آرٹی آئی قانون کیا ہے

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔جمہوری نظام میں عام آدمی ہی ملک کا اصلی مالک ہوتا ہے۔ اس لئے مالک ہونے کے ناطے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جو سرکار اس کی خدمت کے لئے بنائی گئی ہے، وہ کیا، کہاں اور کیسے کام کر رہی ہے۔ اسکے ساتھ ہی ہر شہری اس سرکار کو چلانے کے لئے ٹیکس دیتا ہے ، اس لئے بھی شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ کیا جا رہا ہے۔عوام کے یہ جاننے کا حق ہی ’ حق اطلاعات قانون‘‘ یعنی آر ٹی آئی ہے۔1976 میں راج نارائن بنام اتر پردیش معاملے میں ہائی کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 19 میں بیان کردہ حق اطلاعات کو بنیادی حق قرار دیا۔آرٹیکل 19 کے مطابق، ہر شہری کو بولنے اور اظہار کرنے کا حق ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ عوام جب تک جانے گی نہیں ، تب تک اظہار رائے نہیں کرسکتی۔ 2005میں ملک کی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا، جسے حق اطلاعات قانون 2005 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس دفعہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح سے شہری، سرکار سے اطلاع مانگیں گے اور کس طرح سے سرکار جوابدہ ہوگی۔ حق اطلاعات کا قانون ہر شہری کو اختیار دیتاہے:۔ سرکار سے کوئی بھی سوال پوچھ سکے یا کوئی بھی اطلاع لے سکے، کسی بھی سرکاری دستاویز کی مصدقہ کاپی لے سکے، کسی بھی سرکاری دستاویز کی جانچ کر سکے، کسی بھی سرکاری کام کی جانچ کر سکے یا کسی بھی سرکاری کام میں استعمال شدہ میٹریل کا مصدقہ نمونہ لے سکے۔سبھی سرکاری محکمے، پبلک سیکٹر یونٹ، کسی بھی طرح کی سرکاری مدد سے چل رہی غیر سرکاری تنظیمیں اور تعلیمی ادارے وغیرہ یا محکمے اس میں شامل ہیں۔ البتہ نجی ادرے اس قانون کے دائرے میں نہیں ہیں۔ لیکن اگر کسی قانون کے تحت کوئی سرکاری محکمہ کسی نجی ادارے سے کوئی جانکاری مانگ سکتا ہے تو اس محکمے کے توسط سے وہ اطلاع مانگی جا سکتی ہے۔ (دفعہ 2 (الف)اور(ھ)ہر سرکاری محکمے میں ایک یا ایک سے زیادہ پبلک انفارمیشن آفیسر بنائے گئے ہیں۔ یہ وہ آفیسر ہیں جو حق اطلاعات قانون کے تحت درخواست قبول کرتے ہیں، مانگی گئی اطلاعات اکٹھا کرتے ہیں اور اسے درخواست کنندہ کو مہیا کراتے ہیں۔پبلک انفارمیشن آفیسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر (کچھ معاملوں میں 45دنوں کے اندر)اطلاعات مہیا کرائے۔اگر پبلک انفارمیشن آفیسر درخواست لینے سے منع کرتا ہے ، مقررہ وقت میں اطلاع نہیں مہیا کراتاہے یا غلط یا غیر تسلی بخش جانکاری دیتا ہے تو تاخیر کے لئے 250 روپے یومیہ کے حساب سے 25000 تک کا جرمانہ اس کی تنخواہ سے کاٹا جا سکتاہے، ساتھ ہی اسے اطلاع بھی دینی ہوگی۔ لیکن پبلک انفارمیشن آفیسر کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ آپ سے اطلاع مانگنے کی وجہ پوچھے۔دفعہ 6(2) اطلاع مانگنے کے لئے درخواست فیس دینی ہوگی۔ مرکزی سرکار نے درخواست کے ساتھ 10 روپے کی فیس طے کی ہے، لیکن کچھ ریاستوں میں یہ زیادہ ہے۔ بی پی ایل کارڈ ہولڈر وں سے اطلاع مانگنے کی کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے دفعہ 7(5)دستاویزوں کی کاپی لینے کے لئے بھی فیس دینی ہوگی۔ مرکزی سرکار نے یہ فیس 2 روپے فی کاپی رکھی ہے، لیکن کچھ ریاستوں میں یہ زیادہ ہے۔ اگر اطلاع مقررہ وقت میں نہیں فراہم کرائی گئی تو اطلاع مفت دی جائے گی دفعہ 7(6) ۔ اگر کوئی پبلک انفارمیشن آفیسر یہ سمجھتا ہے کہ مانگی گئی اطلاع اس کے محکمے سے متعلق نہیں ہے تو یہ اس کا کام ہے کہ اس درخواست کو پانچ دنوں کے اندر متعلقہ محکمے کو بھیج دے اور درخواست کنندہ کو بھی اطلاع کرے۔ ایسی صورت حال میں اطلاع ملنے کا مقررہ وقت 30 دن کی جگہ 35 ہوگی دفعہ 6(3)۔ پبلک انفارمیشن آفیسر اگر درخواست لینے سے انکار کرتا ہے یا پریشان کرتا ہے تو اس کی شکایت سیدھے انفارمیشن کمیشن سے کی جا سکتی ہے۔ حق اطلاعات کے تحت مانگی گئی اطلاع کو نا منظور کرنے، نا مکمل، غلط اطلاع دینے یا اطلاع دینے کے لئے زیادہ فیس مانگنے کے خلاف مرکزی یا ریاستی انفارمیشن کمیشن کے پاس شکایت کر سکتے ہی۔ پبلک انفارمیشن آفیسر کچھ معاملوں میں اطلاع دینے سے منع کر سکتا ہے۔ جن معاملوں سے متعلق اطلاع نہیں دی جاسکتی ، ان کی وضاحت حق اطلاعات قانون کی دفعہ 8 میں درج ہے۔ لیکن اگر مانگی گئی اطلاع عوامی مفاد میں ہے تو دفعہ 8 میں منع کی گئی اطلاع بھی دی جا سکتی ہے۔ جو اطلاع پارلیمنٹ یا اسمبلی کو دینے سے منع نہیں کیا جا سکتا ، اسے کسی عام آدمی کو بھی دینے سے منع نہیں کیا جا سکتا۔ اگرپبلک انفارمیشن آفیسر مقررہ وقت کے اندر اطلاع نہیں دیتا ہے یا دفعہ 8 کا غلط استعمال کرتے ہوئے اطلاع دینے سے منع کرتا ہے، یا دی گئی اطلاع سے اطمینان نہ ہونے کی صورت میں 30 دنوں کے اندر متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کے سینئر یعنی فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کے پاس فرسٹ اپیل کی جا سکتی ہے۔اگر آپ فرسٹ اپیل سے بھی مطمئن نہیں ہیں تو دوسری اپیل 60 دنوں کے اندر مرکزی یا ریاستی انفارمیشن کمیشن (جس سے متعلق ہو) کے پاس کرنی ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *