کشمیر : فیض اور فلمستان

غلام نبی خیال
فیض احمد فیض کا شمار جہاں بر صغیر کے ممتاز اور عہد ساز شاعروں میں ہوتا ہے وہاں بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ فیض نے فلمی دنیا کے ساتھ بھی اپنے لگاو ٔ کا کبھی کبھی اظہار بھی کیا ہے۔وہ اگر چہ عام قسم کی بازاری اور عامیانہ فلموں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے، لیکن اُس کے ارد گرد کے ماحول نے اُنھیں ایک ایسے احساس اذیت میں مبتلا کر دیا تھا کہ اُنھوںنے اس شدت احساس کو پردۂ سیمیں پر لاکر اُن لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچانے کی کو شش کی جن کی رسائی اُن کے کلام تک نہیں تھی۔
فیض کے زمانے میں پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ پسماندہ صوبے بلوچستان میںجو پریشان کن حالات موجود تھے،ا ُن کے پس منظر میں فیض نے ’’دور ہے سکھ کا گاوںٔ‘‘ نام کی ایک فلم تیار کی، جس کامنظر نامہ اور نغمات انھوںنے لکھے۔ اُن دنوں پاکستان کی فلمی دنیا میں حبیب جالب، ریاض شاہد اور حسن طارق جیسے آزمودہ کار اور ترقی پسند فلم سازوں کا طوطی بول رہا تھا۔پاکستان میں مارشل لا نافذ ہونے کے بعد اس فلم کو اگرچہ مکمل بھی کیا گیا،لیکن حکومت نے اسے نمائش کے لئے پیش کرنے سے روک دیا۔
فیض احمد فیض کو اگرچہ اُن ممالک اور علاقوں کا دکھ درد بار بار بے چین کر تھا تھا لیکن آزادی کی جنگ میں بر سر پیکار کشمیر کے بد ترین حالات اس حساس شاعر کی روح کو ضرب لگا نہیں سکے اور اُنھوں نے کشمیر کو اس نوع کے موضوع کے لئے منتخب نہیں کیا۔
بنگلہ دیش کے خون ا ٓشام واقعات نے بھی فیض کو جذباتی طور بے حد تکلیف پہنچا ئی۔ اس متمدن علاقے میں کشت و خون کا بازار دیکھ کر فیض نے ایک عالم اضطراب میں ’’قسم اُس وقت کی‘‘ نام کی ایک اور فلم بنائی۔ اعلان تاشقند نے فیض کی اس کوشش پر بھی پانی پھیر دیا ۔جب فلم کو اس بری طرح سے سنسر کیا گیا کہ اس کی نمائش ایک سعی ناکام ثابت ہوئی۔ البتہ سہیل رعنا کے لکھے ہوئے اس کے گانے بے حد مقبول ہوئے ج جن میںمہدی حسن کی گا ئی ہوئی ایک نظم ’’منزلیں‘‘ بھی شا مل ہے ۔
فیض کی ایک اور فلم ’’دُورہے سچ کا گائوں‘‘ بھی سالہا سال تک نا معلوم وجوہات کی بنا پر نہ جانے کس سرد خانے میںپڑی رہی۔ یہ فلم جب مکمل ہو ئی تو فیض کو ملک چھوڑ کر جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ یہ فلم بھی بلوچستان میں تیار کی گئی تھی۔
فیض کی آخری فلم ’’جاگو ہوا سویرا‘‘ خوش قسمتی سے حکومتی پابندیوںاور زمانے کے دست برد سے محفوظ رہی اور اسے صدی کے تعطل کے بعد 12 جنوری 2012 ء کو کلکتہ میں دکھایا گیا۔ فیض نے اس فلم کے مکالمے اور گانے لکھے تھے۔ اس فلم کی کہانی در اصل بنگالی ناول نگار مانک بندوا پا دھیائے کے افسانے ’’پدما نادر ماچھی‘‘ ( پدما دریا کا مانجھی) پر مبنی تھی۔
اے جے کاردار کی ہدایت میں بنی اس فلم کو عام مقبولیت حاصل ہو ئی اور اسے گیارہ بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا،جن میں ماسکو میں منعقدہ عالمی فلمی میلہ میں دیا گیا انعام بھی شامل ہے۔ یہ فلم مشرقی پاکستان میں اُس وقت بنا ئی گئی جب اس خطے میںفلم سازی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔یہ فلم ڈھاکہ کے قر یب میگھنا دریا کے کنارے صرف اڑتالیس گھنٹوں میں تیار کی گئی۔ فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی کے بقول ’’یہ ایک جذبا تی لمحہ تھاجس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فیض کو اس میں لاہور اور کلکتہ اور اس کے علاوہ کلکتہ کی فلمی دنیا کی جھلک دکھا ئی دیتی تھی‘‘۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ـ’’ فیض ستیہ جیت رے کا ذکر نہایت شفقت اور چاہت سے کرتے تھے‘۔‘
’’جاگو ہوا سویرا‘‘ میں اُن دنوں کے بنگالی ماہی گیروں کا حال زار نہایت پُر اثر طورپر دکھایا گیا ہے۔ اس فلم کے مکالمے اور گیت بھی فیض نے ہی تحریر کئے تھے۔ اس فلم کا مرکزی کردار مشرقی پاکستان کے خان عطاالرحمان (انیس) نے اور خاتون کا کردار کلکتہ کی ترپتی مترا نے ادا کیا تھا۔
گذشتہ چھ سات دہائیوں سیٗ کشمیر ملک کے فلم سازوں کا ایک محبوب موضوع رہا ہے۔اس دوران کشمیر کے حوالے سے جو فلمیں بنا ئی گئیں اُن میں کشمیر کے فطری حسن کی جلوہ باریاں،یہاں کی ثقافت اور سماجی زندگی اور کسی حد تک حالات حاضرہ کو ہی فلم بنانے والوں نے اپنی صلاحیتوں اور کشمیر شناسی کے پیش نظر پردہ سیمیں پر پیش کیا۔
اس پس منظر میں اگر کسی بھی واحد فلم کو کشمیر کے بارے میں سب سے زیادہ حقیقت پسند ، شاندار اور دل نشین کہا جا سکتاہے تو وہ تھی جب جب پھول کھلے۔یہ فلم کشمیری منا ظر کی رنگا رنگی اور مقامی محسوسات اور جذبا ت کی بہترین عکاس تھی اور اسے فلم بینوں نے بھی دل و جان سے سراہا ۔
اس کے ساتھ کشمیر میں بالخصوص رومان اور حسن و عشق کی داستانوں پر مبنی ایک تھی لڑکی ،آرزو،برسات،کشمیر کی کلی ، ایک پھول دو مالی، نوری،بیتاب، کبھی کبھی وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
اُس زمانے میں اصحاب علم و دانش فلم سازوں کا کشمیر کے ساتھ بیحدلگاؤ تھا اور وہ مناظر کو کشمیر کی اثر انگیزی کے ساتھ پیش کرنے کے لئے محنت شاقہ سے کام لیتے تھے۔ اسی تناظر میں رامانند ساگر نے اپنی فلم آرزو کا ایک نغمہ فلمانے کے لئے کشمیر میں موسم خزاں تک کا انتظار کیا۔ جب چناروں کے درختوں سے لال لال پتے ایک ایک کر کے اور دھیمی رفتار کے ساتھ زمین پر گر تے ہیں ۔ یہ منظر وادی میں انتہائی خوبصورت نظاروں میں شمار ہو تا ہے۔ ساگر نے اس نغمے کو فلمانے کے لیے کئی مہینوں تک انتظار کیا اور پھر حسرت ؔجے پوری کے اس سدا بہار نغمے کو کشمیر کے مشہور اور چناروں سے بھر پور مغل باغ شالیمار میں فلمایا:
بیدردی بالما تجھ کو میرا من یادکرتا ہے
برستا ہے جو آنکھوں سے وہ ساون یاد کر تا ہے
اس گیت میں چناروں سے پتے گرنے کا ذکر بھی ایک شعر میں موجود ہے اور یہ آج بھی وادی میں ہر خاص و عام کی زبان پر اپنی موسیقی کا جادو جگارہا ہے۔
1990ء کے بعدکشمیر کے حالات نے غیر متوقع کروٹ لے کر نا مساعد اور خو ف و خطر سے بھر پور ایک غیر موافق صورت حال پیدا کر لی، جس سے فلم سازوں کو بھی اپنی تخلیقات کے لئے زور داراور شور انگیز مواد حاصل ہو۔ البتہ کئی فلم ساز اس مو ضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے اور وہ اسے حقیقی تناظر میں پیش کرنے سے قاصرہی رہے ،جس کی بنیادی وجہ کشمیر کے زمینی حالات سے اُن کی سرا سرنا واقفیت ہے۔
اس ضمن میں مشن کشمیر، شین، غدر، ایک پریم کہانی، انڈین، گنہگار،ہندوستان کی قسم، ماں تجھے سلام،ایل او سی کر گل،قیامت،مہرا، حنا ، کہرام، میجرصاحب، ریفیوجی، فضا، بورڈر اور بہت ساری پروپگنڈہ فلموں کا نام لیا جا سکتا ہے ۔لیکن اس کے بر عکس اسی پیچیدہ اور مشکل موضوع پرروجا نام کی فلم نے ہر طبقہ خیال سے دادوتحسین حاصل کی۔ کیونکہ اس میں شورش زدہ کشمیر کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لیا گیا تھا۔ اس فلم کا وہ منظر غالبا ً مدتوں تک فراموش نہیں کر سکتے جب فلم کا ہیرو قومی جھنڈے کو جلتا ہوا دیکھ کر اسے اپنے بدن سے ڈھانپتا ہے اور دہکتے ہوئے شعلوں کی پروا ہ نہ کر تے ہوئے اس قومی نشان کو خاکستر ہونے سے بچا لیتا ہے۔1992 میں تیار کردہ یہ فلم تامل،ہندی، مراٹھی اور ملیالم میںبھی بنائی گئی اور اسے کئی اعزازات سے نوازاگیا۔مانی رتنم کی اس فلم کو اے آر رحمان نے موسیقی سے سنوارا تھا اور اس میں دو کشمیری گانے رندہ پوشہ مال (رسول میرؔ) اور بومبرو بومبرو (نادمؔ) بھی شامل کئے گئے تھے جو بہت ہی مقبول ہوئے۔
لمحہ فلم کو چند اعتراضات کی بنا پر سعودی عرب، کویت،بحرین،قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان میں نہیں دکھایا گیااور متنازعہ کشمیر میں بھی اس کی نمائش ممکن نہیں ہوسکی ۔ بد قسمتی سے جو پروپیگنڈہ فلمیں کشمیر کے حوالے سے بنائی گئی ہیں ،اُن میںسے اکثر و بیشترمیںنا عاقبت اندیشی اور متعصبانہ ذہن کا استعمال کیا گیا ہے ، جس سے ہند و پاک کے مابین کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کا نہیں ، بلکہ اُن میں مزید تنائو پیدا کرنے کا قوم دشمن رول ادا کیا گیا ہے۔مشن کشمیر میں اس حد تک نا قابل یقین مبالغہ آمیزی کا بھونڈا مظاہرہ کیا گیا ہے کہ عسکریت پسند سرحد پار سے وادی کشمیر میں ٹینک اور توپیں تک لاتے ہیںجو کشمیر کی مغربی سرحد کی طرف سے ایک نا ممکن عمل ہے۔
اشون کمار کی انشااﷲکشمیروادی کے موجودہ حالات کی زبردست عکاس ہے، جس میں فلمساز نے ہم عصر نئی اصطلاحات جیسے کریک ڈاؤن، کرفیو، عصمت ریزی، یتیمی،فرضی تصادموں، اذیت رسانی، نفسیاتی دباؤ اور بہیمانہ قتل وغارت کو اثرانگیز طور پرپیش کیا ہے۔ فلم بین اُس وقت ایک جذبات خیز تلاطم میں گھر جاتے ہیں ،جب وہ کشمیر کے دیدہ زیب نظاروں کو خاردار تاروں میں جکڑا ہوا دیکھتے ہیں۔ اسی طرح عسکریت پسندوںکے حملوں کے نتیجے میں جو خون بہتا ہے او ر جو انسانی اعضاء سڑکوں پر بکھرتے ہیں اُن کی تصویر کشی بے حد متاثر کن ہے۔ اس کے بعد جو فوجی کارروائی ہوتی ہے، وہ سبھی واقعات دیکھ کر ایک ہندوستانی فلم بین مخمصے میں پڑکرپوچھتا ہے کہ آخر یہ کشمیری لوگ کیا چاہتے ہیں؟
یہ فلم بھی متنازعہ قرار دی گئی اور اسے صرف آن لائن ہی دکھایا گیا۔گزشتہ صدی کی آٹھویں د ہا ئی میں مظفر علی نام کے ایک فلم ساز نے کشمیر آکر ؎یہاں ملکہ حبہ خاتون پر زُو نی نام سے ایک فلم بنانے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں اسے جموں و کشمیربینک کی طرف سے کروڑ وں روپے کا قرضہ بھی دیا گیا ،جس کی اُس وقت کے ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداﷲ نے بذات خود سفارش کی تھی۔ اس فلم کے لئے ممتاز شاعر شہریار سے گانے لکھنے کی رضا مندی حاصل کی گئی تھی اور مشہور موسیقار خیام نے اسے موسیقی سے سجانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
اس کے بعد مظفر علی 1990میں کشمیر میں حالات کی تبدیلی کے پیش نظر اس منصوبے کو ابتدائی مرحلے میں ہی چھوڑ کر واپس گھر چلے گئے اور یہ فلم پھر کبھی نہ بن سکی۔
جموں و کشمیر بینک کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مظفر علی کے نام بینک کا قرضہ اب اصل زر سے کئی گناُ زیادہ ہو چکا ہے۔ا س سلسلے میں مظفر علی کو پے در پے یاد دا شتیں بھی اُن کے لکھنؤ اور دہلی کے پتے پر ارسال کی گئی ہیں، مگر ان مراسلوں کا کوئی جواب تک نہیں آیا ہے اور نہ ہی بینک کا قرضہ لوٹانے کا مظفر علی نے کبھی اپنا ارادہ ظاہر کیا۔
ہندوستانی فلموں میں کشمیر کی مسخ شدہ تصویر کشی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ممبئی کے جو فلم ساز اس خطہ ارضی پر اپنی فلمی تجربہ کاری کر تے ہیں، ان میںسے اکثر کبھی کشمیر آ ئے ہی نہیںہیں، بلکہ وہ یہاں سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر ہی اپنے آپ کو ماہر کشمیریات سمجھ کر اپنی نا فہمی اور صحیح حالات سے نا واقفیت کا خود ہی پردہ فاش کر تے ہیں۔ مشن کشمیر میں ایک ناممکن عمل یعنی فلک بوس پہاڑوںمیں گھری مغربی سرحد سے وادی میں بڑے بڑے ٹینک لانا اور عسکریت پسندوں کی طرف سے انہیں سری نگر میں مشہور ہندو مندر شنکر آچاریہ اور مسلم درگاہ حضرت بل کو اڑانے کی بے سود کوشش کرنا بعید از حقیقت فلم سازی کی ایک عامیانہ مثال ہے ۔
کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں جو قتل و غارت کا بازار گرم رہا اور جس کے منفی اثرا ت اب بھی برابر موجود ہیں ، اُسے ایک مثبت اور صحیح تناظر میں بھارتی فلم سازوں نے پیش کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ، کیونکہ ایسا کرتے وقت انہیںکچھ ایسی حقیقتوںکابھی اظہار کرنا تھا، جو اُن کی نظروں میںاصحاب اقتدار کے لئے نا پسندیدہ ہو سکتی تھیں۔لہٰذاوہ اس صداقت بیانی سے دور ہی رہے اور روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر کے مصداق ،کشمیر کی حقیقت کو خرافات کی صورت میں سامنے لانے کا بازاری کام انجام دیتے رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *