سربجیت کیسے پاکستان پہنچا

اویس شیخ 
پنجاب کے فیروز پور ضلع کے بھکھی وینڈ میں 19 مارچ 1962 کو سربجیت کی پیدائش ہوئی۔ کبڈی کا ایک بہترین کھلاڑی سربجیت میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد اپنے خاندان کے سہارے کے لئے کام کرنا شروع کرتا ہے۔ سرحدی علاقے سے کچھ کلو میٹر پہلے جا کر وہ کھیتوں میں کام کرنے لگتا ہے۔ دوسروں کے کھیتوں میں ٹریکٹر چلا کر، پیسہ کما کر، اپنے خاندان کی مدد کر کے سربجیت بہت خوش تھا۔ 1984 میں اس کی شادی سکھ پریت کور سے ہوتی ہے۔ سربجیت دو پیاری بیٹیوں پونم دیپ اور سوپن دیپ کا باپ بن جاتا ہے۔ اگست 1990 کی بات ہے،ہندو پاک سرحد سے ملے ہوئے کھیت میں سربجیت کام کر رہا تھا۔ دونوں ملکوں کے کسان ہر صبح 9 بجے سرحد پر جٹ جاتے تھے۔ اپنا شناختی کارڈ دکھا کر وہ اپنا کام شروع کر دیتے تھے۔ شام تک یہ کسان اپنے کھیتوں میں پسینہ بہاتے رہتے تھے۔ کام ختم کرنے کے بعد یہ کسان اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ جاتے تھے۔ دونوں ملکوں کے بیچ ایک پتلی جگہ ہے جسے ’’نو مینس لینڈ ‘‘کہتے ہیں۔ یہی زمین دونوں ملکوں کی سرحدوں کی حدطے کرتی ہے۔ لیکن یہی حد سربجیت کے لئے درد بھری زندگی کی شروعات بن گئی۔ اس زمین نے ایک غفلت بھرے قدم کی وجہ سے کئی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسایا ہے۔ دونوں ملکوں کے کئی لوگ اس چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے جیلوں میں بند ہیں۔8 اگست 1990 سربجیت کی زندگی کا سب سے منحوس دن ۔ایک غفلت بھرا، انجان قدم اور سربجیت سنگھ’’نو مینس لینڈ‘‘ کے ذریعہ پاکستان کی زمین پر پہنچ گیا۔ میں نے خود جا کر اس زمین کا معائنہ کیا ہے۔ سربجیت کی بہن نے مجھے وہ جگہ دکھائی ہے جہاں سربجیت کھیتوں میں کام کرتا تھا۔ میں نے یہاں تار کے باڑے کی دوسری طرف پاکستانی کسانوں کو کام کرتے دیکھا۔ سربجیت کی بہن دلبیر کور نے مجھے بتایا کہ تب 1990 میں یہاں پر تار کے باڑے نہیں تھے۔ اس نے مجھے بتایا کہ سربجیت کئی سالوں تک گم رہا۔ ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں چلا ۔ کئی سالوں بعد ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھاکہ مجھے پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور میں جیل میں ہوں۔ پاکستان میں’ انٹی ٹیررسٹ کورٹ ‘سے نکلتے وقت سربجیت نے ایک خط یوں ہی کسی کی طرف پھینکا تھا، جو ایک بھلے آدمی کے ہاتھ لگ گیا اور اس آدمی نے وہ خط سربجیت کے لکھے پتے پر ہندوستان بھیج دیا۔ اس وقت تک سربجیت کا کیس ہائی کورٹ تک پہنچ چکا تھا۔ وہ بے سہارا تھا، کوئی اس کی بات نہیں سن رہا تھا۔

سربجیت سنگھ، دو ملکوں کی سیاست کے بیچ پھنسا ایک عام آدمی۔ ایک ایسا عام آدمی جو ان دونوں ملکوں کے بیچ جاری نفرت بھری سیاست کا نتیجہ بھگت رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کو اس گندی سیاست کا خمیازہ سیاسی، مالی اور سماجی طور پر بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ دونوں ملکوں کے جیل میں بند قیدیوں کی داستان جہاں سیاست دانوں کے بیچ نفرت کی کہانی کہتی ہے وہیں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو اس نفرت کی آگ کو کم کرنے کی کوشش میں لگے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن سے امیدیں ہیں۔’ چوتھی دنیا‘ اس شمارہ سے لگاتار سربجیت سنگھ کی پوری کہانی شائع کرے گا۔ یہ وہ کہانی ہے جس میں کئی ادھورے حقائق کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں اس سچ کو سامنے لانے کی کوشش ہے جس سے ہندوستان اور پاکستان کی حکومت انجان ہے۔ اسی سچ کو، اسی کہانی کو سامنے لا رہے ہیں پاکستان کے رہنے والے اور سربجیت کے وکیل اویس شیخ:

خیر دلبیر کور نے مجھ سے کہا کہ اس نے کسی طرح 5 لاکھ روپے جمع کیے ہیں تاکہ وہ پاکستان میں ایک وکیل رانا حمید کی فیس دے سکیں۔ تب تک یہ کیس میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک پہنچ چکا تھا۔ لیکن یہ خبر اس طرح سے میڈیا میں آئی کہ ہندوستانی جاسوس سربجیت سنگھ کو لاہور اور فیصل آباد میں ہوئے چار دھماکوں، جس میں 14 لوگوں کی موت ہوئی، کے لئے پھانسی کی سزا دی گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ سربجیت نے ’را‘ ایجنٹ ہونے کی بات قبول کرلی ہے۔
لیکن اس پوری کہانی کا ایک افسوسناک پہلو ایسا ہے جو لوگوں کی نظر میں آیا ہی نہیں۔ دراصل ، اس کیس میں ملزم بنایا گیا شخصسربجیت نہیں بلکہ منجیت سنگھ، پسر مہنگا سنگھ ہے۔ ’اسپیشل ٹیررسٹ کورٹ ‘نے سربجیت کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔ تب یہ معاملہ انڈین میڈیا میں اچھلا۔ 8 اگست 2005 کو پھر پاکستان کے سپریم کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔ 24 اگست 2009 کو ریویو پٹیشن کو خارج کر دیا گیا۔ سربجیت کا وکیل ہونے کے ناطے تو مجھے فوری کارروائی کرنی ہی تھی۔ میں نے سپریم کورٹ میں اس کیس میں بحث کے لئے خصوصی حکم دینے کی عرضی لگائی۔ میں عوام کی رائے جاننے کے لئے فوری ہندوستان کے سفر پر آیا۔ میں چنڈی گڑھ گیا۔ وہاں دیگر لوگوں کے علاوہ پرکاش سنگھ بادل سے ملا ۔ میں دہلی ، جے پور، اجمیر بھی گیا۔ وہاں پریس کانفرنس کی۔ میں امریکن سفیر سے بھی ملا۔ پاکستان میں ہندوستان کے سفیر سے بھی ملا۔ اس بیچ میں انٹرنیشنل میڈیا سمیت حقوق انسانی سے متعلق تنظیموں کے رابطہ میں بھی تھا۔ میں نے اپنے بل پر سربجیت کے لئے یہ مہم پاکستان میں شروع کی تھی لیکن جلد ہی ہندوستان کے لوگ بھی اس سے جڑتے چلے گئے، جس سے کافی مدد ملی۔ بین ا لا قوامی تعاون سے میرے موکل کی رہائی میں آگے ضرور مدد ملے گی۔ سربجیت کا کیس دراصل انصاف کی ناکامی ( مس کیریج آف جسٹس) کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ اس کیس میں کئی قانونی خامیاں اور پیچیدگیاں ہیں، جنھیں میں آگے بیان کروں گا۔ میرا مقصد قابل احترام سپریم کورٹ ( پاکستان) پر حملہ کرنے کا نہیں ہے۔ عام سی بات ہے کہ اس کیس میں قانون اور آئین کے مطابق پروویزن نہیں اپنا گیا۔ اس کیس میں کئی بنیادی قانونی نکات پر غور نہیں کیا گیا۔ جانچ ایجنسیوں نے غلط گواہ پیش کرنے کا کام کیا۔ سربجیت کو غلط ڈھنگ سے ملزم بنایا گیا۔ نتیجتاً سربجیت کو اپنی جوانی جیل میں گزارنی پڑی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *