آسمان زمین کے لئے محفوظ چھت ہے

وصی احمد نعمانی
اللہ تعالیٰ بندوں کا خالق ،مالک ،رب اور بے پناہ محسن ہے۔ اس کا ہر عمل انسانوں کی بھلائی اور فائدے کے لئے ہوتا ہے ۔جو کچھ بھی مالک حقیقی نے تخلیق کی ہے ان سب میں خدا کی شان اور اس کی عظمت و بڑائی کی نشانی ہے۔ زمین کی تخلیق اور اس میں موجود تمام اشیاء انسان کے لئے بنائی گئی ہیں۔ اس طرح زمین کو بھی چاند تاروں،آسمان اور کہکشائوں کی طرح انسان کے لئے مسخر کردیا گیا ہے یعنی ان کے لئے فائدہ مند بنا دیا گیا۔وہ جس طرح چاہے ان سب کا استعمال کرے مگر خدا کی بندگی اور اطاعت سے ذرہ برابر بھی روگردانی نہ کرے۔ اللہ کی بے پناہ نشانیوں میں سے یہ ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ اس نے زمین کو انسان کے لئے قرار گاہ بنا دیا ہے۔ سورہ النمل چیپٹر نمبر 27،آیت نمبر 61 میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے’’ بھلا کس نے زمین کو ٹھہرنے کے لائق بنایا ‘‘ آسمان کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے کہ ’’ اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا‘‘ سورہ الانبیاء چیپٹر نمبر 21 آیت نمبر 32۔ اور ان دونوں آیتوں کو یکجا کرکے پڑھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس پروردگار نے زمین کو قابل رہائش اور لائق پناہ، گہوارہ کی شکل میں تخلیق کیا ہے۔ اس بات کا مکمل یقین ہوتا ہے جب سورہ الانبیاء کی بات کو سامنے رکھ کر غور کرتے ہیں کہ ’آسمان کو محفوظ چھت بنایا زمین کے باشندوں کے لئے۔ــ‘ اس مضمون میں دو باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے۔ اس بات کو سائنس نے تحقیق اور تجزیہ کرکے جس طرح بتا یا ہے،وہ ایمان کو حد درجہ پختہ اور مضبوط کرکے خدا کے سامنے سر بسجود ہوکر آنکھیں ڈبڈبا کر اس کی مسیحائی کا شکر بجا لانے کا حکم دیتا ہے۔

زمین کی مقناطیسی قوت کی وجہ سے اس کے چاروں طرف مقناطیسی حلقۂ اثر یا یا میدان یعنی Magnetic field کا پایا جانا ہے۔اسے میگنیٹو سفیر کہا جاتا ہے۔یہ کرہ بیرونی خلائی یا آسمانی اجسام کے مقناطیسی اور برقی اثرات سے زمین کو محفوظ رکھتا ہے۔ ان میں اہم شمسی آندھی ہے ۔ شمسی آندھی سورج سے نکل کر آنے والے باردار گیسی ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ زمین کا مقناطیسی کرہ انہیں زمین تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ اس کرہ نے زمین کے کرہ ہوائی اور آب و ہوا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور زمین پر زندگی کے آغاز میں مدد کی ہے۔ اسی طرح کرہ ہوائی کا وجود یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اللہ نے انسان اور دوسرے جاندار وں کے لئے جہاں زمین کو گہوارہ بنایا وہیں آسمان کو محفوظ چھت بنایا تاکہ زمین پر رہنے والی مخلوق آرام و راحت سے زندگی بسر کرسکے۔ چنانچہ فرمایا ’’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا‘‘
سورہ المومنوں نمبر 2 آیت نمبر 22)۔)

آئیے اس بات پر غور کریں کہ آسمان، زمین کے لئے محفوظ چھت کیسے ہے؟ اس کے لئے مکمل طور پر سائنسی تحقیق کو سامنے رکھنا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے زمین کے لئے آسمان کو محفوظ چھت اس طرح بنایا کہ زمین کے چاروں طرف ہزاروں کلو میٹر کی گولائی مختلف گیسیز، حرارت اور ماحول کے کمبل سے اسے گھیر کر محفوظ کردیا۔ سورج کی نقصان دہ شعاعوں کے ساتھ ہر لمحہ ایک کروڑ بارہ لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے خطرناک ذرات زمین پر یلغار کرتے رہتے ہیں۔آسمان سے بے شمار آسمانی چٹانیںاور پتھر اس پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں سائنسی تحقیق کے مطابق بیرونی خلاء سے روزانہ تقریباً دس کروڑ آسمانی پتھروں کی بارش ہوتی ہے۔ سورج سے ایک سیکنڈ میں جتنی توانائی زمین پر آتی ہے وہ لاکھوں ایٹم بم کے ایک ساتھ پھٹنے کے برابر ہے۔ یعنی سورج سے ایک سیکنڈ میں جو توانائی زمین پر آتی ہے وہ تقریبا ً60 لاکھ میٹرک ٹن کوئلہ جلانے کے برابر ہے۔ سورج کی جسامت زمین کی جسامت سے 3لاکھ 33 ہزار 4 سوگنا بڑی ہے۔ یعنی 14 لاکھ زمین ایک سورج میں سما سکتی ہے۔ دونوں کی جسامت کا تناسب نکالیں تو سورج سے خارج ہونے والی زہریلے مادوں اور شعائوں کی مقدار کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ ساتھ ہی اس زمین کی جسامت کے اعتبار سے بھی اس کی بے چارگی کا اندازہ لگا یا جا سکتاہے۔ ان حملوں کے علاوہ فضا کا ٹمپریچر منفی 277ڈگری ہے۔ اس کی یلغار زمین پر ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ اگرسورج کی ضرر رساں برقی اور الیکٹرانک توانائی کا معمولی سا حصہ بھی زمین پر آجائے تو جانداروں کی زندگی نا ممکن ہوجائے گی اور جِلد کا کینسر ہوجائے گا ،جس سے تمام جاندار مرکر ختم ہوجائیں گے۔اگر منفی 277 ڈگری کا کوئی سا بھی ٹھنڈا جھونکا زمین پر آجائے تو تمام جاندار جم کر برف بن کر ختم ہوجائیںگے۔ ان تمام آفات سے اللہ نے زمین کو محفوظ رکھنے کے لئے جو ترکیب دی، وہ اللہ کی وحدانیت میں یقین کو مضبوط کرنے کے لئے کافی ہے۔وہ اس طرح کہ زمین کے چاروں طرف اس کی حفاظت کے لئے مختلف میدانوں کا سائنسی ڈھال بنا دیا ،یا اس بلیو کرّہ کو جس پر اس کے حبیب کی آمد ہوئی اور جس سر زمین سے بین الاقوامی ہدایت کا پیغام زمین و آسمان میں پھیلا، اسے ’’ فضا ‘‘ کی گود میں ڈال کر آسمان کی یلغار سے محفوظ کردیا اور مختلف کروں کی ڈھال بنا کر اپنے حبیب کی دنیا کو قابل رہائش اور محفوظ پناگاہ بنا دیا ،چاہے مردہ ہو یا زندہ سب کے ٹھہرنے کا انتظام کردیا اور فرمایا کہ ’’ ہم نے زمین کو مردہ اور زندہ دونوںکے لئے قرار گاہ بنا دیا،سورہ المرسلات،چیپٹر نمبر77آیت نمبر25-26۔جس طرح ایک پیاز پر اس کے چاروں طرف مختلف قسم کی تہیں ہوتی ہیں، اسی طرح مختلف کرّوں کی تہوں سے زمین کو گھیر کر باہری آفات سے محفوظ بنا کر جانداروں کی زندگی کے لئے آرام دہ بنا دیا۔ مختلف فضائیں اور مختلف کرّے اس طرح ہیںجو اس میں موجود مختلف گیسوں، ٹمپریچر اور قوتِ کشش کی بنیادپرسائنسدانوںنے طے کیا ہے۔(1)مختلف گیسوں کی موجودگی کی بنیاد پر جو کرہ کام کرتا ہے وہ ہے ہومواسفیر (Homosphere) (2)درجہ حرارت کی بنیاد پر جتنے کرے کام کرتے ہیں وہ ہیں )(a)تروپواسفیر (Troposhpere) یا کرہ متغیرہ یعنی (b)اسٹریٹواسفیر (Stratosphere) یا کرۂ قائمہ (c)میزو اسفیر (Mesosphere) یا کرہ وسطانیہ (d)تھرمواسفیر (Thermosphere) یاحرارتی کرہ۔(3)مندرجہ بالا دونوں اہم کروں کے علاوہ ایک بے حد اہم کرہ مقناطیسی کرہ ہے جسے Magnetosphere کہا جاتا ہے۔ان تینوں کروں کو اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے آسمان کو زمین کے لئے محفوظ چھت بنا دیا۔ سب سے پہلے ہم زمین کے چاروں طرف موجود گیسوں کی بنیاد پر اس کی حفاظت کے ڈھال کو بتائیںگے۔ کرۂ ہوائی اوپر نیچے کئی تہوں یا پرتوں (Layers) پر بنے ہوئے ہیں جو پیاز کے چھلکوں کی طرح اوپر تلے ہوتے ہیں ۔ اس کی ترکیب اس طرح ہے ۔ ہومواسفیر: یہ کرۂ ہوائی کی سب سے نچلی تہہ ہے جو زمین کے ساتھ جڑ کر لپٹی ہوئی ہے ۔ یہ زمین کی سطح سے تقریبا ً 80 کلو میٹر کی بلندی تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ کئی گیسوں پر مشتمل ہوتی ہے ،جن میں حجم (Volume) کے لحاظ سے تقریبا ً 73 فیصد نائٹروجن،21 فیصد آکسیجن، 1 فیصد ارگن، 0.03فیصدکاربن ڈائی ٓآکسائڈ اور باقی تھوڑی سی مقدار میں بعض دوسری گیسیں ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ ہومواسفیر کی موٹائی تقریبا ً 80 کلو میٹر ہے مگر اس کی لگ بھگ 90 فیصد کمیت یا مقدار (Mass) اس کے نیچے کے تقریباً 32کلو میٹر کے علاقے میں پھیلی ہوتی ہے۔ ہومواسفیر میں لگ بھگ 15سے50 کلو میٹرز کی بلندی والے علاقہ میں تقریباً 35 کلو میٹر موٹی تہہ کی شکل میں ایک اہم گیس موجود ہوتی ہے جسے اوزون کہتے ہیں۔ اوزون گیس کی اس پرت کو اوزونواسفیر کہا جاتا ہے جو سورج کی تمام نقصان دہ کرنوں سے محفوظ کرتا ہے۔

ہیٹرواسفیر، گیسیز کی بنیاد پردوسرا کرہ ہیٹرواسفیر ہے ۔ ہوموسفیرکے اوپر کئی گیسوں کی اوپر تلے تہیں ہوتی ہیں، انہی تہوں کو مجموعی طور پر ہیٹرواسفیر کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے نچلی تہہ جو ہومواسفیر کے ٹھیک اوپر ہوتی ہے وہ آکسیجن کی تہہ ہوتی ہے، جو تقریباً ایک ہزار کلو میٹر بلندی تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس تہہ کے اوپر ہیلیم گیس کی تہہ ہوتی ہے جو لگ بھگ 2400 کلو میٹر کی بلندی تک چلی جاتی ہے۔ا س تہہ کے اوپر ہائیڈروجن گیس کی تہہ ہوتی ہے جو بیرونی خلا سے جاکر ملتی ہے ،جہاں سے زمین پر مختلف قسم کی نقصان دہ شمسی شعاعوں، آسمانی چٹانوں، ٹھنڈی اور برفیلی ہوائوں کی یلغار ہوتی ہے اور زمین کی فضا ان تمام یلغاروں سے اس کی حفاظت کرتی رہتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *