پاکستانی مہاجرین : مذہبی انتہا پسندی جنون کی حد تک

اسد مفتی
جج نے کہاـ:’’ ان کو اپنی بیٹی سے محبت نہیں تھی بلکہ ان کو اس بات کی فکر تھی کہ ان کی بیٹی نے مغرب کی اقدار کو اپنا لیا ہے اور یہ بات ان کی بد نا می کا باعث بن رہی ہے۔‘‘
باپ نے کہا:’’ اگر کسی نے شفیلہ کے بارے میں زبان کھولی تو اس کا بھی شفیلہ جیسا انجام ہوگا۔‘‘
چھوٹی بہن ملیشا نے کہا:’’ اس کے والدین نے اس کے سامنے شفیلہ کو دم گھونٹ کر قتل کیا تھا۔‘‘
بھائی جنید نے کہا: ’’ اس کا انجام یہی ہونا تھا۔‘‘
سات مردوں اور پانچ عورتوں پر مشتمل جیوری نے کہا ’’ انہوں نے اپنی بیٹی کو قتل کرکے باقی سارے خاندان کی زندگی بھی تباہ کردی۔‘‘
شفیلہ کی ایک قریبی دوست میلسیا پونر نے عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد کہا کہ آج انصاف کے تقاضے پورے ہوگئے ہیں، میں نے کئی برس تک اس دن کا انتظار کیا ہے۔‘‘
کچھ واقعات اور کہانیاں ایسی بھی ہیں جو ان کہی رہ جاتی ہیں، انہیں بیان کرنے کی ہمت نہیں ہوتی اور انہیں خاموش آنکھوں میں یا سلے ہوئے ہونٹوں کی تھر تھراہٹ سے سمجھا جا سکتاہے ۔یہ بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے جو ’’ غیرت‘‘ کے نام پر لکھی گئی ہے ۔ اس غیرت نامی جذبے کے نام پر قتل کے مشہور مقدمہ میں شفیلہ احمد کے والدین کو لندن کی عدالت نے مجرم قرار دیاہے اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ جج مسٹر جسٹس روڑرک ایونز نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ والد افتخار احمد اور والدہ فرزانہ احمد کو ہر حال میں پچیس پچیس برس تک جیل میں رہنا ہوگا۔ فیصلہ سنانے سے پہلے کورٹ کے جج جسٹس روڑرک نے جیوری کے ارکان ے کہا کہ وہ اس کیس کا فیصلہ کرتے وقت اپنے جذبات اور ہمدردی کو ایک طرف رکھیں اور انہیں فیصلے پر حاوی نہ ہونے دیں۔ سو ایسا ہی ہوا، سات مردوں اور پانچ عورتوںپر مشتمل جیوری نے مقتولہ شفیلہ احمد کے ’’ با غیرت والدین ‘‘ کو قتل کے جرم میں مجرم قرار دے دیا۔
شفیلہ احمد ستمبر 2003 میں وارنگٹن میں واقع اپنے گھر سے لا پتہ ہوگئی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا سے ہی لا پتہ ہوگئی تھی۔ تلاش بسیار کے بعد پولیس کو اس کی لاش لمبریا دریا کے کینٹ کے کنارے سے بر آمد ہوئی تھی۔ باقی کی کہانی وہی دو معاشروں کی کہانی ہے، دو ثقافتوں کا تضادہے ، دو اقدار کا فسانہ ہے ، دو تہذیبوں کا تصادم ہے لیکن ٹھہریے، میرے حساب سے یہ دو ثقافتوں کا تصادم نہیں ہے بلکہ وہ تصادم ہے جو جہالت ، ہٹ دھرمی ، بے حسی اور مذہبی عقیدہ کے سبب پیدا ہوئے ہیں۔ یہاں عقیدہ کوئی خاص معنی یا اہمیت نہیں رکھتا ۔ ہم جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں ۔یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جن کشتیوں کے بادبان کھلے ہیں ،وہ ہوا کے ساتھ بہہ نکلتی ہیں اور اپنی راہ پرآگے بڑھتی ہیں لیکن جن کشتیوں کے بادبان کھلے نہیں ہیں وہ ان ہوائوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتیں۔ تو کیا یہ ہوائوں کا قصور ہے؟مذکورہ واقعہ مغرب میں مقیم پاکستانیوں کا پہلا واقعہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے رد عمل میں پیدا ہونے والے حالات پہلی بار رونما ہوئے ہیں ۔یہ ایک سنگین بیماری کی واضح علامت ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھی جب کینڈا میں مقیم ایک پاکستانی نژاد لڑکی نے حجاب پہننے سے انکار کردیا تو اس کا باپ جو بد قسمتی سے پاکستانی ہی تھا، نے اس معصوم لڑکی کا اپنے ہاتھوں گلا گھونٹ کر جنت کا حقدار ہوگیا۔ یہ دلخراش ،دلدوز سفاکانہ واردات ٹورنٹو کے مضافات’ مسی سائو‘میں پیش آئی تھی۔ کینڈا سے ساری دنیا میں جاری کی گئی اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ 57 سالہ محمد پرویز نامی ایک شخص نے اپنی 16 سالہ بیٹی اقصیٰ پرویز کا گھلا گھونٹ دیا ۔لڑکی کو فوری قریبی اسپتال لے جایا گیا اور اس کو مصنوعی تنفس پر رکھا گیا لیکن ظالم باپ کے طاقتور ہاتھوں نے یہ علاج کارگر نہ ہونے دیا اور یہ لڑکی اسی رات پر امن مذہب کی بھینٹ چڑھ گئی۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے اور بعد میں کیا فرق باقی رہ گیا؟تب بھی لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے اور اب بھی اپنے ہاتھوں گلا گھونٹدیتے ہیں ۔یہ مذہب و ثقافت کے نام پر جان دینے والی اقصیٰ پرویز مقامی ایپل ووڈہا ئی اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ اس کی کلاس فیلوز نے بتایا کہ اقصیٰ کے کچھ عرصہ سے اپنی فیملی سے اختلاف چل رہے تھے۔ خاندان کے درمیان کچھ مسائل تھے کیونکہ اس نے حجاب پہننے سے انکار کردیا تھا، ہمارے اسکول کی کوئی بھی لڑکی حجاب نہیں پہنتی تھی۔ ان طالبات نے بتایا کہ اقصیٰ پرویز اپنے باپ کے اصرار پر گھر سے نکلتے وقت حجاب پہن لیتی تھی اور اسکول آنے کے بعد مروجہ ملبوسات پہن لیتی تھی۔ ان لڑکیوں کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ اسکول آنے کے بعد کس تیزی سے دوڑ کر واش روم میں داخل ہوتی تھی اور اپنا لباس تبدیل کرتی تھی تاکہ وہ ہم سب کی طرح لگے۔ اسکول کی دوسری ہم عمر لڑکیوں کی طرح نظر آئے۔ اس بھیانک قتل کی واردات نے کینڈا جیسے پر امن ملک میں صدمہ کی لہر دوڑا دی۔ اخبار نویسوں نے ٹورنٹو میں مقیم ایک پاکستانی خاتون کا انٹرویو کیا تو اس نے کہا ’’ حجاب کبھی بھی پاکستانی معاشرے کا حصہ نہیں رہا‘‘ یہ عرب سے آیا ہے اور عربی ثقافت پاکستان سے مختلف ہے‘‘۔ اس ٹیچر خاتون سونیا احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ وہ شخص (محمد پرویز) اب یہ سمجھتا ہوگا کہ اس نے صحیح قدم اٹھایا ہے اور وہ سیدھا جنت میں جائے گا جہاں 70 حوریں، اس کا انتظار کر رہی ہوں گی۔ اس خاتون نے کہا کہ ہم پاکستانی جنوبی ایشیائی باشندے ہیں اور جنوبی ایشیائی باشندوں کا کلچر جدا گانہ ہے۔ ایک اور خاتون عاصمہ خان جو رسالہ مسلم گرل کی چیف ایڈیٹر ہیں، نے صحافیوں کو بتایا کہ سابق ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور حکومت میں عرب وہابی علماء اور انتہا پسندوں کو مدعو کیا جنہوں نے روسیوں کے خلاف جہاد کے علاوہ پاکستانی خواتین سے شادیاں کیں اور شوہروں کے کہنے پر حجاب کی روایت کا پاکستان میں آغاز کیا، جسے ضیاء حکومت اور اس کے چیلے چانٹوں نے بڑھا وا دیا۔ ضیاء الحق سے پہلے حجاب کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسلم گرل کی ایڈیٹر ان چیف نے نوجوان لڑکیوں پر والدین کی مرضی مسلط کئے جانے کی سخت مخالفت کی۔
عورت پر مظالم کیوں کیا جاتاہے؟یہ وہ سوال ہے جس پر آج اپنوں اور غیروں کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔میرے حساب سے اس سوال کا جواب تو بہت سادہ اور عام فہم ہے ۔ایک بات تو سب پر واضح ہے اور یہ بات طے شدہ بھی ہے کہ جاگیردارانہ و قبائلی رسم و رواج اور معاشرے سے ہم نکل نہیں سکے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسری اہم حقیقت بھی ہمارا منہ چڑا رہی ہے اور وہ ہے ہمارا فقہی لٹریچر۔ اس سلسلہ میں مجھے زیادہ کچھ نہیں کہنا کہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں ’’ کے نام بھی آتے ہیں مگر اس فقہی علوم میں عورت سے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔فقہ نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہی فساد برپا کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ بات کہنے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ عورت کے بارے میں ہمارا تصور ناقص، فرسودہ، جاگیردارانہ اور بغض و تعصب پر مبنی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس فقہی لٹریچر کے زیر سایہ پاکستانی معاشرہ میں عورت کے بارے میں ایک مضبوط ناقص سوچ پیدا ہوتی ہے اور یہ ناقص سوچ نہ صرف مملکت خداداد میں اپنا گھر بنا چکی ہے بلکہ اس کی سرحدوں سے باہر مغرب میں بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ہم جہاں جاتے ہیں اس ناقص سوچ کی گٹھڑیاں سر پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ اب یہی دیکھئے مغرب ایک جمہوری معاشرہ ہے ۔ یہاں ہر ایک کو اپنی بات کہنے کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔کیا یہاں عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر نہیں ہوتی؟برطانیہ یا کینڈا ، ہالینڈ یا امریکہ کسی ایک نسل یا ثقافت کا ملک نہیں رہا۔ بلکہ سارا مغرب ایک ملٹی کلچر یا کثیر ثقافتی ملک بن گیاہے مگر اس کثیر ثقافتی معاشرے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہاں کی صدیوں پرانی اقدار اور تہذیب پر کوئی اور تہذیب مسلط کردی جائے۔ آج کے مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والے ملائوں، مولویوں ،علماء کرام اور نام نہاد دانشوروں کی اکثریت ساتویں اور آٹھویں صدی کی اسلامی روایات اور رسم و رواج کو مثال سمجھتی ہے۔ نئے وقت کے نئے تقاضوں کو پس پشت ڈالتی ہے ۔ پرانی کنجیوں سے نئے تالے کھولتی ہے۔ آج باشعور مسلمان پر الزام ہے کہ وہ اس گروہ کو ساتویں صدی کی ذہنیت سے نکالے اور اسلام کی ایسی عصری شکل مرتب کرے جو دوسرے مذہب و تہذیب و تمدن اور روایات کے ماننے والوں کو بھی قابل قبول ہو۔ میرے حساب سے پاکستان سے تارکین وطن کی پہلی نسل تک اپنے اپنے عقائد اور مسلک و فرقہ ہی لے کر بیرون ملک آئے تھے۔ ابھی مولویوں اور علماء کی آمد شروع نہیں ہوئی تھی پھر ہوا یہ کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے مغربی ملکوں کی ہر گلی اور ہر محلے میں علماء کے ساتھ ساتھ ان کے مسلک ، عقائد اور فرقے بھی پہنچ گئے ۔ ان لوگوں نے پاکستان کی طرح مغرب میں بھی فرقہ وارانہ اور تنگ نظری کے ڈھول پیٹنے شروع کردیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس معاشرے کو کفرستان سے تعبیر کرتے ہوئے اس معاشرے کی برائیاں گنا گناکر نئی نسل کو ایسا پیغام دیا کہ اس میں افتخار احمد اور محمد پرویز جیسے لوگ اگنے لگے جس کے نتیجہ میں آج ہم ان علمائ، مولویوں اور ملائوں اور ان کی خود ساختہ روایات کی اموات کا ماتم ہی نہیں کر رہے بلکہ اس مغربی معاشرے کے ساتھ اپنے تعلقات کی موت کا بھی ماتم کررہے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم افتخار احمد اور کینڈا رہائشی محمد پرویز دراصل اس معاشرہ کا کبھی بھی حصہ نہیں رہے، کبھی بھی حصہ نہیں بن سکتے تو کیا یہ بہتر نہیںہے میرے پیارے حسن نثار کہ افتخار احمد اورمحمد پرویز ایسے لوگوں کو واپس بلا لو۔کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ یہ اپنے لوگوں میں پلٹ جائیں ۔ کیا تم بھی وہی سوچ رہے ہو جو میں سوچ رہا ہوں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *