مہاراشٹر میں سینچائی گھوٹالہ: کب لوٹوگے عوام کو

پروین مہاجن

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور شرد پوار کے بھتیجے، اجیت پوار نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے استعفیٰ کے بعد ریاست میں سیاسی بھونچال پیدا ہوگیا ہے۔ اجیت پوار پر الزام ہے کہ آبی وسائل کے وزیر کے طور پر انہوں نے تقریباً 38 سینچائی پروجیکٹوں کو غیر قانونی طریقے سے منظوری دی اور اس کے بجٹ کو من مانے ڈھنگ سے بڑھایا۔ دریں اثنا، سی اے جی نے مہاراشٹر میں سینچائی گھوٹالے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پوار نے سال 2009 میں جنوری سے اگست کے دوران 20 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو جلد بازی میں کیوں منظوری دی، اسے لے کر سنگین سوال کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ ریاست میں سینچائی پروجیکٹوں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کو لے کر کچھ دنوں پہلے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے وہائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان ریاستی اسمبلی کے اندر اور باہر دیا تھا، مگر این سی پی لیڈروں کے دباؤ میں اب تک سینچائی پروجیکٹوں میں ہوئے بھاری بھرکم خرچ کی بہ نسبت آبی وسائل میں معمولی سدھار نہ ہونے کی حقیقت دب کر رہ گئی۔ اب صوبائی سطح کی تکنیکی صلاح کار کمیٹی کے رکن اور مینڈھے گیری انکوائری کمیٹی کے رکن، چیف انجینئر وجے بلونت پانڈھرے کے ذریعے مہاراشٹر کے چیف سکریٹری کو لکھے گئے خط سے چوان سرکار کی نیند اڑ گئی ہے۔ ان کا یہ خط سینچائی پروجیکٹوں کی تعمیر میں نوکرشاہ – ٹھیکہ دار – سیاسی لیڈروں کا گٹھ جوڑ کس طرح کا گول مال کرکے عوام کے پیسے کو اپنی تجوری میں بھرتا ہے، اس کو بیان کرتا ہے۔

مہاراشٹر میں ہزاروں کروڑ روپے کا سینچائی گھوٹالہ ہو گیا اور پوری انتظامیہ آنکھ بند کرکے دیکھتی رہی۔ اپوزیشن پارٹی بی جے پی اور شو سینا نے بھی اس مسئلے کو نہیں اٹھایا۔ سماجی کارکن انجلی دامنیا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس گھوٹالے کے بارے میں بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری کو اطلاع دی تھی اور ان سے اس معاملے کو اٹھانے کے لیے کہا تھا۔ انجلی دامنیا کسی خود غرضی کی وجہ سے یہ کام نہیں کر رہی تھیں۔ وہ نتن گڈکری سے اہم اپوزیشن پارٹی ہونے کا دھرم نبھانے کی اپیل کر رہی تھیں۔ نتن گڈکری خود اس معاملے کو اٹھانا تو دور، انہوں نے اپنی ہی پارٹی میں کرپشن سیل کے سربراہ، کریٹ سومیا کو بھی منع کر دیا۔ انجلی دامنیا کے اس بیان کو اب بی جے پی اور نتن گڈکری خارج کر رہے ہیں۔
جب ہم نے سب سے پہلے 26 لاکھ کروڑ کے گوئلہ گھوٹالے کا انکشاف کیا، تب بھی نتن گڈکری کا یہی چہرہ سامنے آیا تھا۔ مہاراشٹر کے ایک بڑے صحافی کے ساتھ چوتھی دنیا کی ٹیم نے نتن گڈکری سے رابطہ کیا تھا۔ جب پہلی بار انہیں 26 لاکھ کروڑ روپے کے کوئلہ گھوٹالے کے بارے میں بتایا گیا تھا، تب وہ گوہاٹی میں تھے۔ ٹیلی فون پر وہ کافی متجسس نظر آئے۔ انہوں نے یہ بھروسہ دلایا تھا کہ بی جے پی اس معاملے کو ضرور اٹھائے گی۔ نتن گڈکری نے فوراً اپنے ساتھی شیام جاجو کو چوتھی دنیا اخبار کی کاپی دینے کو کہا۔ اس وقت یہ احساس ہوا کہ نتن گڈکری آر ایس ایس کے ذریعے بنائے گئے بی جے پی کے صدر ہیں۔ وہ سنگھ کے تہذیب یافتہ اور ایماندار کارکن ہیں اور ان کے اندر ملک کے تئیں خدمت کا جذبہ موجود ہے۔تین دنوں کے بعد گڈکری صاحب کا جو چہرہ سامنے آیا، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت سیاسی پارٹیاں مافیا کی طرح ملک کو لوٹنے میں لگی ہوئی ہیں۔ ہم لگاتار کوشش کرتے رہے کہ بی جے پی کوئلہ گھوٹالے کا مدعا اٹھائے، لیکن اس نے تب تک اس مدعے کو نہیں اٹھایا، جب تک سی اے جی کی رپورٹ نہیں آ گئی۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ جن کمپنیوں کو کوئلہ بلاک تقسیم کیے گئے تھے، وہ کمپنیاں کانگریس اور بی جے پی دونوں کو برابر فنڈ دیتی ہیں۔ انجلی دامنیا کے حوصلے کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، کیوں کہ ان کی باتوں پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
– ایڈیٹر

چیف انجینئر پانڈھرے کا یہ خط کسی وہائٹ پیپر سے کم نہیں ہے۔ چوان سرکار کسی بھی صورت میں اس خط کو عام نہیں کرنا چاہتی تھی۔ آخر اس خط میں ایسا کیا لکھا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کے ہوش اڑے ہوئے ہیں۔ اس خط کو چوتھی دنیا کے ذریعے عام کیا جا رہا ہے، تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ اس کے پیسے سے تعمیر ہونے والے سینچائی کے پروجیکٹ 15-20 سال تک کیوں ادھورے پڑے رہتے ہیں۔ کیسے ان کی مالیت میں اضافہ کرکے ٹھیکہ دار، لیڈر اور افسر چاندی کاٹ رہے ہیں۔

وجے بلونت پانڈھرے
چیف انجینئر
رکن، صوبائی تکنیکی صلاح کار کمیٹی اور رکن، مینڈھے گیری انکوائری کمیٹی
میری، ناسک
مورخہ : 5/5/2012

عزت مآب
پرنسپل سکریٹری
(فروغِ آبی وسائل اور منصوبہ بندی)
محکمہ آبی وسائل،
منترالیہ، ممبئی – 400032
موضوع: مہامنڈل کی بجٹ مانگوں کی تکنیکی کمیٹی کے ذریعے جانچ کرانے بابت شکایت
درج بالا موضوع کے سلسلے میں کچھ ٹھوس ثبوت اور اس سے متعلق اہم جانکاری سے انتظامیہ کو باخبر کرانے کی درخواست، خط کے ذریعے مجھ سے کی گئی تھی۔ اسی سلسلے میں تفصیلی جانکاری پیش کر رہا ہوں۔ محکمہ میں جو کام ٹھیکہ دار اور سیاسی لیڈروں نے افسروں کی مدد سے شروع کیا ہے، وہ فوراً بند ہو اور عوام کا پیسہ بلا وجہ بیکار نہ جائے ایسی امید ہے۔ مستقبل میں استعمال کیے جانے والے اربوں روپے کی فضول خرچی پر روک لگے تو اچھا ہوگا۔ سب کچھ سرکار کے ہاتھ میں ہے۔ اگر سرکار ہی چوک کرنے لگے گی تو، اس ملک کو کون بچائے گا؟ صرف 6000 کروڑ سے 7000 کروڑ روپے کا فنڈ ہر سال مہیا ہونے پر بھی ڈی ایس آر کے حساب میں ایک لاکھ کروڑ روپے کا غلط استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ میرے ذریعے مورخہ 20 فروری 2012 کو دی گئی درخواست میں جو بات لکھی گئی ہے، وہ پوری طرح سچ ہے۔ سرکار نے اس سے متعلق مزید جانکاری مانگی ہے۔ اس لیے اس سلسلے میں تفصیلی جانکاری پیش کر رہا ہوں۔ سرکار کے ذریعے ان پروجیکٹوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے تو، سینچائی پروجیکٹ میں ہوئی بھاری بدعنوانی کی بات سامنے آئے گی۔
سب سے پہلے ہم بات کر رہے ہیں نر ڈوے پروجیکٹ (کونکن) کی۔ اس پروجیکٹ کی اونچائی بڑھانے کے ساتھ ہی باندھ کی لاگت 200 کروڑ روپے سے بڑھا کر 650 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ باندھ کی اونچائی بڑھانے کے لیے سرکار سے کسی طرح کی منظوری نہیں ہے۔ لہٰذا اس پروجیکٹ کے مجوزہ بجٹ کی جانچ کرنی ضروری ہے۔ نرڈوے پروجیکٹ کا ٹنڈر تو تیسرے درجے کا ہے، پھر بھی اس میں 30-40 کروڑ روپے کا ای آئی آر ایل منظور کیا گیا ہے۔ اس ٹنڈر میں صاف لکھا گیا ہے کہ ’نو ای آئی آر ایل وِل بی الاؤڈ اِن دِس ٹنڈر‘۔ باوجود اس کے ای آئی آر ایل کا اختیار نہ ہوتے ہوئے بھی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور وزیر موصوف نے اسے اپنی منظوری عطا کی ہے۔
اِن دنوں کونکن علاقے میں ایک مہم خوب زوروں سے چل رہی ہے۔ یہاں چھوٹے سینچائی باندھ کا حوالہ دے کر پروجیکٹوں کی منظوری حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی اونچائی بڑھانے کی تجویز مہامنڈل سطح پر پاس کرائی جاتی ہے اور اس کے بعد کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کیا جاتا ہے۔ کونکن علاقے میں یہ کھیل گزشتہ بیس سالوں سے جاری ہے۔ یہاں 30-40 چھوٹے سینچائی باندھ کے تعمیراتی کاموں کی تجویزیں کچھ دنوں بعد آنے والی ہیں۔ اس پر روک لگنی چاہیے، کیوں کہ کونکن میں دستیاب پانی کا دس فیصد بھی استعمال نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہاں بڑی تعداد میں باندھوں کی تعمیر کس مقصد سے کی جاتی ہے۔ ویسے بھی سرکار کے پاس پیسہ نہیں رہتا؟ جو کام پہلے سے شروع ہیں، انہیں پورا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ پندرہ – بیس سالوں تک پروجیکٹ پورے نہیں ہوتے، پھر بھی ٹنڈر نکالے جاتے ہیں۔ سرکار کو چاہیے کہ جن ٹنڈرس میں 20 فیصد سے بھی کم خرچ ہوا ہے، ان سبھی ٹنڈرس کی جانچ ہو۔ ضرورت پڑنے پر انہیں ردّ کر دینا چاہیے، تاکہ عوام کا بھلا ہو سکے۔
ان دنوں نہایت مہنگے پروجیکٹ شروع کرنے کا دور ہے۔ اصل میں، کم خرچ پر پانی کو کیسے محفوظ اور جمع کیا جاسکتا ہے، اس بات پر دھیان دیا جانا چاہیے، لیکن مہا منڈل بننے کے بعد زیادہ مہنگی لاگت کا بجٹ بناکر فضول خرچ کیا جا رہا ہے۔
ناسک میں مانجر پاڑہ (1) پروجیکٹ کی کھدائی کے لیے متعینہ قیمت سے زیادہ پیسے ادا کیے گئے۔ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہیے۔ اسی طرح مانجر پاڑہ (2) پروجیکٹ میں بھی غیر ضروری بجٹ کو منظوری دینے کا عمل شروع ہے۔ اس پروجیکٹ کو دیکھتے ہی فضول خرچی کی بات سامنے آ جاتی ہے۔ پانی دستیاب نہ ہونے پر بھی اس پروجیکٹ کو پانی دستیاب ہونے کا سرٹیفکٹ دیا گیا ہے۔ پانی کی کمی کے باوجود ایسے پروجیکٹوں کو ترجیح دینے کی کوشش سیاسی لیڈر کر رہے ہیں۔ اسی طرح پین گنگا کھورے میں پانی نہیں ہونے پر بھی پانی دستیاب ہونے کا سرٹیفکٹ دیا گیا ہے۔ پہلے ٹنڈر جاری کرنا اور پھر اس میں خامیاں دکھا کر اس کی لاگت بڑھائی جا رہی ہے۔ مراٹھ واڑا اور وِدربھ میں اس طرح کے بیراج کافی تعداد میں ہیں۔ یہاں لفٹ اِرّی گیشن پروجیکٹ پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ باوجود اس کے اس پرو جیکٹ پر 25-30 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں

لفٹ اِرّی گیشن کی تاریخ بہت لمبی ہے۔ مہاراشٹر میں ہزاروں لفٹ اِرّی گیشن پروجیکٹ بن چکے ہیں، لیکن ان میں سے 99 فیصد فی الحال ٹھپ پڑے ہیں۔ درحقیقت، یہ سبھی پروجیکٹ سیاسی لیڈروں اور ٹھیکہ داروں کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ لفٹ اِرّی گیشن پروجیکٹ کے فیل ہونے کی ایک اچھی مثال جل گاؤں ضلع کے مکتائی نگر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ایکناتھ کھڑسے جب مہاراشٹر کے آبپاشی وزیر تھے، تب 1999-2000 کے درمیان اس پروجیکٹ کا کام پورا کر لیا گیا تھا، لیکن یہ پروجیکٹ ایک سال بھی نہیں چلا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کے ذریعے پانی کی مانگ ہی نہیں کی گئی، لہٰذا گزشتہ 12 سالوں سے یہ پروجیکٹ بند پڑا ہے۔ کونکن کے چھوٹے سینچائی باندھ، اوسط اور بڑے پروجیکٹوں میں بھی کافی گڑبڑیاں ہیں۔ اگر ان کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے تو اس میں کروڑوں روپے کی ہیرا پھیری کی بات ثابت ہو جائے گی۔ غور طلب ہے کہ وِدربھ میں لائننگ کے لیے کروڑوں روپے کے ٹنڈر ہوئے ہیں۔ اگر اس کی جانچ پڑتال کی جائے تو، یہاں بھی بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش ہو سکتا ہے۔ ان سبھی کارپویشنوں (مہا منڈلوں) کے تحت اسٹیل فیبری کیشن کا کام بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے۔ اس اسٹیل فیبری کیشن کے لیے بازاری قیمت سے کہیں زیادہ ریٹ دیے گئے ہیں۔ اگر سبھی مہا منڈلوں کے اسٹیل فیبری کیشن آئٹم کی جانچ ہوتی ہے تو، یہاں بھی کروڑوں روپے کا گھوٹالہ سامنے آ سکتا ہے۔ یہاں دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ لگ بھگ سبھی مہامنڈلوں نے اس کا بجٹ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ اسی طرح محکمہ آبی وسائل کے تکنیکی شعبہ کی معرفت جو کام کیا جاتا ہے، اس میں بھی کافی گڑبڑی ہوئی ہے۔ اس تکنیکی محکمہ کی جانچ ایک الگ موضوع ہے۔ اس لیے اس کی جانچ آزادانہ طور سے کرائی جانی چاہیے۔ مہاراشٹر کے محکمہ آبی وسائل میں بھی آپسی تال میل کی کمی ہے۔ محکموں پر سکریٹریوں کا کوئی کنٹرول نہیں رہ گیا ہے۔ کونکن علاقے میں پانی کا محض 10 فیصد استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود باندھوں کی اونچائی بڑھانے کے لیے 40-50 بجٹ لیٹر بنانے کا کام محکمہ آبی وسائل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایسے سبھی کاموں پر فوراً روک لگانی چاہیے، کیوں کہ کونکن سے وابستہ بجٹ لیٹر تکنیکی نقطہ نظر سے غیر مناسب ہے۔
تاپی مہامنڈل میں ٹنڈر نوٹس جاری کرنے اور ٹنڈر نوٹس میں جو قیمت طے کی گئی ہے اور ورک آرڈر دینے کے دوران قیمت کی جانچ ہوئی تو، اس میں زبردست اضافہ نظر آیا۔ اگر تاپی مہامنڈل کے بنیادی بجٹ لیٹر اور ترمیم شدہ بجٹ لیٹر کے فرق کی جانچ کرائی جائے تو، اس میں بھی بھاری بد عنوانی کا انکشاف ہوگا۔ اس طرح کی سبھی گڑبڑیوں کی شروعات کرشنا کھورے سے ہوئی ہے۔ مخلوط حکومت نے ہی اس گھوٹالے کی شروعات کی ہے۔ سال 1996 سے 2001 کے دوران کرشنا کھورے کے بجٹ لیٹر کی سنجیدگی سے جانچ ہو تو، اس میں بھی بڑے پیمانے پر بدنظمی کا پتہ چلے گا۔ جن اہل کاروں نے کرشنا کھورے میں گڑبڑی کی، وہی بعد میں تاپی گئے، مراٹھ واڑا گئے۔ اس کے بعد وِدربھ گئے اور اخیر میں کونکن پہنچے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹھیکہ دار، سیاسی لیڈر اور کچھ افسران نے ساز باز کرکے مہاراشٹر کو اقتصادی طور پر تباہ کر ڈالا۔ ایسے میں جب تک کسی سابق سکریٹری کی معرفت ان سبھی بجٹ لیٹرس کی غیر جانبدارانہ جانچ نہیں ہوتی ہے، تب تک یہ گڑبڑی سامنے آنے والی نہیں ہے۔ محکمہ آبی وسائل نے مہامنڈل بننے کے بعد ٹھیکہ داروں کے ذریعے سیمنٹ بیچنے کو آسان بنا دیا ہے۔ اب سیمنٹ پر اس محکمہ کا کوئی کنٹرول نہیں رہ گیا ہے۔ سیمنٹ کا کتنا استعمال کیا جانا چاہیے، اس کی ضرورت ٹھیکہ دار نہیں سمجھتے۔ ایسے میں یہاں بڑے پیمانے پر سیمنٹ گھوٹالہ ہوا ہے، اس کی بھی جانچ کرانے کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہاں پہلے بھی بھاری مقدار میں غیر قانونی طریقے سے سیمنٹ بیچے جانے کا انکشاف ہو چکا ہے۔ بڑی مقدار میں سیمنٹ بیچنے کے معاملہ پر ہی سکریٹری، آر جی کلکرنی نے سیمنٹ کو شیڈول – اے سے باہر کر دیا ہے۔
گوسی خورد کی بانئی نہر میں بھی انجینئروں کے ذریعے بڑے پیمانے پر گڑبڑی کی گئی، لیکن قصوروار انجینئروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کام چاہے کتنا بھی خراب کیوں نہ کیا جائے، قصورواروں کو سیاسی لیڈروں کی طرف سے پناہ ملتی رہے گی۔ دس سال پہلے تاپی پروجیکٹ میں کمزور تعمیراتی کام سے متعلق رپورٹ کارگزاری انجینئر ہونے کے ناطے میں نے حکومت کو بھیجی تھی۔ اس کے بعد میرا ٹرانسفر کر دیا گیا، جب کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر کسی دوسرے کو برخاست نہیں کیا گیا۔ اسی طرح تارلی پروجیکٹ کے تعمیراتی کام سے متعلق رپورٹ سپروائزنگ انجینئر ہونے کے ناطے میں نے سرکار کو سونپی۔ اس پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس لیٹر کا خلاصہ یہی ہے کہ مہاراشٹر کے سبھی کارپوریشنوں (مہامنڈلوں) میں زبردست گڑبڑی ہوئی ہے۔
غور طلب ہے کہ وِدربھ میں وڈنیرے کمیٹی کی انکوائری رپورٹ پر 1500 کروڑ روپے کی ریکوری کرنے کا حکم سرکار نے دیا ہے۔ اسی طرح وِدربھ میں 2900 کروڑ روپے کے لائننگ ٹنڈر کو ردّ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اس کی جانچ ہونے پر ایک مہامنڈل میں 4400 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہونے کا پتہ چلا۔ اس لیے سبھی مہامنڈلوں میں گزشتہ 15 سالوں میں کیے گئے تمام کاموں کی جانچ کی گئی تو، 20 ہزار کروڑ روپے فضول میں خرچ کرنے کا معاملہ فوراً ہی ثابت ہو جائے گا۔ صرف لفٹ اِرّی گشین کے پروجیکٹوں کی غیر جانبدارانہ اور گہرائی سے جانچ ہونے پر عوام کے 15 ہزار کروڑ روپے برباد ہونے کی بات ثابت ہو جائے گی۔ غور طلب ہے کہ یہ تمام کام اب بھی جاری ہیں۔ ایسے واقعات آئندہ نہ ہوں، اس لیے سرکار کو ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر صحیح بجٹ لیٹر بنائے جاتے اور اس کو ٹھیک ڈھنگ سے نافذ کیا جاتا تو، 40 ہزار کروڑ روپے اس طرح برباد نہیں ہوتے۔ آج لیڈروں کو زیادہ حساس اور افسروں کو بے خوف ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کونکن میں سرکار کے ذریعے ترمیم شدہ منظوری حاصل نہ ہونے پر بھی بڑے پیمانے پر زیادہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ ایسے سبھی کاموں کی سنجیدگی سے جانچ کرکے ان پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔ کونکن کے سبھی باندھوں کی اونچائی بڑھانے کے معاملوں کی جانچ پہلے ہونی چاہیے، تاکہ اس میں ہوئے گھوٹالے کا انکشاف ہو سکے۔ کونکن کے سبھی ای آئی آر ایل اور کلاز 38 معاملے کی جانچ ہونی چاہیے، کیوں کہ کونکن علاقے میں سینچائی بہت ہی کم ہوتی ہے، لیکن سینچائی کے نام پر ہر سال ایک بڑی رقم خرچ ہوتی ہے۔ اسے روکنے کی ضرورت ہے۔ صوبے میں گھوٹالوں کی تعداد نہ بڑھے، فضول خرچی پر روک لگے، پروجیکٹ ادھورے نہ رہیں اور عوام کا پیسہ بیکار نہ جائے، اس بابت ایک کنٹرولر کو بحال کیا جائے، کیوں کہ اس معاملے میں اب سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔
نقل
عزت مآب گورنر، ریاست مہاراشٹر، ممبئی
عزت مآب وزیر اعلیٰ، مہاراشٹر
عزت مآب چیف سکریٹری، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ، مہاراشٹر

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *