ہندوستان کے لوگ سربجیت سے بہت پیار کرتے ہیں

اویس شیخ 
پندرہ اگست 2009 کو مجھے ہندوستان کے جشن یوم آزادی میں مدعو کیا گیا تھا۔ میرے لیے ہندوستانی لوگوں سے ملنا اور کیس کے بارے میں انھیں جانکاری دینا ضروری تھا ۔ اس بار انڈین ہائی کمشنر نے مجھے آرام سے ویزا دے د یا۔ 14 اگست 2009 کومیں واگھہ سرحد پار کرکے ہندوستان پہنچا۔ ہندوستان کی سرحد میں آنے کے بعد جب میں نے اپنا پاسپورٹ امیگریشن آفیسرز کو دیا اور بتایا کہ میں سربجیت کا وکیل ہوں، تو وہ مجھے گھورنے لگے ۔ یہ وہی جگہ تھی، جہاں کلدیپ نیر کے بلاوے کے بعد بھی مجھے ویزا نہیں دیا گیا تھا۔ ہندوستانی سرحد میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ وہاں میڈیا کی بھاری بھیڑ موجود تھی او ر لوگ بھی وہاں کافی تعداد میں موجود تھے۔ پھر مجھے وہاں پھول مالاؤں سے لاد دیا گیا۔ آل انڈیا ہیومین رائٹس کے نمائندے بھی وہاں موجود تھے۔ میں بھی اس ایسوسی ایشن کا رکن ہوں۔ مہیش بھٹ انڈین فلم انڈسٹری کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انھوں نے مجھے ممبئی آنے کے لیے مدعو کیا۔ وہاں ایک پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ عدالت کے فیصلے کو غلط مانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ یہ سوال اب بھی پوچھ رہے ہیں، جبکہ ایف آئی آر میں سربجیت کا نام ہی نہیں ہے، لیکن فی الوقت میں صرف مرسی پٹیشن پر ہی زور دوں گا۔ اگر سربجیت کی پھانسی کی سزا عمر قید میں بدل جاتی ہے تو وہ رہاہو سکتے ہیں، کیونکہ انھوں نے کافی سزا پہلے ہی کاٹ لی ہے۔ سربجیت کی بہن دلبیر کور بھی اس پریس کانفرنس میں موجود تھیں۔ 19 اگست کو سربجیت کی بہن اور بیٹی کے ساتھ میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل سے ملا۔ میں نے انھیں اپنی کتاب ’سمجھوتہ ایکسپریس ‘ پیش کی۔
ان سب واقعات کی وجہ سے میں ہندوستان میں ہیرو اور پاکستان میں زیرو بن چکا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر فکر و خوف کا احساس کم ہوتا چلا گیا۔ میرے لیے یہ ایک نفسیاتی لڑائی بھی تھی، جسے مجھے جیتنا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ سربجیت کی رہائی ہندوپا ک کے بیچ دوستی کا راستہ کھو لے گی۔ میں گولڈن ٹیمپل بھی گیا۔ وہاںمیںنے سربجیت کی رہائی کے لیے دعاکی۔ میں جانتا ہوں کہ ہندو مذہب ہزاروں سال پرانا ہے۔ یہاں علم حاصل کرنے کے لیے دھیا ن کرنے کی بات ہے۔ اسلام میںبھی دھیان کی بات ہے۔ ایک پیس ایکٹیوسٹ ہونے کے ناتے مجھے یقین تھا کہ میں جو کچھ بھی کر رہا ہوں، وہ دونوں ملکوں کو قریب لانے کی ایک کوشش ہے۔ میں سربجیت کا کیس ایک وکیل کے طور پر نہیں، بلکہ ایک انسان ہونے کے ناتے لڑ رہا ہوں۔ سربجیت کا کیس اب صرف سربجیت کا نہیں، بلکہ ہندو پاک کی دوستی سے جڑ گیا ہے۔ ایک بار لاہور میں ایک پاکستانی صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اجمل قصاب کا وکیل بنناپسند کروں گا؟ مجھے اس طرح کے سوالوں پر اپنی زبان بند رکھنی پڑ تی تھی۔ ہندوستان میں مجھے ایک آدمی نے بتایا کہ سربجیت ریلیز کمیٹی کا ایک وفد دہلی میں سونیا گاندھی سے ملا۔ اس نے ان سے کہا کہ اگرحکومت ہند یہاں جیل میں بند پاکستانی قیدیوں کے تئیں نرمی دکھائے تو اس سے سربجیت کے معاملے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ سونیا گاندھی نے جواب دیا کہ ایک مجرم جس کا جرم ثابت ہو چکا ہو، اس کا موازنہ ایسے آدمی سے نہیں کیا جا سکتا ہے، جس کا جرم ثابت نہ ہوا ہو۔ ایسے میں تو پھر میں یہی کہوں گا کہ پاکستانی سرکار کے پاس یہ کہنے کا موقع ہے کہ سپریم کورٹ سربجیت کو قصوروار مان کر سزا سنا چکا ہے۔ سربجیت کا معاملہ بہت آسان بھی نہیں ہے۔ اسے کافی صبر وتحمل سے دیکھا اور سنا جانا چاہیے۔ ہمارے پاس سربجیت کی رہائی کا واحد راستہ مرسی (رحم ؍معافی ) ہی ہے۔

سربجیت ریلیز کمیٹی کا ایک وفد دہلی میں سونیا گاندھی سے ملا۔ اس نے ان سے کہا کہ اگر ہندوستانی سرکار یہاں جیل میں بند پاکستانی قیدیوں کے تئیں نرمی دکھائے تو اس سے سربجیت معاملے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ سونیا گاندھی نے جواب دیا کہ ایک مجرم جس کا جرم ثابت ہو چکا ہو، اس کا موازنہ ایسے آدمی سے نہیں کیا جا سکتا ہے، جس کا جرم ثابت نہ ہوا ہو۔ ایسے میں تو پاکستانی سرکار کے پاس یہ کہنے کا موقع ہے کہ سپریم کورٹ سربجیت کوقصور وار مان کر سزا سنا چکا ہے۔

اپنے ہندوستانی سفر کے دوران میں سربجیت کے گاؤں بھکیونڈ بھی گیا۔ وہاں کے بچے، بوڑھے اور جوان مجھ سے ملنے آئے۔ مقامی ایم ایل اے ورسا سنگھ ولتوہا بھی ملنے آئے۔ یہاں کے پرائمری اور ہائی اسکول کے استاد اپنے طالب علم (سربجیت ) کے بارے میں مجھ سے بات کر رہے تھے۔ اس کے ساتھی بھی مجھ سے اپنے دوست کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ سربجیت ایک فرماں بردار اور محنتی طالب علم تھا۔ گاؤں والے اس بات پر ایک رائے تھے کہ سربجیت کا کردار بچپن سے لے کر جوانی تک بہت ہی صاف ستھرا رہا۔ میں نے بھی سربجیت سے اپنی ملاقات اور بات چیت کے بارے میں ان لوگوں کو بتایا۔ مقامی ایم ایل اے ولتوہانے مجھ سے کہا کہ وہ لوگ اپنے بھائی (سربجیت) کے لیے کافی پریشان ہیں اور یہ امید کر رہے ہیں کہ میری محنت ضرور رنگ لائے گی۔ میں نے اپنی تقریر میں ان سے پنجاب اسمبلی میں اس مسئلے پر آواز اٹھانے کے لیے کہا۔ اس میٹنگ کے بعد ہم لوگ کار میں بیٹھ کر سرحدی علاقے کی طرف بڑھے، جووہاں سے محض دس منٹ کی دوری پر تھا۔ مجھے اور دلبیر کور کو باڑ کے نزدیک بنے گیٹ کے پار جانے دیا گیا۔ 1990 میں جب سربجیت کھیت میں کام کر رہا تھا، تب یہ باڑ نہیں لگی تھی۔ ’نو مینس لینڈ‘ صرف ایک پتلی لکیر کی طرح کھنچی ہوئی تھی۔ اسے پار کر کے جانا کسانوں کے لیے ایک معمولی بات تھی، لیکن اس کے لیے سزا کافی بڑی ہوتی تھی۔ دلبیر کور کی آنکھوں میں آنسوصاف دیکھے جا سکتے تھے۔ میں اس ٹریکٹر کے مالک سے بھی ملا، جس کا ٹریکٹر سربجیت چلا رہا تھا۔ اس نے اور دیگر لوگوں نے بتایا کہ سربجیت نے کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ یہاں بھی سارے لوگ مجھ سے یہی پوچھ رہے تھے کہ سربجیت کب رہا ہوگا۔ یہاں سے پھر میں امرتسر واپس آ گیا اور وہاں سے شتابدی ایکسپریس پکڑ کر دہلی پہنچا۔ میں (سابق) وزیر قانون ویرپا موئلی سے ملا۔ انہیں وزیر اعظم تک پہنچانے اور مناسب کارروائی کرنے کے لیے مرسی پٹیشن سونپی۔ میں پھر واگھہ بورڈر پہنچا اور وہاں سے لاہور لوٹ آیا۔ سرحد پر ہندوستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے حکم کا احترام کرتا ہوں اور صرف مرسی کی بات کر رہا ہوں۔ میں یہاں سے ایک لاکھ لوگوں کی اپیل پاکستان کے صدر کے پاس پہنچانے جا رہا ہوں۔
میرا ہندوستان کا سفر کافی کامیاب رہا تھا اور یہ سب ہندوستان کے عوام کے تعاون سے ممکن ہوا تھا۔ لوگوں نے سربجیت کے تئیں اپنی نیک خواہشات اور محبت کا اظہار کیا تھا۔ اتنے کم وقت میں بھی بہت بڑی تعداد میں مرسی اپیلیںاکٹھا ہو گئی تھیں۔ میں اس معاملے میں خوش قسمت تھاکہ اگلے دن سارے اخباروں میں کافی مثبت خبریںشائع ہوئی تھیں۔ میں نے یہ ساری خبریں پوری دنیا میں انٹر نیٹ کے ذریعہ سے بھیجیں۔ ہندوستان کے کئی اہم لوگوں نے پاکستانی صدر کے پاس اپنی طرف سے بھی اپیل بھیجی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *