مہاراشٹر : چوہان اور پوار کے درمیان سرد جنگ جاری

راجیش نام دیو 
ریاستی کابینہ سے اجیت پوار کے مستعفی ہونے کے بعد ایسا لگ رہاتھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان بھی راحت کی سانس لیں گے۔ کئی لوگوں کو یہ بھی امید تھی کہ مخلوط حکومت کی حلیف جماعتوں کے درمیان چل رہی لڑائی تھم جائے گی۔ خصوصاً وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان اور اجیت پوار کے درمیان کی تلخیاں دور ہو جائیں گی، لیکن کابینہ سے پوار کے باہر ہو جانے کے بعد بھی ان دونوں کے درمیان سرد جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اجیت پوار (دادا) کے استعفے کے بعد کابینہ کی پہلی میٹنگ میں این سی پی کے وزیروں نے وزیر اعلیٰ کے دفتر کو نشانہ بناتے ہوئے یہ جتا دیا کہ ان کی ناراضگی ابھی تک برقرار ہے۔ علاوہ ازیں سینچائی گھوٹالہ پر وہائٹ پیپر جاری کرنے کو لے کر بھی کشیدگی ہے۔ وہیں وزیر اعلیٰ نے نائب وزیر اعلیٰ کے پورے اسٹاف کو چلتا کر دیا ہے۔ اجیت پوار کے دفتر کے تمام ملازمین کو ان کے اصل محکمہ میں بھیج کر بابا نے بھی ان کے خلاف سخت قدم اٹھانے کے اشارے دے دیے ہیں۔اتنا ہی نہیں وزیر اعلیٰ جہاں ریاست کے شہریوں کو سبسڈی سمیت 9 سلنڈر دینے کے حق میں ہیں، وہیں محکمہ مالیات کی ذمہ داری سنبھالنے والے جینت پاٹل نے اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ دھیان رہے کہ جینت پاٹل کو وزارت مالیات کی ذمہ داری دادا کی خواہش پر ہی دی گئی ہے اور وہ انہی کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔
بھلے ہی اجیت پوار نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہو، لیکن این سی پی میں ان کی حیثیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد کابینہ کی میٹنگ سے ٹھیک پہلے انھوں نے اپنی پارٹی کے وزیروں کی میٹنگ طلب کی، جس میں انہیں ہدایات دی گئیں کہ وہ کابینہ کی میٹنگ میں اپنی رائے مضبوطی کے ساتھ رکھیں ۔حالانکہ اجیت پوار کے اس رخ پر کانگریس نے اعتراض بھی ظاہر کیا تھا۔ اس کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر نے بھی اپنی پارٹی کے وزیروں کی میٹنگ روزگار گارنٹی منصوبہ کے وزیر نتن رائوت کے گھر پر بلائی۔ اس میٹنگ میں سینچائی گھوٹالہ اور اجیت دادا کے آگے کی سیاست پر مزید بحث ہوئی۔ حالانکہ اجیت پوار کی پری -کیبنٹ میٹنگ کا اثر اکتوبر کی شروعات میں ہوئی کابینہ میٹنگ میں صاف نظر آیا۔ کابینہ کی میٹنگ میں این سی پی کے وزیروں نے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کے جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ پر نشانہ لگا کر ان کی بولتی ہی بند کر دی۔ وزیر برائے دیہی ترقیات و مالی منصوبہ بندی جینت پاٹل نے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین اور افسران کی تعداد ہی اگر معقول نہیں ہوگی تو عام انتظامیہ کیسے چل سکے گا؟ وزراء میٹنگ کرتے ہیں، لیکن اس میں سینئر افسران یہ کہہ کر نہیں آتے کہ اسامیاں خالی ہیں۔ اس مسئلہ پر وزیر صنعت نارائن رانے اور روزگار گارنٹی منصوبہ کے وزیر نتن رائوت نے وزیر اعلیٰ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صرف ودربھ میں ہی نہیں، بلکہ کونکن میں بھی بہت سی اسامیاں خالی ہیں۔ ملازمین کی بھرتی کو لے کر پالیسی کے تحت فیصلہ لیا جانا چاہیے۔ ادھر وزیر اعلیٰ چوہان نے بھی مانا کہ ملازمین اور افسران کا خالی اسامیوں پر تبادلہ کیے جانے پر کئی بار وزیر ہی اسے خارج کرنے کی سفارش لے کر ان سے ملنے پہنچ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تبادلوں کو لے کر ایک سخت پالیسی وضع ہونی چاہیے، لیکن وزیر داخلہ آر آر پاٹل کا واضح کہنا ہے کہ تبادلوں سے متعلق مسائل کے لیے پالیسی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ڈسپلن کا معاملہ ہے۔ اس مسئلہ پر وزیر اعلیٰ نے تمام وزیروں سے تعاون کی درخواست کی تو این سی پی کے وزراء کو بھی حامی بھرنی پڑی۔ غور طلب ہے کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ دنوں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس میں خالی اسامیوں کے کل تین فیصد عہدے بھرے جانے کی بات کہی گئی تھی، جب کہ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ریاستی حکومت میں 90 ہزار عہدے خالی ہیں۔ ریاست میں ہر سال تین فیصد ملازم ریٹائر ہوتے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، اگر اتنے ہی ملازم رکھے جاتے ہیں، تب بھی 90 ہزار عہدے خالی رہتے ہیں۔ اس بارے میں گزیٹیڈ آفیسر یونین کے جنرل سکریٹری جی ڈی کلمیتھے کا کہنا ہے کہ حکومت کو تین فیصد عہدے پر کرنے کا اپنا جی آر واپس لینا چاہیے اور بڑے پیمانہ پر ملازمین کی بھرتی کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ چراغ تلے ہی اندھیرا ہے۔لہٰذا، اب جب این سی پی کے وزراء نے وزیر اعلیٰ کے محکمہ پر انگلی اٹھائی تو نیند کھلی اور حکومت نے چیف سکریٹری جینت بانٹھیا کو ہدایت دی کہ اگلی میٹنگ میں خالی اسامیوں اور بھرتی کے عمل سے جڑی رپورٹ پیش کی جائے ۔ حالانکہ اس میٹنگ میں جس بات پر گرما گرم بحث ہونے کاخدشہ تھا، اس پر دونوں پارٹی کے وزیر خاموش رہے۔ اجیت پوا ر کے مستعفی ہونے کے بعد یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ کابینہ کی میٹنگ میں سینچائی گھوٹالہ پر وہائٹ پیپر کو لے کر دونوں پارٹیوں کے درمیان زبردست بحث ہوگی ،لیکن اس میٹنگ میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کابینہ کی مذکورہ میٹنگ کے بعد اجیت پوار خود وزیر اعلیٰ چوہان سے ملنے گئے۔ اس ملاقات کو لے کر سیاسی حلقوں میں اپنے اپنے طریقہ سے پیش گوئی ہو رہی تھی۔کانگریس اور این سی پی کے لیڈروں کا ماننا ہے کہ دونوں لیڈر اس وجہ سے بھی ملے، کیونکہ ان کے درمیان جاری سرد جنگ ، تلخ کلامی اور غلط فہمیوں کو بات چیت کے ذریعہ کم کیا جا سکے۔ جس طرح اپنے استعفے کے بعد دادا ریاستی دورہ کے دوران وزیر اعلیٰ کا نام لیے بغیر نشانہ سادھتے رہے، اس سے دونوں پارٹیوں کے کارکنان میں حکومت اور اتحاد کے مستقبل کو لے کرقیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ اسی تنائو کو کم کرنے کی کوشش اجیت پوار نے وزیر اعلیٰ سے مل کرکی ۔ ویسے کانگریس اور این سی پی لیڈروں کی اس صفائی میں دم نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد بھی اجیت دادا کی وزیر اعلیٰ پر طنز کرنے کی مہم بدستور جاری ہے۔ دادا سے پہلے شرد پوار بھی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے انہیں یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ حکومت کو کسی طرح کا خطرہ نہیں ہے اور یہ مخلوط حکومت اپنی مدت کار مکمل کرے گی۔
وہیں دوسری طرف وزیر اعلیٰ چوہان نے نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی ہوتے ہی اجیت پوار کے چہیتے افسران اور ملازمین کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا ہے اور تمام فائلیں متعلقہ وزارت کو بھیج دی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا یہ قدم دادا کے لیے ایک کرارا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ وہیں مرکزی حکومت نے جہاں کانگریسی حکومت والی ریاستوں میں6کے بجائے 9 سبسڈی سلنڈر دینے کا اعلان کیا ہے، وہیں اس مدعے پر ریاستی مخلوط حکومت کی دونوں جماعتوں میں شدید اختلاف ہے۔وزیر اعلیٰ جہاں ریاست کے صارفین کو 9 سبسڈی سلنڈر دینے کے حق میں ہیں تو مالیاتی منصوبہ بندی کے وزیر جینت پاٹل ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ اکتوبر ماہ کے دوسرے ہفتے میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی، لیکن کوئی اتفاق رائے قائم نہیں ہوپایا۔ وزیر اعلیٰ نے میٹنگ ختم ہونے کے بعد خود کہا کہ اس مدعے پر غورکیا گیا ،لیکن اضافی گیس سلنڈر کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ اس کے پیچھے جینت پاٹل کی دلیل یہ ہے کہ ریاست کی اقتصادی صورتحال اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ یہ راحت صرف خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے والے بی پی ایل کارڈ ہولڈر ز کو مل سکتی ہے۔ موٹے طور پر اضافی سلنڈر کے فیصلہ سے 2500کروڑ روپے کا حکومت پر بوجھ پڑے گا، جسے ریاست کی اقتصادی صورتحال کے پیش نظر نافذ کر پانا ممکن نہیں ہے۔
ان تمام حقائق کی روشنی میںیہ مانا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ چوہان اور اجیت پوار کے درمیان چل رہی سرد جنگ ابھی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اجیت پوار اس بات سے بے حد ناراض ہیں کہ سینچائی گھوٹالہ سے متعلق دستاویز آخر میڈیا کے پاس کیسے پہنچ گئیں۔ اس لیے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد وہ احمد نگر، ستارا، پنے ، اکولا میں ہوئے پروگراموں پر وزیر اعلیٰ پر جم کر برسے اور ان کی خامیاں عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی۔
حالانکہ اجیت پوار کے ان حملوں کا وزیر اعلیٰ چوہان نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن ان کے ممبران اسمبلی، وزیر اور پارٹی جارحانہ رخ اختیار کیے ہوئے ہیں۔مانک رائو ٹھاکرے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کانگریس اپنے دم پر آئندہ اسمبلی انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہے۔ ایک طرف این سی پی لیڈر سینچائی گھوٹالہ پر جلد سے جلد وہائٹ پیپر لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہیں وزارت آبی وسائل اس معاملہ پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ وزارت این سی پی کے سنیت تٹکرے کے پاس ہے، جن پر پہلے ہی بدعنوانی کے ذریعہ کروڑ وں روپے کا اثاثہ جمع کرنے اور بے نامی کمپنیاں بنا کر سرمایہ داری کرنے کا الزام ہے۔ اس درمیان نہ تو وزیر اعلیٰ، وزارت آبی سائل کو وہائٹ پیپر جاری کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور نہ ہی وزارت آبی سائل اس پر پہل کرنا چاہتی ہے، یعنی وہائٹ پیپر کا معاملہ بھی چوہان اور اجیت پوار کی سیاسی لڑائی کی نذر ہو گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *