رابرٹ واڈرا کو الزامات کا سامنا کرنا چاہئے

سنتوش بھارتیہ 
رابرٹ واڈرا نے جو کیا وہ انوکھا نہیں ہے۔ جو بھی بزنس میں ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تر لوگ ایسے ہی طریقے اپناتے ہیں اور اپنے اثاثے بڑھاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا تعلق اقتدار سے نہیں ہوتا، جب کہ رابرٹ واڈرا کا رشتہ سیدھے اقتدار سے ہے اور اقتدار سے بھی اتنا قریب کا کہ وہ موجودہ حکومت کو کنٹرول کرنے والی سب سے طاقتور خاتون، شریمتی سونیا گاندھی کے داماد ہیں اور ہندوستان کے مستقبل کے وزیر اعظم، اگر وہ بنے تو، راہل گاندھی کے بہنوئی ہیں۔ اگر خبروں پر بھروسہ کریں تو راہل گاندھی اب وزیر اعظم نہیں بننا چاہتے اور اپنا سارا وقت ملک و بیرونِ ملک میں اپنی ماں کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں، کیوں کہ ان کی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ خود چاہتے ہیں کہ پرینکا گاندھی سیاست میں آئیں اور ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالیں۔ اس کا مطلب، رابرٹ واڈرا مستقبل میں ہونے والی ہندوستان کی وزیر اعظم کے شوہر بھی ہیں۔ اسی لیے رابرٹ واڈرا کے ذریعے کاروبار کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے قدم غیر معمولی صورتِ حال کو ظاہر کرتے ہیں۔

شاید رابرٹ واڈرا کو اس بات کا بھروسہ ہے کہ عوام انہیں سارے جرم کی کہانیاں جاننے کے بعد بھی چن لیں گے۔ رابرٹ واڈرا نے شاید اپنی موجودہ بیوی پرینکا رابرٹ واڈرا کا بھی نقصان کر دیا ہے۔ پرینکا گاندھی اپنے آگے رابرٹ واڈرا لفظ لگانے سے ہچکچاتی ہیں، لیکن رابرٹ واڈرا اس لفظ کو بہت زیادہ پاپولر کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو لگنے لگا ہے کہ شاید پرینکا گاندھی کا دماغ اپنے بھائی راہل گاندھی کی طرح تیز اور تکنیک اپنے شوہر رابرٹ واڈرا سے زیادہ فل پروف ہے۔ لوگوں کا اس طرح سوچنا پرینکا گاندھی کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔

رابرٹ واڈرا کو شاید یہ کبھی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ اقتدار سے اتنا قریبی رشتہ رکھنے والے لوگ کچھ بھی کرتے ہیں تو وہ عام لوگوں کے درمیان بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ لوگ یہ مان لیتے ہیں کہ اس طرح دولت کو جمع کرنے کے پیچھے اقتدار کا نہ صرف دباؤ ہے، بلکہ اقتدار کی مدد بھی ہے۔ ڈی ایل ایف کمپنی کے ساتھ رابرٹ واڈرا کے رشتے اقتدار کے اسی کھیل کا نتیجہ ہیں۔ چونکہ رابرٹ واڈرا نہ سیاسی فیملی سے آئے ہیں اور نہ ان کا سیاست میں کوئی دخل ہے، اس لیے وہ یہ کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ اس ملک میں اقتدار کی بلندی پر رہنے والے لوگ اس بات کی بہت احتیاط برتتے ہیں کہ ان کے کسی بیٹے، بیٹی، داماد یا رشتہ دار کا نام کسی بھی اسکینڈل میں کبھی نہ آئے۔ ایسی حالت میں عہدہ چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ چونکہ رابرٹ واڈرا کو یہ نہیں معلوم، اس لیے انہوں نے یہ احتیاط نہیں برتی اور ان سارے لوگوں کا کام سنبھال لیا، جو اقتدار کے ساتھ جڑ کر بڑا پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے انہوں نے ہندوستان کو ’بنانا رپبلک‘ کہہ ڈالا۔ ’بنانا رپبلک‘ کا مطلب یہ مانا جاتا ہے کہ ایسا ملک، جہاں حکومت کرنے والے کی مرضی ہی قانون ہوتی ہے، چاہے وہ لوٹے، ڈاکہ ڈالے یا عصمت دری کرے۔
پوری کانگریس اور کانگریس کے وزیر رابرٹ واڈرا کے دفاع میں آگئے۔ دفاع میں آنا فطری ہے، کیوں کہ سبھی سونیا گاندھی کی نظروں میں اپنی وفاداری ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے وفاداری نہیں ثابت ہوئی، اس سے چاپلوسی ثابت ہوئی۔ عجیب عجیب دلیلیں آئیں۔ ملک کے وزیر داخلہ نے کہا کہ جانچ کی ضرورت نہیں۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ جانچ کی مانگ نہیں کی تو جانچ کیسی اور اپوزیشن نے، جس میں پہلا نام بی جے پی کا ہے، پختہ طریقے سے جانچ کی مانگ ہی نہیں کی۔ المیہ تو یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ کسی بھی پارٹی نے اس واقعہ پر زبان ہی نہیں کھولی۔ اسی لیے ہم ’بنانا رپبلک‘ ہیں۔ عوام کو بیوقوف سمجھنا سیاست دانوں کی عادت ہے۔ ساری سیاسی پارٹیاں ایسا ہی کرتی ہیں۔ رابرٹ واڈرا تو نئے بننے والے سیاسی لیڈر ہیں۔ جب پرینکا گاندھی کسی ریلی میں جاتی ہیں یا اپنی ماں کے ساتھ چناؤ پرچار کرتی ہیں، خاص کر رائے بریلی اور امیٹھی میں، تو رابرٹ واڈرا پرینکا گاندھی سے زیادہ مسکراتے ہوئے اور پرینکا گاندھی سے زیادہ لوگوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ گویا لوگ اُن ہی کو دیکھنے اور سننے آئے ہوں۔ اب ان میں ایک نئی خواہش پیدا ہو گئی ہے۔ وہ پارلیمنٹ کا رکن بننا چاہتے ہیں۔ 2009 کے لوک سبھا الیکشن میں سلطانپور سے سنجے سنگھ کے نام کا اعلان امیدوار کے طور پر اس لیے نہیں کیا گیا تھا، کیوں کہ وہاں سے رابرٹ واڈرا الیکشن لڑنے والے تھے۔ اس بار پھر وہ سلطانپور سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس بار سنجے سنگھ کو ٹکٹ نہیں ملنے والا۔ شاید رابرٹ واڈرا کو اس بات کا بھروسہ ہے کہ عوام انہیں سارے جرم کی کہانیاں جاننے کے بعد بھی چن لیں گے۔ رابرٹ واڈرا نے شاید اپنی موجودہ بیوی پرینکا رابرٹ واڈرا کا بھی نقصان کر دیا ہے۔ پرینکا گاندھی اپنے آگے رابرٹ واڈرا لفظ لگانے سے ہچکچاتی ہیں، لیکن رابرٹ واڈرا اس لفظ کو بہت زیادہ پاپولر کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو لگنے لگا ہے کہ شاید پرینکا گاندھی کا دماغ اپنے بھائی راہل گاندھی کی طرح تیز اور تکنیک اپنے شوہر رابرٹ واڈرا سے زیادہ فل پروف ہے۔ لوگوں کا اس طرح سوچنا پرینکا گاندھی کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔
رابرٹ واڈرا کو کچھ اور سوالوں کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ مثال کے طور پر وہ کیا حالات تھے، جن کی وجہ سے ان کے والد رائے بریلی سے ان کی ساس کے خلاف لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہوگئے اور وہ بھی بی جے پی کے ٹکٹ پر۔ نامزدگی کی ساری تیاری ہو جانے کے باوجود وہ الیکشن لڑنے سے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئے اور اس کے کچھ ہی مہینوں کے اندر انہوں نے کیوں خود کشی کر لی؟ اسی طرح، کیوں ان کے بھائی نے بھی خود کشی کر لی؟ ان کی بہن کی موت ایک سڑک حادثہ میں ہوئی اور ان کی بہن کی کئی دوستوں نے بھی خود کشی کر لی؟ یہ سارے اتفاق ہو سکتے ہیں، لیکن ان اتفاقات کے پیچھے اگر کوئی کہانی ہے تو وہ کہانی رابرٹ واڈرا کے لیے اب پریشانیاں پیدا کر سکتی ہے۔
سیاست ایسا میدان ہے، جہاں آپ کچھ نہ کریں، تب بھی آپ پر جھوٹے الزام لگتے ہیں۔ یہاں تو رابرٹ واڈرا نے بہت کچھ کیا ہے، اس لیے اب ان کے اوپر الزام نمک مرچ کے ساتھ لگیں گے۔ رابرٹ واڈرا کو امیتابھ بچن کا سیاست سے ہٹنا یاد کرنا چاہیے۔ امیتابھ بچن جب سیاست میں تھے، تو ان کے ہر کام کو مائکروسکوپ سے دیکھا جاتا تھا۔ اسی لیے انہوں نے چڑ کر سیاست سے سنیاس لے لیا، لیکن رابرٹ واڈرا امیتابھ بچن جتنے حساس نہیں ہیں۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ ہندوستان ان کی جاگیر ہے، یہاں رہنے والے ان کے غلام اور وہ جب چاہیں، جسے چاہیں، مدد کر سکتے ہیں اور مدد کے بدلے سروِس ٹیکس بھی لے سکتے ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیے پوری ہندوستانی حکومت ہے اور سیاسی طور پر کانگریس پارٹی ہے۔ رابرٹ واڈرا نے اپنے اور پرینکا گاندھی کے درمیان اختلافات کی کافی خبریں میڈیا میں لیک کرائیں۔ وہ ملک کے باہر بھی کافی رہے، کیوں کہ انہیں ڈر تھا کہ سپریم کورٹ کہیں ان کے ٹو جی گھوٹالے میں شامل ہونے کی خبر پر جانچ کا حکم نہ دے دے۔ وہ ایک مہینہ نیویارک کے سب سے مہنگے ہوٹل میں اپنی بیوی پرینکا گاندھی اور دونوں بچوں کے ساتھ رہے، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ پرینکا گاندھی اور رابرٹ واڈرا کے درمیان فی الحال کوئی اختلاف نہیں ہے۔
رابرٹ واڈرا کا ڈرائنگ روم اوبرائے ہوٹل کا کافی شاپ بہت دنوں سے ہے۔ وہ اکثر وہاں دکھائی دیتے رہے ہیں اور وہیں ان کی میٹنگیں ملک کے بڑے پیسے والوں سے ہوتی رہی ہیں۔ رابرٹ واڈرا کو چاہیے کہ وہ ہندوستان واپس آئیں اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا سامنا کریں۔ رابرٹ واڈرا جیسے واقعات ہندوستان کے عوام کے من میں کانگریس کے تئیں غصہ پیدا کر سکتے ہیں۔ کانگریس کے وزیر اپنے عقلمند دماغ کا مظاہرہ لگاتار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رابرٹ واڈرا کو ڈی ایل ایف نے زمین دی، لیکن پرشانت بھوشن کے ٹرسٹ کو بھی تو شملہ میں زمین دی گئی۔ کانگریس کے وزیر جھوٹے الزام لگانے اور جھوٹے بیان دینے میں ماہر ہو گئے ہیں، کیوں کہ کانگریس اپنی ہی روایات پر قائم نہیں رہناچاہتی۔ شریمتی اندرا گاندھی نے ہمیشہ سیاسی لڑائی لڑی، لیکن اب یہ کانگریس اندرا جی کی کانگریس سے الگ ہے اور اندرا گاندھی کی فیملی سے الگ فیملی ہے۔ کانگریس شاید جان بوجھ کر بی جے پی کو اقتدار سونپنا چاہتی ہے، تاکہ پانچ سال بعد وہ بی جے پی سے پھر سے اقتدار واپس لے سکے۔ لیکن سیاست میں سب کچھ میتھمیٹکس کے حساب سے نہیں ہوتا۔ سیاست لینڈ اسکیپ نہیں ہے، سیاست کلاؤڈ اسکیپ ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *