• کمال کا کھیل ہے 2014 کا الیکشن
  • ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی دوہری سیاست
  • سیاسی پارٹیوں کی فارین فنڈنگ پر سرکار خاموش کیوں ہے؟
  • پارٹیوں میں اندرونی جمہوریت کی ضرورت ہے
  • یو پی اے۔2 حکومت کے لئے تابوت تیار
  • راجستھان میں پارلیمانی انتخابات: کیا اسمبلی انتخابات کے نتائج سے متاثر ہوں گے؟
  • اعظم گڑھ ملائم سنگھ کے لئے کتنا مضبوط گڑھ؟
  • جھارکھنڈ: دائوں پر لگا قدآوروں کا وقار
  • بنارس پارلیمانی حلقہ: ہار جیت سے اوپر اٹھ کر ساکھ کا سوال
  • بہار میں سوشل میڈیا اشتہاری مہم کا ذریعہ بنا

آسمان زمین کے لئے محفوظ چھت ہے

وصی احمد نعمانی 
اللہ کی کرشمہ سازی اور اس کی بے پناہ کبریائی ہے کہ اس نے تمام جانداروں کی حفاظت کے لئے جو اس روئے زمین پر بستے اور رہتے ہیں ، ان تمام کی حفاظت کے لئے آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح بنا دیا ہے اور تین فضائی دائروں سے اس زمین کے گولہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ یہ تینوں گھیرے فضا میں موجود مختلف قسم کی گیسوں، اس میں موجود حرارتوں اور مقناطیسی میدان(Magnetic field) کے ہیں جو اپنی اپنی قدرتی خصوصیت کی وجہ سے بالائے آسمان سے جو مختلف قسم کے خطرات پیدا ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب بے ضرر ہوجاتے ہیں اور زمین محفوظ رہتی ہے۔
حرارت کی بنیاد پر مندرجہ ذیل کرّے ہیں جو اپنی حرارت کی وجہ سے زمین کے محافظ کا کردار اداکرتے ہیں۔(1)ٹروپوسفیر’’Troposphere‘‘ یا کرّۂ متغیرہ۔یہ کرہ سطح زمین سے بالکل متصل ہے اور ایک موٹی سی تہہ صفر کیلو میٹر سے 16 کلو میٹر کی بلندی تک ہے۔ یہ خط استوا کے اوپر 16 کلو میٹر اور قطبین یا Poles پر 8 کلو میٹر کی موٹائی میں ہے۔ اس کرہ میں جیسے جیسے اوپر جاتے ہیں اس کی حرارت میں کمی آتی جاتی ہے اور یہ تقریباً 56 ڈگری سینٹی گریڈ تک منفی حرارت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی پرت میں گھنے بادل ہوتے ہیں ۔بارش اور برف کا سامان بھی اسی کرہ میں موجود ہوتاہے ۔ ہوائی جہاز بھی اسی کرہ میں اڑتے ہیں۔(2)اسٹریٹوسفیر ’’Stratosphere‘‘ یا کرّہ ٔ قائمہ۔یہ تہہ ٹھیک ٹرویو کرہ کے اوپر ہوتی ہے جو لگ بھگ 50 کلو میٹر تک بلند ہوتی ہے لیکن اس پرت میں بلندی کے ساتھ حرارت بڑھتی جاتی ہے جو ٹرویو کرہ کے برعکس ہے کیونکہ ٹرویو کرہ میں جیسے جیسے اوپر جائیں حرارت ٹھنڈی ہوتی جائے گی یہاں تک منفی 58 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گی۔اس پرت میں اوپر جانے کے تناسب میں درجۂ حرارت بڑھنے کی وجہ سورج سے آنے والی بلند توانائی کی شعائیں یعنی بالا بنفشی یا الٹرا وائیلیٹ شعاعیں ہیں ۔

زمین کی مقناطیسی قوت کی وجہ سے اس کے چاروں طرف مقناطیسی حلقۂ اثر یا یا میدان یعنی Magnetic field کا پایا جانا ہے۔اسے میگنیٹو سفیر کہا جاتا ہے۔یہ کرہ بیرونی خلائی یا آسمانی اجسام کے مقناطیسی اور برقی اثرات سے زمین کو محفوظ رکھتا ہے۔ ان میں اہم شمسی آندھی ہے ۔ شمسی آندھی سورج سے نکل کر آنے والے باردار گیسی ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ زمین کا مقناطیسی کرہ انہیں زمین تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ اس کرہ نے زمین کے کرہ ہوائی اور آب و ہوا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور زمین پر زندگی کے آغاز میں مدد کی ہے۔ اسی طرح کرہ ہوائی کا وجود یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اللہ نے انسان اور دوسرے جاندار وں کے لئے جہاں زمین کو گہوارہ بنایا وہیں آسمان کو محفوظ چھت بنایا تاکہ زمین پر رہنے والی مخلوق آرام و راحت سے زندگی بسر کرسکے۔ چنانچہ فرمایا ’’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا‘‘
سورہ المومنوں نمبر 2 آیت نمبر 22)۔)

اوزون کی تہہ اسٹریٹوسفیر ہی میں موجود ہے ۔یہی اوزون کی تہہبالا بنفشی شعاعوں کو جذب کرکے جانداروں کو جلد کے کینسر سے محفوظ رکھتی ہے۔(3)میزوسفیر’’Mesophere‘‘ کرّہ ٔ وسطانیہ۔اسٹریٹو کرہ کے اوپر کا کرہ ٔ وسطانیہ ہے۔ یہ تقریباً 80 کلو میٹر کی بلندی تک جاتی ہے ۔ اس تہہ میں درجۂ حرارت دوبارہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور تہہ کی اوپری حد تک کم سے کم درجہ حرارتتقریباً 85 منفی ڈگری تک ہوجاتاہے۔(4)تھرموسفیر’’ Thermosphere‘‘ یا حرارتی کرّہ۔اوپر کی پرت تھرمو سفیر کہلاتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ تہہ 500 کلو میٹر بلندی تک چلی جاتی ہے ۔ اس پرت کا درجہ حرارت کافی بلند ہوتا ہے۔دن کو تقریباً 900 ڈگری سینٹی گریڈ اور را ت کو لگ بھگ 500 سینٹی گریڈ درجہ حرارت ہوتا ہے۔ یہی تھرموسفیر بیرونی فضا یعنی Exosphere سے جاملتا ہے جو آسمان یا خلا میں بہت بلندی تک پھیلا ہوا ہے۔ شہاب یا Shooting starیا Meteors جو روشنی کی لکیریں بناتا ہوا نظر آتا ہے وہ اس میزوسفیر یا 80 کلو میٹر کی بلندی والے علاقہ میں نظر آتا ہے۔ یہ موسمی سیارے زمین سے تقریباً 650 کلو میٹر سے 1300 کلو میٹر کی بلندی میں زمین کے گرد گھومتے اور چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ زمین سے لگ بھگ 65 سے 500 کلو میٹر کی بلندی کے علاقہ میں بڑی حد تک lonoیا باردار ذروں کی شکل میں ہوا پائی جاتی ہے۔ اس ساڑھے چار سو کلو میٹر موٹی تہہ کو lono shpere کہتے ہیں ۔یہی وہ کرہ ہے جو ریڈیائی لہروں کو منعکس کرتے ہیں جس سے ہمیں آوازیں دور کی سنائی دیتی ہیں۔ زمین کے اوپر کی یہ فضا یا ہوائی غلاف کے ذریعہ جانداروں کی حفاظت ہوتی ہے۔ یہی غلاف محفوظ چھت کا کام کرتا ہے۔ بیرونی خلاء سے Outerspace سے زمین پر روزانہ تقریباً دس کروڑ آسمانی پتھروں کی بارش ہوتی ہے ۔ انہیں شہابئے کہتے ہیں۔ یہ مختلف جسامتوں کے ہوتے ہیں ۔ ان میں کچھ ریت کے ذروں کے برابر ہوتے ہیں اور بعض بڑی چٹانوں ے برابر۔ ان کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے ۔یہ 16یا17 کلو میٹر فی سکنڈ یعنی 252000 فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائی کرہ میں داخل ہوتے ہیں۔ تیزی سے حرکت کرتے ہوئے جب یہ آسمانی پتھر اورذرات زمین کے کرہ ہوائی سے ٹکراتے ہیں تو کرۂ ہوائی سے انہیں زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کرۂ ہوائی سے رگڑ کھانے کی وجہ سے یہ گرم ہونے لگتے ہیں اور شدید گرم ہوکر سفید رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر جل اٹھتے ہیں ۔ جل کر یہ گیسوں اور بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ جلنے کے دوران یہ اپنے پیچھے روشنی کی ایک لکیر چھوڑتے جاتے ہیں ۔ اس وجہ سے انہیں شہابئے یا شہاب یا Shootingstars کہتے ہیں۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آسمانی پتھر زمینی فضا میں داخل ہونے سے قبل Meteroids کہلاتے ہیں ۔جب یہ زمینی فضا میں داخل ہوکر جل اٹھتے ہیں تو انہیں Meteors کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی آسمانی پتھر زمینی فضا سے گذر کر زمین پر جاگرے تو اسے Meteorite کا نام دیا جاتا ہے۔اگر کرۂ ہوائی نہ ہوتا تو یہ آسمانی پتھر زمین پر انسان اور دوسرے جاندار کا رہنا مشکل کردیتا ۔ اس کے علاوہ کرہ ہوائی میں سورج کی تباہ کن شعاعیں یلغار کرتی رہتی ہیں۔ کیونکہ سورج سے جو روشنی آتی ہے اس میں بہت بلند توانائی کی حامل شعاعیں بھی ہوتی ہیں جنہیں بالا بنفشی شعاعیں یا الٹراوئیلیٹ ریز کہتے ہیں۔ یہ بے حد خطرناک شعاعیں ہیں ۔ روشنی جب اوزون کی پرت سے گذرتی ہیں تو اوزون کی پرت بالا بنفشی شعاعوں کو جذب کر لیتی ہیں۔ اوزون کی تہہ کی یہی خاصیت ہے کہ وہ کم تر توانائی کی روشنی کو گزرنے دیتی ہے مگر بلند توانائی کی ان بالا بنفشی شعاعوں کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور گذرنے نہیں دیتی ہے۔ اس طرح یہ خطرناک شعاعیں زمین تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔اگر یہ زمین تک پہنچ جائیں تو ہم بری طرح جل جائیں گے یہاں تک کہ کوئی جاندار باقی زمین پر نہیں بچے گا۔ یہ اللہ کی کرشمہ سازی ہے کہ زیادہ طاقت ور شعاعیں، مثلاً ایکسرے گاما ریز اوپر کی سطحوں میں جذب ہوجاتی ہیں۔ یہ شعاعیں ایسی ہیں کہ انسانی جسم میں گہرائی تک جاسکتی ہیں اور بے حد تباہی پیدا کرسکتی ہیں۔ کرۂ ہوائی زمین کو کائناتی شعاعوں سے بھی بچاتی ہے ۔ یہ شعاعیں ایٹم کے اندر پائے جانے والے ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں جو’ سپر نوا دھماکوں‘ کے دوران خارج ہوتے ہیں ۔ یہ جب کرہ ہوائی کے ذرات یا مالیکیولوں سے ٹکراتے ہیں تو ان میں جذب ہوجاتے ہیں اور آگے نہیں بڑھتے ہیں۔ اس طرح کرہ ہوائی انسان اور دوسرے جان داروں کو خطرناک آسمانی پتھروں اور شعاعوں سے تو محفوظ رکھتا ہی ہے یہ زمین کے درجۂ حرارت اور آب و ہوا کو بھی برقرار رکھتا ہے ۔ یعنی اگر بلند توانائی کی شعاعیں زمین تک پہنچنے سے روکی نہ جائیں تو پہاڑوں پر برف کی ٹوپیاں اورگلیشرز کہاں باقی رہتے اور تازہ پانی کی فراہمی کا سلسلہ کس قدر بری طرح تباہ ہوجاتا ۔
مقناطیسی کرّہ: زمین کی مقناطیسی قوت کی وجہ سے اس کے چاروں طرف مقناطیسی حلقۂ اثر یا یا میدان یعنی Magnetic field کا پایا جانا ہے۔اسے میگنیٹو سفیر کہا جاتا ہے۔یہ کرہ بیرونی خلائی یا آسمانی اجسام کے مقناطیسی اور برقی اثرات سے زمین کو محفوظ رکھتا ہے۔ ان میں اہم شمسی آندھی ہے ۔ شمسی آندھی سورج سے نکل کر آنے والے باردار گیسی ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ زمین کا مقناطیسی کرہ انہیں زمین تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ اس کرہ نے زمین کے کرہ ہوائی اور آب و ہوا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور زمین پر زندگی کے آغاز میں مدد کی ہے۔ اسی طرح کرہ ہوائی کا وجود یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اللہ نے انسان اور دوسرے جاندار وں کے لئے جہاں زمین کو گہوارہ بنایا وہیں آسمان کو محفوظ چھت بنایا تاکہ زمین پر رہنے والی مخلوق آرام و راحت سے زندگی بسر کرسکے۔ چنانچہ فرمایا ’’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا‘‘(سورہ المومنوں نمبر 2 آیت نمبر 22)۔
دوسری جگہ ارشاد ہے ’’ جس نے تمہارے واسطے بنایا زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالا اس سے میوے ،تمہارے کھانے کے واسطے ، سو نہ ٹھہرائو اللہ کو کسی کے مقابل‘‘۔اسی طرح ارشاد ہے’’ کیا انکار کرنے والے نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوتے تھے پھر ہم نے ان کو جدا کیا اور ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنادیے تاکہ وہ مخلوق کو ہلا نہ سکے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں بنادی تاکہ وہ ہدایت حاصل کریں۔ آسمان کو محفوظ چھت یعنی ہم ہی نے بنادیا لیکن یہ قدرت کے ان نمونوں پر دھیان نہیں دیتے ہیں۔ وہ اللہ جس نے رات دن کو اور سورج و چاند کو پیدا کیا ان میں سے ہر ایک اپنے مدار میں تیرتے ہیں‘‘(سورہ الانبیاء نمبر 21، آیت نمبر 30-32۔ اسی طرح سورہ المومنون نمبر 40 آیت نمبر 64 میں ’آسمان کو محفوظ چھت بتایا گیا ہے۔

اردو چوتھی دنیا کی اسٹوری اپنے میل پر حاصل کرنے کے لئے اپنا ای میل درج کریں

Leave a Comment :
اپنی رائے دیں

:
رد عمل