سمجھداری سے کریں آر ٹی آئی کا استعمال

کئی بار ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ فلاں آدمی کو آر ٹی آئی استعمال کرنے پر دھمکی ملی یا جیل میں ٹھونس دیا گیا یا فرضی کیس میں پھنسا دیا گیا۔ ظاہر ہے، سالوں سے زنگ لگے سسٹم اور سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھنے والی نوکر شاہی اس بات کو ہضم نہیں کر پاتی ہے کہ کوئی عام آدمی ان سے سوال پوچھے۔ عام آدمی ان کی حیثیت کو نہ چیلنج دے سکے یا سوال نہ پوچھ سکے، اس لئے یہ لوگ سام دام ڈنڈ یعنی ہر طرح کے ہتھکنڈوں کا سہارا لینے سے بھی باز نہیں آتے لیکن اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، تھوڑی سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ چوتھی دنیا نے جو مہم شروع کی ہے ، وہ آپ کو بتائے گی کہ ایسے افسروں سے کیسے نمٹنا ہے، ان سے کیا پوچھنا ہے اور کیسے پوچھنا ہے۔ بس، آپ سوال کرنے سے ڈریں نہیں۔
اطلاع ملنے کے بعد کیا کریں: یہ دیکھا گیا ہے کہ صرف سوال پوچھنے سے ہی کئی بگڑی باتیں راستے پر آنے لگتی ہیں۔ مثال کے لئے، صرف اپنی عرضی کی صورت حال پوچھنے سے ہی آپ کو اپنا پاسپورٹ یا راشن کارڈ مل جاتا ہے۔ اگر آپ نے آر ٹی آئی سے کسی بد عنوانی یا غلط کام کا پردہ فاش کیا ہے تو آپ وجیلنسایجنسی یا سی بی آئی کو اس بارے میں شکایت کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ ایف آئی آر بھی کرا سکتے ہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ سرکار قصوروار کے خلاف لگاتار شکایتوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ چنانچہ اگر کوئی چاہے تو وجیلنس ایجنسی پر بھی شکایت کی موجودہ صورت حال کے بارے میں آر ٹی آئی کے تحت سوال پوچھ کر دبائو بنا سکتاہے۔ اس کے علاوہ غلط کاموں کا پردہ فاش میڈیا کے ذریعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اس طرح اطلاعات مانگنے اور غلط کاموں کا پردہ فاش ہونے سے افسروں میں یہ پیغام جاتا ہے کہ فلاں علاقے کے لوگ زیادہ بیدار اور ہوشیار ہو گئے ہیں اور مستقبل میں اس طرح کی کوئی غلطی پہلے کی طرح چھپی نہیں رہے گی۔ کیا ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ، جنہوں نے آر ٹی آئی کا استعمال کر کے بد عنوانی کا پردہ فاش کیا؟ہاں، ایسی کچھ مثالیں ہیں جن میں لوگوں کو جسمانی اذیت پہنچائی گئی، جب انہوں نے بد عنوانی کا بڑے پیمانے پر پردہ فاش کیا ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ درخواست کنندہ کو ہمیشہ ہی ایسے خوف کا سامنا کرنا پڑے گا۔اپنی شکایت کی صورت حال یا معاملوں کی جانکاری لینے کے لئے عرضی لگانے کا مطلب ’آ بیل مجھے مار‘ والا نہیں ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب کوئی اطلاع نوکر شاہ ، ٹھیکدار کی ملی بھگت یا کسی مافیا کا پردہ فاش کرتی ہو۔
تو پھر، میں آر ٹی آئی کا استعمال کیوں کروں؟
پورا سسٹم اتنا سڑ گل چکا ہے کہ اگر ہم سبھی اکیلے یا مل کر کوشش نہیں کریں گے ، یہ کبھی نہیں سدھرے گا۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے ، تو کون کرے گا؟ہمیں کرنا ہے لیکن ہمیں ایسا ایک حکمت عملی بنا کر اور جوکھم کو کم کرکے کرنا ہوگا۔
یہ حکمت عملی کیا ہیں؟
آپ آگے آئیں اور کسی بھی ایشو پر آر ٹی آئی درخواست داخل کریں۔ کوئی آپ کے اوپر ایک دم حملہ نہیں کرے گا۔ پہلے وہ آپ کی خوشامد کرے گا، تاکہ آپ اپنی درخواست واپس لے لیں۔ آپ جیسے ہی اس طرح کی کوئی شکایتی درخواست ڈالتے ہیں ،کوئی آپ کے پاس بڑی خاموشی کے ساتھ اس درخواست کو واپس لینے کی گزارش کرنے آئے گا۔ آپ کو اس آدمی کی سنجیدگی اور پوزیشن کا اندازہ لگا لینا چاہئے۔ اگر آپ اسے کافی سنجیدہ مانتے ہیں تو اپنے 15 دوستوں کو بھی فوری طور پر اسی دفتر میں وہی اطلاعات مانگنے کے لئے آر ٹی آئی درخواست ڈالنے کو کہیں۔ بہتر ہوگا کہ اگر یہ پندرہ دوست ہندوستان کے مختلف حصوں سے ہوں۔ اب آپ کے ملک بھر کے پندرہ دوستوں کو ڈرانا کسی کے لئے بھی مشکل ہوگا۔ اگر ان پندرہ میں سے کسی ایک کوکبھی ڈراتے ہیں، تو اور لوگوں سے بھی درخواستیں داخل کرائیں۔ آپ کے دوست ہندوستان کے مختلف حصوں سے درخواستیں ڈاک سے بھیج سکتے ہیں۔ اسے میڈیا میں بڑے پیمانے پر مشتہر کرنے کی کوشش کریں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کے پیچھے متعدد لوگ ہیں ۔ اس سے یہطے ہوگا کہ آپ کو مطلوبہ جانکاری ملے گی اور آپ جوکھم کو کم کر سکیں گے۔

کسی بھی محکمی میں زیر غور معاملہ سے متعلق درخواست
فرسٹ اپیلیٹ آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاع ایکٹ2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
برائے مہربانی مجھے حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت مندرجہ ذیل جانکاری دی جائے:
1 حق اطلاعات قانون کی دفعہ 2(j)(1) کے مطابق، ہر شہری کو کسی بھی سرکاری کام کی انکوائری کرنے کا حق ہے۔ اس کے تحت میں مندرجہ کام کی جانچ کرنا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی مجھے تاریخ، وقت اور مقام بتائیں جب میں آکر اس کام کی جانچ کر سکوں۔( کام کی وضاحت)
2 میں جانچ کے وقت اس کام سے متعلق مندرجہ دستاویزوں کی بھی انکوائری کرنا چاہوں گا، اس لئے جانچ کے وقت یہ تمام دستاویز مجھے مہیا کرائیں:
(الف)میجرمنٹ بک۔(ب) خرچوں کی تفصیل( ج)گرافس۔ ان دستاویزوں کی جانچ کے بعد اگر مجھے کسی دستاویز کی کاپی کی ضرورت ہوگی تو قانون کے تحت مقررہ فیس لے کر کاپیاں مہیا کرائیں۔
3 دفعہ 2(j)(3) کے مطابق، ہر شہری کو سرکاری کاموں میں استعمال کئے گئے میٹریل کا تصدیق شدہ نمونہ لینے کا حق ہے۔ اس کے تحت میں مذکورہ کام میں استعمال کئے گئے میٹریل کا محکمہ کے ذریعہ تصدیقر شدہ نمونہ لینا چاہتا ہوں۔ نمونہ میرے ذریعہ طے مقام سے میری موجودگی میں محکمہ کے ذریعہ اکٹھا کیا جائے اور یہ سیل بند ہو نیز محکمہ کے ذریعہ یہ تصدیق کی جائے کہ سیل بند نمونہ کام میں استعمال کیے گئے میٹریل کا اصلی نمونہ ہے۔ برائے مہربانی مجھے مقام ، وقت اور تاریخ سے مطلع کریں جب میں نمونے کے لئے آسکوں۔
میں درخواست فیس کے طور پر 10 روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے سبھی دیے فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر………………… ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمہ ؍ دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندرمنتقل کریں،ساتھ ہی قانون پروویزن کے تحت اطلاعات فراہم کراتے وقت فرسٹ اپیل آفیسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
مخلص
نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منسلک دستاویز
(اگر کچھ ہوتو)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *