پانچ سو لفطوں کی پابندی کیوں

آرٹی آئی قانون شروع سے ہی سرکار اور نوکر شاہوں کے نشانے پر رہا ہے۔ جب بھی انہیں موقع ملتا ہے اس قانون میں کوئی نہ کوئی ترمیم کردی جاتی ہے۔ ظاہر ہے، اس کا مقصد صرف عام آدمی کو اس قانون کے استعمال سے الگ رکھنے کا ہے۔ پچھلے چھہ سالوں میں عام آدمی نے اس قانون کے استعمال سے اپنی طاقت کو قائم کیا ہے۔اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ جمہوریت میں عام آدمی کی طاقت سے بڑا کچھ بھی نہیں ہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں اور خود کو طاقتور سمجھنے والے نوکر شاہوں کے بیچ بے چینی کا ہی نتیجہ ہے جو ہمیں اس قانون میں بار بار طاقت دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک بار پھر سے یہ قانون سرکار کے نشانے پر ہے۔ اس بار سرکار نے حق اطلاعات قانون کے تحت اطلاع حاصل کرنے کے لئے دائر کی جانے والی درخواستوں میں لفظوں کی حد 500 مقرر کر دی ہے یعنی اب کوئی عرضی گزار اپنی درخواست میں پانچ سو لفظوں سے زیادہ نہیں لکھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں دوسری اپیل دائر کرنے کے لئے نیا فارمیٹ بھی طے کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ پہلے سے ہی دوسری اپیل کا فارمیٹ اتنا مشکل بناہوا ہے ، جس سے عام آدمی کے لئے اسے پُر کرنا ٹیڑھی کھیر ثابت ہوتا رہا ہے۔نوٹیفائڈ کیے گئے نئے دستور کے تحت اب عرضی گزار یا اس کے ذریعہ ریکومنڈ نمائندہ کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ خود یا ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ سے سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے سامنے حاضر ہو، جبکہ پہلے کے دستور کے مطابق ، آر ٹی آئی درخواست میں لفظوں کی زیادہ سے زیادہ حد متعین نہیں تھی۔ منسٹری آف پرسنل،ٹریننگ، پبلک گریونیس کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت عرضی گزار کو 50 روپے سے زیادہ کی اطلاع فراہم کرنے پر اضافی ڈاک خرچ دینا ہوگا۔ حالانکہ غریبی ریکھا سے نیچے گزر بسر کرنے والوں کو کوئی فیس نہیں دینا ہوگا۔ اس سلسلے میں انہیں سرکار کی طرف سے جاری سرٹیفکیٹ کی کاپی فراہم کرنی ہوگی۔متأثرہ فرد کی طرف سے دائر اپیل کے ساتھ ہوم پبلک ریلیشن آفیسر کے سامنے پیش کی گئی درخواست اور حاصل شدہ جواب کی کاپی بھی منسلک کرنی ہوگی۔ اگر فرسٹ اپیلیٹ اتھارٹی کو کوئی اپیل کی گئی ہے یا کوئی ہدایت موصول ہوئی ہے تب انہیں بھی منسلک کرنا ہوگا۔آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ سبھی دستاویز منسلک نہیں ہوںگے تب عرضی گزار کو اپیل واپس لوٹائی جا سکتی ہے۔ بہر حال، اس ترمیم کی کسی تنظیم نے مخالفت نہیں کی۔ ایسے میں ایک آدمی کو اب اطلاع حاصل کرنے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ باوجود اس کے ،نہ ہارنے کی ضرورت ہے اور نہ پریشان ہونے کی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ سبھی پہلے سے بھی کہیں زیادہ اس قانون کا استعمال کریںگے۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ حق اطلاعات قانون کے ذریعہ سسٹم کو شفاف اور ذمہ دار بنانے کی آپ کی مہم میں ’چوتھی دنیا‘ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔

’اندرا آواس یوجنا‘کی تفصیل

فرسٹ اپیلیٹ آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاع ایکٹ2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
(1 ) محکمہ؍دفتر کے ریکارڈ کے مطابق میرے راشن کارڈ پر ہر ماہ جاری کیے گئے راشن اور کیروسین تیل کا بیورو مندرجہ ذیل حقائق کے ساتھ دیں۔
الف : مہینہ ب: جاری راشن اور کیروسین تیل کی مقدار ج: راشن اور کیروسین تیل دیے جانے کی تاریخ د: فی کس ادا کی گئی رقم ھ: ادائیگی کی رسید کی فوٹو کاپی
(2) مذکورہ راشن کی دکان اور کیروسین تیل ڈپو کے پچھلے چھہ ماہ کے مندرجہ ذیل ریکارڈ کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرائیں:
الف : ماسٹر کارڈ رجسٹر ب: یومیہ فروخت رجسٹر ج: یومیہ اسٹاک رجسٹر
د: ماہانہ اسٹاک رجسٹر ھ: انسپکشن گائڈ و: کیش میمو
(3) مذکورہ راشن دکان اور کیروسین تیل ڈپو کے خلاف پچھلے پانچ سالوں میں کتنی شکایتیں موصول ہوئی ہیں؟ سبھی شکایتوں کی لسٹ مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ دیں:
الف: شکایت کرنے والے کا نام
ب: شکایت کی مختصر وضاحت
ج: شکایت کی تاریخ
د: شکایت پر کی گئی کارروائی کی وضاحت
ھ: شکایت پر کارروائی کرنے والے آفیسر کا نام۔ عہدہ اور پتہ
میں درخواست فیس کے طور پر 10 روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں ۔ اس لئے سبھی دیے گئے فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے؍ دفتر سے متعلق نہیں ہو تو حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کی مقررہ حد کے اندر منتقل کردیں۔ساتھ ہی آئین کے پروویزن کے تحت اطلاع فراہم کراتے وت فسٹ اپیلیٹ اتھارٹی کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
مخلص
نام :————————————————————————
پتہ : ————————————————————————-
تاریخ : ———————————————————————
منسلک دستاویز
(اگر کچھ ہوتو)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *