گجرات نہیں پاکستان جائیںگے نتیش

اشرف استھانوی 
نتیش کمار کا پاکستان دورہ، چین ، بھوٹان ، ماریشس جیسے ان کے سابقہ غیر ملکی دوروں کے بر عکس ترقیاتی مہم کا حصہ نہیں ہوگا، یعنی ترقیاتی دورہ نہ ہو کر خیر سگالی دورہ ہوگا، جس کی دعوت انہیں حال ہی میں بھارت او ربہار دورہ پر آئے پاکستانی پارلیمانی وفد میں شامل مختلف پاکستانی ریاستوں او رمختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے اپنی ریاست، اپنی حکومت یا اپنی پارٹی کی طرف سے دی تھی۔ ان باتوں کا خلاصہ گزشتہ دنوں مسٹر کمار نے جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ پروگرام کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے سامنے کیا، جو اُن سے گجرات اسمبلی انتخاب میں نتیش کمار اور نریندر مودی کی ممکنہ سیدھی اٹھاپٹخ سے متعلق خبروں کی تصدیق چاہ رہے تھے۔ زبانی جنگ تو اکثر ہوتی رہتی ہے اور میڈیا اسے کیش بھی کرتا رہتا ہے، لیکن اب اس کی اصلی دلچسپی سیدھی جنگ میں ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسٹر کمار زبانی جنگ سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ویسے بھی جب زبانی جمع خرچ سے ہی کام چل جائے تو پاکٹ ڈھیلا کرنا کون پسند کرے گا؟
نتیش حالانکہ گجرات کے دنگل میں نہ کودنے کی وجہ اپنی بے پناہ مصروفیات کو بتاتے ہیں، جس میں ریاست بہار کے 20 اضلاع میں باقی سیوا یاترا کی تکمیل، پھر پوری ریاست میں ادھیکار یاترا کا پروگرام، اس کے بعد نومبر میں ہی پٹنہ کی ادھیکار ریلی، صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کا بہار دورہ ، اپنی حکومت کی دوسری میعاد کے دو سال پورے ہونے پر حکومت کا رپورٹ کارڈ تیار کرنا، دیوالی اور چھٹھ جیسے تہوار اور پھر ریاستی قانون سازیہ کا سرمائی اجلاس وغیرہ مصروفیات شامل ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ گجرات کے انتخابی دنگل میں براہ راست کود کر اپنا قد چھوٹا اور نریندر مودی کا قد اونچا کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیںکہ گجرات میں کون سا فیکٹر کام کر رہا ہے او روہاں ان کا یا ان کی پارٹی جنتا دل متحدہ کا کیا مقام ہے۔ سیکولر ازم کے سوال پر مودی کو آڑے ہاتھوں لے کر میڈیا کی واہ واہی لوٹنا یا بہار کے مسلمانوں کو خوش کرنا اور بات ہے، لیکن سیدھے انتخابی دنگل میں کود کر اپنی بنی بنائی ساکھ کو بٹہ لگانا یقینا سیاسی دانش مندی کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش اس معاملے کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’’جنتا دل متحدہ بہت پہلے سے ہی گجرات اسمبلی انتخاب میں اپنے امید وار اتارتا رہا ہے اور بغیر کسی تال میل کے تنہا انتخاب لڑ رہا ہے۔ اس بار بھی اس کی شرکت گجرات اسمبلی انتخاب میں اسی طرح ہوئی۔ ویسے اس معاملے میں اصل فیصلہ پارٹی کے قومی صدر شرد یادو کو لینا ہے اور اس سلسلے میں صحیح اور آخری بات وہی کر سکتے ہیں، لیکن جہاں تک میری بات ہے تو میرے پاس اس وقت گجرات اسمبلی انتخاب سے متعلق کوئی پروگرام نہیں ہے۔ میرے پاس بہار میں ہی بہت کچھ کرنے کے لیے باقی ہے، او رپھر اس سے زیادہ اہم پاکستان دورہ ہے۔‘‘ نتیش کمار کے مطابق پاکستانی وفد میں شامل ارکان میں سے پہلا دعوت نامہ چونکہ صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کی طرف سے پیش کیا گیا تھا، اس لیے وہ سب سے پہلے صوبہ سندھ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ وہ بذریعہ طیارہ سب سے پہلے صوبہ سندھ کی راجدھانی کراچی پہنچیں او راس کے بعد پاکستان کے مختلف حصوں کا دورہ سڑک کے راستے سے مکمل کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب صوبہ میں حکمراں مسلم لیگ نواز کی طرف سے بھی انہیں دعوت ملی ہے۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد کی طرف سے بھی مدعو کیا گیا ہے۔ وہ ان تمام مقامات پر جانا چاہتے ہیں او رواپسی میں واگہہ سرحد سے گزر کر بھارت لوٹنا چاہتے ہیں۔ ویسے اس پورے پروگرام کو قطعی شکل دینا مرکزی وزارت داخلہ کا کام ہے۔ اگر اس کے مطابق پروگرام طے ہوا تو یہ 6 روزہ دورہ ہو سکتا ہے۔ اس دورہ میں سمینار اور استقبالیہ جلسے شامل ہوں گے۔ دراصل پاکستانی پارلیمانی وفد جب بھارت آیا تھا تو اس نے بہار جیسی پسماندہ ریاست میں ترقی کی آندھی کو چلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھنے میں بڑی دلچسپی دکھائی تھی۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر یہ سب اس بہار میں کیوں کر ممکن ہوا،جس کے بارے میں لوگوں کی عام رائے یہ تھی کہ بہار کا کچھ نہیں ہو سکتا ہے یا بہار کی بیماری لا علاج ہے۔ لیکن ان لوگوں کو یہاں آکر اندازہ ہوا کہ بہار اب پوری طرح بدل چکا ہے، ترقی کی راہیں کھلی ہیں او رانصاف کے ساتھ ہر فرقہ اور طبقہ کی ترقی ہو رہی ہے۔ دوسرے لوگوں کی طرح پاکستان کے لوگوں کو بھی یہ چمتکار جیسا لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ بہار نتیش کو وہاں آنے کی دعوت دی گئی ہے۔
نتیش کمار اپنی سات سالہ حکومت کے دوران اب تک 3 غیر ملکی دورے کر چکے ہیں۔ ان تمام دوروں کی تشہیر بڑے پیمانے پر کی گئی تھی اور ان سب کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس دورے سے بہار کی ترقی کی رفتار کو تیز تر کرنے میں مدد ملے گی اور وہاں کی تکنیک اپنا کر بہار کو ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان دوروں سے واپسی کے بعد بھی خود وزیر اعلیٰ کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اس دورہ سے بہار کو بہت فائدہ ہوگا اور بہار چاند تاروں پر کمندیں ڈالنے لگے گا۔ بھوٹان کی بجلی سے پورا بہار جگمگائے گا اور بہار کی صنعت کاری کے شعبہ میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوگا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس بار بھی ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان دورہ کو بہار کی ترقی سے جوڑنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعلیٰ نتیش کمار اگر پاکستان دورہ سے بہت خوش اور پر جوش نظر آرہے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس سے انہیں پاکستان کے علاوہ بھارت اور خاص طور سے بہار کے مسلمانوں میں بڑی شہرت حاصل ہوگی۔
اس سے قبل بہار کے جس بڑے لیڈر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا وہ سابق مرکزی وزیر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو تھے۔ اس لیے نتیش کے دورہ کا لالو کے دورہ سے موازنہ لازمی ہے۔ لالو کو بہار اور پورے ہندستان میں تو اس دورہ سے ایک الگ قسم کی شہرت ملی تھی ۔ خود پاکستان میں بھی انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا۔ پاکستان کے لوگ لالو کے مخصوص انداز اور نرالی بولی سے تو متاثر تھے ہی، ان کے سیکولر امیج کی وجہ سے بھی مملکت خداداد پاکستان میں حد درجہ مقبول تھے۔ وہ جہاں بھی جاتے تھے پاکستا نی رہنمائوں کے ساتھ عوام و خواص بھی ان کے لیے فرش راہ دکھائی دیتے تھے۔ نتیش کمار کے پاس ویسے تو لالو جیسا انداز بیان اور نرالی بھاشا نہیں ہے، لیکن سیکولر امیج کے معاملے میں وہ این ڈی اے میں رہتے ہوئے بھی لالو سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ خصوصاً نریندر مودی کے معاملے میں نتیش نے جس طرح کا رویہ ابھی تک اپنا رکھا ہے،اس سے بہار اور بقیہ ہندستان کے مسلمان تو ان کو پسند کرتے ہی ہیں، پاکستانی مسلمان بھی بطور قابل اعتماد سیکولر لیڈر بہ نظر استحسان دیکھتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ، بہار کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کا کارنامہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ ایسے میں اگر نتیش کمار، لالو کے مقابلے میں پاکستانی عوام سے زیادہ داد تحسین حاصل کرنے اور واہ واہی لوٹنے میں کامیاب ہو جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہ ہوگی۔ نتیش کمار دراصل پاکستان دورہ کو بطور سیکولر لیڈر خود کو لالو یادو سے زیادہ مقبول ثابت کرنے اور بہار کے مسلمانوں میں اپنی سیکولر ساکھ کو مضبوط کرکے لالو کی واپسی کے امکان کو ختم کرنے کا ایک بہترین موقع مان رہے ہیں او رانہیں پوری امید ہے کہ وہ اس محاذ پر بھی اپنے کٹر سیاسی حریف کو شکست دینے میں کامیاب ہوںگے۔
نتیش کمار اس موقع کا استعمال خود کو این ڈی اے کے سب سے بڑے اور مقبول لیڈر کے طور پر ثابت کرنے کے لیے بھی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں بذریعہ طیارہ نہ سفر کرکے سڑک کے راستے سے دورہ مکمل کرنا چاہتے ہیں اور واپسی واگہہ سرحد سے گزر کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ اس صورت میں عوام سے نزدیکی رابطہ او رعوامی خیر مقدم کے امکانات بڑھیں گے۔ اٹل بہاری واجپئی اپنی مشہو ربس یاترا کے دوران واگہہ سرحد سے گزرے تھے۔ واجپئی اس وقت ملک کے وزیر اعظم تھے اور وہ سفر دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کی بحالی کا ذریعہ بنا تھا۔ نتیش بے شک وزیر اعظم نہ ہو ں اور ملک کے سربراہ نہ ہو کر ریاست بہار کے سربراہ کے طور پر پاکستان جارہے ہوں، لیکن وہ اس دورہ میں اپنی مقبولیت کا اٹھتا ہوا گراف دکھا کر خود کو این ڈی اے کا سب سے بڑا اور مقبول لیڈر تو ثابت کرہی سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *