جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ مت کیجئے

سنتوش بھارتیہ 
سرکار کا بحران سرکار کے اپنے ہی کارناموں کا نتیجہ ہے۔ سرکار کام کر رہی ہے، لیکن پارٹی کام نہیں کر رہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کانگریس پارٹی کی کوئی سوچ بھی نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی سرکار کا ایجنڈا ماننے کے لیے مجبور ہے۔ سرکار کو لگتا ہے کہ اسے وہ سارے کام اب آناً فاناً میں کر لینے چاہئیں، جن کا وعدہ وہ امیریکن فائننشیل انسٹیٹیوشن یا امریکی پالیسی سازوں سے کر چکی ہے۔ اسی لیے سرکار نے وہ سب کرنا شروع کر دیا ہے، جو ہندوستانی آئین کی روح ہی نہیں، بلکہ اس میں لکھے الفاظ کے بھی خلاف ہے۔ سرکار نے بغیر آئین کو بدلے یا بغیر آئین میں ترمیم کیے، آئین میں لکھے ’سوشلسٹ‘ لفظ کا قتل کر دیا اور بغیر ملک کو بتائے، فلاحی ریاست کی جگہ بازار کے ذریعے کنٹرول کردہ اور بازار کے ذریعے ہدایت شدہ ریاست قائم کردی۔ لال کرشن اڈوانی، ملائم سنگھ یادو، نتیش کمار، لالو یادو، رام ولاس پاسوان، پرکاش کرات، اے بی بردھن، چندربابو نائڈو، کروناندھی، جے للتا، مایاوتی اور دیوگوڑا جیسے لیڈر اس پورے دور میں نہ صرف سرد پڑے رہے، بلکہ خاموش بھی رہے۔

دہشت گردوں اور ملک مخالف طاقتوں کی جاسوسی کرنے کی جگہ ان کی جاسوسی ہوتی ہے، جو عوام کی تکلیفوں کو سرکار کو بتانا چاہتے ہیں۔ ان کے ٹیلی فون چوبیسوں گھنٹے ٹیپ ہوتے ہیں۔ سرکار یہ پیغام دے رہی ہے کہ جب تک تشدد نہیں ہوگا، تب تک اس کے کانوں میں آواز نہیں پہنچے گی۔ سرکار کو یہ نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ جو کام مرکزی حکومت دہلی میں کر رہی ہے، وہی کام ریاستی حکومتیں ریاستوں میں کر رہی ہیں اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی پارٹی، کہیں نہ کہیں سرکار میں حصہ دار ہے۔

کیا یہ مانا جائے کہ ہندوستانی آئین سازوں میں اہم رہے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر، پنڈت جواہر لعل نہرو، ڈاکٹر راجندر پرساد، شری راج گوپالا چاریہ، سردار پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد جیسے لوگوں کے اندر دور بینی نہیں تھی اور نہ ان میں ہندوستانی معاشرے کے مسائل کو سمجھنے لائق عقل تھی۔ کیا یہ بھی ہم مان لیں کہ آج کی سرکار کے وزیر اور اپوزیشن کے لیڈر ہی ہندوستانی معاشرے کے تضادات کو سمجھتے ہیں۔ پہلے کے لیڈر کم عقل تھے یا شاید ان میں مستقبل کو پہچاننے کی سمجھ نہیں تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو آج ہندوستان میں نابرابری نہیں بڑھتی، مہنگائی نہیں بڑھتی، بدعنوانی عام نہیں ہوتی اور نہ مواقع کے ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا۔ ملک کی اقتصادی حالت مضبوط ہوتی اور ملک مجموعی طور پر ترقی کر رہا ہوتا۔
ملک کے عوام کی یادداشت کمزور ہے، ایسا سیاسی لیڈر مانتے ہیں، اسی لیے 1992 میں جب نئی اقتصادی پالیسی کا اعلان اُس وقت کے وزیر خزانہ منموہن سنگھ نے کیا تھا، تو انہوں نے کہا تھا کہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ ٹوٹا ہوا ہے اور اس کی تیزی سے تعمیر کرنے کے لیے نئی اقتصادی پالیسی کی ضرورت ہے، بیس سالوں میں ملک کی تصویر پوری طرح بدل جائے گی، پر ہوا اس کے بالکل برعکس۔ ملک میں پیسہ آیا، لیکن وہ ترجیحی سیکٹر کی جگہ کنزیومر سیکٹر میں لگا۔ ملک میں ٹیلی ویژن، کاریں، کپڑے، موبائل سمیت کنزیومر آئٹمس کی بھرمار ہوگئی، لیکن سڑک، اسپتال، تعلیم، مواصلات اور صنعتیں وہیں کی وہیں کھڑی رہیں۔ بجلی کا کہیں اتہ پتہ نہیں، پانی سینچائی کے لیے چھوڑ دیں، پینے کے لیے بھی ختم ہو رہا ہے۔
اور اب اقتصادی اصلاحات کے نام پر ملک کو بیچنے کی سازش رچنے والے نوکر شاہ سیاسی لیڈروں کے منھ سے کہلوا رہے ہیں کہ ایف ڈی آئی اس لیے ضروری ہے کہ ملک میں سڑکوں کی، کولڈ اسٹوریج کی تعمیر ہو سکے اور کسان کو سیدھا فائدہ ہو سکے۔ کسان کو سیدھا فائدہ ہونے سے مطلب، کسان کو پیسہ دے کر اس کی زمین ہڑپنا ہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں کسان کی زمین ایک بڑے خزانے میں تبدیل ہو گئی ہے اور اسی خزانے کو ہڑپنے کا کام آج کا بازار کرنے جا رہا ہے۔ موجودہ سرکار اس کا کھل کر ساتھ دے رہی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہندوستانی سیاست کے اہم عناصر، سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے امید کرنا بیکار ہے کہ وہ آئین کو بحال کرنے کی مانگ اٹھائیں گے۔ اگر انہیں آواز اٹھانی ہوتی تو وہ اب تک اٹھا چکے ہوتے۔ کیا مان لیں کہ پوری سیاسی مشینری نہ صرف ہندوستانی آئین، بلکہ ہندوستانی عوام کے مفادات کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے۔ حالات تو ایسے ہی اشارے دے رہے ہیں۔
تو پھر عوام کیا کریں؟ آواز اٹھائیں یا ہتھیار اٹھائیں؟ آواز اٹھانے پر سرکار آواز نہیں سنتی، پرامن طریقے سے شروع کی جانے والی تحریک سرکار کو پریشان نہیں کرتی، سرکار اس کا نوٹس نہیں لیتی اور وہیں جب یہ تحریک پر تشدد ہوجاتی ہے، تو سرکار فوراً یقین دہانی کرانے لگتی ہے۔ کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک یہی ہو رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں، عوام کی تکلیفوں کو لے کر آواز اٹھانے والی تنظیموں کے لوگ ملک کے غدار مان لیے جاتے ہیں۔ دہشت گردوں اور ملک مخالف طاقتوں کی جاسوسی کرنے کی جگہ ان کی جاسوسی ہوتی ہے، جو عوام کی تکلیفوں کو سرکار کو بتانا چاہتے ہیں۔ ان کے ٹیلی فون چوبیسوں گھنٹے ٹیپ ہوتے ہیں۔ سرکار یہ پیغام دے رہی ہے کہ جب تک تشدد نہیں ہوگا، تب تک اس کے کانوں میں آواز نہیں پہنچے گی۔ سرکار کو یہ نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ جو کام مرکزی حکومت دہلی میں کر رہی ہے، وہی کام ریاستی حکومتیں ریاستوں میں کر رہی ہیں اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی پارٹی، کہیں نہ کہیں سرکار میں حصہ دار ہے۔ ہم بڑے ادب کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف ہے اور مہربانی کرکے جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ مت کیجئے۔ جمہوریت کے ساتھ اگر آپ کھیلیں گے تو تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور آنے والی نسلیں آپ کو ویسے ہی یاد کریں گی، جیسے ملک کے غداروں کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس لیے، جمہوریت اور آئین کے لیے مضبوط آواز اٹھانی ضروری ہے۔ یہ آواز کون اٹھائے گا؟ اس آواز کو اٹھانے کی پہلی ذمہ داری عام لوگوں کی ہے۔ عام لوگوں کو آواز اٹھانے کے لیے متحد کرنا پہلا کام ہے۔ اگر یہ کام سیاسی پارٹیاں نہیں کرتیں تو پھر انہیں کرنے کا ذمہ انّا ہزارے، بابا رام دیو اور جنرل وی کے سنگھ جیسے لوگوں کو لینا چاہیے۔ آپ عوام کے درمیان امید جگائیں اور پھر کنارے کھڑے ہو جائیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر عوام آپ کے اوپر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ کو بھی اپنی تاریخی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انا ہزارے، بابا رام دیو اور جنرل وی کے سنگھ ایک ساتھ ملک میں گھومنا شروع کریں اور عام لوگوں کو آئین کو دوبارہ بحال کرنے اور جمہوری روایات کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے بیدار کریں۔ یہ لوگ عوام سے کہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ انہیں لوک سبھا میں ایسے امیدوار بھیجنے چاہئیں، جو ان مطالبات کو پورا کر سکیں۔ کیسے امیدوار منتخب کرنے چاہئیں اور کیا اس کا پیمانہ ہونا چاہیے، اس کا فیصلہ بھی اب عوام کو کرنا چاہیے۔
کیا ہندوستان کا نوجوان صرف سیاسی لیڈروں کو زندہ باد بولنے کے لیے ہے یا اس کی حصہ داری بھی سیاسی عمل میں ہوگی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سرحد پر بندوق لے کر کھڑا ہو اور ملک کے لیے اپنی جان دے دے، پر اسے سرکار چلانے کے لائق نہیں سمجھا جاتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان بھی ملک کے تئیں اپنی ذمہ داری سمجھیں اور سماج میں آئین کو بحال کرنے کے تئیں حلف لیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *