شیطان کی تابعداری نہ کرو

عبدالرشید مومن

آنحضرت ؐکے حیات مبارکہ اور ابتدائے اسلام کے واقعات کاجس نے بھی مطالعہ کیا وہ جانتے ہیں کہ جب اسلام کی دعوت گھر سے نکل کر باہر لوگوں میں پیش کی جانے لگی تو پہلے پہل تو کسی طرف سے کوئی مخالفت نہ ہوئی کیونکہ آپؐ کی پچھلی زندگی امانت و دیانت داری و نیک چلن کا بہترین نمونہ تھی۔ آپؐ کی ان خوبیوں کی وجہ سے ہر شخص کے دل میں آپ کی عزت تھی۔ آپؐ توحید و آخرت و رسالت کے بارے میں بنیادی باتیں سمجھا رہے تھے۔ آپ ؐ کے بول اتنے میٹھے اور مؤثر تھیکہ لوگ انہیں یاد کرلیتے ۔ان کے بول کا جگہ جگہ چرچا ہونے لگا۔ مخالفین نے جب دیکھا کہ آپ کی پیاری باتیں لوگوں کے دلوں پر آہستہ آہستہ اثر کرتی جارہی ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو ان کے مداحوں اور ماننے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی، پھر انہیں جو عزت و بڑائی حاصل ہے وہ نہ رہے گی۔ یہ لوگ اس دعوت کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ محسوس کرنے لگے چنانچہ مخالفت اور چھیڑخانی کرنے لگے ،مذاق اڑانے لگے، لا یعنی سوالات پر سوالات کرنے لگے مثلاً جب ہم مر جائیں گے، زمین میں دفن کردیے جائیں گے ، دفن کردیے جانے کی صورت میں گوشت اور ہڈیاں گل جائیں گی اس صورت میں دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے۔آپؐ نے اس عقیدہ کو اچھی طرح کھول کھول کر بتایا۔ آپ نے سمجھایا کہ اس زندگی میں تم جو کچھ کرتے ہو، اس کا بدلہ دوبارہ زندہ کیے جانے کے بعد دیا جائے گا۔ اللہ پاک ہم سب کا رب ہے وہ بڑا منصف اور مہربان ہے۔ وہ ایک دن ضرور سب کو جمع کرے گا اچھے لوگ انعام پائیں گے اور بُرے لوگوں کو سزا دی جائے گی اور یہ کام اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔ جس نے یہ سب کائنات بنائی اور پہلی بار انسان کو پیدا کیا، وہ یہ قدرت بھی رکھتا ہے کہ جب چاہے پھر انسان کو زندہ کردے۔
بہرحال قرآن پاک قیامت کے ہی تعلق سے مشرکین کو ایک ہولناک انجام کی خبر دے رہا ہے تو اہل ایمان کو بھی تنبیہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ عنکبوت میں ارشاد ربانی ’’کیا خدا کو دنیا جہاں والوں کے دلوں کی باتیں معلوم نہیں ہیںاور باری تعالیٰ ایمان والوں کو معلوم کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی معلوم کرکے رہے گا‘‘۔( عنکبوت۔8 ) یعنی اللہ پاک ظاہر کردے گا جو دل سے مسلمان ہوئے اور امتحان کے وقت ایمان پر ثابت قدم رہے اور جو دل سے مسلمان نہ ہوئے اور امتحان کے وقت پیچھے ہٹ گئے۔ مطلب مخلص کا اخلاص، منافقین کا نفاق ظاہر کردے گا۔ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد ہم پر اطاعت لازم ہوجاتی ہے کہ ایمان کے جو تقاضے ہیں ہم اسے پورا کریں اپنے قول و عمل سے اس بات کی شہادت دیں کہ سوائے خدا کے کوئی معبود نہیں، وہی جلانے اور مارنے والا ، روزی روزگار مشکلات و آفات سے بچانے والا، فریادوں کو سننے والا۔غازیانِ ملت اور شہدائے اسلام کا نام آج بھی زندہ ہے، ان کے کارنامے آج بھی لوگ یاد کرتے کہ پھر کوئی صلاح الدین ایوبی آجائے فلسطین کے بے یار و مددگار کے لیے۔ ان حضرات نے جو صحیح معنوں میں اہل ایمان تھے اپنے مشن کو پورا کیا وہ مشن نیکی اور بھلائی کی طرف لوگوں کو بلانا اور برائی سے روکنا کہ اے ایمان والو ! تم خدا کے منتخب کردہ امت ہو، تمہارا نام خیرامت ہے۔ تم میرا ذکر کرو گے تو میں تمہارا ذکر کروں گا، تم مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد کروں گا، تم ایک قدم میری طرف بڑھائو گے تو میں دس قدم بڑھائوں گا۔ ہم نے ان تعلیمات کو بھلا دیا، دین شریعت کو پش پشت ڈال دیا۔ آج جو مسئلے الجھے ہوئے ہیں۔ فلاں مقام پر مسلمان لڑ پڑے، فلاں مقام پر بم دھماکہ وغیرہ نئے زمانے کے لیے نئے تقاضوں نے نئی نئی آفتوں کو جنم دیا۔ جن کی مثالیں پہلے کے زمانے میں نہیں ملتیں۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ آگے کیا کیا نقشے بننے والے ہیں، ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، ہم نے توجہ نہ کی تو ہماری ہوا اُکھڑ جائے گی۔
انسان پر جب بُرا وقت آتا، در در کی ٹھوکریں کھاتا، نوکری، دھندہ نہیں ، گھر میں کچھ نہیں، جیب خالی تو خود کو بے سہارا سمجھ کر روتا ہے کہ میرا کوئی نہیں۔ ان برے حالات میں بے ساختہ نگاہیں آسمان کی طرف جاتی ہیں۔ یہ وہی وقت ہوتا ہے جب اسے سمجھ میں آتا ہے کہ کوئی ہے جو میری مدد کرے گا، وہ خود بخود سجدے میں گرجاتا ہے یہی وہ اقرار ہے، سچا اقرار کہ جسم نے مان لیا گردن جھک گئی۔ ۔ وقت گزر جاتا ہے بچے بڑے ہوجاتے ہیں، گزر بسر ہورہی دنیا داری میں کھو گئے اتنے مدہوش ، بھول گئے اپنی اس مصیبت کی کہانی۔ اب غور و خوض کی کیا ضرورت ہے۔ کچھ یہی بات ’’سورۃ الم نشرح‘‘ آیت نمبر5-6 میں تکرار کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کیا گیا کہ کوئی مصیبت ہمیشہ نہیں رہتی۔ خدا کا فضل اپنے وقت پر اسے راحت میں بدل دیتا ہے۔ خدا کی یاد اور اس کی طرف توجہ مومن کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ پوری سمجھ داری کے ساتھ حق اور ناحق کو پہچانئے اور حق کا ساتھ دیجئے۔ اپنے دائرہ زندگی سے باہر نکلئے دیکھئے۔ ہم نے اپنے نبیؐ کی تعلیمات کو بھلا دیا۔ تاریخ گواہ ہے مسلمانوں نے جب بھی اتحاد و اتفاق سے اپنا رشتہ توڑا تو ان کی ہوا اکھڑ گئی ساکھ بگڑ گئی، عزت اور وقار سے محروم ہوگئے، تمہارے لیے دشمنوں کی کمی نہیں ہے۔ اگر ایک طرف مشرکین تو دوسری طرف یہود و نصاریٰ ہیں۔ (آیت 186 )مسلمانوں تمہیں مال و جان دونوں کی آزمائش پیش آکر رہے گی، تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے اگر ان سب حالات میں تم صبر اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی روش پر قائم رہو بے شک یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔ (سورۃ آل عمران ۔ آیت186 )۔کیا پیارے نبیﷺ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں صحابہ کے ساتھ کس طرح زندگی گزارے اور اہل مدینہ کی محبت کہ اپنے مومن بھائیوں کے لیے کیسی کیسی قربانیاں پیش کیں۔
تاریخ گواہ ہے مسلمانوں نے جب بھی اتحاد و اتفاق سے منھ موڑا تو ان کی ہوا اکھڑ گئی ساکھ بگڑ گئی عزت اور وقار سے محروم ہوگئے۔ اسلام کی تعلیم یہی ہے۔ بلا تفریق مذہب ملت یہ دعوت عام ہے۔ یہ حکم اس کا ہے جس کی بادشاہت آسمانوں سے لے کر زمین تک پھیلی ہوئی ہے۔ کوئی ذرہ اس کی حکومت سے باہر نہیں۔ وہ سب کا رب ہے جس کے سامنے مومنین سر جھکاتے، جس کی حمد و ثناء کرتے، اس کی نعمت ساری مخلوق کے لیے ، اس کا ڈنکا دن رات بجتا ہی رہتا ہے۔ ابھی اذان ہورہی ہے ختم بھی نہ ہوپائی آگے کسی مسجد سے صدا گونج رہی سلسلہ ختم ہوا نہیں کہ اس کے آگے کی مسجد سے یہی اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔یہ پیغام ہے بنی نوع انسان کے لئے کہ اسلام کی آواز پر لبیک کہو اور شیطانی وسوسوں سے دور رہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *