورت حال خطرناک حد تک پہنچ گئی تھی۔ پاکستان کو ڈر تھاکہ ہندوستان کہیں اس پر حملہ نہ کر دے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کل جماعتی میٹنگ بلائی۔ دونوں ہی ملکوں کے لوگ جنگ کے دوران ہو سکنے والے ایٹمی حملے کے خدشہ کو لے کر سکتہ میں تھے۔ اس اہم موقع پر میں نے امن کی بحالی کے لیے ہندوستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ عید کا دن تھا، جب میری ماں اور میرے خاندان نے مجھ پر یہ پر خطر سفر نہ کر نے کا دباؤ بنایا۔
میں مانتا ہوں کہ پیس ورکرس اینڈ میسنجرس کوٹکراؤ کے وقت اپنا رول نبھانا چاہیے۔ میں دوستی بس میں سفر کرنے والا اکیلاشخص تھا۔ ہندوستانی حقوق انسانی تنظیم کے صدر، یو کے دُوا نے میرا خیر مقدم کیا ۔ میں چار سو لوگوں کے اس جلسے میں اکیلا پاکستانی تھا۔ جنگ کے خدشہ کے ماحول میں سبھی سامعین کے لیے وہاں ایک پاکستانی کی موجودگی حیرت انگیز تھی۔ یو این کی ڈائرکٹرشالنی دیوان ، پنجاب کی وزیر صحت لکشمی چاؤلہ اور امرتسر کے ایس ایس پی اس جلسے میں موجود تھے۔ شام کے اجلاس کے دوران دو بچیوں کے ساتھ ایک خاتون ہال میں داخل ہوئی۔ میڈیا کی ایک ٹیم ان کے ساتھ تھی۔ مجھے پتہ چلا کہ وہ خاتون سربجیت کی بہن دلبیر کور اور دونوں بچیاں، سوپن دیپ اور پونم دیپ اس کی بیٹیاں ہیں۔ دلبیر کور میرے پاس آئی اور کہا، میں آپ سے اپنے بھائی کی مدد کے لیے فریاد کر تی ہوں۔ اس بات نے میرے دل کو چھو لیااور میں نے احترام کے ساتھ جواب دیا، آپ کے بھائی کو جیل سے باہر لانا اب میری زندگی کا مقصد ہوگا۔ بعد میں ہم سب واگھہ بورڈر تک ساتھ آئے، جہاں ڈیلی گیٹس نے امن دیپ جلائے۔ اللہ کا شکر ہے کہ دونوںہی ملک اس پریشانی سے باہر آگئے تھے اورجنگ ٹل گئی تھی۔
پاکستان کے ایک اسکول، بیکن ہائوس میں مجھے ایک تقریری مقابلے کے فیصلہ کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ فیصلہ کے لیے ایک دوسر ے وکیل صاحب بھی موجود تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ صاحب ہندوستانی قیدی سربجیت سنگھ کے وکیل ہیں۔ یہ جانکاری ملتے ہی میں نے ان سے کہا، میں سربجیت کی بیٹیوں اور بہن سے امرتسر میں ملا تھا۔ میں نے ان سے تفصیل کے ساتھ کیس کی جانکاری چاہی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس کیس پر تھوڑی زیادہ توجہ دیں۔ جون 2009 میں ایک خبر آئی، جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ سربجیت کا وکیل سپریم کورٹ میں حاضر ہونے میں ناکام رہا۔ کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ 24 جون 2009 مقرر کی گئی۔ جج نے کہا کہ اگر ڈیفنس کاوکیل تب بھی غیر حاضر رہتا ہے تو اس معاملہ کا فیصلہ پہلے رکھے گئے موقف کی بنیادپر کیا جائے گا۔ میں نے جناب رانا حمید سے کسی بھی حالت میں اگلی تاریخ پر کورٹ کے سامنے حاضر ہونے کے لیے کہا، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور کورٹ نے سربجیت کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔ جب میں نے جناب حمید سے اس سلسلہ میں بات کی تو انھوں نے کہا کہ وہ پنجاب صوبہ کے ایدیشنل ایڈووکیٹ ہیں، اس وجہ سے یہ کیس نہیں لڑ سکتے ہیں۔ تب میں نے کہا کہ آپ اس معاملہ میں کورٹ کو خط لکھ سکتے تھے یا اے او آر (ایڈووکیٹ آن ریکارڈ) کو کارروائی میں شامل ہونے کے لیے کہہ سکتے تھے۔
میری درخواست پر انھوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی اور میں نے اس کی کچھ کلپنگس دلبیر کور کو بھی بھیجیں۔ اس نے ہندوستان میں طوفان برپا کردیا۔ اس ایک طرفہ فیصلہ کی وجہ سے لوگوں کو دکھ تھا اور غصہ بھی۔ ہندوستانی پریس نے رانا حمید کی بہت تنقید کی۔ سربجیت کی بہن اور بیوی نے مجھے بتایا کہ انھوں نے رانا حمید کو سربجیت کی پیروی کرنے کے لیے بطور فیس پانچ لاکھ روپے دیے تھے، لیکن اس نے ہمیں دھوکہ دیا۔ رانا صاحب نے بتایا کہ انھوں نے پانچ نہیں، صرف تین لاکھ روپے بطور فیس لیے تھے۔ 28 جون کو میں نے دلبیر کور کو ٹیلیفون پر بتایا کہ میں سربجیت کا اگلا وکیل بن گیا ہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ اس کے لیے میں ان سے کوئی فیس نہیں لوں گا۔ اسی دن مجھے ای میل کے ذریعہ پاور آف اٹارنی بھی مل گئی۔ پنجاب کے ہوم سکریٹری نے سینٹرل جیل کے سپر نٹنڈنٹ کو میری پاور آف اٹارنی رجسٹر کر نے کا حکم دیا۔ یہ بات جنگل کی آگ کی طرح ہر جگہ پھیل گئی۔ 3 جولائی کو جب میں کوٹ لکھپت جیل پہنچا، تو پاکستانی اور غیر ملکی میڈیاکا ہجوم دیکھ کرحیرت زدہ ہو گیا۔جیل کے افسران اس بات کو قبول نہیں کر پا رہے تھے کہ سربجیت کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط ہو گئے تھے، اس کے باوجود پھانسی کے ٹھیک چار دن پہلے صدر مشرف نے صرف ایک مہینے کے لیے پھانسی پر روک لگادی تھی۔ جب سربجیت نے انگوٹھا لگا کر جیل انچارج کی بے چینی کے بیچ مجھے اپنا وکیل مقرر کیا تو وہ ایک عجیب لمحہ تھا۔ اس کے بعد میں نے سربجیت سے ملنے کی کوشش کی، تو جیل سپر نٹنڈنٹ نے مجھے 6 جولائی تک انتظار کرنے کو کہا۔ باہر آتے ہی مجھے میڈیا کا سامنا کرنا تھا اور وہ سوال پوچھنے کے بجائے بہت ایگریسو ہو رہے تھے۔ میرے تجربہ کے مطابق اس وقت تحمل رکھنا تھا۔ لہٰذامیں نے ان سے کہا کہ اس قیدی کے رہا ہو جا نے سے دونوں ملک اور قریب آجا ئیں گے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا میںاجمل قصاب کا کیس لڑوں گا؟ اس وقت کچھ بھی دوستانہ نہیں تھا، سب کچھ مجھے گولی باری کی طرح لگ رہا تھا۔ اگلے دن ایک شادی میں میرا سامنا میرے کئی فکر مند دوستوں سے ہوا۔ میرے ایک رشتہ دار نے مجھ سے کہا کہ تم ایک دہشت گرد کے ساتھ ہو، جس نے کئی بے قصور لوگوں کی جان لی ہے۔ دوسرے نے پوچھا کہ کیا اس کا نام ایف آئی آر میں نہیں ہے؟ اس بار میں خوش ہوا، کیونکہ میری وجہ سے لوگوں کو کم سے کم یہ معلوم ہوا تھا کہ جسے لوگ دہشت گرد سمجھ رہے ہیں، اس کا نام کبھی بھی ایف آئی آر میں درج نہیں تھا۔ حکم منجیت سنگھ کے خلاف دیا گیا تھا، لیکن جو شخص سزا بھگت رہا ہے، اس کا نام سربجیت سنگھ ہے۔ میںیہ سوچ رہا تھا کہ پچھلے وکیل نے اپنے موکل کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے اور اس نے بے وجہ 19 سال برباد کر دیے۔ کورٹ کو ملزم کی صحیح پہچان کے بارے میں کبھی بھی مطلع نہیں کیا گیا۔ اس نے کبھی بھی کیس کی سنوائی میں تب تک پہنچنے کی زحمت نہیں اٹھائی، جب تک کہ رحم کی اپیل خارج نہیں ہو گئی۔
(قلم کار پاکستان میں سربجیت کے وکیل ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *