پہچان کا سوال

میگھناد دیسائی 
بھت سنگھ شہید تھے یا پھر دہشت گرد؟ جس وقت انہیں پھانسی دی گئی تھی، اس وقت کچھ اور بات تھی۔ انگریز یہی سوچتے تھے کہ وہ دہشت گرد ہیں۔ مہاتما گاندھی نے بھی وائسرائے اِروِن کے ساتھ بات چیت کے دوران اُن کی پھانسی کی سزا کو معاف کرنے کی بات نہیں کی تھی۔ اوسامہ بن لادن دہشت گرد تھا، لیکن بہت سے مسلمانوں کے لیے وہ شہید کا درجہ رکھتا ہے۔ پچھلے ہفتہ جنرل برار کے اوپر لندن میں حملہ ہوا۔ حالانکہ ان پر حملہ کرنے والے ابھی پکڑے نہیں گئے ہیں، لیکن یہ قیاس لگایا جا رہا ہے کہ یہ حملہ آپریشن بلیو اسٹار کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا تھا۔ برطانوی پولس کو اسے جان لیوا حملہ کے طور پر لینا ہے، جب تک کہ حملہ آور پکڑے نہیں جاتے ہیں، لیکن اس کے ہندوستانی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپریشن بلیو اسٹار آزادی کے بعد کی ہندوستانی تاریخ کا سب سے خوفناک واقعہ تھا۔ ایک عشرے سے زیادہ وقت سے ہورہے نکسلوادی حملے، کشمیر اور ناگالینڈ کا مسئلہ اور خالصتان کی مانگ ہندوستان کی سا لمیت کے لیے ایک مشکل چیلنج تھا، یہاں تک کہ یہ ہندوستان کے ایک ملک کے طور پر دیکھے جانے کے نظریہ کے اوپر ایک سوال تھا۔
خالصتان کا مسئلہ صرف آپریشن بلیو اسٹار کے ساتھ ختم نہیں ہوا، جس میں کہ مقدس گرودوارہ پر حملہ کیا گیا تھا، بلکہ اس کے بعد اندرا گاندھی کا قتل بھی ہوا، جو کہ پہلا ایسا حادثہ تھا ، جس میں ہندوستان کے کسی وزیر اعظم کا قتل ہندوستان کے ہی شہری نے کیا تھا۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جو کچھ دہلی میں ہوا، اسے نہ تو بھلایا گیا ہے اور نہ ہی لوگوں کو انصاف دے کر اسے سلجھایا گیا ہے۔ چناؤ پرچار کے وقت سکھ مخالف بات کہی گئی اور کانگریس کو اس کا فائدہ بھی ہوا۔ پنجاب میں امن بحال کرنے میں کافی وقت لگا۔ آج بھی سکھوں کے جذبات اس سے جڑے ہوئے ہیں اور بھنڈراں والا اور ان کے ساتھیوں کو شہید کا درجہ ملا ہوا ہے۔ آج بھی دیکھا جائے تو سکھوں نے اس مدعے کو چھوڑ بھلے ہی دیا ہو، لیکن وہ اسے بھولے نہیں ہیں۔ جس وقت لندن میں جنرل برار پر حملہ ہوا، اسی وقت برطانیہ کے سکھوں نے ایک اور مدعا اٹھایا، جو کہ جے کے رولنگس کی ایک کتاب ’دی کیزووَل ویکینسی‘ سے متعلق تھا، جس میں سکھ عورتوں کے کردار کے بارے میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ وہاں کے سکھوں کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم کو خط لکھیں گے کہ وہ اس کتاب کے بارے میں برطانوی حکومت سے شکایت کریں۔ ویسے برطانوی حکومت اس کتاب کے متن کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتی ہے، لیکن سکھوں کو اس کی مخالفت کرنی ہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے۔ برطانیہ کا شہری ہونے کے ناطے انہیں اپنی عزت و وقار کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم سے کیوں کہہ رہے ہیں؟ کیا وہ تب بھی ہندوستانی وزیر اعظم کو اپنے مدعے کو اٹھانے کے لیے کہتے، اگر وزیر اعظم کا تعلق سکھ برادری سے نہیں ہوتا؟
اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے سکھ خود کو ہندوستانی شہری مانتے ہیں۔ اسی سے وسکونسن گرودوارے میں ہونے والے حملے کا مقصد صاف ہو جاتا ہے۔ ہندوستانیوں نے غصہ دکھایا اور سوچا کہ ہندوستانی حکومت کو امریکہ سے معافی کی مانگ کرنی چاہیے۔ ویسے امریکہ میں سکھوں کے اوپر ہونے والا یہ حملہ ایک امریکی شہری کے ذریعے دوسرے امریکی شہری پر کیا گیا حملہ تھا اور یہ امریکہ کا اندرونی معاملہ تھا، جس میں ہندوستان کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے مداخلت کی، میڈیا نے ہنگامہ کیا۔ حملے کے کچھ دنوں کے بعد امریکہ کے اٹارنی جنرل نے اسے ’ہیٹ کرائم‘ کہا۔ ان واقعات کے سبب بیرونی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی پہچان ایک مدعا بن گیا ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ اپنے ملک میں ہی، ممبئی میں ایم این ایس کے ذریعے بہاریوں پر حملے کیے جاتے ہیں، اسی طرح کا واقعہ بوڈو کے ساتھ بھی ہوا، جو آسام سے باہر رہنا نہیں چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی کہتے ہیں کہ یو پی کے نوجوان صوبہ کے باہر روزگار کے لیے جاتے ہیں، کیوں کہ یو پی میں روزگار نہیں ہے۔ اتر پردیش یو پی والوں کے لیے ہے اور کسی یو پی والے کو صوبہ کے باہر نہیں جانا چاہیے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ ہندوستانی ہونے کا احساس نہیں کرتے ہیں اور وہ زبان، علاقہ، مذہب کی بنیاد پر اپنی پہچان بنائے رکھتے ہیں اور جو ہندوستانی لوگ غیر ملکوں میں رہتے ہیں، وہ خود کو ہندوستانی پہلے سمجھتے ہیں اور امریکی یا برطانوی شہری بعد میں۔ یہ خطرناک سوال ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *