اردو صحافت میں زبان کا زوال

ظفر انور شکرپوری
اردو کے بیشتر نئے اخباروں میں زبان کی صحت، جملوں کی ترکیب ، الفاظ کی بندش کا نہ صرف یہ کہ خیال نہیں رکھا جاتا ہے بلکہ نئے نئے نامانوس الفاظ استعمال کرکے جملوں کو بوجھل بنانے کی سعیٔ لاحاصل کی جاتی ہے۔ آج کل اتنی غیر معیاری زبان استعمال کی جارہی ہے کہ سرپیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔اردو اخباروں میں پروف کی جو غلطیاں ہوتی ہیںوہ قابل معافی ہیں، لیکن متواتر املے کی غلطی اور اس غلطی پر اصرار نامناسب ہے۔ اعلیٰ چاہے جس طرح لکھیں اعلا ہی پڑھا جائے گا، لیکن قول وفعل کو ’قول وفیل‘ ہلاک شدگان کو مہلوک لکھنا کہاں کی بقراطی ہے۔ آمر کو عامر دھڑلے سے لکھا جارہا ہے۔ دراصل اردو صحافت میں غیر معیاری زبان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نوجوان اردو صحافیوں کی بیشتر تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے، جن کی اردو تعلیم ناقص ہے اور وہ اعلیٰ معیاری و بامحاورہ اردو زبان لکھنے سے قاصر ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہندی و پنجابی کے ماحول میں رہنے کی وجہ سے بھی اردو صحافیوں کا لب ولہجہ خراب ہوچکا ہے اور ہزار کوشش کے باوجود وہ ہندی الفاظ کے استعمال سے پرہیز نہیںکرپاتے، مثلاً مدّعا کو مدّا لکھتے ہیں۔ ’مجھے اردو بازار جانا ہے‘ کو ’ میں نے اردو بازار جاناہے‘ یا مخالفت کو خلافت لکھنا عام ہوگیا ہے۔ اسی طرح آئندہ کی تاریخ کے لیے مورخہ کا لفظ استعمال ہونے لگا ہے، جب کہ یہ لفظ پہلے زمانے میں کسی فرمان یا دستاویز کے آخر میں لکھا جاتا تھا، جس کے معنی ہیںزمانۂ گذشتہ میں فلاں تاریخ کو لکھا ہوا۔ اسی طرح اردو کے نوزائیدہ اردو روزناموں میں ’ کو لیکر‘ کا استعمال بے تحاشہ ہورہا ہے، جب کہ اس کی جگہ’کے لیے‘ یا ’ کے سبب‘ ہونا چاہیے۔
دہلی کی ا ردو صحافت کو ٹکسالی اور محاوراتی زبان کے لیے جانا او رپہچانا جاتا رہا ہے۔ پوری دنیا میں اردو کے روزناموں ، ہفت ناموں، اور ماہناموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور لوگ زبان کی چاشنی اور چٹخارے کے لیے ہی پڑھتے تھے۔ شمع ، بیسویں صدی، مولوی، الجمعیۃ، پیام مشرق،دعوت، نئی دنیا، حرف آخر اور قومی آواز کو لوگ اس کی زبان و بیان کی فصاحت و بلاغت کے لیے ہی پڑھتے تھے۔ ملاواحدی، شاہد احمد دہلوی، اشرف صبوحی،، مولانا عبدالباقی اور ضمیر حسن دہلوی کو زبان کے چٹخارے کے لیے ہی جاناجاتاہے۔سہ روزہ دعوت کی زبان آج بھی سب سے اچھی ہے اور اس کی تعداد اشاعت بھی 10 ہزار سے کم نہیں ہے۔ ہفت روزہ چوتھی دنیا، عالمی سہارا اور بزم سہارا کی زبان بھی اچھی ہے اور پروف کی غلطیاں بھی تلاشِ بسیار کے بعد مشکل سے ملیںگی۔
دہلی کی اردو صحافت میں زبان کا زوال 1980کے بعد شروع ہوا ہے۔ اس زمانے میں دہلی میں اردو کے تین بڑے صحافی موجود تھے- ایک مولانا عثمان فار قلیط، دوسرے مولانا محمد مسلم اور تیسرے ناز انصاری۔یہ لوگ زبان و بیان کی صحت پر خاص توجہ دیتے تھے اور اپنے زیر تربیت صحافیوں کی اصلاح بھی فرماتے تھے، لیکن ہندی اور پنجابی الفاظ کی دراندازی کو یہ حضرات کسی طرح روک نہیں پائے۔ دہلی سے قومی آواز کے اجراء کے ساتھ ہی نئی نسل کے صحافیوں کی ایک بڑی کھیپ عشرت علی صدیقی کی رہنمائی میں تیار ہورہی تھی۔ نثار احمد زکی، نور جہاں ثروت، موہن چراغی اور ان تمام لوگوں سے پہلے سلامت علی مہدی کی تربیت بھی انہوں نے ہی لکھنؤ میں فرمائی تھی۔ یہ بات خود سلامت علی مہدی نے اپنے آخری انٹرویو کے دوران ر اقم الحروف سے کہی تھی۔
یادش بخیر! 1988 میں ایران کے مذہبی رہنما علامہ خمینی نے ملعون سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ ایک صاحب نے ہندی سے ایک مضمون کا ترجمہ کیا اور متن میں لکھا’’امام خمینی کے ذریعہ رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا گیا ہے‘‘۔ خبر شائع ہونے کے بعد ناز انصاری مرحوم نے یہ مضمون دیکھا تو سر پیٹ لیا اور اپنے شاگرد خاص کی خوب سرزنش کی۔ اسی طرح عظیم صحافی محفوظ الرحمن کے ایک مضمون میں ان کے محرر نے ’’ بے نیلِ مرام‘‘ کی جگہ’’ بے نیل ومرام‘‘ لکھ دیا تو وہ بہت خفا ہوئے۔ اگلے وقتوں کے صحافی اس کا بڑا لحاظ رکھتے تھے کہ کوئی غلط جملہ، ترکیب یا لفظ شائع نہ ہوجائے ۔ قلم کے بادشاہ ابن صفی مرحوم، جن کی تحریروں کا ایک زمانہ مداح ہے، اپنے ناولوں میں ہر جگہ ’’لیکن اس کے باوجود بھی‘‘ لکھتے رہے اور لوگ انہیں اس پر ٹوکتے بھی رہے۔ وہ بڑے لکھنے والے تھے اس لیے ان کا عیب محاسن میں شمار ہوتاتھا۔
بجز کلام اللہ دنیاکی کوئی تحریر ایسی نہیں ہے جو غلطی سے پاک ہو۔ یہ ہمارا ایمان ہے چاہے وہ تحریر دادائے اردو یاچاچائے اردو ہی کی کیوں نہ ہو، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ غلط او رمہمل الفاظ کی وکالت کی جائے یا اسے نظر انداز کیا جائے۔اسی بات پر 25سال پرانا ایک لطیفہ یاد آگیا۔ اخبار نو میں ایک کاتب تھے رئوف جی۔ انہوں نے عید قرباں کے موضوع پر ایک مضمون کی کتابت فرمائی اور خلیل اللہ کو ہرجگہ غلیل اللہ لکھ دیا۔ کتابت کے دوران ہی دور درشن کے ڈائرکٹر انجم عثمانی کی مضمون پر نظر پڑگئی۔ انہوں نے کاتب کو ٹوکا ’’اللہ تعالیٰ کی غلیل کیا ہوتی ہے‘‘؟ یہ لطیفہ عرصہ تک فصیل بندشہر میں گردش کرتا رہا۔ روزنامہ’’ دعوت‘‘ میں ایک کاتب صاحب نے امریکی قائد ہرالڈولسن کو کئی جگہ پر ہیرا لڈولہسن لکھ دیا۔ جب ایڈیٹر صاحب نے ان سے پوچھا کہ بھئی آپ نے ہیرا۔لڈو۔لہسن کیوں لکھ دیا تو کہنے لگے کہ یہی تو لکھا ہوا تھا۔
اسی بات پر ایک زندہ لطیفہ اور ملاحظہ فرمائیں۔ 20سال پہلے اردو بازار دہلی میں ریاض اخبار فروش کے یہاں ایک صاحب تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ مجھے ’’ خاتون مشرق‘‘ چاہیے۔ ریاض صاحب نے ماہنامہ خاتون مشرق ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ خریدار نے کہا، یہ والا خاتون مشرق نہیں چاہیے بلکہ لکھ کر بتایا کہ یہ والا’’ خاتونے مشرق‘‘ چاہیے۔ ریاض صاحب نے بڑی نرمی سے جواب دیا، ابھی چھپ رہا ہے، کل آکر لے جائیے گا۔ دکان پر راقم الحروف معصوم مراد آبادی صاحب کے ساتھ موجود تھا، ہم لوگ دیر تک قہقہہ لگاتے رہے۔
بامحاورہ زبان لکھنے کی تربیت کے لیے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے پندرہ روزہ تربیتی کارگاہ کا انعقاد کیا تھا، لیکن اس میں تربیت دینے کے لیے بعض ایسے صحافیوں اور صحافیات کو بھی مدعو کرلیا، جنہیں خود اردو کی لیاقت نہیں ہے اور صحافت سے بھی محض رسمی تعلق ہے۔ دیگر امر یہ ہے کہ بامحاورہ لکھنے کے لیے پندرہ رزہ مشق کافی نہیں ہے۔ المیہ ہے کہ اردوروزناموں کے بیشتر مالکین یا شعبۂ ادارت کے سربراہ خود اچھی اردو لکھنے سے قاصر ہیں۔البتہ اس سے اخبار نویسوں کو یہ فائدہ ہوا کہ انہیں ایک سرٹیفکیٹ مل گیا، جو کسی کام کا نہیں ہے یعنی اس کی کوئی قانونی حیثیت وافادیت نہیں ہے۔ یہ ادارہ وزارت تعلیم یعنی وسائل فروغ انسانی کے تحت آتا ہے جس کے ماتحت ہندوستان کی سینکڑوں یونیورسٹیاں ہیں لیکن کوئی یونیورسٹی اس سرٹیفکیٹ کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ البتہ خوردونوش کا معاملہ اس میں بہت عمدہ اور نفیس قسم کا تھا اور ایک بہت ہی شاندار ہینڈ بیگ سے بھی صحافت کے ’’طلبائ‘‘ کو نوازا گیا تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 3 ہزار روپے کا تھا،جو بہرحال ان کے بہت کام آیا۔ ہماری بھی خواہش ہے کہ یہ کورس پھر شروع ہوتاکہ راقم الحروف بھی اس میں داخلہ لے اور 15 دنوں تک خوب بریانی، قورمہ اور زردہ کا لطف اٹھائے اور بھاگتے بھوت کی لنگوٹی یعنی ہینڈ بیگ بھی مفت ہاتھ آجائے۔ حمید اللہ بھٹ کے زمانے میں اخبار نویسوں کو خوش کرنے کے لیے یہ مبارک پہل کی گئی تھی، لیکن پروفیسر خواجہ اکرام صاحب نے ابھی تک اسے شروع نہیں کیا ہے۔ پروفیسر صاحب سے گذارش ہے کہ یہ کورس جلد از جلد شروع کرائیں تاکہ اخبار نویسوں سے ماجو ر اور عندالناس مشکور ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *