پاکستانی پارلیمانی وفد کا دورۂ بھارت

 حفیظ خاں
پچھلے دنوں بھارت جانے والے 18رکنی پارلیمانی وفد نے واپسی پر بہت سی خوشخبریاں سنا ئیں ۔جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ’’ بھارت سے ویزا شرائط میں نرمی کا معاہدہ جلد ہو گا‘‘۔ عرض ہے کہ جس دن ایسا ہو گیا ،دونوں ممالک کے پیارے عوام کے درمیان محبت میں گرم جوشی دیکھنے والی ہوگی ۔پارلیمانی وفد کے سربراہ سینیٹر جہانگیر بدر کا کہنا ہے کہ ’’بھارت میں باہمی تعلقات بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔ددنوں ملک چاہتے ہیں کہ جنوبی ایشیامیں امن ہونا چاہیے ۔دونوں معیشت بہتر بنانے کے لئے اقدامات پر بھی رضا مند ہیں ‘‘۔ہم تو کئی بار عرض کر چکے ہیں کہ دونوں ملکوں کے عوام کی اصل دشمن غربت ہے ۔اس کے خاتمے کے لئے دونوں کو اس کے خلاف مل کر لڑنا ہو گا ۔ بصورت دیگر وہی ہم ہوں گے ،وہی غم ہوں گے ۔زندگی تو چار دن کی ہے ،اُسے تو بہتر ہی گزرنا چاہیے ۔یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ماضی میں دونوں ممالک کے بڑوں نے اپنی سیاست کی چمتکاری کے لئے عوام کو اندھیرے میں رکھا ۔اب اگر انہیں عوام پر ترس آ ہی گیا ہے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔ابھی صرف 65برس قبل تک ہم ایک تھے ۔وہ جدائی تو صرف گھروں کی تقسیم تھی ۔اس میں خفا ہونے والی کون سی بات تھی ۔اُس وقت کی دونوں ممالک کی قیادت نے جدا ہونے کا فیصلہ مل کر کیا تھا ۔
بہر کیف یہ بہت اچھا ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان آنا جانا بڑھنا شروع ہو گیا ہے ۔ہمارا تو شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ جن سے سرحدیں ملی ہوئی ہیں ،اُن سے دل بھی ملنے چاہئیں ۔البتہ دہشت گردی دونوں کے درمیان پیار و محبت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔یہاں بھی دشمن ایک ہی ہے ۔خدا جانے کہ دونوں ایک دوسرے کا گریبان کیوں پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔وفد میں شامل سینیٹر حاجی عدیل کا کہناہے کہ ’’پاکستان دہشت گردی کامرکز نہیں بلکہ خود اس کا نشانہ بنا ہوا ہے ‘‘۔معزز قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان میں دہشت گردی سے پچاس ہزار سے زائد افراد اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے منہ موڑ چکے ہیں ۔لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے بڑوں نے اس صورتحال پر سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے ۔ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ سوتن کا کردار ادا کر رہی ہے ۔کاش !وزیراعظم جناب پرویز اشرف اس کے خاتمے کے لئے کسی کو خط لکھ دیں ۔ اب ہم پاکستان کے سیاسی موسم کی طرف آتے ہیں ۔ہمسایے کو اس کی خبر گیری ہونی چاہیے ۔جہاں تک سپریم کورٹ والے خط کا سوال ہے ،عرض ہے کہ 18ستمبر کی تاریخ بھی گزر جا ئے گی ۔اُس کے بعد کے دن بھی گزر جا ئیں گے لیکن ارمان اور ’’وجدان ‘‘اُسی طرح کے ہوں گے ۔سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ نے 16کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو 18ستمبر تک مہلت دے دی ہے ۔لفظ’’ مہلت ‘‘ دل کو عجیب سا لگا۔کاش کہ کبھی کسی ڈکٹیٹر کو بھی مہلت دی جاتی ؟ بلکہ اسے تو بن مانگے بھی سب کچھ ملتا رہا ۔اب وہ موسم بھی گزر چکا ہے ۔مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ ہمارے اندر کا موسم اس قدر آلودہ ہو چکا ہے کہ اب جسم اور روح کے درمیان رشتہ بحال ہوتا بھی مشکل نظر آ رہا ہے ۔ کل تک جن بتوں کو ہم نے بنایا تھا ،آج …بقول اکبر الہ آبادی
سورج میں لگے دھبّہ فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر اﷲکی مرضی ہے
پاکستان کا سیاسی موسم اب بہت تیزی سے بدلنے شروع ہو گیا ہے ۔جس طرح مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی قرارداد پر بیک آئوٹ کیا ہے ، شاید اﷲکی مر ضی یہی ہو کہ پیپلز پارٹی الیکشن کے بعد بھی’’ اسلام آباد‘‘ میں ہی رہے۔سیاست بھی ایک کھیل کا نام ہے ۔جب کوئی غلطی کرے گا تو پھر اُسے خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے پاس بڑے بڑے دانشور اور تجزیہ نگار ہیں ۔ان کی ’’خدمات ‘‘ کے ہوتے ہوئے بھی …غلطی در غلطی ۔کہیں اِ ن لوگوں نے بھی اپنے ’’مشن ‘‘ کوسرکاری نوکری کی طرح تو نہیں سمجھ رکھا ؟میاں نواز شریف آج کل پاکستان میں ہیں ۔انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن سے ایک ملاقات میں کیا خوب کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ عدلیہ کے خلاف پہلے بھی سازشیں ہو ئیںاور آئندہ بھی ہو سکتی ہیں ‘‘۔پہلے کا تو سب کو علم ہے ۔میاں نواز شریف کے دوسرے دور ِ حکومت میں اُس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ صاحب کے ساتھ کیاسلوک کیا گیا تھا؟ جہاں تک آئندہ کا سوال ہے تو عرض ہے کہ پیپلز پارٹی اپنا ایک وزیراعظم گنوا چکی ہے ۔انہوں نے اُس فیصلے کو قبول کر کے عدالت عظمیٰ کا پورا احترام کیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ہار کر بھی جیت گئی ۔دوسرے وزیراعظم پر بھی تلوار لٹک رہی ہے ۔وزیراعظم جناب پرویز اشرف عدالت میں پیش ہو ئے ۔18ستمبر کوپھر پیشی ہے ۔ایسے میں سازشیں …میاں صاحب کی یہ بات کم سے کم ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ہمارا مشورہ ہے کہ بہت ہو گئی ، اب عوام کے فیصلے کے لئے وہ سیاسی میدان میں اتریں ۔حکومت نے تو الیکشن کا عندیہ دے دیا ہے ۔ یہ بات بھی عرض کرتے چلیں کہ عدالتی اور سیاسی فیصلے اپنی جگہ پر ،عوام شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹوکی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ۔اُن کی قبر کے ٹرائل کا سوچنا بھی کسی گناہ ِ کبیرہ سے کم نہیں ہو گا ۔آج کل عمران خان صاحب شمالی وزیر ستان میں لاکھ سوا لاکھ کے جلوس کے ہمراہ جلوہ گرہونے کے لئے بے چین ہیں ۔بہر کیف ابھی تک یہ اُن کا فیصلہ ہے ۔سیاسی قیادت کو حالات کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے۔عرض ہے کہ ’’ہندآجا ئے ،سندھ آ جائے یا کوئی رِند آجائے ‘‘،سپر پاورنے اگر کوئی فیصلہ کر لیا ہے تو پھر اُس پر عمل بھی ہو گا ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے بلکہ سچ ہی کہا جاتا ہے کہ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے کو کنگا ل کر دیا جا ئے ۔پچھلے دنوں یہ بھی خبر تھی کہ شاید مسلم لیگ ن اس کمیشن کے خلاف عدالت میں چلی جائے ۔ وہ بے شک اپنا یہ شوق پورا کر لے۔شوق کے بارے اوپر کچھ عرض کر چکے ہیں۔اُن کے حضور پہلے بھی کئی بار عرض کر چکے ہیں ،ایک بار پھر سے عرض کئے دیتے ہیں کہ وہ سیاست کے میدان میں لوٹ آئے ۔اُن کا تو انتخابی نشان بھی ’’شیر ‘‘ہے۔معزز قارئین ! جنوبی پنجاب کی ایشو پر پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا ،بلاشبہ وہ لمحہ فکریہ ہے ۔لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ لا حق ہو گیا ہے۔بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں میںڈکٹیٹر ضیا کی روح نے پھر سے جگہ بنانا شروع کر دی ہے ۔لگتا ہے کہ وہ جنمی رشتہ ابھی تک قائم ہے ۔
یہ جنمی رشتے اپنی جگہ پر… لیکن وہ ڈریکولین دور اب واپس آنا والا نہیں ۔عوام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔اب سزائوں کا نہیں بلکہ وفائوں کا وقت ہے۔آخر میں پاک بھارت تعلقات کے بارے میں یہی عرض کریں گے کہ امن میں ہی جشن ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *