شیخاوٹی آرگنک کھیتی ۔۔۔۔۔اور کارواں بنتا جا رہا ہے

ششی شیکھر

پنجاب میں نہروں کا جال ہے۔ گجرات اور مہاراشٹرترقی پذیر ریاستوں کے زمرے میں شامل ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کسانوں کو خود کشی کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جب کہ اس کے برعکس راجستھان کا شیخاوٹی ایک پچھڑا علاقہ ہے۔ پانی کی قلت اور ریتیلی زمین ہونے کے بعد بھی یہاں کے کسانوں کو دیکھ کر ایک عام آدمی کے دل میں بھی زراعت کا پیشہ اختیار کرنے کی خواہش جاگ اٹھتی ہے، تو اس کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ ہوگی۔ آخر کیا ہے وہ وجہ ، دیکھتے ہیں اس رپورٹ میں:

آج شیخاوٹی کی بنیادی شناخت (بہادروں اور امیروں کی زمین) کے ساتھ ایک اور نئی شناخت جڑ گئی ہے۔ یہ نئی شناخت ہے آرگینک کھیتی۔ شیخاوٹی کو آج پورے ملک میں آرگینک کھیتی کے شعبہ میں انقلاب لانے کے شرف سے نوازا جا سکتا ہے۔ تقریباً 20سال پہلے شروع ہوا یہ کارواں آج نہ صرف شیخاوٹی بلکہ پورے ملک میں پہنچ چکا ہے اور یہ سب ممکن ہو سکا ، مرارکا فائونڈیشن کی بدولت۔ دراصل، شیخاوٹی کے تین اضلاع جھن جھنوں، چورو اور سیکر کا علاقہ نصف ریتیلی زمین اور پانی کی قلت سے ہمیشہ دو چار رہے ہیں۔ دس پندرہ سال پہلے تک یہاں کے کسان عام طور پر ویسے ہی کھیتی کرتے تھے، جیسے ملک کے بقیہ حصوں میں ہوتی ہے، لیکن اب یہاں کے کسانوں نے کھیتی کے طریقہ کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بھی بدل لیا ہے۔ شیخاوٹی آج آرگینک کھیتی کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، وہ بھی بغیر کسی سرکاری مدد کے، اپنی محنت اوراپنے دم پر۔

آج کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں اور گھروں میں آئی خوشحالی شیخاوٹی کی زندہ دلی اور خودکفیلی کی کہانی بیان کر رہی ہے۔ یہی نہیں، آج شیخاوٹی سے چلی آرگینک کھیتی کی ہوا، اب پورے ملک میں چل چکی ہے۔ کشمیر سے لے کر انڈمان، مہاراشٹر سے لے کر سکم اور ناگالینڈ تک شیخاوٹی اور آرگینک کھیتی کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ مرارکا فائونڈیشن کے تعاون سے ان ریاستوں کے ہزاروں کسان آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔
کشمیر
کشمیر کے تین ضلعوں ڈوڈا، کشتواڑ اور کلگام میں فائونڈیشن کے تعاون سے تقریباً ڈھائی ہزار کسان اپنے کھیتوں میں آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔ تقریباً 4 ہزار ایکڑ زمین میں یہ کسان سیب، ناشپاتی، اخروٹ، زعفران، راجما ، گیہوں جیسی فصلیں پیدا کر رہے ہیں۔ ان تینوں اضلاع میں اب تک 38 فیصد پروگرام چلائے جا چکے ہیں، جس میں 1077 کسانوں نے حصہ لیا ہے۔ اس دوران فائونڈیشن نے ان تینوں اضلاع میں آرگینک کھیتی کو بڑھاوا دینے کے لیے آرگینک کھاد اور جراثیم کش ادویات بھی تقسیم کیں۔ آرگینک کھاد بنانے کے لیے کسانوں کو فائونڈیشن نے 400 کلو کینچوا، 2323 لیٹر این ایس ڈی ایل، 954 لیٹر ٹرمنیٹر تقسیم کیا۔ آج ان تینوں اضلاع میں کسانوں کے پاس 68 ورمی کمپوسٹ اور 747 این ایس ڈی ایل کمپوسٹ کی یونٹ ہیں۔
سکم
سکم آج ملک کی واحد ایسی ریاست ہے، جہاں سب سے زیادہ مقدار میں آرگینک کھیتی کی جا رہی ہے۔ اس میں ریاستی حکومت کا کردار بھی قابل تحسین ہے۔ اس کے علاوہ حکومت مرارکا فائونڈیشن کو اپنے یہاں مدعو کر کے اپنے کسانوں کو آرگینک کھیتی کی ٹریننگ بھی دلوا رہی ہے۔ یہاں کے چار اضلاع کو ملا کر تقریباً 13555 کسان 32944 ایکڑ زمین پر آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔ یہاں پیدا ہو رہی فصلوں میں دھان، مکئی، سکم بینس، ادرک، ہلدی، لہسن ، مرچ ، ٹماٹر، آلو اور پیاز خاص طور سے شامل ہیں۔ ساتھ ہی سکم میں ریاستی حکومت کے کی گزارش پر مرارکا فائونڈیشن نے تین ماہ کا لائیولی ہوڈ پروگرام بھی چلایا جس میں فائونڈیشن کے چھ سینئر تکنیکی افسران نے یہاں کے نوجوانوں کو آرگینک کھیتی سے متعلق تربیت دینے کا کام کیا، جس کی وجہ سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار ملا۔
ناگالینڈ
شمال مشرق کی ایک اہم ریاست ناگالینڈ میں بھی مرارکا فائونڈیشن نے آرگینک کھیتی کا جھنڈا گاڑ دیا ہے۔ ناگالینڈ دنیا کی سب سے تیکھی مرچ پیدا کرنے کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کے تقریباً 2000 سے زیادہ کسان مرارکا فائونڈیشن کے ساتھ جڑ کر آج آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔ 38 گائووں کے کسان فائونڈیشن سے تربیت لے کر آرگینک کھیتی میں اہم طور پر ناگا چلی، کیلا، ادرک، نارنگی ، مکئی، پائن ایپل کی فصل تیار کر رہے ہیں۔ ناگالینڈ کے کوہما، پیرین اور فیک اضلاع میں چل رہے اس پروگرام کے تحت فائونڈیشن نے اب تک 300 سے زیادہ ٹریننگ سیشن چلائے ہیں۔ ان ٹریننگ سیشن سے تقریباً 5500 سے زائد کسانوں نے آرگینک کھیتی کی تربیت لی ہے۔ ان تینوں اضلاع کے کسانوں نے اب تک 888 ورمی کمپوسٹ یونٹ اور 1046 این ایس ڈی ایل کمپوسٹ یونٹ کی تعمیر کی ہے۔ فائونڈیشن نے ہی کسانوں کے درمیان اب تک 4440 کلو کینچوا، 2092 لیٹر این ایس ڈی ایل اور 1013 لیٹر ٹرمینیٹر کی تقسیم کی ہے۔
انڈومان
اس ملک میں شمال مشرقی ریاستوں کی سدھ تک لینے کی فرصت حکومت کو نہیں ہے، ایسے میں ملک کے دور دراز کے جنوبی علاقے، زمین سے کٹے ایک جزیرہ انڈمان میں جا کر مرارکا فائونڈیشن وہاں کے کسانوں کو آرگینک کھیتی کی تربیت دے رہی ہے۔ یہاں کے نیل آئی لینڈ، ہیولوک اور پورٹ بلیئر کے 17 گائووں میں تقریباً 1000 کسان مرارکا فائوڈیشن کے ساتھ جڑ کر آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔ تقریباً 803 ایکڑ زمین میں آرگینک کھیتی کی جا رہی ہے۔ یہاں کی فصلوں میں اہم طور پر ناریل، سپاری، کیلا اور سبزیاں شامل ہیں۔ اب تک یہاں فائونڈیشن نے 110 ٹریننگ سیشن منعقد کیے ہیں، جس میں 1632 کسان شامل ہو کر مستفید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش میں بھی شملہ کے کسانوں کو مرارکافائونڈیشن آرگینک کھیتی کے ذریعہ سیب پیدا کرنے کی تربیت دے رہا ہے۔ ادھر، مہاراشٹر کے جل گائوں علاقہ میں بھی اس طرح کے کئی پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ وہاں کے ہزاروں کسان فائونڈیشن کے ساتھ جڑ کر اب آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ جہاں مہاراشٹر میں ایک جانب ودربھ کے کسان خودکشی کر رہے ہیں، تو وہیں جل گائوں، اکولا کے کسان آرگینک کھیتی کر کے زراعتی شعبہ میں ایک نئے انقلاب کی شروعات کر رہے ہیں۔ آرگینک کھیتی کے علاوہ فائونڈیشن پانی بچانے کی سمت میں بھی اہم کام کر رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں مرارکا فائونڈیشن نے راجستھان کے چورو ، جے پور اور جیسلمیر میں واٹر شیڈ کی تعمیر شروع کیا ہے۔

آرگینک بنام کیمیاوی کھیتی
عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ زیادہ مقدار میں کیمیاوی کھاد اور جراثیم کش دوا استعمال کرنے سے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور پیدوار بڑھنے سے کسانوں کا منافع بھی بڑھ سکتا ہے۔ حکومت بھی کسانوں کو سائنس پر مبنی کھیتی کرنے کی صلاح دیتی ہے، لیکن اس سائنس پر مبنی کھتی کا مطلب صرف اور صرف کیمیاوی کھاد اور جراثیم کش ادویات کے استعمال تک ہی محدود ہوتا ہے۔ نتیجتاً آئے دن ہم ودربھ، آندھرا پردیش، گجرات ، پنجاب اور اتر پردیش کے کسانوں کے ذریعہ خود کشی کرنے کی خبریں سنتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیمیاوی کھاد اور جراثیم کش ادویات کے استعمال سے اناج، سبزیاں ، دودھ اور پانی جو انسانوں کی زندگی کی اہم ضروریات ہیں، زہریلے بنتے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انسانی زندگی دھیرے دھیرے خطرے میں پڑتی جا رہی ہے۔ فصل پیدا کرنے کے لیے بے دریغ کیمیاوی کھاد کا استعمال انسانی زندگی کے لیے خطرہ تو بنا ہی ہے، ساتھ ہی یہ زمین کو بھی بنجر بناتا جا رہا ہے۔ زمین کی پیداواری صلاحیت گھٹتی جا رہی ہے۔ پیدوار بڑھانے کے لیے مسلسل کیمیاوی کھاد کی مقدار بڑھانی پڑرہی ہے۔ مٹی میں معدنیات کی مقدار گھٹتی جا رہی ہے۔ زمین کے جغرافیائی ڈھانچہ اور کیمیاوی خاصیتوں پر اس کا منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام مسائل کا کوئی حل نہیں ہے؟ حل ہے۔ ان تمام مسائل کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے آرگینک کھیتی ۔ زمین کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں ورمی کمپوسٹ مفید ثابت ہو رہا ہے۔ آرگینک کھیتی کیمیاوی کھیتی سے سستی ہوتی ہے، کیونکہ اس کا خام مال کسان کے پاس مہیا رہتا ہے، جیسے گوبر سے کمپوسٹ کھاد، چارے اور فصلوں کے کچرے سے تیار کھاد، کینچوے کی کھاد۔ ایپی جیئک کینچوے کی اسینیا فیٹڈا نسل (ریڈ ورم) سے بہتر آرگینک کھاد بنائی جا سکتی ہے۔ ورمی کمپوسٹ سستا ہوتا ہے، ساتھ ہی زمین کی پیداواری صلاحیت بھی بڑھاتا ہے۔ یہ پانی، زمین اور ہوا کو صاف شفاف بھی بناتا ہے۔ اس کے استعمال سے کم پانی سے بھی کھیتی ممکن ہے۔ اس سے پیداواری لاگت میں بھی کمی آتی ہے۔ آرگینک طریقہ سے پیدا کیا گیا اناج ذائقہ دار اور صحت بخش بھی ہوتا ہے۔ آرگینک کھیتی کے شعبہ میں مرارکا فائونڈیشن نے حیرت انگیز تجربے کیے ہیں۔ ملک کی کئی ریاستوں سمیت راجستھان کے لاکھوں کسانوں نے اس فائونڈیشن سے جڑ کر آرگینک کھیتی کرنا شروع کر دیا ہے۔ فائونڈیشن ان کسانوں کو گوبر اور کینچوے سے آرگینک کھاد اور ورمی واش کی شکل میں جراثیم کش بنانے کی ٹریننگ دیتا ہے۔ گائے کے پیشاب، نیم، ہلدی اور لہسن سے ہربل اسپرے بنایا جاتا ہے۔ آرگینک کھیتی آج ان کسانوں کے لیے ایک سوغات ثابت ہو رہی ہے۔

شمال مشرق کی ایک اہم ریاست ناگالینڈ میں بھی مرارکا فائونڈیشن نے آرگینک کھیتی کی ہوا چلا دی ہے۔ ناگالینڈ دنیا بھر میں سب سے تیکھی مرچ پیدا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے تقریباً 2000 سے بھی زیادہ کسان مرارکا فائونڈیشن کے ساتھ جڑ کر آج آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔ 38 گائووں کے کسان فائونڈیشن سے ٹریننگ لے کر آرگینک کھیتی کے گر سیکھ چکے ہیں۔ تقریباً 3237 ایکڑ زمین پر آج یہاں آرگینک کھیتی کی جا رہی ہے۔ یہاں پیدا ہو رہی آرگینک فصلوں میں اہم طور پر ناگا چلی، کیلا، ادرک، نارنگی، مکئی، پائن ایپل شامل ہیں۔
جب اس ملک میں شمال مشرق کی ریاستوں کی خبر لینے کی فرصت حکومت تک کو نہیں ہے، تو ایسی صورت میں ملک کے دور دراز جنوبی علاقے، زمین سے کٹے ایک جزیرہ انڈمان میں جا کر مرارکا فائونڈیشن نے وہاں کے کسانوں کو آرگینک کھیتی کی تربیت دی ہے۔ یہاں کے نیل آئی لینڈ ، ہیولوک، آئی لینڈ اور پورٹ بلیئر کے 17 گائووں میں تقریباً 1000 کسان مرارکا فائونڈیشن کے ساتھ جڑ کر آرگینک کھیتی کر رہے ہیں۔ تقریباً 803 ایکڑ زمین میں آرگینک کھیتی کی جا رہی ہے۔

اگر آپ آرگینک کھیتی کرنا چاہتے ہیں یا آرگینک کھیتی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ذیل میں دیے گئے پتے پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔
مرارکا فاؤنڈیشن
واٹیکا روڈ، آف ٹونک روڈ، جے پور -302022
وردھمان باپنا-09414063458,0141-2771100
info@morarkamail.com…. ای میل

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *