ترمیم شدہ تحویل اراضی قانون ، عوام کے مفاد میں نہیں ہے

ششی شیکھر
لبرلائزیشن لکا دور شروع ہوتے ہی جب سوا سو سال پرانے تحویل اراضی قانون نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا، تب کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو یہ ایشو اپنی امیج بنانے کے موقع کے طور پر دکھائی دیا۔ نتیجتاً، اپنی طرف سے انہوں نے اس قانون میں جلد از جلد ترمیم کرانے کا اعلان کر دیا۔ اعلان چونکہ راہل گاندھی نے کیا تھا، اس لیے اس پر ترمیم کا کام بھی شروع ہوگیا۔ معاملہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھی گیا اور اب آخرکار ترمیم شدہ بل وزارتِ دیہی ترقی کے پاس ہے، جسے پاس کرانے کے لیے کبھی بھی پارلیمنٹ میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ لیکن، اسے پارلیمانی جمہوریت کا المیہ ہی کہیں گے کہ پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس بل سے متعلق جتنے بھی مشورے دیے، انہیں وزارت نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یعنی یہ ترمیم شدہ بل بھی کچھ اسی طرح کا ہوگا، جیسے کہ ایک کہاوت ہے ’پنچ کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن نالا وہیں بہے گا‘۔ یعنی ترمیم شدہ بل بھی کارپوریٹ گھرانوں کے خزانوں کو بھرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ شاید تبھی پورے ملک سے ہزاروں لوگ دہلی آکر اس قانون کی تین دنوں تک مخالفت کرتے رہے۔
اگست ماہ کے آخری ہفتہ میں (21 سے 23 اگست کے درمیان) زمین کی لوٹ، اور عوام مخالف اس تحویل اراضی قانون 2011 کے خلاف عوامی ریلی میں جنتر منتر پر ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔ زمین کی لوٹ اور کارپوریٹس کی بدعنوانی اور استحصال کے خلاف ’سنگھرش‘ کے ذریعے منعقدہ تین روزہ دھرنے اور عوامی ریلی میں یہ بات سامنے آئی کہ یو پی اے سرکار مناسب معاوضے، باز آبادکاری کا اختیار، قانون 2011 لاکر ملک کی پارلیمنٹ اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹ اور سینکڑوں عوامی تنظیموں کے کارکنوں نے دھرنے میں اس ترمیم شدہ بل کو لے کر سرکار کی پالیسی اور نیت پر سوال اٹھائے۔ این اے پی ایم کے آرگنائزر مدھریش کے مطابق، وزارتِ دیہی ترقی ان لوگو ںکی زندگی سے کھلواڑ کر رہی ہے جو برسوں سے اپنی زمین اور گزر بسر کے وسیلہ کو بچانے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیںاور اپنے ان بیش قیمتی وسائل کے لیے کوئی معاوضہ نہیں چاہتے۔ اس ترمیم شدہ بل میں گرام سبھا جیسے مقامی ادارہ کا کوئی رول نہیں ہے۔ یہی حقیقت نئے ترمیم شدہ تحویل اراضی قانون کو بھی بے معنی بنا دیتی ہے۔ سوال ہے کہ جب تحویل اراضی میں دیہی باشندوں کا کوئی رول یا ان کی منظوری ہی نہیں ہوگی تو پھر آزاد ہندوستان اور غلام ہندوستان کے قوانین میں کیا فرق رہ جائے گا؟ اس کے علاوہ دیہی ترقی کے لیے بنی وزارت کو شہروں اور صنعتوں کی ہی فکر ہے اور سرکار عوامی خواہشات کو پوری طرح نظر انداز کر رہی ہے۔ این اے پی ایم کے مطابق، آزادی کے بعد ہوئے تحویل اراضی کے معاملوں میں آج تک سرکار نے متاثر ہونے والوں کی کوئی خیر خبر نہیں لی ہے۔ اب اس قانون کے ذریعے اسی تاریخ کو دہرانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
ممبئی میں شہری رہائش کی لڑائی لڑ رہی تنظیم ’گھر بچاؤ – گھر بناؤ‘ نے سینکڑوں نقل مکانی کے لیے مجبور ہوئے لوگوں کے ساتھ دھرنے میں شرکت کی۔ دھرنے کے دوسرے دن لوگوں کو اپنا پیغام دیتے ہوئے میدھا پاٹکر نے کہا کہ ملک کے حکمرانوں اور سرمایہ داروں کے ذریعے بنائے گئے تحویل اراضی قانون – 1894 کی آزاد ہندوستان میں کوئی معنویت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح زمین کے بڑے بڑے ٹکڑے پبلک – پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے پروجیکٹوں یا نجی مفاد کے لیے تقسیم کیے جا رہے ہیں، یہ ہمیں قطعی منظور نہیں ہے، اس لیے نیا قانون موجودہ سیاسی حقائق اور وسائل کی تقسیم کے مد نظر کسانوں، مزدوروں، آدی واسیوں، ماہی گیروں اور قدرتی وسائل پر منحصر لوگوں کی جدوجہد کو دھیان میں رکھتے ہوئے بنایا جانا چاہیے۔ میدھا پاٹکر کے مطابق، تحویل اراضی و باز آبادکاری قانون کو دوبارہ بناتے ہوئے وزارتِ دیہی ترقی نے تحریکوں کے ذریعے اٹھائے گئے کچھ مدعوں کو شامل کیا ہے، لیکن اس میں بازار اور سرمایہ کاروں کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس دھرنے میں آسام سے لے کر گجرات اور پنجاب سے لے کر کیرالہ تک ڈِس پلیس مینٹ مخالف تحریکوں میں جو لوگ سرکار اور کارپوریٹ کے غنڈوں کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنی شہادت دی ہے، ان کی شہادت کو یاد کیا گیا اور دھرنے کے مقام پر ان کی علامتی سمادھیاں بھی بنائی گئیں۔
بہرحال، دہلی کے جنتر منتر پر تین دنوں تک ہزاروں لوگ جٹے رہے۔ زمین جیسے حساس مدعے پر اپنی بات رکھتے رہے، لیکن جس تحویل اراضی قانون کو لے کر راہل گاندھی یو پی کے بھٹہ پارسول سے لے کر علی گڑھ تک پیدل مارچ کرتے ہیں، وہاں نہیں پہنچتے اور نہ ہی ان لوگوں کی بات کو سنتے اور سمجھتے ہیں۔ اس وقت تو یہی معلوم نہیں ہو پارہا ہے کہ آخر راہل گاندھی کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ سرکار بھی اس مدعے پر ایک لفظ تک بولنے کو تیار نہیں ہے۔

این اے پی ایم کے مطالبات اور سفارشات
یو پی اے سرکار پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے مطالبات کو مانے، کالا تحویل اراضی قانون اور کاشت کاری مخالف ایس ای زیڈ قانون 2005 ردّ ہو۔ قومی مشاورتی کونسل کے ذریعے پاس کیے گئے ترقیات سے متعلق مسودے کو بدلے ہوئے سیاسی ماحول اور عوامی جدوجہد کے ذریعے دیے گئے مشوروں کے مد نظر عوامی بحث میں لایا جائے اور کسی بھی قانون سازی کے لیے اہم بنیاد مانا جائے۔
اس کام کو پورا کرنے کے لیے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل ہو۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ یہ قانون مختلف وزارتوں سے جڑے ہوئے ہیں، خاص کر دیہی ترقی، شہری ترقی، ماحولیات و جنگلات، صنعت و کاروبار، قبائلی تعلق، سماجی انصاف و تعاون، پنچایتی راج اور وزارتِ زراعت۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پارلیمانی کمیٹی، ان پروجیکٹوں سے متاثرہ علاقوں کی تنظیموں کے ساتھ عوامی سطح پر صلاح و مشورے کا انتظام کرے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ جب تک قانون سازی کا عمل جاری ہے، تب تک تحویل اراضی کا سبھی کام بند کیا جائے۔
آزادی کے بعد سے اب تک ہوئی تمام تحویل اراضی، نقل مکانی کے اسباب، کتنی باز آبادکاری ہوئی،ان سب پر ایک وہائٹ پیپر جاری ہو۔ وہائٹ پیپر میں زمین کے استعمال، استعمال کی جا چکی زمین اور عوامی مفاد کے لیے قبضے میں لی گئی زمین، جو ابھی تک بیمار یا بند پڑی ہوئی صنعتوں یا دیگر بنیادی ڈھانچوں سے متعلق پروجیکٹوں کے لیے قبضے میں لی گئی ہیں، وغیرہ کا بھی عوامی طور پر ذکر ہونا چاہیے۔
ہندوستانی حکومت اور تمام ریاستی سرکاروں کے ذریعے جتنے مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے ہیں، انہیں عام کیا جائے۔

بل پر تنازع کیوں
ایک فصلی زمین
اسٹینڈنگ کمیٹی : زبردستی قابل کاشت زمین کو قبضے میں نہ لیا جائے، جس میں ایک فصلی اور کثیر فصلی دونوں طرح کی زمین شامل ہے۔
وزارتِ دیہی ترقی : صرف کثیر فصلی زمین کو ہی تحویل اراضی کے دائرے سے باہر رکھا جائے۔
عوامی تنظیمیں: اس طرح ملک کے 75 فیصد کسان تحویل اراضی کے دائرے میں آ جائیں گے، کیوں کہ ملک میں زیادہ تر جگہوں پر کھیتی بارش پر منحصر ہے۔ ان کھیتوں میں سال میں صرف ایک فصل ہی سینچائی کے وسائل کی عدم دستیابی کے سبب پیدا کی جاسکتی ہے۔ ایسی زمینیں بھی زیادہ تر دلت، آدی واسی اور چھوٹے کسانوں کے پاس ہیں۔
زمین کی واپسی
اسٹینڈنگ کمیٹی : اگر قبضے میں لی گئی زمین کا پانچ سال تک استعمال نہیں ہوتا ہے، تو زمین کو قبضے کی تاریخ کے پانچ سال بعد زمین کے مالک کو واپس کر دینا چاہیے۔
وزارتِ دیہی ترقی : پانچ سال کی بات منظور کر لی۔
عوامی تنظیمیں: قبضے میں لی گئی ایسی بہت سی زمینیں ہیں، جن کا استعمال 25 سالوں تک نہیں ہوا، پھر بھی یہ زمینیں ان کے مالکوں کو نہیں لوٹائی گئیں۔ ایسے میں اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پانچ سال بعد زمین واپس کر دی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *